26/ جنوری آئین، جمہوریت اور ملک وملت کے ساتھ ایفاے عہد کا دن

یوم جمہوریہ شایان شان طریقے سے منائیں: مفتی منظور ضیائی

26/ جنوری کو ہر سال پورے ملک میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے۔جس دن کی اہمیت یہ ہے کہ 26/ نومبر 1949 دستور ساز اسمبلی میں 1935کے گورئمنٹ آف انڈیا ایکٹ کو منسوخ کرکے نئے آئین کو منظور کیا اور 26 جنوری 1950کو ہندوستان باقاعدہ ایک جمہوری ملک بن گیا اسی مناسبت سے ہم ہر سال یوم جمہوریہ مناتے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت اور اُس کے بعد دنیا کے کئی ممالک آزاد ہوئے لیکن ان بیشتر نو آزاد ملکوں میں جمہوریت نے بہت جلدی دم توڑ دیا اور وہاں جمہوریت کی جگہ آمریت کا دور دورہ ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑوس میں ہی ایک نظر ڈالیں۔لیکن ہندوستا ن میں جمہوریت کی جڑے اتنی گہری ہیں کہ ۷۰ سال گذر جانے کے بعد بھی ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں آئین،قانون اور جمہوریت کو بالا دستی حاصل ہے۔اسی مناسبت سے یہاں ہر سال یوم جمہوریہ نہایت دھوم دھام اور شان وشوکت سے منایا جاتا ہے۔اس کا سب سے بڑا پرُشکوہ جشن دارالحکومت دہلی میں ہوتا ہے اس کے علاوہ ریاستی دارالحکومتوں،ضلع ہیڈ کوارٹرز،گاؤں قصبے غرض کی ہر جگہ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے پر اس سال ایسا ہو رہا ہے کہ کورنا کی وجہ سے تقریبات کا دائرہ کچھ مختصر کر دیا گیا ہے۔دارالحکومت دہلی میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں کوئی غیر ملکی مہمان شریک نہیں ہو رہا ہے برطانونی وزیر اعظم کا دورہ ہند منسوخ ہو چکا ہے۔اسی طری دیگر مقامات پر بھی کورونا کی اس ایس۔او۔پیز پر عمل در آمد کرتے ہوئے تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہیں۔ ایک نظر ڈالتے ہیں کہ آخر یہ جمہوریت کیا ہے اور ہم یوم جمہوریہ کیوں مناتے ہیں اور ہماری زندگی میں اس دن کی اہمیت وافادیت کیا ہے۔
15/ اگست کو یوم آزادی اور
26/جنوری کو یوم جمہوریہ آتا ہے اس کے ساتھ ہی اسی دن ہندوستان ایک خود مختار جمہوری ملک میں تبدیل ہو گیا اس کا خواب ملک کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے ہمارے عظیم رہنماؤں نے دیکھا تھا۔یہ تاریخ جمہوریہ ہند کی حقیقی روح کی نمائندگی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دن نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے اُن تمام ملکوں میں منایا جاتا ہے جہاں ہندوستانی مقیم ہیں۔آزادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔اقتدار کا حقیقی سر چشمہ ہندوستانی عوام ہیں یہاں مذہب،ذات،فرقہ،علاقہ اور زبان کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے۔دستور کی 42 ویں ترمیم کی روح سے ہندوستان کو ایک سیکولر ملک قرار دے دیا گیا۔یعنی ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا نہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سکول کیا جائے گا۔آئین کی روح سے ہر ہندوستانی شہری خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا کیوں نہ ہوں قانون کی نگاہ میں برابر ہے اور ہر شہری کو اظہار آزادی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اُس کی تبلیغ واشاعت کا حق بھی حاصل ہے۔
جمہوریت کو انگریزی زبان میں ڈیموکریسی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے عوام کی حکمرانی۔دنیا بھر کے ماہرین دستور نے جمہوریت کی الگ الگ طرح سے تعریف کی ہے ان میں سب سے اہم اور سب سے مشہور ابراہم لنکن کا وہ جملہ ہے جس میں کہا گیا ہے ”جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت،عوام کے ذریعے قائم کی گئی حکومت اور عوام کے لئے قائم کی گئی حکومت“جمہوریت میں عوام اپنی مرضی کے حکمراں منتخب کر سکتے ہیں اور نا پسندیدہ حکومت کو اقتدار سے باہر بھی کر سکتے ہیں ہندوستان بارہا اس کا نظارہ کر چکا ہے۔ہندوستان جیسے وسیع و عریض سوا ارب کی آبادی،مختلف مذاہب رنگ ونسل،زبان اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ملک کیلئے جمہوریت سے بہترکوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا۔
اب آئیے دیکھتے ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے یوم جمہوریہ ہمارے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ہندوستان سے،پھر ہندوستان کی آزادی سے ہندوستانی مسلمانوں کا کتنا گہرا تعلق ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریزوں کے خلاف جدوجہد سب سے پہلے بنگال کے نواب سراج الدولہ نے 1757 میں حیدر علی نے 1767میں اور 1780میں ٹیپو سلطان نے انگریزں کے خلاف جنگیں لڑی اور جان ومال کی بے پناہ قربانیاں دی۔1857 میں بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کا آغاز ہوا اور بڑے پیمانے پر جانی ومالی قربانی کے نتیجے میں ہندوستان آزاد ہوا۔مسلمانوں نے بالخصوص علمائے اکرام نے آزادی کی جنگ میں بھر پور حصہ لیا اور کسی بھی قسم کی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کیا با لآخر 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہو گیا اور 26/ جنوری 1950 کو ہندوستان ایک جمہوری ملک بن گیا۔
شروع کی جس نے آزادی کی لڑائی
وہ مسلمان ہی تھا
دیا ہند کو تاج محل جس نے
وہ مسلمان ہی تھا
جہاں لہراتا ہے ترنگا آج بھی شان سے
کیا تعمیر جس نے لال قلعہ
وہ مسلمان ہی تھا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
لکھا جس نے ترانہ ہند
وہ مسلمان ہی تھا
ہندوستان کی آزادی اور جمہوریت سے ہندوستانی مسلمانوں کا بہت گہرا رشتہ ہے۔یوم آزادی اور یوم جمہوریہ مسلمان بڑی دھوم دھام اور شان وشوکت کے ساتھ برادران وطن کے ساتھ مل کر اور علیحدہ طریقے سے بھی مناتے ہے اور دینی مدارس میں بھی اس کا خصوصیت سے بھی اہتمام کیا جاتا ہے ہماری خواہش،اپیل اور درخواست ہے کہ اس سال بھی مسلمان پورے جوش وخروش کے ساتھ دھوم دھام سے یوم جمہوریہ منائیں۔ملک کی سالمیت،اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کا عہد کریں اگرچہ دینی مدارس میں اس کا اہتمام کیاجاتا رہا ہے لیکن ہماری خواہش یہ ہے کہ اضافی جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ منایا جائے۔اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی دھیان رکھا جائے کہ کورونا نام کا مضر مرض ابھی تک قابو میں نہیں آیا ہے اسلئے احتیاطی تدابیر میں کسی طرح کی سستی اور کوتاہی نہ برتی جائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے