حضور حافظِ ملت کا عظیم صوفیانہ مقام

از: مبارک حسین مصباحی
استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور

جلالۃ العلم استاذ العلما مرشدِ طریقت حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی کی ولادت بروز دوشنبہ ۱۳۱۲ھ/۱۹۹۴ء قصبہ بھوج پور،ضلع مراد آباد میں ہوئی اور وصال یکم جمادی الآخرہ ۱۳۹۶ھ/۲۱؍ مئی ۱۹۷۶ءمیں مبارک پور میں ہوا۔ آپ بے شمار اوصاف و کمالات کی حامل شخصیت تھے، آپ بلند پایہ عالمِ ربانی تھے، شخصیت ساز مخلص استاذ تھے، سیکڑوں تلامذہ لفظ ”مصباحی“ کا علامتی نشان لگا کر ملک اور بیرون ملک مختلف جہتوں میں عظیم دینی، علمی اور ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے علم و فضل کے ساتھ رشد و ہدایت کے میدان میں بھی تاریخی کردار ادا کیا۔ آپ کےدرجنوں تلامذہ خانقاہوں کے مرشدانِ طریقت تھے اور آج بھی ہیں۔ آپ عظیم مفسر تھے ،بخاری شریف پڑھانے والے بلند پایہ محدث تھے، آپ سائلین کے ظاہری اور مخفی نقطۂ نظر پر گہری نگاہ رکھنے والے کامیاب مفتی تھے۔ آپ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل پر پر جوش مگر سنجیدہ نگاہ رکھتے تھے۔ آپ نے مدرسہ اشرفیہ سے دار العلوم اشرفیہ اور آخر میں جامعہ اشرفیہ کی تعمیر و ترقی کے لیے خونِ جگر پلایا۔ آپ با صلاحیت مصنف اور محقق بھی تھے۔ حیاتِ ظاہری میں آپ اپنے جسمانی وجود سے تگ و دو فرماتے رہےاور اب اپنے روحانی تصرفات سے نگہبانی فرما رہے ہیں۔
اپنے ہاتھوں کے لگائے باغ میں سویا ہے وہ کہنے کو چپ ہے مگر کچھ اس طرح گویا ہے وہ
ہر سانس سے ٹھنڈک دی میں نے ہر قطرۂ خوں سے سینچا ہے تم شاد رہو اے فرزندو یہ میرا چمن برباد نہ ہو
اس تحریر میں ہم حضور حافظِ ملت قدس سرہ العزیز کے کردار و اخلاق اور بلند پایہ روحانیت کے حوالے سے چند باتیں تحریر کریں گے۔
حضور حافظِ ملت کی اعلیٰ تعلیم و تربیت خواجۂخواجگاں سلطان الہند حضرت سید معین الدین چشتی کے دربار اجمیر شریف میں ہوئی۔آپ کا داخلہ دار العلوم معینیہ عثمانیہ میں ۱۳۴۲ھ/۱۹۲۴ء میں ہوا۔ اجمیر مقدس کے اسی دار العلوم میں علوم و فنون کی تکمیل ۱۳۵۰ھ/۱۹۳۲ء میں ہوئی۔ اس مرکزِ روحانیت میں آپ نے مسلسل ۹؍ برس کا عرصہ گزارا۔ آپ نے فوٹو سازی کے بین الاقوامی قانون کے باوجود بنا فوٹو کے حج و زیارت کی سعادت حاصل فرمائی، آپ کے سفرِ حج و زیارت پر تشریف لے جانے کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ”اس بندۂ مومن کا بنا فوٹو سفرِ حج و زیارت ہمارے ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔“ اس سفر سے پہلے حضرت حافظِ ملت فرماتے تھے:” میری زندگی کے سب سے خوشگوار اور رحمت والے ایام وہ ہیں جو اجمیر مقدس میں گزرے۔ “
حضرت حافظِ ملت کے عہدِ طالب علمی میں شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت مرشدِ طریقت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی قدس سرہ العزیز کچھوچھہ مقدسہ سے اجمیر شریف حاضر ہوئے۔ اجمیر مقدس میں غریب نواز رہتے ہیں، ان کے دربار میں سلاطین و مشائخ سب بھیک مانگنے جاتے ہیں۔ حضور سیدنا شاہ مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی قدس سرہ العزیز عظیم بزرگ ہیں اور اسی سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے فیوض و برکات لٹانے والے عظیم مسیحا ہیں۔ اسی سلسلہ چشتیہ کے بلند پایہ بزرگ شیخ المشائخ بھی ہیں۔ آپ کے پاس دیگر سلاسل کے ساتھ سلسلہ قادریہ منوریہ معمریہ بھی تھا۔ اس سلسلے میں غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی تک صرف چار واسطے ہیں۔ یعنی شیخ المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی کو حضرت شاہ امیر محمد کابلی سے ان کو حضرت ملا اخون فقیر رام پوری سے ان کو حضرت شاہ منور الٰہ آبادی قدس سرہ العزیز (ان کی عمر شریف پانچ سو پچاس برس کی ہوئی) سے، ان کو حضرت شاہ دولا قدس سرہ العزیز سے، ان کو غوثِ اعظم سید شاہ محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے۔
حضرت حافظِ ملت اپنے چالیس رفقاے درس کے ساتھ اجمیر مقدس میں تقریباً ۱۳۵۰ھ/۱۹۳۱ء میں سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ میں بیعت ہوئے اور سلسلہ چشتیہ اشرفیہ میں طالب ہوئے۔ فراغت کے بعد حضرت حافظِ ملت مبارک پور تشریف لائے تو کچھ دنوں کے بعد حضرت شیخ المشائخ نے آپ کو اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت حافظِ ملت نے اکتسابِ روحانیت کی روداد اس طرح بیان فرمائی:
”حضرت شیخ المشائخ مولانا سید شاہ علی حسین صاحب اشرفی میاں ہمارے زمانۂ طالب علمی میں اجمیر شریف پہنچے، ان کے پاس سلسلہ منوریہ تھا جس میں حضور غوثِ اعظم تک صرف چار واسطے ہیں۔ ہم چالیس رفقاے درس ایک ساتھ اس سلسلے میں داخل ہوئے اور سلسلہ چشتیہ اشرفیہ میں طالب ہوئے۔ بعد میں جب مبارک پور آیا، اور یہاں حضرت اشرفی میاں کی تشریف آوری ہوئی تو مجھے خلافت بھی دے دی۔ میں نے عرض کیا حضور! میں تو اس کا اہل نہیں، فرمایا: ”داد حق را قابلیت شرط نیست“حضرت بڑے کریم النفس تھے، بڑی شفقت فرماتے تھے۔“
شیخ المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کی ولادت باسعادت ۲۲؍ربیع الآخر ۱۲۶۶ھ/۷؍ مارچ ۱۸۵۰ءکچھوچھا مقدسہ میں ہوئی۔ ۱۱؍ رجب ۱۳۵۵ھ/۱۹۳۷ء کو ذکر جہری کے درمیان کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ۹۰؍ برس کی عمر میں وصالِ پر ملال فرمایا۔ آخری وقت میں آپ کے قریب ۱۳؍ لاکھ مریدین اور ۱۳۵۰ خلفا تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بے شمار دینی اور روحانی خدمات انجام دیں، آپ سیرت و صورت میں انتہائی نورانی و عرفانی تھے۔ وضع قطع ، رہن سہن میں پیکرِ علم و عمل تھے، آپ کی ایک ایک ادا تقویٰ شعاری کی علامت تھی، آپ درجنوں خانقاہوں اور اداروں کے سرپرست تھے، آپ تا حیات دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کے سرپرست اعلیٰ رہے۔ مبارک پور کا ایک بڑا طبقہ آپ کے دامن سے وابستہ تھا۔ وصال کے موقع پر حضور حافظِ ملت اورمشائخ اہل سنت میں سخت صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ حضور حافظِ ملت سالانہ جامع مسجد راجہ مبارک شاہ مبارک پور میں ۱۱؍ رجب کو ”عرس اشرفی میاں“ منعقد فرماتے رہے اور یہ مقدس سلسلہ آج تک جاری ہے۔
حضرت حافظِ ملت فرمایا کرتے تھے:
”جس وقت میں درگاہِ مخدوم اشرف سمنانی کچھوچھا مقدسہ میں حاضر ہوا، اس وقت سے اتنا روحانی فیض پہنچا اور پہنچ رہا ہے جس کو بیان نہیں کر سکتا۔“
صدر العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی روایت ہے کہ:
”اس حاضری کی تقریب یوں ہے کہ غالباً ۹۲ھ/۷۲ء میں قصبہ کچھوچھا شریف کے لوگوں نے حافظِ ملت کو ایک اجلاس کی دعوت دی، حضرت نے دعوت منظور فرمائی اور کچھوچھا شریف میں جلسہ کا اعلان ہو گیاپھر کسی وجہ سے جلسہ منسوخ ہو گیا، منتظمین نے مبارک پور منسوخیِ اجلاس کا ٹیلی گرام کیا۔ مگر حافظ ملت سفر پر تھے، اور سفر سے واپسی میں براہِ راست کچھوچھا شریف پہنچ گئے۔ مگر منتظمینِ جلسہ کچھ اونچے لوگوں کے دباؤ میں تھے، تیار نہ ہوئے۔ بسکھاری میں حضرت مولانا سید ظفر الدین اشرف سجادہ نشیں و متولی آستانۂ مخدوم سمنانی کو معلوم ہوا تو حضرت کو اپنے گھر لے گئے، اور دوسرے دن کچھوچھا شریف میں خاص آستانہ مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ پر حافظِ ملت کی تقریر کرائی، اور بعد تقریر ایک صالح مرد حضرت کے دست اقدس پر بیعت ہوئے جو آستانۂ پاک کی مسجد میں معتکف تھے۔
اس کے بعد مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ کا فیض اس طرح جاری ہوا کہ حافظِ ملت جہاں پہنچتے، بکثرت حضرات داخلِ سلسلہ ہونے کے لیے ٹوٹ پڑتے اور آستانہ کے زینے پر تو بیک وقت سیکڑوں کی تعداد میں لوگ بیعت ہوئے۔ باوجودے کہ لوگوں کو اس کے لیے آمادہ بھی نہ کیا جاتا، بلکہ حضرت تو اس طرح کی اپیل کے سخت مخالف تھے۔
چناں چہ بہار کے کوٹا م نامی ایک مقام پر بعض مخلصین نے اجلاس میں حافظِ ملت سے مرید ہونے کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا، اس وقت حافظِ ملت اپنی تقریر ختم کر کے قیام گاہ تشریف لے جا رہے تھے، یہ آواز سنی تو راستے سے واپس ہوئے، اور مائک پر آکر بڑے غصے میں ارشاد فرمایا: میں کوئی پیشہ ورپیر نہیں، نہ ہی اپنی پیری مریدی کے لیے اس طرح کی اپیل پسند کرتا ہوں، ، یہ میرا کوئی کاروبار نہیں، میرے لیے اس طرح کا اعلان ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ مگر فیضان مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ کو کون روک سکتا ہے، اسی کوٹام نامی مقام پر قریباً ڈیڑھ سو افرادحافظِ ملت کے دستِ پاک پر تائب ہو کر داخلِ سلسلہ ہوئے۔ والحمد للہ رب العالمین۔ (از مضمون مفتی احمد القادری، ماہ نامہ اشرفیہ حافظِ ملت نمبر، ص:۵۲۵، ۵۲۶)
حضرت حافظ ملت کو دوسری اجازت و خلافت سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی حاصل ہوئی، اپنے انٹر ویو میں آپ فرماتے ہیں:
”حضرت صدرالشریعہ قبلہ رحمۃ اللہ سے بھی قادری رضوی نسبت حاصل ہوئی۔ حضرت صدر الشریعہ نے مجھے اور مولانا سردار احمد صاحب کو بریلی شریف میں خلافت عطا فرمائی۔ “(ماہ نامہ اشرفیہ،حافظِ ملت نمبر، ص:۷۶)
حضور حافظِ ملت اپنے استاذ اور شیخ حضرت علامہ شاہ محمد امجد علی اعظمی سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے تھے، آپ کا مشہور ارشادِ گرامی ہے: ”ہم نے حضور صدر الشریعہ سے علم ہی نہیں، عمل بھی پڑھا ہے“ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ نے اپنے استاذ گرامی کا جو ادب و احترام کیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اسی طرح حضرت صدر الشریعہ بھی آپ کو اپنے شہزادوں کی طرح نوازتے تھے۔
بیعت و ارشاد:جلالۃ العلم حافظِ ملت کے مریدین اور متوسلین کی تعداد بھی کثیر ہے۔ مرید کرنے سے پہلے آپ بیعت و ارشاد کے تعلق سے مختصر گفتگو فرماتے اور مرید ہونے والے کو اچھے کاموں کی نصیحت فرماتے اور برے کاموں سے دور رہنے کی سخت تنبیہ فرماتے۔ اگر مرید فرمانے کے بعد کسی مقام پر رکنا ہوتا تو مریدین اورمتوسلین کو جمع کر کے حلقۂ ذکر بھی کرتے اور رکنا نہیں ہوتا تو پھر کسی موقع سے مریدین کے علاقوں میں جاتے تو انھیں وعظ و نصیحت فرماتے۔ عام طور سے مریدین آپ سے رابطے میں رہتے۔ آپ ان کی ہر مشکل آسان کرنے کی کوشش فرماتے، ان کے لیے دعائیں کرتے، نقوش و تعویذات عطا فرماتے۔ ان کی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کرنے کی ترکیبیں بتاتے۔ آپ مَردوں اور عورتوں سب کو مرید فرماتے ، مگر عورتوں کو نہ قریب آنے دیتے اور نہ ان سے ہم کلام ہوتے ، بلکہ آڑ میں بیٹھ کر رومال وغیرہ کے ذریعہ ضروری دعائیں پڑھاتے اور توبہ و استغفار کی تعلیم دیتے ۔ آپ مرید کرتے وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بعداپنے مرید سے یہ جملہ ضرور کہلاتے” توبہ کی میں نے تیرے عاجز بندے عبد العزیز کے ہاتھ پر اور مرید ہوا میں حضرت شیخ غوثِ اعظم کا۔“
آپ کے شجرہ شریف میں ذکرِ نفی و اثبات اور ذکر جہر کی ترکیب بھی درج تھی اور مریدین کے لیے ضروری ہدایات بھی جو حسب ذیل ہیں:
(۱)مذہبِ اہلِ سنت و جماعت پر قائم رہیں، وہابی، دیوبندی، رافضی، تبلیغی، مودودی، ندوی، نیچری، غیر مقلد، قادیانی وغیرہم سے جدا رہیں۔
(۲)نمازِ پنج گانہ کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ مَردوں کو مسجد و جماعت کا التزام بھی واجب ہے۔
(۳) جتنی نمازیں قضا ہو گئی ہیں، سب کا ایساحساب لگائیں کہ تخمینے میں باقی نہ رہ جائیں زیادہ ہو جائیں تو حرج نہیں اور وہ سب بقدر طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کریں۔
(۴)جتنے روزے بھی قضا ہوئے ہوں دوسرا رمضان آنے سے پہلے ادا کر لیے جائیں۔کہ حدیث شریف میں ہے ، جب تک پچھلے رمضان کے روزوں کی قضا نہ کر لی جائے گی ، اگلے روزے قبول نہیں ہوں گے۔
(۵) جو صاحبِ مال ہیں زکات بھی دیں۔ جتنے برسوں کی نہ دی ہو فوراً حساب کر کے ادا کریں۔ ہر سال کی زکوٰۃ سال تمام ہونے سے پہلے دے دیا کریں۔سال تمام ہونے کے بعد دیر لگانا گناہ ہے۔ لہٰذا شروع سال سے رفتہ رفتہ دیتے رہیں، سال تمام ہونے پر حساب کریں، اگر پوری ادا ہو گئی، بہتر، ورنہ جتنی باقی ہے فوراً دے دیں اور اگر کچھ زیادہ نکل گئی ہے تو آئندہ سال میں مجرا کر لیں ، اللہ عز و جل کسی کا نیک کام ضائع نہیں کرتا۔
(۶) صاحبِ استطاعت پر حج بھی فرض ہے۔
(۷) کذب، فحش، چغلی، غیبت، زنا، لواطت، ظلم، خیانت، ریا، تکبر، داڑھی منڈانا یا کتروانا، فاسقوں کی وضع پہننا، ہربری خصلت سے بچے، جو ان سات باتوں کا عامل رہے گا اللہ و رسول کے وعدے سے اس کے یے جنت ہے ، جل جلالہ و صلہ اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم۔ ۔
جانشینِ حافظِ ملت حضرت عزیزِ ملت دامت برکاتہم العالیہ:حضور حافظِ ملت کے فرزند ارجمند پیرِ طریقت، عزیزِ ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ ہیں۔ حیات و فکر اور کردار و عمل میں حافظِ ملت کا عکسِ جمیل ہیں۔ عبادت و ریاضت، تہجد گزاری اور تقویٰ شعاری وغیرہ امور میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ کو اوراد و وظائف کی اجازت اپنے والدِ ماجد استاذِ گرامی حضور حافظِ ملت سے حاصل ہے۔ آپ کے مریدین ملک اور بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں ۔ آپ کے خلفا اور عقیدت کیشوں کی تعداد بھی اہم ہے ۔ آپ بڑی عقیدت کے ساتھ حضور حافظِ ملت کے عرس کا اہتمام فرماتے ہیں۔ حضور حافظِ ملت کے وصال کے بعد آپ جا نشین اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سربراہِ اعلیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے مولا تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے طفیل آپ کا سایۂ کرم دراز فرمائے۔ آمین۔
حضرت حافظ محمد حنیف عزیزی کو خلافت و اجازت:حضرت حافظ محمد حنیف عزیزی نے بلرام پور کی قدیم اور شہرہ آفاق درس گاہ جامعہ عربیہ انوار القرآن میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اسی درس گاہ سے ۱۸؍ برس کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کی ۔ فراغت کے بعد تدریسی امور بھی انجام دیے ۔ خدمتِ خلق، روحانی علاج اور بیعت و ارشاد آپ کے خاص مشغلے رہے ۔ تسخیر جنات، حاضرات اور تعویذ نویسی کے لیے آپ دور دور تک مشہور تھے ۔ ۲۰؍ برس کی عمر میں جلالۃ العلم قطب الارشاد حضور حافظ ملت کے دست مبارک پر مرید ہوئے۔ آپ کی بیعت کا پس منظر بھی بڑا ایمان افروز ہے اس کی تفصیل ہم نے ان کے حالات میں نوٹ کی ہے۔
ابھی مرید ہوئے چند برس ہی گزرے تھے کہ جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرام پور کے سالانہ اجلاس میں حضور حافظ ملت تشریف لائے اور اسی مبارک موقع پر آپ نے حافظ محمد حنیف عزیزی کو خرقہ و دستار عطا فرما کر اعلان فرمایا کہ میں حافظ محمد حنیف عزیزی صاحب کو سلسلہ قادریہ رضویہ چشتیہ اشرفیہ اور دیگر سلاسل کی خلافت و اجازت دے رہا ہوں ۔
حافظ محمد حنیف عزیزی عہد طالب علمی ہی سے نیک طبیعت اور پاکیزہ خصلت تھے ، لیکن حافظ ملت کی نگاہ کیمیا اثر نے ان کے فکر و عمل کا رخ ہی بدل دیا تھا ۔ سفر ہو یا حضر ان کے مخصوص اوراد و وظائف اور نوافل تک کی ادائگی میں فرق نہیں پڑتا تھا ۔ تلاوت قرآن کریم ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا ۔ ہر تیسرے دن ایک قرآن عظیم ختم کرنا ان کا خاص معمول تھا ۔ قریب پچاس برس تک بلرام پور کی جامع مسجد ابراہیم مستری مرحوم میں بلا معاوضہ نمازتراویح پڑھائی ۔ آپ بلا ناغہ عرس حافظ ملت میں شرکت کے لیے مبارک پورتشریف لاتے تھے ، مگر نہ جلسہ و جلوس میں نظر آتے اور نہ عام نشست گاہوں میں ۔ ایامِ عرس میں مزار حافظ ملت ان کے اوراد و وظائف کاخاص مقام تھا ۔ عرس میں ملک بھر سے ہزاروں عزیزی مریدین حاضر ہوتے ہیں مگر ان کے دل میں یہ خواہش کبھی بیدار نہیں ہوئی کہ وہ شیدائیان حافظ ملت میں اپنے خلیفہ ہونے کا پرچار کریں ۔ ورنہ عام طور پر اپنے مشائخ کے اعراس میں خلفا اپنا اپنا شو روم کھول کر خلیفانہ تراش خراش کے ساتھ کسی بلند جگہ پر آویزاں نظر آتے ہیں۔آئیے،اس مقام پر ماہرِ رضویات ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی بلرام پوری کے ایک اقتباس سے یادوں کے چراغ روشن کرتے ہیں۔
’’یہ شرف بلرام پور ہی کو حاصل ہے کہ حضور حافظ ملت کے واحد خلیفہ حضرت حافظ محمد حنیف صاحب قبلہ اس شہر کے ہیں۔ بر صغیر ہند و پاک میں آپ کے پائے کے چند ہی ماہرین عملیات ملیں گے۔ جنّ و آسیب اور سحر وغیرہ بھگانے میں آپ کا جواب نہیں۔ حاضرات میں بھی آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کے علم و عمل کو ہی دیکھ کر حضرت حافظ ملت نے آپ کو خلافت و اجازت مرحمت فرمائی ۔ ہر سال دھوم دھام اور تقدیسی آن بان کے ساتھ ’’عرس حافظ ملت‘‘ کا بلرام پور میں انعقاد کرتے ہیں۔ (ملخصاً اشرفیہ جولائی ۲۰۰۵ء)
نصیرِ ملت حضرت علامہ شاہ محمد نصیر الدین عزیزی کو نقوش و تعویذات کی اجازت:نصیرِ ملت پیرِ طریقت حضرت علامہ شاہ محمد نصیر الدین عزیزی دامت برکاتہم العالیہ ایک بزرگ عالمِ ربانی ہیں۔ آپ نے دار العلوم اشرفیہ مبارک پور سے سندِ فضیلت حاصل فرمائی، عہدِ طالب علمی سے آج تک آپ اپنے استاذ گرامی حضور حافظِ ملت سے بہت قریب رہے۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے عرس کا سارا نظم و نسق آپ اور حضرت مولانا اعجاز احمد مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ امسال تک بحسن و خوبی دیکھتے رہے۔ دونوں ہی علم و عمل اور زہد و پارسائی میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ بفضلہٖ تعالیٰ ان دونوں بزرگوں سے ہمیں بھی چند کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اب ہم بات کرتے ہیں حضرت نصیرِ ملت کے حوالے سے ، آپ بجاے خود نیک سیرت ، بلند اخلاق اور نستعلیق شخصیت ہیں۔ وضع قطع اور رہن سہن میں سادہ مگر انتہائی نفاست پسند ہیں، کم گوئی کے باوجود چہرے پر بشاشت کے آثار نمایاں رہتے ہیں۔ آپ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے قریب ترین معتمد تلامذہ میں سے ہیں۔
بیت الانوار گیا بہار میں ایک معروف خانقاہ ہے۔ اس خانقاہ میں ایک سے ایک بڑے مشائخ اور علما ہوئے اور آج بھی ہیں۔ حضور حافظِ ملت کا بھی اس خانقاہ سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ اور یہ تعلق آج تک باقی ہے۔ اس کا سلسلہ روحانی مرشدِ طریقت حضرت سید شاہ عین الہدیٰ سے شروع ہوتا ہے۔ جنگلوں اور بیابانوں میں اوراد و وظائف پڑھنا آپ کا معمول تھا۔ ایک بار آپ کے ایک مرید نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور آج ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ آپ انھیں ساتھ لے گئے اور آپ نے حصار کھینچ کر خود عمل شروع فرما دیا اور مریدِ محترم دوسری جگہ بیٹھ گئے۔ اب جنوں نے اس مرید کو پریشان کرنا شروع کر دیا اور مرید صاحب پریشان ہونے لگے۔آپ نے اس جانب کوئی توجہ نہیں فرمائی۔ اس کے بعد جب حضرت سید علیہ الرحمہ نے اپنے عمل کے ذریعہ توجہ فرمائی تو جنات کٹ کٹ کر مرنےلگے۔ پھر شاہ جن آیا اور اس نے حضور سید صاحب کی بارگاہ میں منت سماجت فرمائی اور مزید عرض کیا حضور ! ہم آپ کو ایک تعویذ کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ یہ ”نقش جنی“ جسے آج حضور حافظِ ملت کے پینے والے تعویذ کے نام سے شہرت ہوگئی ہے، حضرت نصیرِ ملت فرماتے ہیں کہ یہ ”اسمِ اعظم“ ہے۔
حضرت سید عین الہدیٰ نے اس کی اجازت پیرِ طریقت حضرت شاہ نور الہدیٰ گیاوی کو عطا فرمائی اور انھوں نے اپنے لختِ جگر حضرت علامہ شاہ سراج الہدیٰ گیاوی کو، آپ نام ور فاضلِ اشرفیہ اور حضور حافظِ ملت کے عزیز ترین تلامذہ میں ہیں۔ بقول حضرت نصیرِ ملت آپ سے اس نقش جنی کی اجازت جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ کو حاصل ہوئی، حضور حافظِ ملت باضابطہ یہ تعویذ جنی لکھتے تھے اور حاجت مندوں کو عنایت فرماتے تھے ۔ آپ نے اس تعویذ اور دیگر اوراد و وظائف کی اجازت اپنے جانشین عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کو عطا فرمائیں، نیز دیگر بزرگوں کو بھی۔ ان میں ایک معروف نام نصیرِ ملت حضرت علامہ شاہ محمد نصیر الدین عزیزی دامت برکاتہم العالیہ کا بھی ہے۔ ہم نے حضرت سے ابھی گفتگو کا شرف حاصل کیا۔ آپ نے فرمایا، اس پینے والے تعویذ جنی کی بھی اجازت عطا فرمائی اور دیگر نقوش اور اوراد و وظائف کی بھی، آپ کا معمول بھی یہی رہا کہ آپ بعد نمازِ جمعہ اپنی قیام گاہ پر یہ پینے والا تعویذ ضرورت مندوں میں تقسیم فرماتے ہیں۔ آپ ایک مقبول ترین مرشد بھی ہیں اور با صلاحیت استاذ ہونے کے باوجود آپ کی شہرت و مقبولیت دعاؤں اور نقوش کے تعلق سے بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مرشدِ طریقت حضرت علامہ شاہ سراج الہدیٰ گیاوی اپنی آخری عمر شریف میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور تشریف لائے، بڑی نوازش فرمائی ، پھر مجھ سے فرمایا کہ ہم ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور کا دفتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ حضرت بآں فضل و کمال تشریف لائے ، وہاں کا نظم و ضبط دیکھ کر ڈھیر ساری دعاؤں سے سرفراز فرمایا اور اسی وقت ہمیں بھی حضرت علامہ شاہ سراج الہدیٰ علیہ الرحمہ نے باضابطہ ” نقش جنی“ لکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔آمین۔
حضرت مولانا شاہ تجمل الہدیٰ مصباحی کو دلائل الخیرات شریف کی اجازت:حضرت مولانا شاہ تجمل الہدیٰ مصباحی گیاوی علیہ الرحمہ دار العلوم اشرفیہ مبارک پور کے نام ور فاضل تھے، آپ گوناگوں اوصاف و کمالات کے حامل اور اہلِ سنت کے معتمد استاذتھے، آپ ”خانقاہ بیت الانوار گیا “کے فرد فرید اور اخلاق حسنہ کے پیکرِ جمیل تھے، راقم نے ممدوح مکرم کی متعدد بار زیارت کی ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں اصول فقہ کی مشہور کتاب ”نور الانوار“ کا امتحان بھی دیا، حضرت نے خوش ہو کر ہمیں سو میں سو نمبر بھی دیے تھے۔ حضرت عالمِ علوم شرقیہ بھی تھےاور عاملِ قرآن و سنت بھی۔ ۱۳۷۹ھ /۱۹۶۰ءمیں آپ نے اپنے استاذ گرامی حضرت حافظِ ملت سے دلائل الخیرات شریف پڑھنے کی اجازت کی خواہش ظاہر فرمائی، اور ایک ماہ میں ختم کرنے کا طریقہ بھی معلوم کیا ، حضرت نے انھیں اجازت بھی عطا فرمائی اور پڑھنے کے طریقے بھی عطا فرمائے۔ حضرت مولانا تجمل الہدیٰ مصباحی کے بقول ”میں نے دلائل الخیرات پڑھنے کی اجازت اور طریقہ طلب کیا تو حضرت نے یہ مکتوبِ گرامی تحریر فرمایا:
”محبِ محترم جناب مولوی تجمل الہدیٰ صاحب سلمہ، دعاے خیر و سلام مسنون۔
آپ کو خط لکھا لیکن کثرتِ کار دماغ پر بار ہے، اس لیے بڑی ضروری بات رہ گئی۔ آپ نے دلائل الخیرات شریف کی اجازت طلب کی تھی اور ایک ماہ میں ختم کرنے کا طریقہ معلوم کیا تھا۔ دلائل الخیرات شریف کے ورد کے تین طریقے ہیں، اول روزانہ پوری ساتوں حزب ختم کرنا ،اسماے حسنیٰ و اسمائے طیبہ بھی پڑھے[دوسرا طریقہ رقم ہونے سے رہ گیا۔ مبارک حسین مصباحی]،تیسرے اسماے حسنیٰ و اسماے طیبہ صرف پہلی حزب دوشنبہ کے ساتھ پڑھے اور ہر روز ایک ہی حزب بغیر اسماے حسنیٰ و اسماے طیبہ کے پڑھے۔ ایک ماہ میں ختم کا طریقہ نہیں۔
آپ تیسرا طریقہ اختیار کریں اور روزانہ وقت مقررہ پر پڑھنے کا عزم کر لیں، روزانہ وقت معہود پر پڑھیں، پندرہ منٹ کے اندر ہو جاتی ہے، دلائل الخیرات شریف کے خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جو بلا ناغہ پڑھنے کا عزم کرتا ہے اس سے ناغہ نہیں ہوتی، اچھا عطر پڑھتے وقت روزانہ استعمال کرنا چاہیے، یہ بھی اس کے خواص میں سے ہے کہ جو اس پر کاربند ہوتا ہے غیب سے اس کا انتظام ہو جاتا ہے کوئی دقت نہیں ہوتی۔ ھو الکریم۔
لَقَدۡ اَجَزۡتُکَ بِقرَاءَۃِ دَلَائِلِ الۡخَیۡرَاتِ عَلیٰ بَرَکَۃِ اللہِ وَ بَرَکَۃِ رَسُوۡلِہٖ کَمَا اَجَازَنِیۡ شَیۡخِیۡ وَ مُرۡشِدِیۡ صَدۡرُ الشَّرِیۡعَۃِ الۡعَلَّامَۃُ الشَّاہ مُحَمَّدۡ اَمۡجَدۡ عَلِی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَۃُ وَالرِّضۡوَان وَ اَجَازَہ شَیۡخُ الدَّلَائِلِ الشَّاہ مُحَمَّدۡ عَبۡدُ الۡحَقٍّ آفَنۡدِیۡ قُدِّسَتۡ اَسۡرَارُھُمۡ وَاَنَا اَدۡعُوۡا لَکَ بِاَنۡ اَعۡطَاکَ اللہُ بَرَکَاتَ دَلَائِلِ الۡخَیۡرَاتِ وَ حَسَنَاتَھَا تَامًّا وَافِیًا کَافِیًا جَمِیۡعًا وَاَفَاضَ عَلَیۡکَ شَآبِیۡبَ النِّعَمۡ فِی الدُّنۡیَا وَالآخِرَۃِ بِحَقِّ حَبِیۡبِہِ عَلَیۡہِ وَ عَلیٰ اٰلِہِ وَ اَصۡحَابِہَ اَفۡضَلُ الصَّلوٰۃِ وَالتَّسۡلِیۡم وَ اَنَا الۡفَقِیۡر۔ عبد العزیز عفی عنہ
مولاے قدیر آپ کو توفیق رفیق بخشے، اس کے پورے برکات و حسنات عطا فرمائے باوضو رو بہ قبلہ خوشبو کا استعمال پڑھنے کے وقت اس کے آداب میں سے ہے۔ اپنے والد صاحب قبلہ اور چھوٹے حضرت و منجھلے حضرت سے سلام مسنون کہہ دیجیے، مولوی حافظ محمد جمیل احمد وغیرہ حضرات کو سلام و دعا۔
۲؍ محرم ۱۳۸۰ھ/۲۷؍ جون ۱۹۶۰ء عبد العزیز عفی عنہ
حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی کو دو اجازتیں:استاذ القرا حضرت حافظ و قاری عبد الحکیم عزیزی بڑے نیک طینت اور اخلاص و عمل کے پیکر تھے۔ آپ قراءتِ سبعہ کے ایک کامیاب استاذ تھے۔ آپ نے چند برسوں تک دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں بھی درس دیا۔ آپ کے چاہنے اور ماننے والوں کی ایک لمبی تعداد ہے۔ آپ حافظِ ملت کے عزیز ترین تلمیذ و مرید تھے۔ حضور حافظِ ملت آپ سے حد درجہ محبت فرماتے تھے۔ محب گرامی وقار حضرت مولانا ناظم علی مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے فرمایا کہ ”حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی نے ان سے فرمایا کہ حضور حافظِ ملت نے دردشقیقہ یعنی آدھے سر کے درد کو ختم کرنے کا روحانی علاج مرحمت فرمایا تھا۔ اس علاج کا طریقہ یہ ہے کہ چہل قاف شریف پڑھ کر پانی کو کاٹا جائے اور پھر اسے مریض کو پلا دیا جائے تو انشاء اللہ درد ختم ہو جائے گا۔ حضرت قاری عزیزی فرماتے ہیں، دردِ شقیقہ کا یہ علاج مجرب ہے ۔ آج تک جس کے سر کا علاج کیا بفضلہٖ تعالیٰ اسے آرام ہوا ۔
دوسری اجازت معوذتین کی عطا فرمائی، ہر فرض نماز کے بعد تین بار سورہ ”فلق“ اور تین بار سورہ ”ناس“ پڑھا جائے۔ یہ عمل حاسدوں، شرپسندوں اور دشمنوں سے حفاظت کے لیے ہے۔ معوذتین کی اجازت حضرت حافظِ ملت کو حضرت صدر الشریعہ سے حاصل ہوئی اور انھیں امام احمد رضا محدث بریلوی سے۔
حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی انتہائی مخلص بزرگ تھے، اپنے حلقۂ احباب میں بہت سے افراد کو اپنے مرشدِ گرامی کے دامن سے وابستہ کرایا۔ ہماری بھی ان سے متعدد بار ملاقاتیں ہوئیں ، بہت محبت فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولاتعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے طفیل ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
حضرت مفتی ظل الرحمٰن ضیائی کو معوذتین کی اجازت:حضرت مولانامفتی ظل الرحمٰن ضیائی ضلع بھاگل پور کی نام ور شخصیت تھے، علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں بھی امتیازی مقام رکھتے تھے، حضرت حافظِ ملت قدس سرہ العزیز سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے تھے، ایک بار آپ نے بارگاہِ حافظِ ملت میں عرض کیا: حضور! بفضلہٖ تعالیٰ ہمارے پاس بھی بہت سے لوگ دعاؤں اور تعویذوں کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ آپ کوئی وظیفہ یا عمل کی اجازت مرحمت فرما دیں تاکہ ضرورت مندوں کی خدمت کی جا سکے، یہ گفتگو سن کر حضرت حافظِ ملت نے فرمایا:
”معوذتین ہر بیماری کا علاج ہے، آپ معوذ تین پڑھ کر دَم کر دیا کریں ان شاء اللہ یہ عمل ہر مرض کے لیے مفید ہوگا۔“
حضرت مفتی ظل الرحمٰن ضیائی ۲۷؍ رجب ۱۴۳۷ھ/۴؍ مئی ۲۰۱۶ء کو وصال فرما گئے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے، آمین۔ (بہ روایت محبِ گرامی مولانا طفیل احمد مصباحی نائب مدیر ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور )۔
حضور حافظِ ملت کے صوفیانہ احوال:حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ نے جب اپنے وطن بھوج پور میں حفظ مکمل فرما لیا تو پانچ برس تک ایک مسجد میں امامت اور درسگاہ میں حفظِ قرآن عظیم پڑھاتے۔ ان دنوں آپ اپنے گھریلو کام بھی محلے کے ہم عمر جوانوں سے زیادہ کرتے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ آپ ہر روز ایک قرآن عظیم بھی مکمل پڑھ لیتے تھے۔ روایت تو یہی ہے کہ آپ نے انھیں دنوں نمازِ تہجد بھی پڑھنا شروع فرما دی تھی۔ پنج وقتہ نمازوں کو پوری پابندی سے باجماعت ادا فرماتے تھے۔ خلافِ شرع امور سے حد درجہ اجتناب فرماتے، یہی حال آپ کا جامعہ نعیمیہ مراد آباد کی تعلیم و تربیت کے دوران بھی رہا اور اجمیر معلیٰ میں ۹؍ سالہ دور تو عشق و عرفان کا جنتی دور تھا۔
آپ حد درجہ عبادت و ریاضت کے پابند تھے، آپ کے نزدیک ہر مخالفت کا جواب کام تھا۔ آپ اکابر ومشائخ کا بے پناہ احترام فرماتے تھے۔ معاصرین سے حد درجہ الفت و محبت فرماتے، اپنے مریدین اور تلامذہ کو بھی ٹوٹ کر چاہتے تھے۔ آپ کی زندگی کا منفرد وصف ہے کہ آپ کبھی کسی سے خفا نہیں ہوئے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ایک باپ بھی اپنی چند اولاد کے درمیان کبھی کبھی محبت کا توازن برقرار رکھنے سے قاصر رہ جاتا ہے، مگر عقیدت و محبت کے ہزاروں سلام ہوں، حضور حافظِ ملت کی بارگاہ میں جنھوں نے ہزاروں ہزار متعلقین اور وابستگان کے درمیان بھی یہ توازن برقرار رکھا کہ کسی کو شکایت پیدا ہونا تو دور کی بات ہے، بلکہ ہر ایک اس جذبۂ اخلاص میں مگن رہتا کہ حضرت سب سے زیادہ ہم ہی سے محبت فرماتے ہیں۔
دوسری طرف آپ کتوں، چڑیوں اور بلیوں سے بھی محبت فرماتے تھے۔ روزانہ چڑیوں کو دانے ڈالنا ان کے لیے پانی بھر کے رکھنا آپ کا معمول تھا، کون نہیں جانتا جس گھر میں کثیر چڑیاں آئیں جائیں وہ یقیناً بیٹ بھی کریں گی، مگر ان باتوں سے آپ کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی، بلکہ جب لمبے سفر پر جاتے تو آپ زیادہ دانوں کا انتظام فرما کر جاتے تھے۔ یہی حال محلے کے کتوں کا بھی تھا، جب آپ درس گاہ یا کسی بیرونی مقام سے تشریف لاتے تو دوچار کتے آپ کے پیچھے آجاتے، اگر کوئی دوسرا شخص ان کتوں کو بھگانا چاہتا تو اسے آپ روک دیتے، جب آپ دروازہ کھولتے تو کتے سکون سے بیٹھ جاتے۔ آپ کھانا کھانے کے بعد ان کو ان کا حصہ عطا فرما دیتے۔عام طور پر یہی سلوک بلیوں کے ساتھ بھی ہوتا۔
مہمانوں کی خاطر نوازی بھی آپ کی بہت مشہور ہے۔، کبھی کبھی وہی چادر بچھا دیتے جس کو اوڑھے ہوتے تھے، خود سے چائے بنانا، شربت بنانا اور دسترخوان پر کھانا لگانا تو آپ کا معمول تھا۔
ڈاکٹر عبد المجید خاں مرحوم صدر جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرام پور نے تحریر فرمایا:
”شدید بیماری کے دنوں میں نقاہت اتنی زیادہ تھی کہ ہم لوگ پریشان رہتے، مگر عین نماز کے وقت اٹھ کر بیٹھ جاتے اور وضو کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے رہتے تاکہ بوقتِ ضرورت سنبھالا جا سکے، لیکن رات کا عالم یہ ہوتا کہ ہم لوگوں کو بہ اصرار بھیج دیتے، جب مکمل سناٹا چھا جاتا، عبادت میں مصروف ہو جاتے۔ ایک روز دن کی حالت سے مجھے زیادہ پریشانی تھی۔ ایک بجے رات میں حاضر ہوا، چارپائی پر بیٹھے ضرب لگا رہے تھے، میری زبان سے نکلا۔ حضرت…… فرمایا: آپ چلیے آرام کیجیے، میں ٹھیک ہوں۔ “ (ماہ نامہ اشرفیہ، حافظِ ملت نمبر، ص:۴۶۸)
ڈاکٹر عبد المجید عزیزی نے تحریر فرمایا ہے کہ آنکھ کے آپریشن کے وقت آنکھ کے گرد کئی انجکشن لگائے جاتے ہیں، جس سے مریض تڑپ جاتا ہے، مگر آپ کو بے ہوشی کا انجکشن بھی نہیں لگایا تھا، آپ کو بھی اس طرح کے متعدد انجکشن لگے لیکن بالکل مطمئن رہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جسم کے ہر حصے پر مکمل قابو دے دیا تھا کوئی غیر مرئی طاقت ہے کہ جو نازک حصے کی تکلیف پر بھی اف نہیں کرنے دیتی۔
شب و روز کی مصروفیات:الحاج محمد حسین مبارک پوری مرحوم خازن جامعہ اشرفیہ لکھتے ہیں:
”حضرت اپنے محلے کی مسجد میں پابندیِ وقت کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتے، وقت کی پابندی کرنے میں میں نے ان جیسا نہیں دیکھا، ٹھیک وقت پر نہ صرف مسجد پہنچنا ان کی عادت تھی بلکہ ہر کام اپنے وقت ہی پر کرتے تھے،تعلیم کے پورے وقت میں اپنی ذمہ داری کو حسن و خوبی سے ادا کرتے تھے، چھٹی کے بعد قیام گاہ پر لوٹتے تھے، کھانا کھا کر تھوڑی دیر قیلولہ ضرور کرتے تھے، قیلولہ کا وقت ہمیشہ یکساں رہتا، چاہے ایک وقت کا مدرسہ ہو یا دونوں وقت کا ۔ ظہر کے مقررہ وقت پر بہر حال اٹھ جاتے اور با جماعت نماز ادا کرنے کے بعد اگر دوسرے وقت کا مدرسہ ہوتا تو مدرسہ چلے جاتے، ورنہ کتابوں کے مطالعہ یا خارجی وقت میں کسی کتاب کا درس دیتے، یا حاجت مندوں کے لیے تعویذ وغیرہ میں صرف کرتے، شروع زمانہ میں عصر کی نماز کے بعد تفریح کے لیے آبادی سے باہر تشریف لے جاتے، علی نگر کے قبرستان سے گزرتے ہوئے اکثر سڑک پر کھڑے ہو کر قبروں پر فاتحہ اور ایصالِ ثواب کرتے۔
حضور حافظِ ملت اپنے ابتدائی دور میں عصر کے بعد تفریح کے عادی ضرور تھے مگر یہ تفریح کا وقت بھی صرف ہو ا خوری میں صرف نہ ہوتا تھا، بلکہ عالم یہ ہوتا تھا کہ طلبہ کی جماعت آپ کے ہمراہ ہوتی۔ طلبہ اس تفریح کے اوقات میں بھی آپ سے علمی سوالات کرتے جاتے تھے اور حضرت ان سوالات کے جوابات دیتے جاتے تھے۔ مغرب کی نمازکے بعد کھانا کھاتے اور کھانا کھا کر اپنے آنگن میں کچھ چہل قدمی فرماتے۔ اگر کسی کی عیادت کے لیے جانا ہوتا تو اس کے لیے اکثر عصر کے بعد ہی کا وقت ہوتا۔ عشا کی نماز کے بعد کتابوں کا مطالعہ کرتے، نصف رات تک باہر نکل کر پرانے مدرسے میں مقیم طلبہ کی دیکھ بھال کرتے رہتےکہ وہ مطالعہ میں مصروف ہیں یا نہیں۔ عموماً گیارہ بجے سو جاتے اور تہجد کے لیے آخری شب میں اٹھتے، تہجد پڑھنے کے بعد بھی کچھ دیر سونا معمول تھا۔ رات میں چاہے کتنا بھی بیدار رہے ہوں، فجر کبھی قضا ہوتے نہ دیکھی گئی۔“ (حافظِ ملت نمبر، ص:۳۲۲، ۳۲۳)
گرامی وقار جناب محمد قاسم عزیزی جمشید پوری نے بیان فرمایا کہ حضور حافظِ ملت کو جمشید پور سے دھنباد جا کر ٹرین پکڑنی تھی، آپ ایک کارسے روانہ ہوئے، ساتھ میں الحاج عبد القیوم صاحب ،الحاج محمد عزیزی صاحب، جناب محمد حنیف عزیزی صاحب اور جناب ادریس صاحب تھے، کھانے پینے کا سامان ساتھ میں رکھ لیا تھا کہ راستے میں حضرت کو کھلائیں گے، راستے میں ایک مقام چاس موڑ ہے۔ یہاں بڑے بڑے ڈھابے ہیں۔ یہ حضرات کار روکتے ہیں کہ یہاں حضرت حافظِ ملت کو کھانا کھلا دیا جائے۔ یہ حضرات جلدی سے اترے، سامنے ٹیبل پر دو تین غیر مسلم چائے وغیرہ پی رہے تھے، ان حضرات نے انھیں ٹیبل سے ہٹنے کو کہا اور حضرت سے تشریف رکھنے کے لیے عرض کیا، حضرت کو ان حضرات کا یہ کام ناگوار گزرا، آپ نے اپنے رومال کو جو ساتھ میں رکھتے تھے، اسے زمین پر بچھا کر بیٹھ گئے اور ان حضرات سے غصے میں فرمایا: مجھ فقیر کے لیے آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تکلیف دے رہے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ ہندو جو ٹیبل سے اٹھ گئے تھے، حضرت کے قریب آئے اور ہاتھ جوڑ کر حضرت کو سلام کیا اور کہا ہم لوگ اپنی خوشی سے چاہتے ہیں کہ بابا آپ اوپر بیٹھ جائیں، ان کے کہنے پر حضرت اٹھ کر ٹیبل پر بیٹھ گئے اور کھانا تناول فرمایا اور سارے لوگ حضرت کی خاکساری دیکھتے رہ گئے۔ (تلخیص از:حافظِ ملت اور جمشید پور، ص:۲۰،۲۱)
حضور حافظِ ملت قدس سرہ العزیز بلا شبہہ بلنداوصاف و کمالات کے جامع تھے، آپ کی پوری زندگی علم و عرفان سے لبریز تھی، آپ علوم و فنون کے مرقعِ جمیل تھے، آپ کا وجود عشقِ الٰہی اور محبت رسول ﷺسے سرشار رہتا تھا۔ اس موضوع پر لکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ ہے، جو انشاء اللہ کبھی بعد میں تحریر کیا جائے گا۔
مولا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں ان کے نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم۔٭٭٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں الطاف رضا

محترم الطاف رضا صاحب ہماری آواز کے شعبہ اسپورٹس (کھیل) کے ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر:07408299744 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

حیات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

از قلم: محمد انس قادری رضویمجلس اصحابِ قلم گورکھپور آپ‌ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے