اسلام کی شہزادیاں اور ان کی ذمہ داریاں

تحریر: غلام وارث شاہدی عبیدی
تاراباڑی پورنیہ بہار

جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو مری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کردے

آئے دن اخبارات کی زینت وہی خبریں ہوتی ہیں جن سے اسلام اور تعلیمات اسلام مجروح و مبذول ہوں،تعلیمات اسلام کو نظر انداز کرنے اور ان سے منحرف ہونے کے جرم میں وہی ہوتا ہے جس کی پیشن گوئی اقبال نے کیا تھا:

آزادئ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر خام تو آزادئ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

آج ہم بلند افکار سے مراد فرنگی تہذیب و تمدن کو سمجھتے ہیں،فرنگی و یورپی تہذیب و تمدن بالکلیہ اسلامی تعلیم و تربیت،تہذیب و تمدن و ثقافت کے بر عکس و بر خلاف ہے،
عورتوں کی عزت،عفت،عصمت،تعظیم و توقیر سوائے اسلام کے کوئی نہیں کرتا اور نہ حکم دیتا ہے بلکہ دشمن عناصر اوصاف نسواں کو پامال کرنے میں کوشاں ہیں،
نوجوان لڑکیاں عشق مجازی اور طمع کی بنیاد(مال کی لالچ)پر جتنی تیزی سے بگڑ رہی ہیں،اور تعلیمات اسلام کو بھلا کر نظام اسلام کو پامال کررہی ہیں،ہائے افسوس!
ہماری پاکیزہ بہنیں ببانگ دھل اور آزادانہ طرز پر کفر(اغیار)کے بستر کی زینت و آرائش بن رہی ہیں!
بتائیں ان سب کا ذمہ دار کون ہیں؟
خود لڑکیاں
کفر(کفار)
فرنگی تہذیب
معاشرہ
نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
یا والدین
ہلکا سا تفکر و تدبر سے عقل یہ بات قبول کرنے پر مجبور ہوجائےگی کہ ان تمام بےحیائی،بدفعلی،اور بےپردگی کے ذمہ دار والدین کے علاوہ کوئی نہیں۔
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری حدیث پاک ہے:
مامن مولود الا یولد علی الفطرة فأبوا یهودانه او نصرانه او يمجسانه (ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں)
اس حدیث پاک کے اشارة النص سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آج نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے زوال کا ذمہ دار والدین ہیں،اگر والدین اپنی اولاد کی تربیت،تعلیمات اسلام اور نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق کرتے تو یہ وقت دیکھنے کو نہ ملتا،والدین کا حال یہ ہے کہ خود اپنی بیٹیوں کو میک اپ اور پرکشش جاذب نظر کپڑے پہناکر کالج و اسکول روانہ کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں،لیکن انہیں علم نہیں کہ ان کی بچیاں گھر سے نکل کر کالج و اسکول جاتی ہیں یا پھر کہیں اور؟
ان جیسے والدین اور لڑکیوں کے سبب گھر تو گھر بلکہ پورا معاشرہ ناپاک و فساد ہوجاتا ہے۔۔
اقبال نے کہا تھا
فساد قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف
اقبال اپنی حیات ظاہری ہی میں موجودہ حالات کا مشاہدہ کرچکے تھے،اور پیشن گوئی فرمادی کہ ایک وقت یورپ اپنی فرنگی تہذیب پوری دنیا میں اس طرز پر پھیلائےگی کہ ہر طرف برائی ہی برائی نظر آئےگی۔
اس یورپی تہذیب نے قلب کو مردہ،نظر کو اندھا،معاشرہ کی پاک روح کو ناپاک،اسلام کی مقدس شہزادیوں کی عصمت دری،ضمیر پاک کو ناپاک،خیال بلند کو پست،ذوق لطیف کو ناپید کر کے رکھ دیا۔
اے اسلام کے گلشن میں پروان چڑھنی والی مقدس شہزادیاں!
جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل تمہاری حالت کتنی نازک تھی؟کبھی تم نے غور کیا کہ یہ عزت کس کی بدولت ملی؟یہ وقار کس کے ظہور سے ملا؟یہ تعظیم و توقیر کہاں سے حاصل ہوئی؟
یقینا یہ عزت یہ وقار یہ تعظیم و توقیر اسی محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس در سے حاصل ہوئی۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا ہی خوب فرمایا،
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادئ سینا

اے اسلام کے خوشبودار پھولو
تم غبار کی زینت بن رہی تھی،تم زندہ درگور کی جارہی تھی،جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی کو روشن کرنے لیے تشریف لاے اور نازک معاملات کو ملاحظہ فرمایا تو تمہاری فضیلت بیان فرمائی،فرمایا،
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوِ ابْنَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أُخْتَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّة
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے)

اسلامی بہنوں کا راہ راست سے منحرف ہونے کی کئی وجوہات ہے،جس میں بنیادی وجہ بےپردگی و بےحیائی ہے،ہم بازار سے ایک کیلو گوشت خرید کر بحفاظت گھر لاتے ہیں،لیکن اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ڈیڑھ من لاش کو کتوں کے سامنے پھینک دیتے ہیں،یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ تمہاری بچیوں کے گوشت کو نوچ نوچ کر کھانے کے لیے دشمن عناصر کے ہزارہا کتے بھوکے ہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھوک تمہاری بیوی اور بچیوں کے ذریعے مٹائے،اسی لیے پانی سر سے تجاوز کرنے سے پہلے پہلے اس پانی کے راستے کو ہی بند کردیں ۔
اپنی لڑکیوں کو اسکول،کالج،محلے اور بازاروں کی زینت بننے سے بچائیں،تعلیمات اسلام سے آگاہ کریں،اللہ واحد قہار کا خوف بٹھائیں،عشق رسول کی داستان سنائیں،الغرض اسلامی تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں،ورنہ تمہاری یہی اولاد مصیبت و پریشانی اور خود کشی کی وجہ بن سکتی ہیں۔
کبھی بھی یورپی اور فرنگی تہذیب کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہ دیں،بلکہ تعلیمات اسلام اور نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس جامہ زیب تن کرلیں اور کردیں۔

خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے مری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے