منقبت: خدا کے دین کے اک پاسباں ہیں حافظِ ملت

نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

خدا کے دین کے اک پاسباں ہیں حافظِ ملت
شہِ دیں پر چھڑکتے اپنی جاں ہیں حافظِ ملت

کس وناکس سبھی پرہی عیاں ہیں حافظِ ملت
علومِ دین کے کوہِ گراں ہیں حافظِ ملت

خدا کے فضل سے دیکھو مبارک پور میں جاکر
برستی ہے سدا رحمت جہاں ہیں حافظ ملت

جسے پڑھنا ہے جاکے پڑھ لے روضے پر کھڑے ہو کر
جہاں میں آج بھی روشن بیاں ہیں حافظ ملت

مبارک پور کی گلیاں اُنہیں سے ہی مہکتی ہیں
فقط گل ہی نہیں اک گلستاں ہیں حافظ ملت

مقدر کا دھنی وہ ہو گیا شمسی زمانے میں
پڑھا جس نے وہاں جا کر جہاں ہیں حافظ ملت

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے