جنگ آزادی میں علما کا کردار

تحریر: محمد طفیل ندوی
جنرل سکریٹری: امام الہند فائونڈیشن

ہندوستان کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کانذرانہ پیش کیا،جان و مال کی قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں تختہٴ دار پر چڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرات وحوصلہ اور کمال بہادری کیساتھ بخوشی گلے لگایا، قیدو بندکی صعوبتیں جھیلیں اور حصولِ آزادی کی خاطر میدانِ جنگ میں نکل پڑے، آخر غیر ملکی انگریز ملک سے نکل جانے پرمجبور ہوئے۔غیر ملکی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کوقائم رکھنے کیلئے طرح طرح کی چالیں چلیں، تدبیریں کیں، رشوتیں دیں، لالچ دیئے، "پھوٹ ڈالو اورحکومت کرو” کا اصول بڑے پیمانے پر اختیار کیا،فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کیے، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، آپس میں غلط فہمیاں پھیلائیں، تاریخ کومسخ کیا، انگریزوں نے ہندوستان کے معصوم باشندوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے اور ناحق لوگوں کوتختہٴ دار پر لٹکایا، ہندوستانیوں پر ناحق گولیاں چلائیں، چلتی ریلوں پر سے اٹھا کر باہر پھینکا؛ مگر ان کے ظلم وستم کوروکنے اورطوقِ غلامی کو گردن سے نکالنے کے لیے بہادر مجاہدین آزادی نے ان کا مقابلہ کیااورملک کو آزاد کر کے ہی اطمینان کی سانس لیں۔
ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کاحصہ قدرتی طور پر بہت ممتاز و نمایاں رہا ہے، انھوں نے جنگ آزادی میں قائد اور رہنما کا کردار اداکیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدار مسلم حکمرانوں سے چھینا تھا، اقتدار سے محرومی کا دکھ اور درد مسلمانوں کو ہوا، انھیں حاکم سے محکوم بننا پڑا، اس کی تکلیف اوردکھ انھیں جھیلنا پڑا، اسی لیے محکومیت وغلامی سے آزادی کی اصل لڑائی بھی انھیں کو لڑنی پڑی۔ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کم تناسب کے باوجود جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ اپنے وطن عزیز کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئےاپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے۔ یہ الفاظ کسی عام ہندوستانی، سیاسی رہنما یا پھر کسی مسلم عالم و قائد کے نہیں بلکہ ممتاز صحافی و ادیب آنجہانی خشونت سنگھ نے کہے تھے۔آپ کو بتادیں کہ دہلی کی انڈیا گیٹ پر تقریباً 95,300 مجاہدین آزادی کے نام تحریر کئے گئے ہیں جن میں سے 61,945 مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے، لڑنے اور قربانیاں پیش کرنے والوں میں 65 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔
جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپادیا گیا یا عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا۔ چلئے سچائی جاننے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ہندوستانی تاریخ میں جھانک کر دیکھتے ہیں۔ہر ہندوستانی کو ان ناقابل تردید حقائق کے بارے میں باخبر ہونا چاہئے اور اپنے بچوں کو بھی ملک کی تحریک آزادی کی حقیقت سے واقف کرانا چاہئے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہرہندوستانی کو جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں سے واقف کروائیں۔ ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ اور پھر ان کے خلاف جدوجہد آزادی کے آغاز کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلی جدوجہد آزادی حیدر علی اور ان کے فرزندٹیپو سلطان نے 1780 ء میں شروع کی اور 1790 ء میں پہلی مرتبہ فوجی استعمال کے لئے حیدر علی و ٹیپو سلطان نے میسوری ساختہ راکٹس کو بڑی کامیابی سے نصب کیا۔ حیدر علی اور ان کے بہادر فرزند نے 1780 ء اور 1790 ء میں برطانوی حملہ آوروں کے خلاف راکٹیں اور توپ کا مؤثر طور پر استعمال کیا۔
ہندوستان میں ہر کوئی جانتا ہے کہ رانی جھانسی نے اپنے متبنیٰ فرزند کے لئے سلطنت و حکمرانی کے حصول کی خاطر لڑائی لڑی لیکن ہم سے کتنے لوگ یہ جانتے ہیں کہ بیگم حضرت محل پہلی جنگ آزادی کی گمنام ہیروئن تھیں جنھوں نے برطانوی چیف کمشنر سر ہنری لارنس کو خوف و دہشت میں مبتلا کردیا تھا اور 30 جون 1857 ء کو چن پاٹ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ میں انگریزی فوج کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کی پہلی جنگ عظیم کو کس نے منظم کیا تھا اور اس کی قیادت کس نے کی تھی؟ اس کا جواب مولوی احمد اللہ شاہ ہے جنھوں نے ملک میں پہلی جنگ آزادی منظم کی تھی۔ جدوجہد آزادی میں بے شمار مجاہدین آزادی نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 90 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔ برطانوی راج کے خلاف سازش کے الزام میں اشفاق اللہ خاں کو پھانسی دی گئی۔ اس طرح وہ انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی پر چڑھ جانے والے پہلے مجاہد آزادی بن گئے۔ جس وقت اشفاق اللہ خاں کو پھانسی دی گئی اُس وقت ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔
مولانا ابوالکلام آزاد ایک ممتاز عالم دین تھے اور ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران انڈین نیشنل کانگریس کے ایک سینئر مسلم رہنما تھے۔ شراب کی دوکانات کے خلاف مہاتما گاندھی نے دھرنے اور گھیراؤ مہم چلائی اس میں صرف 19 لوگوں نے حصہ لیا، ان میں بھی 10 مسلمان تھے۔آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے بڑی مضبوط اور شدت کے ساتھ لڑائی لڑی۔ ان کی وہی لڑائی 1857 ء کی غدر کا باعث بنی۔ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے رنگون، برما میں بہادر شاہ ظفر کی مزار پر حاضری کے بعد کتاب تاثرات میں لکھا تھا ’’اگرچہ آپ ’’بہادر شاہ ظفر‘‘کو ہندوستان میں زمین نہ مل سکی، آپ کو یہاں ’’برما‘‘میں سپرد خاک ہونے کے لئے زمین مل گئی۔ آپ رنگون ’’ینگون‘‘ میں مدفن ہیں لیکن آپ کا نام زندہ ہے۔ میں ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کی نشانی و علامت بہادر شاہ ظفر کو خراج عقیدت و گلہائے عقیدت پیش کرتا ہوں، وہی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا نکتۂ آغاز تھا۔
آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ایم اے ایم امیر حمزہ نے انڈین نیشنل آرمی ’’آزاد ہند فوج ‘‘کے لئے لاکھوں روپئے بطور عطیہ پیش کیا۔ وہ انڈین نیشنل آرمی کے آزاد لائبریری ریڈنگ پروپگنڈہ کے سربراہ تھے۔ اب اس مجاہد آزادی کا خاندان انتہائی غربت و کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے اور ٹاملناڈو کے علاقہ رامنتاپورم میں یہ خاندان کرایہ کے مکان میں مقیم ہے۔
ہندوستانی، میمن عبدالحبیب یوسف مرفانی کو بھی نہیں جانتے۔ یہ وہی شخصیت ہے جس نے اپنی ساری دولت ایک کروڑ روپئے انڈین نیشنل آرمی کو بطور عطیہ پیش کردی تھی۔ اس دور میں ایک کروڑ روپئے کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ میمن عبدالحبیب یوسف مرفانی نے اپنی ساری دولت سارے اثاثے نیتاجی سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی کو عطیہ کردی۔ شاہنواز خاں ایک سپاہی، ایک سیاستداں اور انڈین نیشنل آرمی میں چیف آفیسر اور کمانڈر تھے۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی قائم کردہ آزاد ہند کی جلاوطن کابینہ کے 19 ارکان میں 5 مسلمان تھے۔ بی اماں نامی ایک مسلم خاتون نے جدوجہد آزادی کے لئے 30 لاکھ روپئے سے زائد رقم کا گرانقدر عطیہ پیش کیاتھا۔
کوئی بھی مسلم مجاہدین آزادی کی تحریک آزادی میں قربانیوں پر ہزاروں صفحات تحریر کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے فرقہ پرست، انتہا پسند، فاشسٹ طاقتوںنے اس سچائی و حقیقت کو عام ہندوستانیوں کی نظروں سے چھپائے رکھا اور اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی تاریخ کی کتب میں تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹوں کے حصول کی خاطر اور عوام کو منقسم کرنے تاریخ کو توڑ مروڑ کر ازسرنو قلم بند کیا گیا۔ محب وطن ہندوستانیوں کو ناپاک عزائم کے حامل سیاستدانوں کی مکاریوں و عیاریوں کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایک مضبوط و مستحکم اور ترقی پسند ملک کے لئے تمام شہریوں کو متحد کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔انگریزوں نے ہند پر حکومت کرنے کیلئے طرح طرح کی چالیں چلیں، تدبیریں اختیار کیں۔لیکن ان کی کوششیں رائیگاں ہوگئیں، الغرض ایک دن وہ آیا کہ ان لوگوں کو ہمارا ملک چھوڑ کر جانا پڑا، اور ہمارا ملک انکی غلامی سے آزاد ہوا، آزادی کا وہ دن ہندوستان کی تاریخ کا ایک یادگار اور اہم ترین دن بن گیا، تقریبا دو سو سال تک مسلسل قربانیوں اور جانفشانیوں کے بعد آزادی کا یہ دن دیکھنے کو نصیب ہوا، آج ہم جو اطمینا ن اور سکون کی زندگی گزاررہے ہیں، اور آزادی کے ساتھ جی رہے ہیں یہ سب ہمارے ہندوستانی بھائیوں کی قربانیوں کی دین ہے، اگر ہر ہندوستانی خاص کر مسلمان میدان جنگ میں نہ کودتے اور علماء لوگوں کے اندر جذبہ آزادی کو پروان نہ چڑھاتے تو پھر شاید کبھی یہ ہندوستان غلامی سے نجات نہیں پاسکتا تھا، یہ ایک تاریخی حقیقت اور ناقابل فراموش سچائی ہے کہ مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کی۔
ہم ہندوستانیوں کے لئے ۲۶جنوری و۱۵اگست کی تاریخ قومی تہوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ہمارے اسلاف کرام کی انتھک محنتوں، پیہم کاوشوں کے بعد ہمارا ملک انگریزوں کے ناپاک چنگل سے آزاد ہوا۔یہ تاریخ ہم ہندوستانیوں کے لئے فرحت و شادمانی سے لبریز ایک عظیم یادگارہے، اس دن ہمیں آزادی نصیب ہوئی ہے اورہم نے انگریزوں کی غلامی سے نجات پائی ۔ ہمیں یہ آزادی ہمارے اسلاف کرام کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس مبارک موقع پر چند جملے وطن عزیز ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے عنوان سے قید تحریر میں لایا جائے تاکہ ہم یہ جانیں کہ وطن عزیز کی آزادی کی جنگ میں ہمارے اسلاف نے کس قدر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور کس طرح سے جہد پیہم اور مسلسل کوششوں سے آزادی حاصل کی ہے۔
ہوا یوں کہ ہالینڈ کے سوداگروں نے ایک پونڈ گرم مصالحہ کی قیمت میں پانچ شلنگ کا اضافہ کردیا تو لندن کے درجن بھرتاجر سیخ پا ہوگئے۔ اسی وقت انہوں نے ایک تجارتی کمپنی بنانے کا فیصلہ کیاجس کانام انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی رکھا ۔ اس ضمن انہوں نے مختلف ملکوں کے اسفار شروع کئے۔1600ء میں الزبتھ اول سے کمپنی کوہندوستان میں تجارت کا پروانہ ملا۔چنانچہ پہلی بار ولیم باکنس ایک جہاز کے ذریعہ سورت کے بندرگاہ میں داخل ہوا اور ہندوستان آپہنچا،اس نے 1613ء میں سورت ہی میں اپنی پہلی کوٹھی قائم کی ۔پھر وہ سرتھامس راؤ جہاں گیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک درخواست کے ذریعہ اس نے شہنشاہ سے کاروباری مراعات حاصل کرلی۔اس کے بعد انگریزوں نے سرزمین ہندوستان پر اپنے پاؤں ایسے جمائے کہ تین سوسال تک وطن عزیز کی تمام بہاریں لوٹتے رہے اور جب یہاں سے رخصت ہوئے تو سارا ہندوستان خزاں کی زد میں تھا کہ پھر اس پر کبھی بہار نہ آئی۔ انگریزوں نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان پر اپنا تسلط جمالیا۔ وہ لوگ سب سے پہلے سورت، بھڑوچ، پھر آگرہ، اس کے بعد دریائے شور پارکرکے کلکتہ کو اپنا مرکز قرار دے دیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی لیکن اس کے بعد یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
انگریزوںنے پیہم سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی بدولت وطن عزیز پر اپنا ناپاک تسلط جمالیا۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال میں مغل بادشاہوں، حکمرانوں اور شہزادوں کی باہمی رقابتیں بہت حد تک ذمہ دار ہیں۔ اس کے لئے عوام کو ہرگز ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔عالمگیر اورنگ زیب کی وفات کے بعد عوام باہم دست و گریباں ہوگئے۔انگریزوں نے اس اختلاف و انتشار کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اور نواب سراج الدولہ کوشکست دے کر اولاََ بنگال پر قبضہ کیا، پھر کچھ دنوں میں مدراس اور کلکتہ پر بھی قبضہ جمالیا اوراس کے بعد حکومت کرنا شروع کردیا ، بعد ازاں دھیرے دھیرے 1865ء میں پورے ہندوستان پر تسلط قائم کرلیا۔یہ رہی ہندوستان پر انگریزوں کے قابض ہونے کی مختصر کہانی۔ جب وطن عزیز ہندوستان پر انگریزوں نے ناپاک تسلط جمالیا اور وہ ہندوستانی شہریوں پر ناحق ظلم وستم کرنے لگے اور ان کے ساتھ انتہائی نازیبا برتاؤ کرنے لگے ، غرضیکہ ہندوستانیوں کا اپنے ہی وطن میں رہنا دوبھر ہوگیا تواس وقت مسلمانوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر انگریزی حکومت کے خلاف تحریکیں شروع کردیں۔ انگریزوں کے خلاف متعدد جنگیں کیں اور کئی ناحیوں سے ان ظالموں سے برسرپیکار ہوئے۔ ہندوستان میں جنگ آزادی کی تحریک کے اولین سپہ سالار اور بانی ہونے کا شرف ابنائے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کو حاصل ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کی درس و تدریس اور بہترین تربیت اور آپ کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ آپ کے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز نے ہندوستان کو دارالحرب قراردیا۔ اس فتوی کا اثر اتنا زوردار ہوا کہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوگئے اور جابر و ظالم انگریزی تسلط کے خلاف متحدہ محاذ چھیڑ دیا۔ شاہ عبدالعزیز ہی کی منظم قیادت میں ان کے معتقدین ایسے بہادرمحب وطن اور وطن کے لئے مرمٹنے والے شجاع سپاہی اور محافظ بنے کہ انہوں نے انگریزوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اسی کے طفیل آگے چل کر وطن عزیز ہندوستان کو آزادی نصیب ہوئی۔ان مجاہدین کے خون سے ہندوستان کا چپہ چپہ ، گوشہ گوشہ اور وطن عزیز کے درودیوار لالہ زار ہیں۔ شاہ عبدالعزیز کے اس انقلابی اور برمحل فتوی سے قبل مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ چاٹگام سے دہلی تک انگریزوں کی طوطی بولنے لگی تھی۔میر صادق جیسے ملت فروش اور دغابازوں کی سازشوں کے نتیجہ میں ٹیپو سلطان جیسا عظیم مرد مجاہدشہادت سے سرخرو ہوا تھا۔ اس سلسلے میں مسلمان بھی مختلف الخیال ہوگئے تھے۔ کوئی انگریزوں سے جہادحریت کو جائز کہتا تو کوئی اسے ناجائز بتایا کرتا تھا۔ بہرحال شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے اس تاریخی فتوی نے مسلمانوں کے اندر ایک نیا جوش اور نیاولولہ اور امنگ پھونک دی ۔یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد مسلمانان ہند نےدیگر ہندوستانی باشندوں کے ساتھ پورے جوش و خروش کے ساتھ انگریزوں کے خلاف برسرپیکار ہوگئے۔
جنگ آزادی کی تحریک پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں شاہ عبدالعزیز کے خانوادے کے شاہ عبدالغنی ، شاہ اسمعیل اور شاہ اسحق تھے۔تحریک شہیدین جسے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی اسلامی تحریک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس تحریک کا بھی اولین مقصدہندوستان سے انگریزوں کے قبضہ کو ختم کرنا اور لوگوں کے دلوں میں ماند پڑے اسلامی احکامات کی لؤوں کو روشن کرنا تھا۔ اس تحریک نے سب سے پہلے ’’ففروا الی اللہ‘‘ کی صدائے دلنواز بلند کیا جسے سن کر ہر کوئی مدہوش ہوگیا۔ جس کسی پر نظر گئی وہ اسلام کا خادم بن گیا ۔ اس بابرکت تحریک کا اثر اتنا سود مند ہوا کہ علماء نے مسند درس چھوڑ دیا اور ائمہ مساجد نے مصلوں کو معذوروں کے حوالے کردیا، مالداروں نے اپنی کوٹھیاں ترک کردیں ، غلاموں نے آقاؤں کو سلام بول دیا اور سب دیوانہ وار اس تحریک سے وابستہ ہوگئے ، انگریزوں کے خلاف اس مبارک تحریک کا حصہ بن گئے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوگئے، تحریک شہیدین کے بارے میں آتا ہے کہ جب یہ تحریک بپا ہوئی تو عابدوں، زاہدوں، صوفیوںاور بزرگوں نے تسبیحوں کے بجائے ہاتھوں میں تلوار تھام لئے اور بڑے زور و شور سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوئے ۔جی ہاں، سرزمین ہندوستان پر اس تحریک کے بہت ہی نیک اثرات مرتب ہوئے شاہ اسمعیل شہید کا گزر جس خطہ سے ہوا، وہاں کے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں ۔ لیکن افسوس کہ نام نہاد افغانی مسلم سرداروں کی دغاباز یوں کی وجہ سے بالاکوٹ کا دل فگار اور خونچکاں سانحہ پیش آیا جہاں شاہ سید محمد اسمعیلؒ اور سید احمد شہید ؒنے جام شہادت نوش فرمایا اور یہ تحریک امید کے مطابق کامیاب نہ ہوسکی۔
تاریخ گواہ ہے کہ سانحہ بالاکوٹ کے بعد جب اکثر لوگوں کے پاؤں ڈگمگاگئے اور قریب تھا کہ انگریزوں کے خلاف اٹھنے والی یہ تحریک تاریخ کا حصہ بن جائے تو اس خزاں رسیدہ چمن میں بھی پٹنہ ، عظیم آباد کے کے ایک عظیم سپوت مولانا ولایت علی نے اس کے علم کو سنبھالے رکھا۔آپ کے بعد مولانا عنایت علی ، مولانا عبداللہ اور مولانا عبدالکریم نے بالترتیب اس تحریک کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے اپنے خون پسینہ سے سینچا ۔ان کے علاوہ مولانا نعمت اللہ، مولانا احمد اللہ صادق پوری، مولانا عبدالرحیم صادق پوری، مولانا جعفر تھانیسری جیسے فولادی ہمت اور اولوا لعزم مجاہدین نے اس تحریک کو اپنی قیادت و سیادت سے شرف بخشا اور اس تحریک میں فعال اور انتہائی سرگرم رکن کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیا، جس کے پاداش میں ان بزرگان دین کو غاصب انگریزوں کے مظالم سہنے پڑے ، ان کی اذیتوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا پڑا۔ حالت یہاں تک جا پہنچی کہ انگریزوں نے ان سرفروشان وطن اور جانباز علمائے کرام کو حبس دوام اور عبور دریائے شور کی انتہائی اذیت ناک اور کربناک سزائیں دیں۔
لیکن قربان جائیے ہمارے ان اسلاف کرام کی اولوالعزمی، ثبات قدمی، جواں مردی اور فولادی حوصلے پر کہ انہوں نے ہرطرح کی مصیبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلیاہنستے ہوئے پھانسی کے پھندے کو گلے سے لگالیامیدان جنگ میں شہادت کا جام نوش فرمالیااور تن کے گورے من کے کالے انگریزوں کی انتہائی سفاکانہ اور وحشیانہ اذیتوں کو برداشت کرلیا لیکن ان کے سامنے ہرگزگھٹنے نہیں ٹیکے اور نہ ہی حالات سے سمجھوتہ کیا۔ہمارے ان بزرگان دین کی قربانیوں کا ہی ثمرہ ہے کہ آج ہم آزاد فضاؤں میں سانسیںلے رہے ہیں اور وطن عزیز میں انتہائی فرحت و انبساط کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
1857ء سے 1947ء کے مابین ہندوستان کی آزادی کے لئے جتنی تحریکیں بپا ہوئیں اور جتنی بھی کوششیں ہوئیں ، ہر جگہ مسلمان ہراول دستہ کے طور پر نظر آتے ہیں اور ان میں بھی علمائےکرام اور ان بزرگان دین نے یقینی معنوں میں انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی آزادی کے لئے ہونے والی لڑائی میںاپنی جان، اپنےمال، گھر جائداد اور بال بچے سبھی چیز کو داؤ پر لگادیا بلکہ اپنی جان کی بازی لگاکر انگریزوں کے قدم کو ہندوستان سے اکھاڑ پھینکا۔یقینی طور پر تحریک آزادی علمائے کرام کی مرہون منت رہی کہ لوگ انگریزوں کے خلاف ایک پلیٹ پر یکجا ہوئے۔ شاہ اسمعیل شہید اور آپ کے بعد شب و روز کی محنتوں ، پیہم کوششوں اور لگاتار کی جانے والی کاوشوں کا نتیجہ رہا کہ وطن عزیز کے باشندے انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے بے داغ کردار، بے مثل عزم و استقلال اور عدیم النظیر جرأت و ہمت کے ذریعہ انگریزوں کے دانت کھٹے کردیئے اور انقلاب انگیز کارناموں کے ذریعہ ایسے انمٹ نقوش تاریخ میں چھوڑگئے جو رہتی دنیا تک قدر کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے اور آنے والی نسلوں کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ بلکہ منارہ نور ہوں گے۔شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی کو کون نہیں جانتا؟ علمائےہونے کی وجہ سے آپ بھی انگریزوں کے مقدمات کے لپیٹ میں آگئے اور آپ کے گھروں کی تلاشی لی گئی، مسجدوں پر چھاپہ مارا گیا اور مدرسہ پر ریڈ ڈالا گیا، غرضیکہ آپ کوبھی انگریزوں کے مظالم کو سہنا پڑا۔
اسی طرح صحافت کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف ماحول بنانے اور مسلمانوں کے لہو کو گرمانے میں مسلمانوں کی خدمات انتہائی قابل قدر ہیں۔ بھلا صحافت کا تذکرہ ہو اور نازش ہند مولانا ابوالکلام آزاد کے البلاغ و الہلال کا تذکرہ نہ آئیں تو تاریخ کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔مولانا نے ان دونوں رسالوںکے ذریعہ مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑنے اور ان سے آزادی حاصل کرنے کی سوچ بخشی۔ہندوستان کے اس عظیم سپوت نے قلم و قرطاس کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف ایسی جنگ چھیڑی کہ وہ اس مرد مجاہد سے حددرجہ خائف ہوگئے ۔ آپ کو جیل میں ڈال دیا، لیکن آپ نے اپنے پائے ثبات کو لغزش نہیں آنے دیا ۔آزادیٔ ہند کی تاریخ کو پڑھیں ، یہ بات مترشح ہوجائے گی کہ مجاہدین آزادی کے مابین مولانا آزاد کا قد کس قدر بلند اور ارفع ہے۔چاچانہرو، پٹیل جی بلکہ گاندھی جی جیسے غیرمسلمین نے بھی مولانا کی کوششوں کی ستائش کی ہے ۔یہی نہیں، مولانا آزاد نے غبار خاطر اور اس جیسی دوسری کتابوں میں انگریزی مظالم اور ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے ساتھ اپنے واقعات کو ذکر کئے ہیں جس سے ایک عام قاری آپ کی قدر و منزلت کابخوبی اندازہ لگاسکتا ہے۔
یہ تھے ہمارے اسلاف جنہوں نے تن کے گورے من کے کالوں کے ناپاک قبضہ سے وطن عزیز ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ ان بزرگان دین نے اپنے تن من دھن کی بازی لگادی اور پیہم جدوجہد اور مسلسل کاوش کے ذریعہ انگریزوں کے استبدادی پنجے سے وطن عزیز کو نجات دلایا۔جو ۲۷؍ رمضان مبارک کی مقدس شب ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا پیارا ملک آزاد ہوا۔ایک طرف ہمارے آباء و اجدادکی یہ سرفروشانہ کاوشیں ہیں، دوسری طرف موجودہ زمانے میں ہم مسلمانوں کو درپیش چیلنجیز ہیں کہ ہمیں ہر میدان میں امتیازی سلوک اور ترجیحی برتاؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بعض فسطائی طاقتیں ہمیں ملک سے نکالنے تک کی باتیں کررہی ہیں جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ وطن عزیز کی آزادی ہمارے اسلاف کرام کی مرہون منت ہے۔وطن کے چپے چپے پر ہمارے آباء و اجداد نے لہو کا نذرانہ پیش کرکے ہمیں آزادی کا تحفہ دیا ہے۔ہمارے ملک کا گوشہ گوشہ ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا شاہد ہے۔چشم فلک نے ہندوستانی مسلمانوں کے کوہ کن عزم و حوصلے کو دیکھا کہ انہوں نے جب انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد ہی چین و سکون کی سانس لی۔ اس کے بعد بھی آج ایسے لوگ جن کا آزادی ہند میں کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں ہے،وہ ہمیں ملک سے نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے عزم و استقلال کا انگریز بھی قائل تھا ۔ڈبلیوڈبلیو ہنٹر کی تاریخ پڑھیں ، آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ انگریز علمائے کرام کی مبارک جماعت سے کس قدر خائف تھے۔پھر آج ہمارے حب الوطنی پر شک کرنا اور اسے مشکوک قرار دینا انتہائی شرمناک اور بے ہودہ حرکت ہے۔اخیر میں دعا ہے کہ اے بارالٰہا! تو ہمارے ملک کو دشمنوں کے شرو فساد سے محفوظ رکھ ۔ ہمارے وطن عزیز کو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب فرما۔اے اللہ! تو سرزمین ہندوستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنادے اور اسے مزید ترقیوں سے نواز تاکہ وہ ہر میدان میں بلندمقام پر فائز ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

تحریر: کامران غنی صبااسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج، مظفرپور میں یقین کے ساتھ کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے