مکھی کا گوشت کھا کر بمن کی ذات خراب

از قلم : مدثر احمد شیموگہ، کرناٹک،9986437327

ملک بھر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 16 فی صدکے قریب ہے اور اتنی بڑی تعداد کے باوجود مسلمان آج بھی اس ملک میں لاچار ، بے بس اور بے سہارا زندگی بسر کررہے ہیں ۔ ہم سب اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ ملک کی سیاست میں مسلمان ہمیشہ اہم رول ادا کرتے رہےہیں اور انہیں کے ووٹوں کی وجہ سے ہندوستان میں حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں ۔لیکن آزادی کے بعد سے آج تک ہم ہندوستانی مسلمانوں نے سیاست میں اپنی جو دعویداری پیش کی ہے اس میں قومی مفادات کو ترجیح دینے کے بجائے ذاتی مفادات کو پیش کیا ہے اور اسکے علاوہ اور کچھ مسلمانوں نے طلب کیاہے تو وہ ایسی چیزیں رہی ہیں جس سے امت مسلمہ کو فائدہ کم نقصان ذیادہ ہواہے ۔ پچھلے کئی عشروں سے ہندوستان میں ہندو برادری اس بات پر مسلسل تنقید کرتی آئی ہے کہ حکومتیں مسلمانوں کے لئے حج سبسیڈی فراہم کرتی ہے اور وہ مسلمانوں کو ہندوﺅں سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں ۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ حج سبسیڈی کی ویسے بھی مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو مسلمان صاحب استطاعت ہوتاہے وہی سفر حج کے لئے جاتاہے اور حج سبسیڈی سے مسلمانوں کو نہیں بلکہ خود حکومتوں کو فائدہ ہواہے کیونکہ سبسیڈی کی رقم حکومت کے ائرلائنس کو ہی جاتی ہے جبکہ دیگر ایرلائنس سے حج کے لئے ٹکٹوں کی خریدی کی جائے تو سرکاری ایرلائنس کے کرایوں سے کم قیمت پر ٹکٹ مل جاتے ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ حج کو جانے والے کچھ عازمین کی وجہ سے پورے مسلمان ہندوﺅں کے ٹارگیٹ پرتھے ۔ اسی طرح سے کرناٹک کے مسلمانوں نے حضرت ٹیپوسلطان شہید ؒ کی یوم پیدائش پر ٹیپوجینتی کاانعقاد کرنے کے لئے حکومتوں پر دباﺅ ڈالا تھا اس دباﺅ کے نتیجے میں کرناٹک کی کانگریس حکومت نے کرناٹک میں ٹیپوجینتی کا انعقاد کرنا شروع کیاتھا اور اس جینتی کی ریاست بھر میں شدید مخالفت ہونے لگی ہے ۔ ویسے دیکھا جائے تو ٹیپو جینتی کو ہم مسلمانوں نے ماضی میں شاید ہی کبھی اجتماعی طورپر منعقد کیا ہے ۔ خود ریاست میں ٹیپوسلطان شہید ؒ کے نام پر قائم ہونے والی تنظیموں یا اداروں نے ٹیپوسلطان کی جینتی منانے کے لئے کبھی پہل نہیں کی ہے۔ ایسے میں سرکاری اخراجات پر ٹیپوجینتی کا انعقاد کرنا اور اسکی مخالفت میں ہندوتنظیموں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے مدعے مل گئے ہیں اور ان مدعوں پر کانگریس ۔بی جے پی جم کر سیاست کررہے ہیں جس کا خمیازہ نہ صرف مسلمانوں کو اٹھانا پڑرہاہے بلکہ حضرت ٹیپوسلطان شہید ؒ کی شان میں بار بار گستاخیاں ہورہی ہیں ، ایسا لگتاہے کہ مسلمانوں نے حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی سوانح حیات کو داغدار بنانے والوں کے لئے موقع دے دیاہے ۔ کچھ سال قبل اسمبلی انتخابات سے قبل ایک امیدوار مسلمانوں کے علاقے کو پہنچا جہاں پر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے تھے ، جب امیدوار نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں تو سارے لوگ کہنے لگے کہ ہمارے محلّے میں جھنڈے کا مکان جسے عام طورپر جھنڈے کاکٹہ کہا جاتاہے وہ نہیں ہے اگر آپ جیت کر آئیں تو یہ بناکر دیں ۔ اس پر امیدوار نے کہا کہ یہ تو ابھی کروادوںگا ، امیدوار نے آن کی آن میں دس بارہ ہزار روپئے خرچ کئے اور جھنڈے کا کٹہ بنواکردیا ۔ پھر کیا تھا سارے محلے کے ووٹ امیدوار کے حق میں چلے گئے ۔ اسکے علاوہ سیاستدانوں سے ہمارے مطالبات یہ ہوتے ہیں کہ انتخابات میں جیت کر آئیں تو قبرستان کی دیوار بناکر دیں ، مسجدوں میں بیت الخلاءبناکر دیں ۔ کچھ لوگ شادی بیاہ کے موقع پر اراکین اسمبلی و اراکین پارلیمان سے مدد طلب کرتے ہیں جس پر انہیں دو ، تین ہزار روپئے کی مدد دی جاتی ہے۔ سارے کا سارا محلّہ عیدمیلاد پر سجاوٹ کے لئے سیاستدانوں سے مدد مانگتاہے ، سیاستدانوں کے پاس افطار ، گیارہویں ، بارہویں اور نہ جانے مذہبی اجلاس کے لئے بھی چندے مانگتے ہیں ۔ ان سب سے ہٹ کر اگر خود چھوٹے سیاستدانوں کا جائزہ لیں تو انکے مطالبات بھی عجیب قسم کے ہوتے ہیں ، فلاں کو وقف بورڈ کا صدر نہ بنایا جائے ، فلاں کو بلاک کا صدر نہ بنایا جائے ۔ فلاں کو فلاں عہدہ دیا جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ اپنے لئے عہدے طلب کرتے ہیں جس کو فراہم کرنا سیاستدانوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ آج مسلمانوں کو جھنڈے کا کٹہ ، حج سبسیڈی ، ٹیپو جینتی ، افطار و گیا رہویں کے لئے چندوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کالجس ، یونیورسٹیاں ، روزگار میں ریزرویشن ، بہتر صحت کی سہولیات ، روزگار کے لئے غیر سودی قرض ، قرض کی ادائیگی میں شرائط میں تخفیف کی ضرورت ہے ۔ حکومتیں جو رقم حج سبسیڈی کے لئے جاری کرتی ہیں اسی رقم کو اگر پبلک سرویس امتحانات کی تیاری کرنے کے لئے مسلم طلباءکو فراہم کرتی ہے تو مسلمانوں میں بے روزگاری کا خدشہ کم ہوگا۔ ٹیپوجینتی کے بجائے ٹیپو یونیورسٹی کا قیام کیا جائے تو اس سے لاکھوں طلباءاستفادہ کرسکتے ہیں اور جو رقم ٹیپوجینتی کے انعقادکے لئے دی جاتی ہے اسی رقم کو قابل و باصلاحیت طلباءکو ایوارڈ یا اسکالر شپ کی صورت میں دی جائے تو اس سے طلباءکا بھلا ہوگا۔ مسلمانوں میں قابل و باصلاحیت نوجوانوں کی بھی کمی نہیں ہے اسی رقم کو ان نوجوانوں کی ترقی کے لئے خرچ کی جائے تو مسلمان لاچارگی کے دائرے سے باہر نکل سکتے ہیں ۔ اصل میں مسلمانوں کو نئی فکر اور نئی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔ مسجد کے بیت الخلاءتو ویسے بھی بن جائینگے ۔ قبرستان کی چار دیواری مسلمانوں کے چندوں سے بن جائینگے لیکن مسلمانوں کو جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے ان چیزوں کا مطالبہ کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ کہاوت ہے کہ مکھی کا گوشت کھا کر بمن کی ذات خراب۔۔۔ اسی طرح سے مسلمانوں کی بھی یہ حالات ہیں کہ وہ اجتماعی سہولیات کا مطالبہ کرنے کے بجائے انفرادی مطالبات کرتے ہیں جسکی وجہ سے سب یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بہت بڑا فائدہ مسلمانوں کو ہورہاہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے