جرأتِ اظہار: وہ انتظار تھا جس کا، وہ سحر تو نہیں

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر: ہماری آواز، مہراج گنج
9792642810

یوم جمہوریہ یعنی 26 جنوری بھارت کی تاریخ میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔تقریبا ڈھائی سوسال کی مسلسل کوششوں اور جانفشانیوں کے بعد 15اگست1947کو ہمارے ملک میں آزادی کا سورج طلوع ہوا ،جس نے انگریزی ظالمانہ اور عیارانہ حکومت کے کھٹا ٹوپ اندھیروں کو مٹا دیا۔لیکن صحیح معنوں میں جسے آزادی کہتے ہیں وہ ہمیں 26جنوری کو 1950کو حاصل ہوئی ،جب دستور ساز اسمبلی کی دو برس ،گیارہ ماہ اور اٹھارہ دن کی پیہم کوششوں کے بعدحتمی مرحلے سے گزار کر پورے ملک میں اپنا قانون نافذ کیا گیا اور سابقہ تمام کالے قانونوں کو مسترد کر دیا گیا۔بابا بھیم راؤ امبیڈکر کی رہنمائی میں تیار اور نافذالعمل ہونے والے اس آئین نے ہمیں سیاسی اور فکری ہر طرح سے آزاد کردیا۔اسی آئین کی وجہ سے سب کو بنیادی تعلیمی،سماجی،معاشی،سیاسی،ثقافتی،مذہبی،لسانی حقوق یعنی مکمل آزادی کے ساتھ بلا تفریق مذہب وملت سب کو جینے کا حق ملا۔اسی لیے اس دن تمام برادران وطن اپنے ان مجاہدین آزادی کی بے لوث قربانیوں اورسرفروشانِ وطن کی انتھک کوششوںکویاد کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیںجن کے دم قدم سے یہ ملک جمہوری ہوا اورہمیں آزادی کے صبح وشام میسر آئے۔
بھارت دنیا کا سب سے بڑا خوبصورت جمہوری ملک ہے۔یہاں کی عدلیہ ،مقننہ اور انتظامیہ سب آزادہیں،ہر پانچ سال پرعوام چناؤ کے ذریعہ حکومت کا انتخاب کرتی ہے اور اپنی جمہوری طاقت کا مظاہرہ بھی۔جمہوریت ’’عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعہ عوام پر‘‘کوکہتے ہیں۔ جمہوریت چار ستونوںعدلیہ،مقننہ،انتظامیہ اور صحافت پرقائم ہوتی ہے۔جس طرح گھر اور بڑی بڑی بلڈنگوں کے قیام کے لیے ستون ضروری ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی جمہوری نظام کے قیام کے لیے بھی مذکورہ چار ستونوں کی بقا وبحالی از حد ضروری ہے۔
مگرہمارے ملک شاندار اور مثالی جمہوریت پر اب فسطائی طاقتوں کے بادل صرف منڈلا نہیں رہے ہیں بلکہ برسنا بھی شروع کردیے ہیں جس کے باعث یہاں کے سیکولراور امن پسند لوگوں کی تشویشات دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب سے مرکز میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے تب سے جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے نت نئے فسطائی حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔تمام آئینی اداروں کو مجبور اور اپاہج بنا دیا گیا ۔حکومتی مفادات کے لیے ان کا استعمال اب ایک چلن بن گیا ۔نہ جانے کتنے نوجوانوں کو اس لیے نظر بند یا سخت دفعات کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا کیوں کہ وہ حکومت کی ان ساری کالے کرتوتوںاور غلط پالیسیوں کی کھل کر مذمت کرتے تھے اور حکومت سے سوال کرتے تھے۔دہلی فسادات میں جو طالب علموں اور فلاحی اور سماجی کارکنان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا گیا وہ اب تک سب کو یاد ہے۔تعلیمی اداروں میں شر پسند اور زر خرید ،ضمیر فروش افراد کے ذریعہ جو ننگا ناچ نچایا گیا اور اس قدیم روایات کو مسمار کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی وہ آج بھی دل چھلنی کیے دیتا ہے۔گاؤ کشی اور لو جہاد کے نام پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خون سے جو ہولیاں کھیلی گئیں ہیں وہ آج بھی تازہ اور تابندہ ہے اب تو دبی زبان سے آئین کو بھی ختم کرنے کی ناپاک سازش رچی جارہی ہے اور زبردستی غیر آئینی کالے قانونوں کو نافذ کر کے عملی اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔تین طلاق ،کشمیرکے خصوصی درجے کی منسوخی ،شہریت قانون اوراب متنازع زرعی قوانین کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ تاریخ میں پہلی بار سنا اور دیکھا گیا کہ سپریم کورٹ کے چار نہایت سینیئر اور قابل ججوں کو عوام کے سامنے عدالت لگا گر پریس کانفرنس کرنی پڑی کہ ہندوستانی جمہوریت خطرے میں ہے ۔
بھارتی میڈیا (بھارتی میڈیا کہنے میں بھی شرم آتی ہے )اب زر خرید گودی میں تبدیل ہوچکی ہے۔عوام میں نفرت اور آقاؤں کی خوشامد میں لمبے لمبے چینخ وپکار کے ساتھ بحث ومباحثہ کرانے والے دولت اور ٹی آر پی کے یہ پجاری اب اپنا مقصد چھوڑ کر بھارتی جمہوریت پر رات ودن اپنے نفرتی پنجے سے وار کر رہے ہیں۔ان کو ملک کی صحت وسلامتی سے کو ئی سروکار نہیں رہا۔یہ ہر وقت حکومتی بھونپوبجاتے رہتے ہیں اور جمہوریت کو لہوولہان کرتے ہیں۔
خیر!اب تو زبان حال سے یہی نکل رہا ہے ع

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے

الغرض پورا بھارت حیران وپریشان ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں نہ کسی کو کسی کے حقوق کی فکر دامن گیر ہے اور نہ ہی کسی کے تئیں احترام کا جذبہ پنپنے پارہا ہے۔اس جمہوری ملک میں خاص طور سے اقلیتی طبقہ سے بے توجہی اور بے اعتنائی کی داستان افسوس ناک ہے۔حالانکہ جمہوریت میں اکثریتی حکومت کی کامیابی کا رازاقلیتوں کے تحفظ اورخوش حالی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔میرے خیال سے جشن جمہوریہ صرف جشن منانے کا دن نہیں بلکہ یوم احتساب بھی ہے۔ہمیں خوشی مناتے وقت اس بات کا بھی خیال کرنا چاہیے کہ ہم اپنے اس جمہوری سفر میں کس حد تک کامیاب ہیں۔کیوں کہ صرف رسومات ادا کرلینے سے کوئی فائدہ نہیں جب تک جمہوریت اپنے تمام تر افکارو خیالات کے ساتھ عکاسی اور ترجمانی نہ کرے۔
آزادی کے74 سال بعد بھی ہمارے اسلاف اور قوم کے رہنماؤں کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ،کیا ہم آج ہم بھارت کو ایک ایسا ملک بنانے میں کامیاب ہیں جن کا خواب مجاہدین آزادی اور ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟کیا اس ملک میں سونچنے اور بولنے کی آزادی کا حق سب کو حاصل ہے،کیا اس ملک سے چھوا چھت کی لعنت ختم ہوگئی،کیا سماج کے ہر طبقے کو خاص کر اقلیتوں کو ان کے حقوق ملے،کیا خواتین کو ان کے بنیادی حقوق میسر آئے ،کیا کشمیر کے عوام کی آہ وبکا محسوس کی گئی ۔تقریبا دو ماہ سے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے کسانوں کی معروضات پر کان دھر کر ان کے مسائل حل کیے جارہے ہیں ۔ان سب کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو شر م سے آپ کا سر جھک جائے گااور اپنے آپ سے یہ کہتے ہوئے رہ جائیں گے کہ ع

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا،یہ وہ سحر تو نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں نعیم الدین فیضی برکاتی

محمد نعیم الدین فیضی برکاتی ہماری آواز کے اعزازی ایڈیٹر اور سینیئر صحافی ہیں۔ موصوف ایم۔پی۔ کے ضلع کٹنی میں واقع دارالعلوم برکات غریب نواز کے پرنسپل اور ایک اچھے قلم کار ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792642810 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

تحریر: کامران غنی صبااسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج، مظفرپور میں یقین کے ساتھ کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے