اجمیر مقدس میں برکتوں کی صبح اور شبِ تاباں

ازقلم: غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

٢٢ جنوری ٢٠٢١ء کی صبح تھی… نوری مشن کا ٦ رکنی کارواں عازم اجمیر مقدس ہوا… صبح درخشاں تھی… جمعہ کی برکتیں… یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں… تقریباً ١٢ بجے دوپہر ہم اس عظیم درِ پاک پر حاضر تھے… جس کی بلندیوں کا اندازہ ہماری ناقص عقلیں نہیں لگا سکتیں…

ہند کی وادیاں شرک و کفر کا مسکن تھیں… اصنامِ باطلہ کے آگے جبیں کا وقار پامال ہو رہا تھا… ارض ہند پر سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ وارد ہوئے… آپ نے لاہور و دہلی کی مسافرت اختیار کی… دلوں کی دنیا میں اسلام کا تازہ انقلاب برپا کیا…اس وقت اجمیر کفر و شرک کا مسکن تھا… مشرکین کا مذہبی مرکز تھا… ہر جبیں پتھروں کے آگے جھکی ہوئی تھی… دل بھی پتھر کے… معبودانِ باطل بھی پتھر کے… ہاتھوں میں بھی پتھر… سلطان الہند نے بے پناہ استقامت کا مظاہرہ کیا… ان کے دلوں کی دنیا بدل دی… کرامتوں کی بزم بھی سجائی… استقامت فی الدین کا اظہار بھی فرمایا… جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر کا زور ٹوٹ گیا…

جمعہ کی شام خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت سید فرقان علی چشتی اور ان کے فرزند سید اختر رضا چشتی کی وکالت میں ہم حاضر درِ خواجہ ہو گئے… جہاں عالم اسلام کے لیے دعائیں کی گئیں… اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں کے لیے بھی دعا کی گئی…

ابھی ردائے شب دراز ہوئی تھی… ہر طرف نور کی چادر تنی ہوئی تھی… حضور غریب نواز کی نگہِ ولایت کا فیض کہ… اجمیر مقدس مسکنِ روحانیت بن گیا… مجلس سج گئی… ہم نے بزمِ نعت آراستہ کی… آج ٩ جمادی الآخر یومِ ولادتِ حضور غریب نواز کی ساعت تھی… والہانہ نغمے فضائے بسیط میں بلند ہو رہے تھے… نور نور منظر تھا… عشاق کا ہجوم… دودھیا گنبد سلطان الہند کی عظمتوں کا نشاں تھا… جس کی زیارت سے ایمان کو تازگی اور روح کو بالیدگی مل رہی تھی…

سلام "مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام” پیش کیا گیا… شجرہ مبارکہ پڑھا گیا… دعا کی گئی… دور افتادہ احباب کے سلام عرض کیے گئے… حاضری و حضوری کی دعائیں کی گئیں… تعلیمات حضور غریب نواز اور مشنِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے دعائیں کی گئیں… فسطائی قوتوں کے خاتمہ کے لیے دعائیں کی گئیں…

اسی شام خلیفۂ حضور مفتی اعظم و تاج الشریعہ؛ حضرت سید فرقان علی چشتی سے ملاقات کی گئی… علمی عناوین پر تبادلۂ خیال ہوا… حضور غریب نواز سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کی محبت و عقیدت کا پاکیزہ تذکرہ رہا…

شب دیر گئے تک پروانوں کا ہجوم بارگاہِ اقدس میں فروکش رہا… شب؛ صبح کا نظارہ پیش کر رہی تھی… کیوں نہ ہو کہ… یہ سلطان الہند کا دربار ہے… جنھوں نے شرک کی تاریک وادیوں میں ایمان کی قندیل روشن کی… اور پورا ہندستان نورٌ علیٰ نور ہوگیا… برادرِ اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا بریلوی نے دل پذیر مضمون نظم کیا:

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

مسافرت کی اس منزل میں معین پٹھان رضوی، فرید رضوی، یاسین رضا، شہزاد برکاتی اور سعد رضوی ساتھ ہیں۔ جس کا اگلا پڑاؤ حضرت خواجہ حمید الدین ناگوری علیہ الرحمۃ کا در اقدس ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تہنیت نامہ

جامع معقول و منقول، حاوی فروع و أصول، استاذ العلماء، محقق مسائل جدیدہ ،سراج الفقہاء، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے