ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

ازقلم: سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی
بابوآن ارریہ (بہار) انڈیا

ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کا کردار نہایت ہی تابناک اور روشن رہا ہے اور تاریخی اعتبار سے بھی یہ مسلمانوں کی حب الوطنی، جوش و خروش ،ولولہ اور ایثار و قربانی کی لازوال و لافانی داستان رہا ہے، تقریبا ایک صدی تک چلنے والی تحریک آزادی میں سب سے زیادہ مسلمانوں نے بے مثال و بے شمار کردار ادا کیا ہے، اسی طرح وطن عزیز کو انگریزوں کے غلامی کی آہنی زنجیر سے باہر نکال کر وطن عزیز کو ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہے بھائی بھائی کا درجہ دیکر ذات پات برادری و خاندانی منصوبہ بندی کو ختم کر کے ملک ہندوستان کو اپنی بے لوث قربانیوں کے ذریعے آزاد کرایا ہے،بلکہ اپنی جائداد اور جان و مال کی پرواہ کئے بغیر میدان جنگ میں عظیم قربانیاں دینے سے بھی باز نہیں آئیں، اور یہ حقیقت پسندانہ قول ہے کہ جنگ آزادی میں سب سے زیادہ کمانڈنگ اگر کسی کے پاس رہی تو وہ مسلمانوں ہی کے پاس رہی ہیں، اور یہ بھی تاریخی حقائق ہے کہ ریشمی رومال جیسی تحریک مسلمانوں ہی کے علماء کرام نے چلائی تھیں، جس سے انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ،اور یہ بھی تاریخی حقائق ہے کہ جنگ آزادی کی لڑائی میں سب سے زیادہ مسلمان علماء دین ہی نے قربانیاں پیش کی ہیں، اور یہ بھی بات بھی عیاں ہے کہ کشمیر سے لے کر کنیاکماری تک کوئی ایسا درخت باقی نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی گردنیں اور نعشیں لٹکی ہوئی نہ ہوں،اسی طرح اور ہندوستان کو سیکولرازم کا پاٹھ پڑھانے والا مسلمان ہی تھے، جنگ آزادی میں ہندو مسلم یکتا کی زنجیر کو مضبوط و وسیع تر بنانے میں سب سے اہم رول مسلمانوں ہی کا رہا ہے ،اسی جنگ آزادی میں انگریزوں کے ناپاک عزائم کو معلوم کرنے اور ہندوستان میں ان کے ناپاک ارادوں کو بھانپنے کا کام مسلمانوں ہی نے کیا تھا،اور جب 1857ء میں سب پہلی جنگ آزادی کی آواز بلند ہوئی تو وہ مسلمانوں ہی کے میدان سراج الدولہ نامی میدان تھا جو کہ بنگال میں واقع تھا ،لیکن اپنوں ہی کی بغاوت نے انہیں شکست دیا تھا ،اس کے بعد مورچہ کو نواب میر قاسم نے سنبھالا تھا،یہ سارا کے سارا مسلمانوں ہی کے کمانڈنگ میں کی گئی لڑائی تھی ،جس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے،ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف علم بغاوت مسلمانوں نے ہی بلند کیا تھا،اور اس گھماسان کی لڑائی میں شامل ہونے والے مسلم لیڈران پیش پیش تھے، جن میں شیر میسور سلطان ٹیپو کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے، اسی طرح مولانا شوکت علی اور مولانا ابوالکلام آزاد کا نام بھی نمایاں طور پر قابل ذکر ہے اور بھی بہت سارے مسلم رہنماؤں کا تذکرہ تاریخ کے صفحات پر جلی حروف سے لکھے ہوئے ہیں ،جس کی المناک داستان ہے تاریخ کبھی ان کی قربانیوں کو بھلا نہیں سکتی ہے ،جنگ آزادی میں جہاں مسلمان علماء اور دانشوروں نے حصہ لیا وہی جنگ آزادی میں مسلم شعراء نے بھی پنجہ آزمائی کرتے ہوئے جیل کے سلاخوں کا چکر لگانے پر مجبور ہوئے ان میں سے بہادر شاہ ظفر کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے ملک ہندوستان میں حکومت کرنے کے باوجود جیل کی قید و بند سے دو چار ہوئے تب جا کر بے ساختہ یہ اشعار ان کی زبان مبارک سے جاری ہونے لگا کہ

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم نا پائیدار میں
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسے
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
عمرے دارز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی مل نہ سکی کوئے یار میں

بہادر شاہ ظفر نے دکھ بھرے انداز میں کہا کہ جس سرزمین پر میں حکومت کر رہا تھا آج اسی زمین کو ہمارے لئے باغی بنا دیا گیا ،جہاں نہ تو دفن کے لئے کوئی جگہ میسر ہے اور نا ہی رہنے کے لئے کوئی مقام ہے ،جنگ آزادی کی لڑائی میں اردو ادب کے مشہور و معروف شاعر حسرت موہانی کو بھی قید و بند کی سزا سنائی گئی اور انہیں جیل کے اندر ڈال دیا گیا تو انہوں نے بھی دکھ اور درد کو سہتے ہوئے یہ اشعار بے ساختہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی ۔
یک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ ہم جیل میں بھی بند اور چکی بھی چلا رہے ہیں، تاریخ لکھنے اور پڑھنے والوں نے یہ بات بھی درج کی ہیں کہ ہندوستان کی آزادی میں علماء صادق پور کی قربانی سب سے زیادہ اثر رکھنے والی ہے ،کیونکہ جس طرح انہیں تکلیفیں کلفتیں اور اذیتیں انگریزوں نے دی ہے وہ بھی تاریخ کا المناک باب رہا ہے،تاہم پھر بھی علماء صادق پور نے بڑی بے باکی سے انگریزوں کے خلاف ایک صدی تک علم بغاوت بلند کئے ہوئے تھے ،جن کی قربانی کو بھی نہیں بھلایا جاسکتا ہے، اسی طرح تاریخ کے صفحات پر اور ایک درد ناک و المناک داستان کالا پانی کا بھی رہا ہے جس کی سزا زیادہ تر مسلمانوں ہی نے کاٹی تھیں اور اس کالا پانی میں مسلمانوں کی تعداد 95 فیصد رہی تھیں،اسی طرح اور جنگ آزادی کی تاریخ میں اور ایک بہترین نفاست پسند اور ذی شعور انسان مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت بھی رہی ہیں، جنہوں نے البلاغ اور الہلالجیسے اہم اور تاریخی پرچے نکال کر تمام دیش واسیوں کے ذہن و دماغ کے دریچے کو مجلا و مصفا کر دیا تھا ،جس میں انہوں نے انگریزوں کی ناپاک عزائم اور ناپاک ارادوں کو پورے طور پر واضح کر دیا تھا،جس کی وجہ سے انگریزوں نے ان کے قلم کی طاقت کو بارہا روکنا چاہا اور انہیں بار بار جیل کے اندر ڈالنے کی کوشش کی اور جب وہ باز نہیں آئے تو جیل کی سعوبتوں میں ڈال دیا ہے لیکن پھر بھی وطن عزیز کی سالمیت اور تحفظ کے لئے اپنی تمام تر مصروفیات کو بلائے طاق رکھ کر ہندوستان کوانگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے پر کامیاب ہوئے جس کا اعتراف خود پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی جو کہ یہ ایک تاریخی حقائق ہے،
جبکہ آج مسلمانوں کی تاریخ پر تعصب کی نگاہ ڈالنے والے کو بھی یہ یاد ہونا چاہیے کہ علم حریت بلند کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہ مسلمان ہی تھےلال قعلہ جامع مسجد اور بابری مسجد تعمیر کرنے والا کوئی اور نہیں تھاکہ وہ مسلمان ہی تھے ،تاج محل کو روشن تابناک بنانے والا کوئی اور نہیں تھا بلکہ وہ شاہ جہاں مسلمانوں ہی کا بادشاہ تھا،اسی طرح ہندوستان کو ایک پلٹ فارم پر لانے والا نغمہ کسی اور نے نہیں گایا تھا بلکہ وہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہی تھے جنہوں نے کہا کہ

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا
اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

کا نعرہ لگا کر پورے ہندوستان کو سونے کا چڑیا بن دیا یہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اس ملک کو زیور امن و امان اور گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کا گہوارہ بنایا ہے ۔
لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو زیادہ سے زیادہ موجود حکومت تک پہنچائے اور انہیں مسلمانوں کی قربانیوں کے بارے بتائیں اور یہ بھی اپیل کریں کہ ہم امن و امان کے خوگر ہیں ہمیں امن و امان چاہئے ۔
اللہ تعالی ہمارے اس ملک ہندوستان کی حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

تحریر: کامران غنی صبااسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج، مظفرپور میں یقین کے ساتھ کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے