پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی
کوڈرما، جھارکھنڈ انڈیا
9431538584

جو اللہ تعالی سے ڈرا۔ اس کے لیے بچ نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ (الطلاق-آیت:٢)
پہلے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں پہ جو بھی مصیبتیں آتی ہیں، وہ یا تو گناہوں کو مٹا کر بلندی درجات کا باعث ہوتی ہیں، یا ترقی و کامیابی کے دروازے کھولتی ہیں۔وہ ابتلاء و آزمائش کے بعد راہ نجات کو ممکن و متوقع بناتی ہیں۔اور یہ دونوں صورتیں ہمارے لیے خیر کے سرچشمے ہیں۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں پر مصائب و آلام اور خطرات کے بادل اس طرح امنڈ رہے ہیں کہ یہ سلسلہ رکنے اور ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔وہیں دوسری طرف مسلمانوں کی ترقی و کامیابی کے دروازے بھی بند پڑے ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جب ہم کسی مصیبت میں پھنستے ہیں تو اس سے نکلنے کے لیے جائز کے ساتھ ناجائز کاموں کابھی ارتکاب کرنے لگتے ہیں؟ مثلا غربت و افلاس سے نکلنے کے لیے رشوت خوری وحرام خوری کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ کیس،مقدمات وغیرہ سے نکلنے کے لیے جھوٹ اور جعلی گواہی کا سہارا لیتے ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے امتحانات میں نقل اور چوری کرتے ہیں۔ اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے دوسروں کی تجارت کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دشمنوں سے چھٹکارا پانے کے لیے مکر و فریب و جعلسازی کا سہارا لیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ ایسا کرکے دراصل ہم مصیبت کو دعوت دے کر مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں۔ نتیجتا ایسا کرنے سے ہماری مصیبتیں بجائے گھٹنے کے مزید بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ہم راہ نجات کے طور پر وجہ مصیبت کو اختیار کر رہے ہیں۔ جب کہ قرآن مقدس میں اللہ تعالی نے مصائب و آلام سے نکلنے کا صرف ایک ہی طریقہ بتایا ہے اور وہ ہے دل میں اللہ تعالی کا ایسا خوف پیدا کرنا کہ سخت ترین مشکل حالات میں بھی سچائی اور حق پہ ثابت قدم رہیں۔ اس کو واضح طور پر سمجھنے کے لیے دو حدیثیں پیش کرتا ہوں۔
(1) شروع میں ذکر کردہ آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عوف بن مالک اشجعی سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بیٹے کو دشمنوں نے قید کر لیا ہے۔ اور اس کی ماں اس کی جدائی میں بہت بے چین رہتی ہے۔ ایسے میں، میں کیا کروں؟ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرو اور صبر کرو۔ اور میں تجھے اور تیری بیوی کو حکم دیتا ہوں کہ کثرت سے”لاحول ولاقوة إلا بالله” پڑھا کرو۔ فرمان رسول سن کر وہ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی گفتگو کو بتایا۔ جواب میں اس نیک خاتون نے کہا کہ بے شک حضور نے جو حکم دیا ہے وہ بہتر ہے۔ پھر ان دونوں نے کثرت سے لاحول پڑھنا شروع کیا۔ چناں چہ اس کی برکت سے کچھ ہی دنوں میں دشمن ان کے بیٹے کی طرف سے غافل ہوگئے اور اس ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان کا بیٹا دشمنوں کی بھیڑ، بکریاں ہانکتا ہوا خیریت کے ساتھ اپنے والدین کے پاس پہنچ گیا۔(تفسیر ضیاء القرآن:جلد ٥ / ص ٢٧٨)
(2) حضرت سالم بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن عمر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم سے پہلی امت کے تین آدمی سفر کر رہے تھے۔ ایک غار میں پناہ لینے کی غرض سے داخل ہوئے۔ پہاڑ سے ایک چٹان آکر گری جس سے چٹان کا منہ بند ہوگیا۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ اس چٹان سے نجات پانا مشکل ہے جب تک اللہ تعالی کو کسی بہترین عمل کا واسطہ دے کر دعا نہ کی جائے۔ ان میں سے ایک بولا یا اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہیں پلاتا تھا خواہ بیوی، بچے ہوں یا غلام اورلونڈی، ایک دن کسی کام کی غرض سے بہت دور چلا گیا اور اس وقت واپس آیا جب دونوں سو چکے تھے۔ میں نے ان کے لیے دودھ دوہا۔ میں نے انہیں سویا ہوا دیکھا تو میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ ان سے پہلے بیوی، بچوں یانوکروں کو دودھ دوں۔ چنانچہ میں وہیں کھڑا رہا اور پیالہ میرے ہاتھ میں تھا، میں ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا،یہاں تک کہ صبح ہوگئی، وہ جاگے اور انہوں نےدودھ پیا۔ یا اللہ اگر یہ سب کچھ میں نے تیری خوشنودی کے لیے کیا تو اس مصیبت کو ہم سے دفع فرما۔ جس میں ہم اس چٹان کی وجہ سے گرفتار ہیں۔ چنانچہ وہ تھوڑی سی سرک گئی، لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرا بولا کہ اے اللہ میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب عورتوں سے زیادہ عزیز تھی لیکن وہ مجھ سے کھینچی کھینچی رہتی تھی۔ حتیٰ کہ ایک سال بعد اسے کسی ضرورت کی وجہ سے میرے پاس آنا پڑا، میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ میرے اور اپنی ذات کے درمیان حائل نہ ہو۔ وہ رضامند ہوگئی،جب میں نے اس پرقابو پالیا تو وہ بولی کہ میں تمہارے لیے حلال نہیں کہ میری مہر (عفت) کو توڑو۔ چنانچہ میں نے اس سے صحبت کو گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہو گیا حالانکہ وہ مجھے دنیا جہان سے زیادہ عزیز تھی اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اسے دیا تھا۔ اے میرے معبود اگر یہ سب میں نے تیری رضا کے لیے کیا تو، تو ہم سے اس مصیبت کو دور کر دے جس میں ہم پھنس گئے ہیں۔ چناں چہ وہ چٹان کچھ اور سرک گئی، لیکن وہ پھر بھی باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیسرا آدمی بولا اے میرے رب میں نے کچھ مزدور کام پر لگائے تھے۔ میں نے انہیں مزدوری دی لیکن ان میں سے ایک مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کی مزدوری کو کسی کام میں لگا کر بڑھانا شروع کر دیا۔ بہت سا مال ہاتھ آیا۔ ایک عرصہ بعد وہ میرے پاس آیا اور کہا: خدا کے بندے! مجھے میری اجرت دے۔ میں نے کہا یہ اونٹ، بکری، گائے اور غلام جو کچھ دیکھ رہے ہو یہ سب تمہارا ہے اس نے کہا: مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا چنانچہ اس نے وہ سب کچھ لے لیا۔
اے اللہ! اگر یہ سب کچھ میں نے تیری رضا کی خاطر کیا تھاتو، اس مصیبت کو دور فرما دے چنانچہ وہ چٹان ایک طرف ہو گئی اور وہ لوگ باہر نکلے اور چل دیئے۔(نزهة المتقين شرح رياض الصالحين – البخاري:10/415 – المسلم: 4/1982)
ہماری زبوں حالی ہماری غلط روی سے ہے نہ کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے غریب ہیں۔
غلط روی سے منازل کے بعد بڑھتے ہیں۔
قافلے والو! روش کارواں بدل ڈالو۔
مسلمانوں کو کامیابی کے لیے تبدیلی احوال کی سخت ضرورت ہے کہ مذکورہ بالا شعر پہ عمل کر کے درج ذیل شعر کے مصداق بننے کی ضرورت ہے۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا شجاعت کا عدالت کا۔
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔
امامت کبریٰ پر فائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپسی اتحاد و اتفاق، خیر خواہی و غم گساری، عدل و انصاف، تہذیب و تمدن، تعلیم و تجارت، صنعت و حرفت، اور باہمی ارتباط کے لیے تنظیم و تحریک وغیرہ سے ہمارا انسلاک ہو۔ کہ یہ سب وہ طاقتیں اور خوبیاں ہیں جن پر مسلمانوں نے گامزن رہ کر دنیا میں سروری کی ہے۔ اب اگر آئندہ بھی عزت و حشمت چاہتے ہیں تو پھر مذکورہ خوبیوں سے متصف ہونا ہوگا۔
ان شاء اللہ العزیز ہم میں سے ہر ایک نے اگر اس جانب صدق دل سے کوشش کی تو یقینا ہمارے اندر وہ خوبیاں پیدا ہوں گی جس سے ہمیں امامت کبریٰ بھی حاصل ہوگی اور کشائش رزق کے ساتھ کشور کشائی بھی۔
اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ میری جانب ایک قدم بڑھاتا ہے تو میری رحمت اس کی جانب دس قدم بڑھاتی ہے۔ ہمارے اسلاف پہ اللہ تعالی کی رحمتیں اس کی بہترین مثال ہیں۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ جس میں بہت ہی سادگی ہے لیکن کامیابی و کامرانی کے لیے کلیداول ہے۔ علامہ اقبال کی زبان میں آئیے ہم دعا کرتے ہیں۔

کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

One comment

  1. بسم الله و ماشاء الله!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے