نعت رسول: لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے

نتیجۂ فکر: محمد شکیل قادری بلرام پوری

قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی
لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے

مالکِ کون و مکاں قاسمِ نعمت ہیں جو
ہم فقیروں کے لیے ان کی عَطا کافی ہے

آتے ہی ساری بلائیں مری ٹل جاتی ہیں
اِن بلاؤں کے لیے ماں کی دُعا کافی ہے

حدت حشر کا کچھ خوف نہیں ہے مجھ کو
میرے چھپنے کو شہِ دیں کی ردا کافی ہے

گلشنِ فکر کو مہکانے کی خاطر میرے
شہ کے دربار سے آئے جو ہَوا کافی ہے

کیسے کہہ دوں کہ نہیں میراجہاں میں کوئی
میری خاطر تو وہ محبوبِ خُدا کافی ہے

کاش کہہ دیں وہ سرِ حشر کہ میرا ہے شکیلؔ
میری بخشش کے لیے ان کا کہا کافی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت : مرے مصطفے ہیں زمانے سے پہلے

رشحات قلم : شمس الحق علیمی مہراج گنج ادب سے رہو طیبہ آنے سے پہلےشہِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے