تحریک آزادی اور مسلم خواتین

شیخ عائشہ امتیاز علی
انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول ناگپاڑہ

تحریک آزادی ہرقوم کاپیدائشی حق ہے اوریہ انسانی فطرت کاخاصہ بھی ہے اس حق اور فطرت کا تقاضہ ہرملک کے انسانوں میں ہے اسی تقاضےکا نتیجہ تھا کہ ہندستان کی تحریک آزادی میں ہر طبقے کے لوگوں نے حصہ لیا اور ملک کی آزادی کیلئے انہوں نے ہرطرح کی قربانیاں دیں قیدوبندکی تکلیفیں برداشت کیں پھانسی کے پھندوں کوچوما ۔اورہر کندھے سے کندھا ملاکر ملک کو آزادی دلانےمیں پیش پیش رہے اور ہمارا ملک انگریزوں کے ناپاک منصوبوں سے آزاد ہوگیا اوران مجاہدین آزادی کی طرح مسلم خواتین نے بھی حصہ لیا اوراپنےپیارےوطن کو انگریزوں کےسفاکانہ مظالم اورظلم وبربریت کے ناپاک منصوبوں سے آزاد کرانے کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں ،کبھی اپنی جان کی شکل میں ،کبھی اولادکی شکل میں توکبھی اپنی تحریر و تقاریر کی شکل میں حضرت مولانا محمدعلی جوہر کی والدہ جواپنے لخت جگر کو ملک کی آزادی کے لیے روانہ کیا اورخودبھی ہندوستان کی سیاسی افق پر ایسی مسلم پردہ نشیں خاتون تھی جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر نہ صرف اپنی اولادکو جھونک دیا بلکہ خودبھی تمام رسوم وقیود کوچھوڑکراسٹیج پرآئی اورپورےملک کادورہ کرکےلوگوں کوبیدارکیا ممبئی کے ایک انگریزی اخبار نےسرورق پرعلی برادران کیساتھ ان کی تصویر چھاپتےہوئے LIONESS & HER CUBSکی سرخی لگائی تھی ان کی وفات پرایک ہندوخاتون نے محمدعلی جوہرؒ کےنام اپنے خط میں تحریرکیا کہ ’’ان کی موت پر کوئی آنکھ ایسی نہیں جوآنسوسے ترنہ ہو ان کےمرنےکے گم کااظہار الفاظ میں ممکن نہیں ملک کوان کی ضرورت تھی کوئی اس خلاکوپرنہیں کرسکتا میں جب بھی دہلی آئونگی توان کی قبرکی خاک اپنےماتھے پرلگائونگی‘‘
مولانامحمدعلی جوہر ؒکی شریک حیات امجدی بیگم جنہوں نے مولاناکی فقیرانہ ،قلندرانہ، اورجرات مندانہ طرزرہائش کواختیار کرلیا بلکہ ان کےسیاسی مسلک کوبھی اوڑھ لیا گاندھی جی لکھتےہیں کہ ’’انہوں نے تحریک میں اپنے شوہرکیساتھ کام کرنا شروع کیا اس کی ابتداسمرقند کےچندہ سے شروع ہوئی وہ بہار،بنگال ، اورآسام کے دشوارترین سفرمیں تھی ہمارےساتھ رہی وہ خواتین کے جلسوں سے خطاب کرتی ان میںتقریرکا ملکہ اپنے شوہرسے کسی بھی طرح کم نہ تھاتقاریر مختصرہونیکےباوجود انتہائی پاثرہوتی ‘‘فیض آباد کےایک غریب گھرانے سےتعلق رکھنےوالی محمدی بیگم افتخارالنساء جب ان کی شادی لکھنو کے نواب واجد علی شاہ کے ساتھ ہوئی تواسے بیگم حضرت محل کاخطاب ملا اوراسی نام سے وہ مشہورہوئی جب انگریزوں نے ۱۸۵۶ءمیں واجدعلی شاہ کو جلاوطن کردیا تو توحضرت محل اپنے دس سالہ بیٹےکیساتھ ۱۸۵۷ءکےہنگامےمیں انگریزوں کیخلاف ایک بڑا محاذ اودھ میں قائ کیا اور۱۸۵۸ ءتک لکھنوکوانگریزوں کے دوبارہ تسلط سے بچائے رکھا اس دوران لکھنوکے مختلف مقامات پریہ اعلان دیوارسے چسپاں ہوتا ’’ہندئووں مسلمانوں متحدہوکر اٹھو اورایک ہی بارمیں ملک کی قسمت کا فیصلہ کردو کیوںکہ اگریہ موقع ہاتھ سےنکل گیاتولوگوں کیلئے اپنی جانبچانیکا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں آئیگا یہ آخری موقع ہے ‘‘حضرت محل عنان حکومت پوری ذمہ داری کیساتھ سنبھالےرہی ضرورت پڑنےپروہ خودمیدان جنگ میں ہاتھی یاگھوڑے پرسوار لڑنیوالوں کی مدد یاہمت افزائی کیلئے پہونچ جاتی غدرکےزمانےمیں ان کاقیام قیصرباغ کے چولکھی میں تھا اسی عمارت میں ان کادربارہوتا مجمع عام یا محاذ جنگ پراپنی تلوار ہاتھ میں رکھ کر اپنے پرجوش الفاظ سے عوام یا فوج کاحوصلہ بڑھاتی مگرآخرکار انگریزوں کی شاطرانہ چال سے ٹکرلینےوالی اورشکس نہ کھانیوالی بیگم حضرت محل ۱۸۷۴ءمیں برف محل میں ہمیشہ کیلئے اس دارفانی کوالوداع کہدیا اورکاٹھمنڈو چوک کی ہندوستانی مسجد کےپاس انہیں دفن کیا گیا ایک انگریز افسرنے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ’’حضرت محل بڑی قابلیت کی خاتون دکھائی دیتی ہے انہوں نےہم سےلامتناہی جنگ کااعلان کیا توآخرتک اس پرقائم رہی ۔
حضرت مولاناابوالکلام آزاد ؒ کی شریک حیات زلیخابیگم جنہوں نے جدوجہد آزادی میں اپنے شوہرکا پوری طرح ساتھ دیا اوراس راہ میں اپنے ذاتی آرام وآسائش کو تج کرکے ان کے حوصلے کو بلندوبالاکیااور ان کی ہر طرح سے مددکیلئے تیارہوئی ایک جگہ مولاناآزادؒ لکھتےہیں ’’زلیخابیگم نے میری زندگی کےحالات کا صرف ساتھ ہی نہیںبلکہ پوری استقامت سے ہرطرح کے ناخوشگوار حالات بھی برداشت کئے وہ دماغی حیثیت سے نہ صرف میرےافکاروعقائد میں شریک رہی بلکہ عملی زندگی میں بھی رفیق ومددگاررہی اسی طرح مولاناحسرت موہانی کی بیگم نشاط النساء وہ تحریک آزادی میں مولاناکیساتھ ابتداءہی سے شریک رہی اورمولاناکی سیاسی زندگی میں ہرطرح سے مددکی خودمولاناحسرت موہانی کہاکرتے کہ ’’اگربیگم نشاط، بیگم زلیخا اورکملانہرو نہیں ہوتیں توحسرت کسی اخبارکے ایڈیٹر ہوتے مولاناآزاد الہلال والبلاغ نکال رہےہوتے اورپنڈت نہرو محض ایک بیرسٹر ہوتے یہ وفاپرست خواتین بذات خود ایثار کامجسمہ تھیں انہوں نے اپنی جان تودیدی لیکن کبھی شکوہ نہیں کیا‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی جرات وبہادری کولاکھوں سلام

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے