یوم جمہوریہ: تاریخ و حقائق اور موجودہ صورت حال

تحریر: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی
ایڈیٹر :پیام برکات ،علی گڑھ
رابطہ :7860561136

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔اس کی باگ ڈور براہ راست عوام کے ہاتھوں میں ہے ۔کیو ں کہ جمہوریت کہتے ہی ہیں ایسی طرز حکومت کو جس میں حاکمیت اعلیٰ اور اقتدار،جمہور کے نمائندوں کو حاصل ہو۔ان نمائندوں کا انتخاب عوام کرتے ہیں ۔جو اپنی پسند کا حکمراں چنتے ہیں ۔جمہوری ملک میںشہریوں کومختلف قسم کے حقوق حاصل ہوتے ہیں ،مثلاً:اظہار رائے کی آزادی ،اپنے اپنے مذاہب وعبادات پر عمل کرنے کاحق،تعلیم کا حق ،ووٹ ڈالنے کا حق،اپنے مذہب کے مطابق شادی بیاہ کرنے کا حق اور اس کے علاوہ بھی بہت سے حقوق جمہوری ملک کاآئین عطا کرتا ہے۔یہی آئین، جمہوری طرز حکومت کو آمریت سے ممتاز کرتا ہے۔آئین ہی جمہوریت کی شان ہے۔
ہندوستان کے شہری آئین کے نفاذ کا جشن ’’یوم جمہوریہ ‘‘کے نام پرملک کے کونے کونے میں بڑے ہی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔خصوصا ملک کی راجدھانی دہلی میں یوم جمہوریہ کا جشن دیدنی ہوتاہے۔کیوں کہ یوم جمہوریہ،ہندوستانیوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن قانون ساز اسمبلی کے ذریعے تیارکردہ آزاد ہندوستان کے آئین کا نفاذعمل میں آیا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے قانون سازی اسمبلی کا پہلا اجلاس ۹دسمبر ۱۹۴۶ ء کو منعقد ہوا۔مجلس قانون ساز نے متفقہ طورپر۱۷ دسمبر۱۹۴۶ء کو ڈاکٹر راجندرپرساد کو مجلس قانون سازکا صدر چنا،قانون ساز اسمبلی کے ذریعے ۲۲ جنوری۱۹۴۷ء کو قانون کے لیے چندمعروضات پیش کیے گئے۔ انہیں معروضات کے پیش نظر دستور مرتب کیا گیا۔جس میں ہر طبقہ ،ہر ذات ،ہرمذہب کے لوگوں کے حقوق کا خیال کیا گیا۔
دستور ساز اسمبلی نے ایک ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی، جو سات اراکین پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اس کے چیر مین بنائے گئے۔مختلف رنگ و نسل،مذہب و ملت اور مختلف زبان و تہذیب والے ملک کا قانون ۲ سال۱۱ مہینے ۱۸دن میں بن کر تیا رہو گیا۔ایسے ملک کا قانون بنانا ایک بڑا ہی اہم قدم تھا،جس میںمختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہوں۔آئین میں مذاہب کے احترام کا قانون بھی شامل تھا۔ا س کے تیا رکرنے میں دستور ساز اسمبلی،ڈرافٹنگ کمیٹی کے علاوہ کل ۲۱۱، افراد نے حصہ لیا۔جو ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء کو تیا رہو گیا۔لیکن اس کا نفاذ ۲۶ جنوری۱۹۵۰ء میں دس بج کر اٹھارہ منٹ پر عمل میں آیا۔ آئین کا نفاذ ایک اہمیت والا کام تھااور ہندوستانی اسے کسی خاص دن نافذ کرنا چاہتے تھے۔اس لیے اس کے نفاذ کے لیے ایک اہمیت والا دن چنا ۔ہندوستانی آئین کے نفاذ سے پہلے بھی ۲۶ جنوری کی بڑی اہمیت تھی کیوں کہ انہیں وہ تاریخ یاد تھی جب ۱۹۳۰ء کو لاہور میںدریائے راوی کے کنارے اتوار کے دن انڈین نیشنل کانگریس نے ایک اجلاس منعقد کیاتھا۔ اتفاق سے وہ ۲۶ جنوری کا دن تھا۔اس کی صدارت پنڈت جواہرلال نہروکر رہے تھے۔ اس اجلاس میں کانگریس نے ڈومنین اسٹیٹس کی بجاے مکمل آزادی کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دے کر ترنگالہراکریوم آزادی کے طورپر منانے کا فیصلہ کیا۔پھر اس دن کو پورے ملک میں یوم آزادی کے طورپر منایا گیا۔ہندوستانی ،برطانوی تسلط میں ہوتے ہوئے بھی اپنی آزادی کا جشن منانے لگے اور اپنے کردار سے یہ بتانا چاہاکہ اب ہندوستانی زیادہ دنوں تک غلامی کی زنجیروں کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے تئیں اپنی بیداری کو ظاہر کرنے لگے۔اس سے انگریزبوکھلاگئے اوران کو بھی اب احساس ہونے لگاکہ ہم اب زیادہ دن کے مہمان نہیں ہیں۔
انقلاب۱۸۵۷ء سے لے کر جنگ آزادی تک اس ملک کو برطانوی تسلط سے آزاد کر انے کے لیے مسلمانوں نے اپنی جانوں کی بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ یوں تو ملک کو آزاد کرانے میں تمام مذاہب کے لوگوں نے حصہ لیا۔لیکن بہت سے جلیل القدر علمائے کرام کی قربانیاںبھلائی نہیں جا سکتیں۔بالآخر ان نفوس قدسیہ کی قربانیوں سے ہندوستان کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔ان کی پاکیزہ جانوں کے بدلے آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔پھر آزادی کے بعد شہریوں کے لیے قانون بنائے گئے۔جن کا نفاذ ۲۶ جنوری۱۹۵۰ء کو کیا گیا۔اسی مناسبت سے اس دن کو یادگار کے طو ر مناتے رہے ہیں۔
جمہوری اقدار کی حفاظت کرنے والے ملک کی جمہوریت پراب خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ہر چہار جانب حقوق عامہ کا استحصال کیاجا رہا ہے۔شہریوں کے درمیان بڑی تیزی سے نفرتوں کا بیج بویا جا رہاہے۔مذہب و ملت اور ذات پا ت کے نام پر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔عوام کے درمیان اشتعال انگیزی عام ہوتی جارہی ہے۔مسجد مندر کے نام پرنفرتیں پھیلا ئی جا رہی ہیں۔ہندو مسلم فسادات کرائے جارہے ہیں۔موجودہ حکومت میں موب لنچنگ کی وبا پھیلی ہوئی ہے ۔انسانی جان جانوروں سے سستی تصورکی جارہی ہے ۔مخصوص جانور کے تحفظ کے نام پر عوام پر ایک خاص طبقے پر تشدد کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ باضابطہ ملک کی بڑی تنظیموںکے ذریعے ایسوںکی پشت پناہی کی جاتی ہے۔ بڑے لیڈران نفرت پھیلانے کے مواقع ڈھونڈتے رہتے ہیںاور باتوں کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ملکی منظر نامے پر نظر ڈالنے سے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ جمہوریت کہیںآمریت میں نہ بدل دی جائے۔ بلکہ اب تو بدلتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ایک بے رنگ ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش زوروں پر ہے ۔ملک کا امن و امان خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔لگتا ہے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کوکسی کی نظرلگ گئی ہے۔ہر طرف انتشار ہے۔ہر کس و ناکس امن کی آس لگائے بیٹھاہے۔ پھر سے کھویا ہوا چین حاصل کرناچاہتا ہے۔
بچپن میں اسکول میں ہم ۱۵، اگست اور۲۶ جنوری کو ’’ایک بنیں گے،نیک بنیں گے‘‘کا نعرہ خوب سنتے تھے اورلگاتے تھے۔ اس سے ہمیں نیک بننے کا درس ملتا تھا۔لیکن موجودہ دور میں ملک کے باشندوں کی ذہنیت یکسر بدلتی جارہی ہے۔جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اس کے نام پر ڈکٹیٹر شپ والی اقتدار لانے کی تیاری چل رہی ہے۔ملک میں ناگوار حالات پیش آنے سے پہلے ہمیں آگاہ رہناہوگا۔تاکہ ایسی صورت حال ہی پیدا نہ ہونے پائے۔ ہمیں تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگااور ملک کے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا ۔حالات کے تقاضوں سے باخبر ہونا ہوگا۔تبھی ہم باطل قوتوں کاڈٹ کر مقابلہ کر سکیں گے۔کسی بھی قسم کے بدلاؤکے لیے تعلیمی حالت کی درستگی بہت ضروری ہے ۔کیوں کہ تعلیم ہی ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے ہم عالم کے منظر نامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
آج ملک کا کسان پریشان ہے ۔ان کے وجود کا سوال ہے ۔سرمایہ داروں کو خوش کرنے اوران کے قارونی خزانے کو پروان چڑھانے کے لیے نئے نئے قوانین لائے جا رہے ہیں۔کبھی تو این آر سی کا قانون لا کر عوام کو پریشان کیا گیا تو کبھی کسانوں سے متعلق قانون لا کر ان کو بے چین کیا گیا ،اس وقت پورا ملک مضطرب ہے ۔اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے ۔حکومت سونٹھ کی ناک لیے بیٹھی ہے گویا اپنے طرزعمل سے یہ کہہ رہی ہے کہ کتنے دنوں تک مطالبہ کریں گے ایک دن خاموش ہو جائیں گے ۔ایسی افکار ونظریات کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔
ہندوستانیوں پر تمام حقوق و فرائض کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس خوشی والے دن کی اصلیت کو جانیں اور ہندوستان کے قوانین کو جانیں،دستورہند کو جانیںتاکہ اس کی روشنی میں اپنے حقوق کا صحیح طور پر مطالبہ کرسکیںاورکمزوروں ،مجبوروں کو ان کا حق دلا سکیں ۔اپنی جان کے تحفظ اور معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔یہ ساری چیزیں تعلیم کے بغیر ناممکن ہیں۔ملک کو آزاد کرانے میں اور آزاد ملک کے دستور کو بنانے میں جن لوگوں نے حصہ لیا ہے ۔اس دن ان کو یاد کریں۔اپنے اندرملک کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔جذبے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ہر محاظ پرملک و ملت کی خد مت کرنے کی اہلیت پیدا کریں۔پھرعوام کے فلاح و بہبود کا کام کریں۔اپنے اندرمجبور و بے سہارا لوگوںکا درد پیدا کریں۔ان کے لیے آگے بڑھیںاور کام کریں۔یہ سارے کام اسی وقت آسانی سے ہو سکتے ہیںجب آپ کے پاس اقتدار ہو،سیاسی سمجھ بوجھ ہو ،ملک کے بڑے عہدے ہوں۔خود کوملک کے بڑے بڑے عہدوں پرفائز کرنے کے لیے سخت محنت کریں۔جب ہم محنت کرکے اس میدان میں قدم آگے بڑھا ئیںگے ۔تو ملک کا منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔اب کوئی علامہ فضل حق خیرآبادی یامولاناابوالکلام آزاد نہیں آنے والے ۔اب ہمیں میں سے ایسی عظیم شخصیات پیدا ہوں گی۔جو ملک کوشرپسند عناصر سے آزاد کراکے امن و امان کا گہوارہ بنا سکے ۔اس کے لیے اسی کے مطابق محنت بھی کرنی ہوگی تاکہ ملک کو کھویا ہوا وقار دلا سکیں ۔اس کا امن و سکون واپس لا سکیں اور ملک کی خوش حالی بحال کر سکیں۔یوں تواس ملک میں مسائل بہت ہیں۔باتیں اتنی ہی کی جائیں ،جن پر عمل کیا جا سکے۔اور بس۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے