پرائیوسی کا خوف: عجب شور مچا ہے گھر گھر …..!

تحریر:عین الحق امینی قاسمی

ایک جگہ لکھا دیکھا کہ”خوف” واٹشپ کا نہیں ،پرائیویسی متآثر ہونے کا ہے ،کاش! قیامت کے دن عیاں ہو جانے والی پرائیویسی کا خوف بھی ہم میں پیدا ہوجائے ۔
بات توکام کی ہے ،مگر مشکل یہ ہے کہ ہر کام کی بات قابل عمل نہیں سمجھیں جاتی ،لوگ اسے ہلکے میں لے کر آگے بڑھ جانے کے عادی ہوچکے ہیں ،جب ان سے کہا جاتا تھا کہ تمہاری ایک ایک نقل وحرکت کی اس اللہ کو خبر ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ،اس کے فرشتے تمہاری دن رات کی کہانی محفوظ کررہے ہیں، تب کہنے والے پر ہنسی آتی تھی کہ کس دنیا کی باتیں کررہا ہے ،کبھی قدامت پسندی تو کبھی بے ربطی پر محمول کرکے ساری کہی سنی کو ان کہی بنادی جاتی تھی ،لیکن دنیا نے جب اسلام کی طرف سے بہت پہلے کہی ہوئی باتوں پر غور کیا اور ہر دن کے حساب سے پر مارنا شروع کیا ،نت نئے انکشافات سامنے لائے اور نئی نئی ایجادات سے دنیا کو روشناس کرایا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ،زمانہ نے جب ایک معمولی سی میموری کارڈ میں دنیاں جہان کی ایران تران محفوظ کرکے پیش کیا اور قرآن واحادیث میں منقول آیات وروایات کی سچائیوں کو سامنے کردیا تب شاید بھیجے میں بات آئی کہ جب مخلوق خدا میں اتنی مہارت وصلاحیت ہے کہ وہ انہونی کو ہونی بناکر” سائنس داں اور جانکار "کہلانے کا خطاب حاصل کر دنیا کے بہت سے دلوں پر "صاحب فکر وفہم ” کا عارضی دھونس جما رہا ہے ،اندازہ لگائیے !کہ اس کے خدا کی صلاحیت و قابلیت کے تصور سے "فتبارک اللہ احسن الخالقین "کا اعتراف اور اس کے سامنے عاجزی وبے بسی کا اظہار کئے بغیر کوئی چارہ ہے کیا ؟
ابھی واٹشپ کے "داتا ” نے ڈیٹا شئیر کرنے کے تعلق سےایسا کیا کچھ کہہ دیا کہ "عجب شور مچا ہے گھر گھر ” کی کہانی دہرائی جارہی ہے ،ہر شخص ڈیٹا اور پرائیویسی متآثر ہونے کی بات کہہ رہا ہے ،کوئی واٹشپ چھوڑ ٹیلیگرام سے جڑنے کی صلاح دے رہا ہے تو کوئی bipجوئن کرنے کی خوبی خرابی سمجھا رہا ہے،مگرکیا رکھنا ہے اور کیا چھوڑنا ،یہ سب تو ہر کسی کی اپنی پسند ناپسند پر منحصر ہے اور یہ بھی کہ کس کا ڈیٹا کیا ہے ،کس کے لئے اس کا تحفظ ضروری ہے اور کس کے لئے اہم نہیں ہے اور یہ بھی کہ انٹر نیٹ استعمال کرنے کے بعد یہ خیال کرنا کہ ہمارا ڈیٹا محفوظ ہےیا اسی طرح واٹشپ کے علاؤہ سگنل ،ٹیگرام یا بپ پر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہ جائے گا ،اس کی کیا گارنٹی ہے ۔لوگ کہہ دیتے ہیں کہ مذکورہ ایپ کے ذمہ داروں کے بیچ پرائیویسی محفوظ رکھنے کا معاہدہ ہے وہ بلااجازت آگے شئیر نہیں کرسکتا ۔آج کی خام خیال دنیا میں بزبان غالب بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ "دل کو بہلانے کا غالب! یہ خیال بہت اچھا ہے "ورنہ آئے دن کی ہیرا پھیری اورنت نئے انداز میں چوری چماری،کسی سے کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے ،کل جو کام "مداری ” اپنے جادوئی کرتب سے کرتا تھا ،آج وہ سب کچھ ،بلکہ اس سے بھی عجوبہ انٹر نیٹ کی دنیا میں خوب ہورہا ہے ،اس کے بعد بھی ہنگامہ آرائی کہ "اس کو پکڑو اس کو چھوڑو !یایہاں چلووہاں چلو” محض دل بہلانے والی باتیں ہیں ،سمجھنا ہوگا کہ ان ایپس کے ایجاد کے بعد جب اس میں ترقی اور دائرہ کار میں وسعت کی بات آئے گی تو یہ سب ہرجگہ ہوگا جو آج واٹشپ کے بارے میں چل رہا ہے ،البتہ احتیاط کا تقاضہ ضرور ہے کہ جہاں لگے کہ ہمارا ڈیٹا محفوظ رہ پائے گا تو وہاں سے جڑ کر نئی دنیا سے استفادہ ،سب کی اپنی اپنی ضرورت اور مرضی پہ موقوف ہے ۔
لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی اہم ہے ، جس کا تعلق دین اور دینداری سے ہےپرائویسی اور بشکل ڈیٹا اعمال کی پیشی سے ہے ،اس لئے درست ہی کہا گیا ہے کہ "واٹشپ کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہئے ،بلکہ جو ڈیٹا کراما کاتبین جمع کررہے ہیں ،اس کی فکر کرنا چاہئے”۔ بالفرض اگر اس چند روزہ دنیا میں ہمارا ڈیٹا چند کروڑ انسانوں میں مشترک کر پربھی دیا جاتا ہے تو کیا مشکل ؟اصل معاملہ تو وہاں کا ہے جہاں دنیا کے اولین و آخرین جمع ہوں گے ، ان تمام کے بیچ ،کراما کاتبین کے ذریعہ جمع کیا ہوا ڈیٹا اوپن کردیا جائے گا ،اس میں وہ ڈیٹا بھی ہوں گے جسے ہم نے ظلمت شب کی تنہائیوں میں انجام دیا ہوگا ،تمام نفسوں سے الگ تھلگ ذاتی کردار کو پوشیدہ رکھنے کی تا عمر کوشش کی ہوگی ، عالم محشر میں وہ سارا ڈیٹا ان سب کے سامنے آؤٹ کردیا جائے ،جہاں خرد وکلاں اؤلین وآخرین جمع ہوں گے ،بلکہ بہت سے بد نصیب تو ایسے بھی ہوں گے جن کے منھ پر مہر لگادی جائے گی ،ان کے ہاتھ پاؤں ،ران ،گوشت اور ہڈی تک ان کے خلاف سارے پوشیدہ ڈیٹا کو احکم الحاکمین کے ساتھ شئیر کریں گے ،اس وقت احساس ہوگا کہ ہم واٹشپ اور دیگر اسباب لہب ولعب میں مشغول رہے "کاش ! ہمیں قیامت کے دن عیاں ہونے والی پرائیویسی کی بھی کچھ فکر ہوتی "۔بہت ہی بھلی بات مرزا ماہر بیگ ماہر نے موبائل فون کے تعلق سے کہی ہے :
​موبائل کے طلسم سے دوچار ہو گئے
اس کی جفائوں کے بھی پرستار ہو گئے
سمجھے تھے دس ہزار میں عزت خرید لی
مقروض ہو کے اور بھی ہم خوار ہو گئے
میسج سے اپنا کام چلانے لگے ہیں ہم
محسوس ہو رہا ہے کہ ہشیار ہو گئے
روزانہ ’ایزی لوڈ‘ کا اتنا پڑا ہے لوڈ
عابدؔ بھری جوانی میں ’خم دار‘ ہو گئے!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

One comment

  1. جاوید احمد بھٹ

    God bless you

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے