مساجد و مدارس کے ذمہ داروں کا رویہ! ایک لمحۂ فکریہ

ازقلم: محمد شمس تبریزعلیمی
دارالعلوم کلیمیہ رضویہ حفظ القرآن، عنایت پور مالدہ (مغربی بنگال) انڈیا

اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و خرد جیسی لازوال نعمت عطا کیا ۔ جس کی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا گیا ہے ۔ عقل کے بغیر انسان صرف حیوان ناطق ہے۔ کیونکہ انسان اور حیوان میں عقل و خرد ہی خط امتیاز ہے ،پڑھا لکھا آدمی بہت جلد معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتا ہےجاہل کا ذہن نا پختہ اور عقل خام ہوتی ہے۔ اس لئے کسی بات کے اچھے یا برُے پہلوؤں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتاہے۔ علم ہی سے انسان، انسان ہے۔ عالم اور جاہل میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ عقل و خرد کی بنیاد پر انسان اپنے سے زیادہ طاقتور اور قوی ہیکل جانوروں سے سواری کا کام لے رہا ہے ۔ یہ عقل ہی کی دین ہے کہ فرش گیتی پر رہنے والا انسان سمندر کا سینہ چیڑ کر راستہ بنا لیتا ہے ۔ اور اسی عقل کی وجہ سے ہواؤں کی دوش پر مہینوں کا سفر چند ساعتوں میں طے کر رہا ہے ۔ علم اور عقل کا صحیح استعمال انسان کی زندگی میں انمول حُسن پیدا کردیتا ہے۔
قارئین! علم اور عقل و خرد سے کام لینے والا انسان ہر منزل پر کامیاب نظر آتا ہے ۔ اللہ رب العزت جب کسی بندے کو کوئی دینی منصب عطا کرتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوجاتی ہیں ۔اگر کوئی عالم دین ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنے علم پر عمل کرے ۔اللہ نے جس بندے کو حکومت عطا کی ہے یا جسے مسند قضا و حکم عطا کیا ہے اسے عام و خاص کے درمیان یکساں سلوک اور درست فیصلہ کرنے کا حکم ہے ورنہ عذاب آخرت کا مستحق ہوگا۔کوئی اہل ثروت ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی دولت کو درست راستے میں خرچ کرے ۔ غرض یہ کہ جو جس مرتبہ پر فائز ہو اسے اپنے مرتبے کا حق ادا کرنا ضروری ہے ۔ اب بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو دینی و دعوتی مشن کے ذمے دار ہیں ۔ اولاً دینی مراکز کی باگ ڈور ایسے لوگوں کو سپرد کرنی چاہیے جو دیندار ہوں، جنہیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی معلومات ہو۔ یا کم از کم علماء دین کی قدر و منزلت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں ۔عصر حاضر کا بہت بڑا المیہ ہے کہ مساجد و مدارس کے اکثر ذمہ داران جہلا اور دین سے کوسوں دور نظر آتے ہیں ۔ علماء کرام کی قدر و منزلت کو سمجھنے سے قاصر وعاجز ہیں ۔ ایسے لوگ جنہیں اسلام کے بنیادی مسائل بھی معلوم نہیں لیکن عوام الناس نے مساجد اور مدارس کی عظیم ذمہ داریاں ایسے لوگوں کے سپرد کی ہیں جو علماء کرام کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔ اس قدر سختی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ امام سے ایک منٹ تاخیر ہونے پر مسجد ہی میں شور و غل شروع ہو جاتا ہے، اتنا بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ امام بھی ایک انسان ہی ہے ۔ ہماری طرح انہیں بھی حوائج بشری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
تو جن لوگوں کو مساجد اور مدارس کی ذمہ داریاں ملی ہیں انہیں ہمیشہ اپنے فرائض منصبی کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کا ہمیشہ مکمل خیال رکھیں ۔ مساجدکے مؤذنین و ائمہ کرام اور مدارس کے اساتذہ کی خدمت میں وقتاً فوقتاً تحفے پیش کرتے رہیں ۔ ان حضرات کو معاشی طور پر بے فکر کردیں تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مدارس و مساجد کے ذمے داروں کو سعادت دارین عطا فرمائے گا ۔ جب کبھی ان علماء ربانیین پر کسی قسم کی آفت آن پڑے تو مساجد و مدارس کے ذمہ داروں کو اپنے تن من دھن سے اس کودورکرنے کا جتن کرنا چاہیے ۔ آج ہر چیز کی مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ۔ ایسے پر آشوب وقت میں ایک پرائمری ٹیچر کا ماہانہ خرچہ تقریباً تیس ہزار سے زائد ہے لیکن ایک عالم دین جو کسی مسجد کا امام ہو تو اس کی تنخواہ تین ہزار یا زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار روپے ہے ۔ دارالعلوم اور جامعہ کے پرائیویٹ اساتذہ کی تنخواہ پانچ ہزار سے 15 ہزارتک ہے ۔ ایسے حالات میں علماء کرام کس طرح اپنے گھریلو اخراجات پورے کرتے ہوں گے یہ ان سے بہتر کوئی اہل ثروت نہیں جانتا ہے ۔ اہل وعیال کی پرورش، بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور بچیوں کی شادیوں کا انتظام اتنی قلیل رقم میں کس طرح انجام دیتے ہوں گے؟ ذرا سوچیں!
اس پُر فتن زمانے میں ائمہ کرام کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کمیٹی والوں نے ایسے سخت شرائط مقرر کیے ہوئے ہیں کہ سن کر حیرانی ہوتی ہے، ایک مسجد والوں نے امام سے کہا کہ آپ کے پاس جس وقت کوئی جھاڑ پھونک کے لیے آجائے تو اپنی ساری ضروریات چھوڑ کر فوراً دعا، تعویذ وگنڈہ میں لگ جائیں ان کاموں کے لئے ایک روپے بھی نہ مانگیں، میلاد و فاتحہ کے لیے جائیں تو روپے طلب نہ کریں، اس طرح کی اور بھی بے سروپا شرطیں لگائی جاتی ہیں جنہیں سن کر طبیعت جھنجھلا جاتی ہے اور ضمیر یہ سوال کر بیٹھتا ہے کہ آخر ان علماء کرام کا قصور کیا ہے؟
قارئین کے فائدے کے لیے ایک اقتباس پیش کیا گیا ہے اسے پڑھ کر فیصلہ کریں، ذرا دل کی گہرائیوں سے سوچیں اور بتائیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے…. ؟
آج ایک انجینئر نقشہ بنانے کی فیس، ڈاکٹر اور
آپریٹر اپنی فیس، ایک ٹیکسی والا اپنا کرایا، کِرانے والا اپنے سامان کا ریٹ، ایک سبزی والا اپنی سبزی کا بھاؤ پہلے طے کر لیتا ہے۔
مانا کہ انہوں نے اپنے ہنر کے دم پر کام کے حساب سے جس نے جتنا مانگا اسے دے دیا گیا۔۔
لیکن آج ایک امام صاحب ہی ہیں جن کو کبھی ہم نے اتنا نہیں دیا جتنا انہیں چاہیے تھا۔اگر ہمارے امام صاحب ہر کام کا ریٹ پہلے طے کر دے تو…………….
آپ کہوگے صاحب کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے…….تو ہاں شریعت میں اس کی اجازت ہے۔شریعت میں تو یہاں تک حکم ہےکہ مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ سوکھنے سے پہلے پہلے ادا کر دینا چاہیے…..
اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو لوگوں سے کام لے اور اسے کچھ نہ دے….
تو آپ کہو گے صاحب یہ ہمارے امام صاحب تو ہمارے سردار ہیں مزدور تھوڑی………
تو پھر آپ چوراہے پہ جا جا کر کیوں کہتے ہو آج امام صاحب نماز میں لیٹ پہونچے تھے، امام صاحب نے ٹرسٹی کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی…
اور کچھ جگہوں پر تو یہ بھی سنیں گے کہ امام صاحب نے مسجد میں جھاڑو نہیں لگائی، پانی کی ٹنکی نہیں بھری۔وغیرہ وغیرہ۔۔
آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ یہ سب کام ایک مزدور سے کرایا جاتا ہے یا پھر سردار سے۔۔
خدارا امام صاحب کو اگر آپ نے سردار بنایا ہے تو سردار کا ہی مقام دیجئے ایک نوکر کا نہیں۔
کیوں امام صاحب کو ستاکر رلا کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کر رہے ہو۔
تو پھر آپ کہو گے صاحب ڈاکٹر، انجینئر اورآپریٹر نے بڑی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔۔
تو صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک مولوی صاحب کو مصلے تک پہنچنے کے لئے دس سے پندرہ سال لگ جاتے ہیں۔لوہے کے چنے چبانے کے برابر محنت کرنی پڑتی ہے تب جا کر یہ مقام ملتا ہے۔۔ صاحب ایسے ہی علم حاصل نہیں ہو جاتا ۔۔
پھر اماموں پر اتنا ظلم کیوں ۔۔
لہذا انہیں بھی اتنا ہی ملنا چاہیے جتنا وہ چاہتے ہیں۔۔
ائمہ حضرات سے میری گزارش ہے کوئی بھی کام ہو آپ صاحب خانہ سے کھل کر بولیں شرما شرمی میں اپنا نقصان نہ کریں۔۔ آپ کے ساتھ بھی ایک پریوار ہے اس کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔یہ عوام اتنی سمجھدار نہیں کی ایک امام صاحب کے دل کا درد سمجھ سکے۔۔
خدا نخواستہ! کل اگر آپ کو کچھ ہوتا ہے تو یہی عوام کہے گی امام صاحب کی چھٹی کر دو ان سے کچھ نہیں بنتا ہے…..
اخیر میں قوم کے غیور لوگوں سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے ائمہ و علماء کی قدر کرتے رہیں تاکہ ان کے طفیل دارین کی سعادتوں سے مشرف ہوسکیں ۔
7001063703

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے