سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا پانچواں ورق(عثمانی سکہ اور جھنڈا)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی


عثمان خاں بن ارطغرل کی وصیت
726؁ھجری میں عثمان بن ارطغرل کا انتقال ہوا ۔ اپنے انتقال کے وقت اُس نے اپنے بیٹے کو جو وصیت کی اُس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُسے اپنے آخری وقت میں بھی دین اسلام کی فکر تھی۔ اُس نے اپنے بیٹے کواُر خاں بن عثمان خاں غازی کو وصیت کرتے ہوئے کہا :’’اے بیٹے! کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہو جانا جس کے کرنے کا اﷲ رب العالمین نے حُکم نہ دیا ہو۔ جب بھی اُمورِ سلطنت کی انجام دہی میں کوئی مشکل پیش آئے تو علمائے دین سے مشورہ ضرور کرنا اور اُن سے امداد طلب کرنا۔اے بیٹے! اطاعت گزار لوگوں کو اعزاز سے نوازنا اور مجاہدین پر انعام واکرام کرنا ، کہیں لشکر اور دولت کی وجہ سے شیطان تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ اہل شریعت سے ہمیشہ قریب رہنا۔ اے بیٹے! تم جانتے ہو کہ ہمارا مقصد اﷲ رب العالمین کو راضی کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہے اور جہاد کے ذریعے تمام آفاق میں اﷲ کے دین کے نور کو عام کرنا ہے۔ اِس لئے وہی کام کرنا جس سے اﷲ تعالیٰ راضی ہو۔ اے بیٹے! ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو سلطنت کی توسیع کے لئے اور لوگوں کو غلام بنانے کے لئے جنگ کرتے ہیں۔ ہمیں زندہ رہنا ہے تو اسلام کے لئے اور مرنا ہے تو بھی اسلام کی خاطر۔ اور میرے بیٹے تم اِس کے اہل ہو‘‘۔ (العثمانیون فی التاریخ الحضارۃ) ایک اور روایت میں ہے کہ عثمان خاں بن ارطغرل نے اپنے بیٹے اُر خاں بن عثمان خاں کو یہ وصیت بھی کی تھی:’’اے بیٹے! اسلام کی اشاعت ، لوگوں کی اِس دین کی طرف رہنمائی اور مسلمانوں کی عزت وآبرو اور مال و دولت کی حفاظت تمہارے ذمے قرض ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں اِس بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اے بیٹے میں اﷲ رب العالمین کی بارگاہ میں جارہا ہوں مجھے اُمید ہے کہ تم رعایا کے ساتھ عدل کرو گے اور اﷲ کے دین کی اشاعت کے لئے جدوجہد کروگے‘‘۔ اِس کے ساتھ ساتھ عثمان خاں بن ارطغرل نے ہدایت کی کہ اُسے ’’بروصہ‘‘ میں دفن کیا جائے اور ’’بروصہ‘‘ کو دارالحکومت بنایا جائے۔
’’بروصہ یا بروسہ‘‘ دارالحکومت
اُر خاں بن عثمان خاں کا حالانکہ چھوٹا بیٹا تھا لیکن اُس کی اعلیٰ جنگی قابلیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے عثمان خاں بن ارطغرل نے اپنے بڑے بیٹے علاء الدین بن عثمان خاں کے بجائے اسی کو ’’ولی عہد‘‘ بنایا تھا اور وصیت کی کہ ’’بروصہ‘‘ کو ’’دارالحکومت بنایا جائے۔ اِسی لئے عثمان خاں بن ارطغرل غازی کے انتقال کے بعد ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا حکمراں اُر خان بن عثمان خاں کو بنایا گیا ۔جس وقت اُسے حکمراں بنایا گیا تو اُس وقت اُس کی عُمر 42 سال تھی۔ اُس کے بڑے بھائی علاء الدین بن عثمان خاں نے بھی ایسے موقعہ پر انتہائی وسیع النظری کا ثبوت دیتے ہوئے خوشی سے اپنے چھوٹے بھائی کی حکمرانی کو تسلیم کرلیا۔دراصل علاء الدین بن عثمان خاں نے اپنا زیادہ تر وقت میدان جنگ میں گزارنے کے بجائے علم حاصل کرنے میں صرف کیا تھااور اِسی مناسبت سے اُسے جنگ میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اُر خاں بن عثمان خاں بھی اپنے بڑے بھائی کا بہت ادب اور احترام کرتا تھا اور اُس نے اپنے بڑے بھائی کی منت سماجت کرکے ’’وزیر اعظم‘‘ کا عہدہ قبول کرنے پر آمادہ کرلیا اور خود اپنے بڑے بھائی علاء الدین بن عثمان کے مشوروں پر عمل کرتا رہا۔ سلطان اُر خاں بن عثمان خاں ایک بہت ماہر جنگجو تھا اور اُس نے اپنے والد محترم کے مقصد کو آگے بڑھایا اور اُس کی زیادہ تر توجہ رومی عیسائیوں کی طرف رہی۔ ’’بروصہ‘‘ کی فتح کے چند دنوں بعد ہی اُس نے حکومت کا انتظام سنبھال لیا تھا اور والد محترم کی آخری رسومات کے بعداُس نے وصیت کے مطابق ’’بروصہ‘‘ کو سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا ’’دارالحکومت‘‘ بنا دیا۔اِس طرح مسلمان رومی علاقوں میں مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔
’’پاشا‘‘ کا لقب
اپنے چھوٹے بھائی سلطان اُرخاں بن عثمان خاں کی منت سماجت کی وجہ سے علاء الدین بن عثمان خاں نے ’’وزیر اعظم‘‘ کا عہدہ سنبھال لیا۔ اسے ’’پاشا‘‘ کا لقب دیا گیا اور یہ ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا پہلا ’’پاشا‘‘ ہے۔ اِس کے بعد اُرخاں بن عثمان خاں کا زیادہ تروقت میدان جنگ میں گزرنے لگا اور بڑے بھائی علاء الدین بن عثمان خاں ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کے انتظامات میں اصلاحات کرنے لگا اور ’’آئین ملک‘‘ کی ترتیب و تنظیم کرنے لگا۔ سب سے پہلے اُس نے دو چیزوں ’’سکہ اور فوج‘‘ پر توجہ دی ۔ارطغرل بن سلیمان کے انتقال کے بعد جب اُس کے بیٹے عثمان خاں بن ارطغرل جب حکمراں بنا تو اُس وقت کے ‘‘سلطنت سلجوقیہ رومیہ‘‘ کے حکمراں علاء الدین ثانی نے عثمان خاں کو اُس کے نام کا ’’سکہ‘‘ جاری کرنے کی اجازت دے دی تھی لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اُس کے بعد جب علاء الدین ثانی کا انتقال ہوا اور اُس کی جگہ عثمان خاں بن ارطغرل ’’سلطنت سلجوقیہ رومیہ‘‘ کا حکمراں بنا تب بھی اُس نے اپنے نام کا ’’سکہ‘‘ نہیں جاری کیا تھا۔ اُرخاں بن عثمان خاں کی تخت نشینی کے وقت تمام ایشائے کوچک میں صرف ’’سلجوقی سکے‘‘ رائج تھے۔ علاء الدین بن عثمان خاں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے چھوٹے بھائی اُر خاں کے نام اور تصویر کا ’’سکہ‘‘ ڈھالا اور اُس کے نام کا ’’سکہ‘‘ رائج کیا۔ اِس کے علاوہ ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا سرکاری جھنڈا بھی بنایا۔ ارطغرل بن سلیمان غازی اور اُس کے بیٹے عثمان خاں بن ارطغرل غازی اپنے جھنڈے پر ‘‘چاند تارہ‘‘ کا نشان رکھا تھا۔ اسے سلطان اُرخاں بن عثمان خاں کے دورِ حکومت میں اُس کے بھائی اور وزیر اعظم علاء الدین بن عثمان خاں نے ’سرکاری جھنڈا‘‘ بنایا اور اُس پر ’’چاند تارہ‘‘ کا نشان رکھا۔ اِس جھنڈے کو ’’سرکاری جھنڈے‘‘ کے طور پر تمام عثمانی حکمرانوں نے قائم رکھا۔
علاء الدین بن عثمان خاں کے فوجی انتظامات
’’سلطنتِ عثمانیہ ترکیہ‘‘ کے پہلے ’’وزیراعظم‘‘ علاء الدین بن عثمان خاں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی وجہ سے ’’سلطنتِ عثمانیہ ترکیہ‘‘ کی طاقت بہت زیادہ بڑھ گئی اور وہ کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے زبردست فوجی انتظامات کئے۔ ارطغرل بن سلیمان کے دور میں یہ قاعدہ تھا کہ جنگ پر جانے سے پہلے اعلان کردیا جاتا تھا کہ جو شخص جہاد پر جانا چاہتا ہو وہ فلاں روز فلاں مقام پر حاضر ہوجائے۔اِس اعلان کے مطابق مجاہدین مقررہ وقت پر تیار ہو کر مقررہ جگہ پر جمع ہوجاتے تھے اور جنگ ختم ہونے پر واپس چلے جاتے تھے۔ انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ جنگ میں جو مال غنیمت حاصل ہوتا تھا اُس کی تقسیم مجاہدین میں کردی جاتی تھی اور مجاہدین کی کوئی مخصوص وردی نہیں تھی۔ عثمان خاں بن ارطغرل کے دورِ حکومت میں بھی یہی نظام چلتا رہا لیکن جب علاء الدین بن عثمان خاں ’’وزیر اعظم‘‘ بنا تو اُس نے زبردست فوجی انتظامات کئے۔ سب سے پہلے اُس نے فوجیوں کی وردیاں بنوائیں اور اُن کی تنخواہیں مقرر کیں۔ اُس نے فوج کے پیدل دستے بنائے اور سوار دستے بھی بنائے۔ اِس کے ساتھ ساتھ علاء الدین بن عثمان خاں نے فوجیوں کو جاگیریں بھی دینی شروع کیں اور جس کو جاگیر دیتا تھا تو وہاں پر سڑکوں کی تعمیر ، پانی کی سپلائی اور زراعت کی ذمہ داریاں بھی اُنہیں سونپتا تھا۔ پیدل فوج کے اُس نے دودستے بنائے جن میں سے پہلا پیدل دستہ دشمن کے پہلے حملے کی باڑھ روکتا تھا اور پھر پہلا پیدل دستہ پیچھے ہٹ جاتا تھا دوسراپیدل دستہ جو تازہ دم ہوتا تھا وہ اچانک سامنے آجاتا تھا۔ اِسی طرح اُس نے سواروں کے بھی دو دستے بنائے تھے اور یہ دونوں دستے پیدل دستوں کے دائیں بائیں چلتے تھے۔
’’نائیسیا‘‘ کی فتح
’’بروصہ‘‘ کو دارالحکومت بنانے کی وجہ سے اُرخاں بن عثمان خاں کو رومیوں سے جنگ کرنے میں بہت آسانی ہوگئی اور چند ہی مہینے بعد اُس نے ’’نائیکو میڈیا‘‘ کو فتح کرلیا جسے ’’ازمید یا ازمیت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔سلطان اُر خاں بن عثمان خاں نے ’’ازمید‘‘ میں ایک یونیورسٹی قائم کی اور داؤد قیصری کو اِس کا پرنسپل مقرر کیا جو عثمانی علماء میں بڑی شہرت رکھتے تھے اور انہوں نے ملک مصر میں علوم حاصل کئے تھے۔ ابھی تک ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا کوئی مستقل لشکر نہیں تھا لیکن اُس خاں کے دورِ حکومت میں وہ اور اُس کے بھائی نے ایک مستقل لشکر کی تشکیل کی۔ اِس کے بعد وہ رومیوں کے ایک اور بڑے شہر ’’نائیسیا‘‘ کی طرف بڑھا اور اُس کا محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ تقریباً دو سال تک چلا اور آخر کار رومی عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔شہر پر قبضہ کرنے کے بعدسلطان اُرخاں بن عثمان خاں نے سب کی جاں بخشی کردی اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ چاہیں تو اپنا مال واسباب لیکر رومیوں کے علاقے میں چلے جائیں۔ ایسا ہی اُس نے ’’بروصہ‘‘ کے شہریوں کے ساتھ کیا لیکن انہوں نے اسلام قبول کرنا پسند کیا تھا۔ اِسی طرح ’’نائیسیا‘‘ کے شہریوں نے بھی اسلام قبول کرنا پسند کیا اور اپنے وطن میں ہی مقیم رہے۔ باقی انشاء اﷲ ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کے چھٹے ورق میں۔
٭…٭…٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

شردھانند سے نرسنگھانند تک

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیںجو رکھ دیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے