ٹرمپ ہو یا جوبائیڈن: کوئی فرق نہیں پڑتا

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
مالیگاؤں، ناسک مہاراشٹرا

جنوری2021ء میں امریکہ کے سب سے بڑے سیاسی عہدے میں تبدیلی ہوئی۔ شکست خوردہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’’وہائٹ ہاوس‘‘ سے وداعی ہوئی اور نئے منتخب شدہ صدر جوبائیڈن نے ’’وہائٹ ہاوس‘‘ میں قدم رکھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے چار سال تک امریکہ کے صدر کی ذمہ داری سنبھالی اور چار سال بعد ہی انہیں ’’وہائٹ ہاوس‘‘ سے رخصت ہونا پڑا۔ امریکہ میں ہر چار سال میں صدارتی انتخابات ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص صرف دو مرتبہ صدر کا عہدہ سنبھال سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور اُسے سیاست سے ’’ریٹائرمنٹ‘‘ لینا پڑتا ہے۔ زیادہ تر امریکی صدر مسلسل دو مرتبہ منتخب ہوتے ہیں اور مسلسل آٹھ سال تک امریکہ کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ بہت کم امریکی صدر ایسے ہوئے ہیں جنہیں صرف چار سال کی معیاد کے بعد ’’صدارتی انتخابات‘‘ میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ اُنہیں میں سے ایک ہیں۔رخصت ہونے والے صدر ٹرمپ کی ایک خاص بات اور یہ ہے کہ انہوں نے نئے منتخب صدر جوبائیڈن کی ’’حلف برداری‘‘ میں شرکت نہیں کی اور ایسا کرنے والے وہ صرف دوسرے امریکی صدر ہیں۔ اُن سے پہلے امریکی تاریخ میں صرف ایک صدر نے ایسا کیا تھا اور وہ بھی کافی طویل عرصہ پہلے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے جس طرح چار سال امریکہ میں کام کئے اُن کاموں کی وجہ سے اُن کی شبیہ ایک ’’کٹر پنتھی‘‘ کی بن گئی اور شاید یہی اُن کی شکست کی وجہ ہو۔ اُن کے مقابلے میں جوبائیڈن نے اپنی شبیہ ’’سیکولر‘‘ کی بنائی اور انہوں نے اِس سلسلے میں ایک ہندوستانی نژاد کو ’’نائب صدر‘‘ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اِسی لئے جوبائیڈن کے صدر بننے سے سیکولر طبقے میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور زیادہ تر لوگوں نے اُن سے کافی توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ اُن میں مسلمان بھی شامل ہیں اور وہ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ جوبائیڈن اُن کی تمام مشکلات کو حل کردیں گے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف جو پروپگینڈہ کیا جارہا ہے اور اُن کے خلاف جو نفرت پھیلائی جارہی ہے وہ سب نئے امریکی صدر ختم کردیں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں ایک حدیث کا ذکر کیا تھا اور ساتھ ہی امریکہ میں مسلمانوں کو مراعات بھی دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی ’’سخت گیری‘‘ کا فائدہ جوبائیڈن کو ہوا اور ’’سیکولر‘‘ طبقے نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے۔ پوری دنیا میں اِس بارے میں تبصرے ہونے لگے کہ امریکی صدر کی تبدیلی سے کہاں کیا فرق پڑے گا؟ امریکی حکام اپنے آپ کو ’’انکل سام‘‘ سمجھتے ہیں اور ’’اقوام متحدہ‘‘ کے ذریعے دنیا کے ہر علاقے میں اپنی ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا کے زیادہ تر ممالک نے بھی اِس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ امریکہ ’’خدائی فوجدار‘‘ ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنی فوج بھیج سکتا ہے اور واپس بلا سکتا ہے اور کسی بھی ملک میں دخل اندازی کرسکتا ہے۔ اِسی لئے ہر جگہ امریکی صدر کی تبدیلی پر تبصرے ہونے لگے اور ٹرمپ کی خرابیاں اور جوبائیڈن کی خوبیاں بیان ہونے لگیں۔ہمارے ملک میں بھی تمام اخبارات اور میڈیا پچھلے کئی دنوں سے اِسی ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔ اردو اخبارات میں بھی بڑے بڑے دانشوروں کے اِس بارے میں مضامین شائع ہورہے ہیں کہ جوبائیڈن کے آنے سے دنیا پر اور خاص طور سے چین ، ایران اور افغانستان پر کیا فرق پڑے گا؟
امریکی عوام نے ’’کٹرپنتھی‘‘ کو مسترد کردیا اور ’’سیکولر‘‘ کو منتخب کرلیا لیکن اِس سے امریکہ میں یا پوری دنیا میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اِس کی وجہ بنی اسرائیل (یہودی) ہیں کیونکہ وہ پوری امریکی لابی پر چھائے ہوئے ہیں۔یہودی پوری دنیا کی آبادی کا صرف دو فیصد ہیںاور ’’سب سے چھوٹی اقلیت‘‘ ہیں ۔ اِس کے باوجود صرف امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر یہ ’’اقلیت‘‘ چھائی ہوئی ہے۔چاہے ذرائع ابلاغ کا شعبہ ہو یا معاشی یا سیاسی ، ہر جگہ اِسی ’’اقلیت‘‘ کی اجاراداری ہے اور اِسی وجہ سے یہ لوگ پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پچھلے تقریباً ستر برسوں سے یہ ’’اقلیت‘‘ دنیا کی سب سے بڑی ’’سوپر پاور‘‘ امریکہ کو اپنی مٹھی میں کئے ہوئے ہیں اور بری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں ہر شعبے میں اسی ’’اقلیت‘‘ کا قبضہ ہے اور یہی لوگ ’’امریکی تھنک ٹینک‘‘ ہیں اور امریکہ میں تمام فیصلے اِن کے مطابق لئے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ میں نکلنے والے تیل کا بھاؤ جو امریکہ طے کرتا ہے وہ بھی اِسی ’’اقلیت‘‘ کے حُکم کے مطابق طے کرتا ہے۔
دنیا کی یہ ’’سب سے چھوٹی اقلیت‘‘ اِس طرح سے امریکہ پر حاوی ہے کہ اِس کے حُکم کے بغیر کوئی بھی سیاسی لیڈر کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکتا ہے۔ دراصل ’’دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور‘‘ کے تمام سیاسی لیڈران اِس ’’چھوٹی سی اقلیت‘‘ کے ’’کٹھ پتلی مہرے‘‘ ہیں اور انہیں ان کے حُکم کے مطابق ہی فیصلے کرنا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا کارپوریٹر بھی اگر اِس ’’اقلیت‘‘ کے حُکم کے خلاف اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ لے لیتا ہے اور اُس پر عمل کرلیتا ہے تو اُس کی خیر نہیں ہوتی ہے۔ اُسے طرح طرح کے اسکینڈل میں پھنسا دیا جاتا ہے اور بُری طرح سے بدنام کردیا جاتا ہے۔ پورے امریکہ میں یہی ’’چھوٹی اقلیت‘‘ نیچے سے اوپر تمام لیڈروں کو ’’الیکشن فنڈ‘‘ مہیا کراتی ہے۔ جب الیکشن کا دور آتا ہے تو جو کارپوریٹر اُن کے حُکم کے مطابق عمل نہیں کرتا اُس کا ’’الیکشن فنڈ‘‘ نہیں دیاجاتا اور اس کے مخالف کی مدد کی جاتی ہے۔ امریکہ میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں اُن سب کی مدد یہی ’’چھوٹی سی اقلیت‘‘ کرتی ہے اور انہوں نے الگ الگ سیاسی پارٹیوں کو الگ الگ طریقہ سے ایک ہی منصوبے پر عمل کرنے کا حُکم دیا ہوا ہے۔ ’’کٹرپنتھی‘‘ پارٹی بھی اِسی کے ایجنڈے پر کام کرتی ہے اور ’’سیکولر‘‘ پارٹی بھی اِسی ’’اقلیت‘‘ کے حُکم کے مطابق عمل کرتی ہے۔
امریکہ میں صدر کی تبدیلی سے نہ امریکہ پر کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی پوری دنیا پر کوئی فرق پڑے گا۔ رخصت ہونے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی اِسی ’’چھوٹی اقلیت‘‘ کے حُکم کے مطابق حکومت کررہے تھے اور نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر جوبائیڈن بھی اِسی ’’چھوٹی اقلیت‘‘ کے منصوبے کے مطابق کام کریں گے۔ دنیا کی یہ ’’سب سے چھوٹی اقلیت‘‘ بہت طویل منصوبہ بندی کرتی ہے اور جب اُس منصوبے کے خلاف کوئی بھی امریکی لیڈر جاتا ہے تو اُسے ہٹا کر دوسرے ایسے شخص کو لے آیا جاتا ہے جو اِس ’’اقلیت‘‘ کے منصوبے کے مطابق کام کرتا ہے۔ یقینا ڈونالڈ ٹرمپ نے اِس ’’اقلیت‘‘ کے کسی منصوبے کے خلاف کوئی کام ضرور کیا ہوگا جس کی اُنہیں سزا ملی ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ جوبائیڈن بھی وہی کام کررہے ہیں جو ٹرمپ کررہے تھے۔ بس فرق یہ ہوگا کہ ٹرمپ کھلے عام کررہے تھے اور جوبائیڈن منافقت سے کریں گے۔
دوسرے لوگوں کو فرق پڑے یا نہ پڑے لیکن مسلمانوں پر امریکی صدر کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جیسے پہلے اُن کے خلاف پوری دنیا میں مہم چلائی جارہی تھی وہ ویسے ہی جاری رہے گی۔ اُنہیں پوری دنیا میں ذلیل کیا جاتا رہے گا اور مارا جاتا رہے گا کیونکہ دنیا کی یہ ’’سب سے چھوٹی اقلیت‘‘ جانتی ہے کہ اگر مسلمانوں پر سے کسی بھی طرح سے ’’گرفت‘‘ کمزور پڑ گئی تو یہ مسلمان دنیا کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیں گے اور اُن کی ’’طویل منصوبہ بندی‘‘ یعنی مسیحا (دجال) کے استقبال کی تیاری میں رخنہ اندازی ہوجائے گی۔ اِس کے لئے انہوں نے مسلمان حکمرانوں کو طرح طرح کی مراعات دے کر عیش پرستی میں مبتلا کردیا ہے اور وہ بھی امریکہ اوردرپردہ اِس ’’اقلیت‘‘ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ رہے پوری دنیا کے عام مسلمان تو انہوں نے محکومی کو تسلیم کرلیا ہے پھر چاہے وہ ہمارا ملک ہو یا ہمارا پڑوسی مسلم ملک ہو یا دوسرے ممالک کے مسلمان۔ ویسے ہم مسلمانوں نے بھی یہ طے کرلیا ہے کہ چاہے ہم بری طرح سے ذلیل کئے جائیں لیکن اپنے آپ کو بدلنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کریں گے اور آپس میں متحد نہیں ہوں گے بلکہ پراگندہ اور منتشر رہیںگے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے