نعت رسول: شہر طیبہ سا کوئی خطّہ نہیں

نتجۂ فکر: شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی

شاہ دیں کا کلمہ جو پڑھتا نہیں
خلد کا حقدار وہ ہوگا نہیں

جا کے دیکھو گر یقیں ہوتا نہیں
شہر طیبہ سا کوئی خطّہ نہیں

حسن یوسف تھا عیاں سب پر مگر
کوئی بھی سرکار کے جیسا نہیں

مل گیا جس کو پسینہ شاہ کا
مشک وعنبر اس نے پھرمانگا نہیں

جو بھی آتا ہے درِ سرکار پر
ہاتھ خالی وہ کبھی جاتا نہیں

باغ جنت کیسے جائے وہ بھلا
سرورِ عالم کا جو شیدا نہیں

کر وصیت اپنی یہ اولاد کو
دین آقا سے کبھی پھرنا نہیں

کیجئے شمسی پہ بھی چشمِ کرم
ہند میں آقا رہا جاتا نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے