یوم جمہوریہ: اعتراف قوانین کا عظیم کا دن

تحریر: محمد صدرِعالم قادری مصباحیؔ
امام روشن مسجد،میسورروڈ،بنگلور26
09620747322

ہندوستان ہمارامحبوب وپیاراملک ہے۔اس کوحاصل کرنے کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔اسی لئے اس کے اہم دن ،ہم بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ان دنوں میں یوم جمہوریہ بہت اہم ترین دن ہے۔26؍جنوری کادن ہمارے ملک ہندوستان کی تاریخ میںنہایت ہی اہمیت کاحامل ہے، کیونکہ اسی دن ہمارے ملک کاآئین نافذ ہوا۔ آزادیٔ ہندسے پہلے پورے بر صغیرپرتقریباًسوسال تک انگریزوں کاقبضہ رہا۔انگریزوں کے قبضے سے پہلے برّصغیرپرمسلمانوں کی حکومت تھی۔انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلمان اورغیرمسلم لیڈران مسلسل کوشش کرتے رہے۔خدائے وحدہٗ لاشریک محنت شاقہ کاپھل ضرورعنایت فرماتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سی قربانیاں دینے کے بعدآخرکار15؍اگست1947؁ء کو ہندوستان انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔لیکن 26؍جنوری 1950؁ئکوآزادجمہوری ملک بن گیا۔یقینااسی دن کے لئے ہی گاندھی جی ،مولاناابوالکلام آزاد،جواہرلال نہرو، عبدالغفارخان،نیتاجی سبھاس چندربوس جیسے عظیم رہنماؤں کی قیادت میںہزاروں لاکھوں ہندوستانی عوام نے بلاامتیازمذہب وملت آزادی کے پرچم کوبلندکیااوراپنی بے مثال قربانیوں اوراتحادواتفاق سے انگریزوں سے ٹکرلی اوراُسے ہندوستان چھوڑنے پرمجبورکردیا۔ہم ان بزرگوں کی انتھک کوششوںوجُہدِمسلسل کی یادتازہ کرنے کے لئے ان خاص دنوں میں تقریریں کرتے ہیںجنہوں نے عظیم قربانیاں دے کرہمیں انگریزوں کے ظلم وجبرسے نجات دلائی۔ان تقریروں میںاس بات پرخاص زوردیاجاتاہے کہ ہم ان کی قربانیوں کوضائع نہ ہونے دیںگے اورمُلک کے گوشے گوشے کی حفاظت کریںگے۔یوم جمہوریہ کے موقع پر ہرسال عام تعطیل ہوتی ہے البتہ مدارس اسلامیہ،اسکول اورکالج صبح کوکچھ دیرکے لئے کھلتے ہیں۔مدارس اسلامیہ ،اسکول اورکالجوںکے طلباء وطالبات خاص قومی پروگرام کانہایت ہی شان بان کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔وطن عزیز کی محبت کے نغمے گاتے ہیں،اورمجاہدین آزادی کی قربانیوں کوپوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
یوم جمہوریہ کے موقع پرسارے ملک کے شہروں ،قصبوںاوردیہاتوں میںصفائی وستھرائی کاخاص خیال رکھاجاتاہے۔تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پرتقاریب کاانعقادکیاجاتاہے اورساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کااہتمام بھی ہوتاہے۔لوگ جوق درجوق گھروں سے باہرآجاتے ہیں۔مدارس اسلامیہ،اسکول،کالج،چوک چوراہوںاورسرکاری نجی عمارتوں پرقومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔گھروں میں بچوں،جوانوںاوربوڑھوںکاجوش وخروش توقابل دیدہوتاہے۔رہائشی علاقوں ،ثقافتی اداروں اورمعاشرتی انجمنوں کے زیراہتمام تفریحی پروگرام توانتہائی شاندارطریقے سے منائے جاتے ہیں۔مساجدمیںملک وقوم اورتمام امّہ کی ترقی وخوش حالی،بھٹکے ہوئے لوگوںکوصراط مستقیم کی توفیق اورسلامتی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔یوم جمہوریہ کے اس پربہارموقع پردوسرے ممالک کے سربراہان صدرِہند ووزیراعظم کومبارک بادی کاپیغام بھیجتے ہیںاورنیک خواہشات کااظہاربھی کرتے ہیں۔
ہماراملک ہندوستان صوفی سنتوں اوردرویشوں کاملک ہے،جنہوں نے ہمیشہ امن وآشتی ،صلح اوربھائی چارے کاپیغام دیاہے آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پراوراپنی اپنی بساط کے مطابق اُن آدرشوں اوراُصولوں کواپنائیںجوہمارے بزرگوں نے ہمیںعطاکئے ہیں۔ہندوستان دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہے اوراس جمہوریت کی بنیادرنگارنگ تہذیب اوربوقلمونی پرہے۔یہ ملک ہرمذہب ،ہرطبقے،ہرخطے اورہرکلچرکاایک ایساسرچشمہ ہے جس کے سوتے انسانیت کی بنیادپرپھوٹتے ہیں اورصدیوں سے سیروشکر ہوکر ہندوستان کی گنگاجمناتہذیب کوسیراب کرتے رہے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم انسانیت ،امن وآشتی ،آپسی بھائی چارے اورپیارومحبت کے اس پیغام کوگھرگھرعام کریں جوہمارے بزرگوں سے ہمیں وراثت میں ملی ہے اورجس کے ہم امین ووَارِث ہیں۔کسی شاعرنے کیاہی خوب کہاہے:
آؤ مل جل کے چلوپہلے یہی کام کریں سب اخلاص ومحبت کاچلن عام کریں
اسی انداز سے ہردل میں اُترناہوگا کام بھارت کے لئے ہم کویہ کرناہوگا
اپنے بھارت کوبلندی کی طرف لاناہے اوربہت ترقی کے لئے جانا ہے
آج کادن ہمیں انہیں بزرگوں اورعظیم رہنماؤں کی قربانیوں کی یاددلاتا ہے ہمارے بزرگوں نے آزادی اورجمہوریت کاجوخواب دیکھاتھاوہ شرمندۂ تعبیرتوہواتاہم ہمارے سامنے آزادی،اُخوّت اورمساوات کاعظیم تصورتشنۂ عمل ہے۔اس ملک کے تمام باشندوں کویکساں طورپرآگے بڑھ کراس یکجہتی کامظاہرہ کرناچاہئے ۔اس موقع پرہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ہماراملک آج گوناگوں مسائل سے دوچارہے۔یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔بلاشبہ ہم نے شدیدمزاحمتوں کے باوجوداپنے گنگاجمنی ،وفاقی اورجمہوری کردارکازبردست تحفظ کیاہے۔سائنس اورٹکنالوجی ،حرفت وزراعت،نقل وحمل،اطلاعاتی اورمواصلاتی ٹکنالوجی کوشعبوں میں ہمارے ملک نے اہم کرداراداکیاہے لیکن ہمارے سامنے عدم مساوات ،بے روزگاری،پسماندگی اورناخواندگی وغیرہ کاعفریت کھڑاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس دورکے تقاضوں کودیکھیں اورملک کی ترقی اورکامرانی کے صحیح راستوں کاتعین کریں۔
انگریزوں کااصلی مُلک اوروطن انگلینڈہے، انگلینڈمیں زمانۂ قدیم سے بادشاہی چلی آرہی ہے ۔وہاں کی حکومت کانام برطانوی حکومت ہے جسے انگریزی زبان میں برٹش گورنمنٹ کہتے ہیںجب انگریز ساہوکاراپنے وطن انگلینڈسے ہندوستان آئے تویہاں انہوں نے تجارتی کاروبارکاسلسلہ قائم کیااوراس میں خوب ترقی کی پھربعدمیںانہوں نے مغل بادشاہوں کی بے بسی اورکمزوریوں سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسٹ انڈیاکمپنی کے نام سے اپنی انگریزی حکومت قائم کرلی۔انگلینڈکی حکومت بَرطانیہ نے اگرچہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی اس نئی حکومت کوجائز قراردیاتھااورہندوستان کانظام درست رکھنے کے لئے کمپنی کے نام ہدایات وفرمان بھی بھیجتی رہی ،لیکن خوداس نے ہندوستان کی انگریزی حکومت کے اختیاراپنے ہاتھ میں نہیں لئے بلکہ کمپنی ہی کے ہاتھ میں رہنے دیاجس کے باعث کمپنی کے کرتادھرتااورحکام آزادبن کرہندوستان میں اپنی من مانی حکومت کرتے رہے۔
چونکہ کمپنی کے دورحکومت میں انگریز افسران ہندوستانیوں کے ساتھ نوکروں اورغلاموں جیسابرتاؤ کرتے تھے۔ہندوستانیوں کوحقیروذلیل نگاہوں سے دیکھتے تھے ،ان پرطرح طرح کاظلم وستم کرتے تھے،اس لئے عام ہندوستانیوں کادل کمپنی راج سے بہت پک گیاتھاجس کے نتیجے میں سب سے پہلے میرٹھ،چھاؤنی میں ہندوستانی فوج نے16؍رمضان المبارک1273؁ھ مطابق 10؍مئی
1857؁ئکواتوارکے دن ایسٹ انڈیاحکومت کے خلاف بغاوت کااعلان کیااورانگریز فوجی افسروں کوقتل کیا،پھرباغی فوج میرٹھ سے راتوں رات چل کرصبح سویرے 17؍رمضان المبارک1273؁ھ مطابق 11؍مئی 1857؁ء کودہلی پہنچی اورانگریز حکمرانوں کوموت کے گھاٹ اتارکرسراج الدین بہادرشاہ ظفرکی بادشاہت اورحکومت کااعلان کیا۔میرٹھ اوردہلی کی طرح یوپی کے دوسرے اضلاع بریلی،کانپور،جھانسی،لکھنؤ،گورکھپور،اعظم گڑھ وغیرہ میں بھی بغاوت کی آگ مکمل طورسے پھیل گئی۔جگہ جگہ انگریز حکام وافسران مارڈالے گئے۔کئی ایک ضلع سے کمپنی کاراج مکمل ختم ہوگیا۔
انقلاب 1857؁ء میںعلماء کرام نے مذہبی فریضہ کے طورپرانگریزوں کے خلاف جہادکے فتاویٰ جاری کئے اورعملی طورپربھی جنگ میں شریک ہوکرمجاہدین کے حوصلے بڑھائے اورانقلابیوں کی بھرپورقیادت کی جن میںمولاناسیداحمدشاہ مدراسی کانام سب سے نمایاہے جواپنے پیرومرشدمحراب شاہ قلندرگوالیاری کے حکم پرتقریباً1846؁ء سے انگریزوں کے خلاف مہم چلارہے تھے۔دیگرمشہورعلمائے انقلاب 1857؁ء میں چندسربرآوردہ حضرات کے نام یہ ہیں:۔مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی،علامہ مولانافضل حق خیرآبادی،مولانا فیض احمدبدایونی،مولاناکفایت علی کافیؔ مرادآبادی،مولاناوہاج الدین مرادآبادی،مفتی عنایت احمدکاکوروی،مولانارحمت اللہ کیرانوی،مولاناڈاکٹروزیرخان اکبرآبادی،مولاناامام بخش صہبانی دہلوی۔تاریخ انقلاب پرلکھی گئی کتابوں کے عام اندازہ کے مطابق لگ بھگ پندرہ ہزار(15000) علماء کرام جنگ آزادی 1857؁ء میں شہیدکئے گئے تھے۔
جنگ آزادی میں مردوں اورعورتوں نے ایک ساتھ مل کرحصہ لیاانگریزحکومت نے انہیں کچلنے کے لئے اپنی تمام ترقوتوں کاستعمال کیالوگوں کوظلم وستم کانشانہ بنایامگراس کاکوئی نتیجہ نہ نکلااورآخرمیںعوامی مطالبہ کے آگے انگریزوں کوجھکناپڑااوربالآخر15 ؍اگست 1947؁ء میں انگریزوں نے ہماراملک ہمارے حوالے کردیا۔اس وقت حکومت چلانے کی ذمہ داری ملک کے لوگوں پرآگئی آزادی کے بعدملک کے رہنماؤں کے سامنے یہ مسئلہ درپیش آیا کہ ہم کس طرح حکومت چلائیں،اس کے لئے قانون کیساہو،عوام کے اختیارکیاہوں گے ،اوراُن کی ذمہ داری کیاہوگی،لوگوں کوانصاف کیسے ملے گااِن سب باتوں کے لئے اورملک کوصحیح سمت میں لے جانے کے لئے ضروری تھاکہ آئین ملک تحریرکیاجائے ،اس کے لئے چھوٹی سی کمیٹی بنائی گئی جس کے صدرڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکرمنتخب ہوئے ۔اسی آئین پر26؍جنوری 1950؁ء سے عمل شروع ہوااِس لئے ہرسال ہمارے مُلک ہندوستان میں 26؍جنوری کویوم جمہوریہ کاجشن منایاجاتاہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی مفید یا مضر: ایک تجزیہ (قسط سوم)

تحریر : غلام مصطفےٰ نعیمیروشن مستقبل دہلی اپنی قیادت کے فوائدسیاست طاقت، دباؤ اور موقع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے