مینارۂ علم وحکمت کے روشن و تابناک ستون کانام حضورحافظ ملت ہے

تحریر: ظفرالدین رضوی
خطیب و امام رضا جامع مسجد ملنڈ (ویسٹ) ممبئی

مکرمی!
استاذالاساتذہ رئیس الاتقیاء خیر الاذکیاء سندالعلماءوالفقھاء جلالۃ العلم حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی ثم مبارکپوری المعروف بہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان (انڈیا) اس علمی و روحانی روشن چراغ کا نام ہے جس کی روشنی سے ہزاروں بجھے ہوئے چراغوں کو روشنی ملی، ملتی ہےاورملتی رہےگی حضور حافظ ملت اس مایہ ناز ہستی کا نام ہے جو بیک وقت مفکر ومدبر عالم و فاضل مفسر ومحدث فقیہ ومفتی مدرس و محقق منطقی وفلسفی خطیب ومناظر مصنف ومؤلف جامع شیخ شریعت وطریقت صاحب عظمت و فضیلت اور علم وحکمت کے بحر بیکراں تھےآپ نے پوری زندگی امت مسلمہ کے نونہالوں کو علم و عمل و ہنر کے خوبصورت زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے میں گزار دی آپ نےدرسگاہی اصول وضوابط،تعلیمی نصاب اورمسندحدیث وافتاء کو ایسی زینت بخشی جس پر اصول حدیث و افتاء نازکرتے ہیں اور علم و حکمت کا ایسا مضبوط قلعہ تعمیر فرمایا جس کے سامنےاوج ثریاکی بلندیاں ہیچ دیکھائی دیتی ہیں علم ودانش کےاسی قلعہ کی چہار دیواری سےآپ نے اپنی حکمت ودانائی سےگلشن علم ومعرفت ورشد وہدایت کےایسےایسے پھول کھلائے جس کی بھینی بھینی خوشبو سےآج باغ عالم اسلام مہک رہا ہےاسی گلشن علمی کےپھولوں کی خوشبو ملک وبیرون ممالک کے دینی اداروں میں پائی جارہی ہےآپ نے ماہرین علوم و فنون کی ایک ایسی جماعت تیارکی ہےجس میں نامور محدثین مدرسین فقہاء مناظرین خطباء مصنفین مفکرین محررین فاضلین محققین دانشوران وغیرہ موجود ہیں
حضور حافظ ملت قدس سرۂ ایسے عالم ربانی تھے جن کےاندر روحانیت کے جملہ اوصاف وکمالات بدرجۂ اتم موجود تھے جوایک داعئ برحق کے لیے ضروری ہیں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی دینی و علمی و سماجی خدمات بےشمار ہیں جن کااحاطہ اس مختصر مضمون میں جمع کرنا ممکن نہیں ہے انھوں نےاپنی پوری زندگی دین و ملت اور اصلاح معاشرہ کیلئے وقف کررکھی تھی آپ نے کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنی جوانمردی و بہادری اور بڑی بیباکی کیساتھ امت مسلمہ کی اصلاح فرمائی اورفلاح و بہبود کیلئے ایسی خدمات انجام دی ہے جس کو رہتی دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہےامت مسلمہ کی اصلاح کیلئے جس علمی و روحانی رموزونکات اور شعبہ ہائےحیات میں قولا وعملا کام کی ضرورت تھی ان تمام تقاضوں کو آپ نے بحسن و خوبی پوراکیااور علم وحکمت اور تہذیب وتمدن کے تمام گوشوں پہ جس طرح سے آپ نے خدمات انجام دیےہیں وہ اپنے آپ میں بے مثال ہےآپ نے اپنی زندگی کاہر لمحہ احیائے سنت اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت میں وقف کردی آپ کا یہ قول زبان زد خاص وعام ہوگیا کہ، زمین پر کام زمین کے اندر آرام، دل کو بھاتا ہوا یہ جملہ آپ کااس قدر مقبول عام وخاص ہواجس پہ روشنی ڈالنا مجھ جیسے کم علم و ناتواں کیلئے ناممکن ہے میں تو اتنا ہی کہ اور لکھ سکتا ہوں کہ آپ نے علم و حکمت کے دریا کوایک کوزے میں سمیٹ دیاحضورحافظ ملت علیہ الرحمہ دینی و علمی وروحانی روشن شمع تھے آپ کی ذات بابرکات محتاج تعارف بھی نہیں ہےآپ کی شخصیت میں بیک وقت بے شمارخوبیاں موجود تھیں جہاں ایک طرف ان میں تاجدار اہلسنت شہزادۂ سرکار اعلی حضرت حضور مفتئ اعظم ہند کی بصیرت و بصارت اور علمی فقاہت کی جھلک تھی تودوسری طرف تاجدار اشرفیت حضوراشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ کی روحانی وعرفانی تصرف و صلاحیت اور لیاقت تھی دوسری طرف حضور مفسر اعظم ہند جیسی ہوشمندی و دانشمندی تھی جہاں انکے پاس حضرت امام رازی وغزالی جیسا دماغ اورخداداد ذہانت تودوسری طرف حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ کے فیض سے محدثانہ وسیع النظری اورامام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے بے پناہ لگاؤ کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ محدث مبارکپور کہے جانے لگےآپ کی زندگی کا ہرگوشہ گوشہ علم وحکمت کا منبع تھا آپ کی ذات میں نہ جانے کتنے تشنگان علوم نبویہ اورطالبان راہ شریعت وطریقت گم تھے آپ اپنی انمول دینی خدمات سے امت مسلمہ کے گلشن حیات کومنور کرتے رہے آپکو معلوم تھا اگرامت مسلمہ کے نونہالوں کوعلم دین مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے آراستہ وپیراستہ نہیں کیاگیاتوپھر دنیا کی کوئی طاقت وقوت انہیں ان کےکھوئے ہوئے وقاروعظمت کوواپس نہیں دلا سکتی ہے آپ نے مسلم مخالف زہریلی ہواؤں کو وقت سے پہلے ہی بھانپ لیا تھا یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام کے مکروفریب کو پنپنے نہ دیاجو دینی تعلیم سے مسلمانوں کو دور کرنے کی ناپاک سازشیں کررہے تھے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئےایک چھوٹی سی کٹیاکودینی وعلمی قلعہ مصباح العلوم نام سے تیار فرمایاجو دیکھتے دیکھتے وسیع وعریض جگہ میں پھیل کر بفیض سرکار مفتئ اعظم و حضوراشرفی میاں سینکڑوں میٹر زمین کادائرہ اختیار کرتے ہوئے خالص مذہبی ودینی یونیورسیٹی الجامعۃ الاشرفیہ کے نام سے علم و فضل کا عظیم گہوارہ بنکر اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کیساتھ چمک رہاہے اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل صبح قیامت تک چمکتا رہےگا الحمدللہ آج الجامعۃ الاشرفیہ کو برصغیر کا ازہر ھند کہا جاتاہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ بھی اسی مرد قلندر ومجاہد ہستی کی دین ہے جسےعطائےحضورصدرالشریعہ حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ کےنام سے جاناجاتاہےآپ نےاپنےمرشدکامل شیخ الطریقہ تاجداراشرفیت حضوراشرفی میاں علیہ الرحمۃ والرضوان اورحضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کی عطاءکی ہوئی نصیحتوں اورتاجدار اہلسنت سرکار مفتئ اعظم کےبتائے ہوئےاصولوں کو بروئےکارلاتے ہوئے ملت اسلامیہ کی روحانی اقدارکوتنزلی کاشکار ہونے سے بچالیااورآپ نےاپنی علمی وروحانی درسگاہ سےاس پرفتن دورمیں ملت اسلامیہ کے متوالوں اورطالبان علوم نبویہ کو ایسا علمی وروحانی جام پلایا جس سے ہر ذرہ آفتاب وماہتاب بنکر دنیاکےگوشےگوشےمیں اپنی غیرمعمولی روشنی بکھیرنے میں مصروف العمل ہوگیا اورآج بھی مصباحی برادران اسی نہ مٹنے والے روشن آفتاب کے فیض وعطاء سے دنیا کے کونے کونے میں اپنی علمی و روحانی روشنی بکھیرے ہوئے ہیں
الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور (انڈیا)کو عروج و ارتقاء کی منزل تک پہنچانے کیلئے جو کچھ ضروری تھا اسکوحضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے بخوبی انجام دیاآپ خود ہی فرماتے تھے کہ میں نے الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپورکو صرف اپنے پسینے ہی سے نہیں بلکہ اسے اپنے خون جگر سے سینچا ہے یہ جملہ اپنے آپ میں بڑی جامعیت ومعنویت کا حامل ہے کیونکہ ایک چھوٹا سا مکتب چلانے والا بھی جانتا ہے کہ اس راستے میں کتنے کانٹے اور پھول ہیں اس مرد قلندر ومجاہد ہستی کواگر ہم اپنے وقت کا امام رازی وغزالی کہیں تو بےجا نہ ہوگا اس علمی و روحانی تاجدار میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں جوایک شیخ کامل کےاندر ہوتی ہیں صحیح معنوں میں اگر کسی شخصیت کو استاذالاساتذہ رئیس العلماءکہاجاسکتاہے تو ہماری نظر میں وہ کوئی اورنہیں جلالۃ العلم حضورحافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات بابرکات ہے
ہم عالمی تنظیم رضااکیڈمی کے بانی و سربراہ خلیفہ حضورتاج الشریعہ قائد ملت جناب الحاج محمد سعید نوری صاحب اورجملہ عاشقان اولیاء کیطرف سے عرس حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی مبارکبادیاں عالم اسلام کو پیش کرتے ہیں عرس سرکار حافظ ملت عالم اسلام کے خوش عقیدہ مسلمانوں کو مبارک ہو

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حیات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

از قلم: محمد انس قادری رضویمجلس اصحابِ قلم گورکھپور آپ‌ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے