حضور حافظ ملت اور جذبہ اصلاح

از: محمد روشن رضا مصباحی ازہری
استاذ و مفتی مدرسہ اصلاح المسلمین، رائے پور

بسم اللہ والحمد اللہ والصلاۃ والسلام علیٰ سیدنا رسول اللہ، وعلیٰ آلہٖ و اصحابہ و من والاہٗ۔ وبعد۔
اللہ رب العزت نےاس کائنات ارضی میں یوں تو لاکھوں کروڑوں افراد کو پید اکیا مگر اس زمین پر کچھ ایسے پاکیزہ نفوس بھی آئے جنہوںنے وقت کے رخ کو موڑ کر رکھ دیا اگر کسی بنجر زمین پر انہو ں نے قدم رکھا تو وہ پورا خطہ ارضی علم و عمل کی کھیتی سے سر سبز و شادادب ہوگیا، اور اگر لوگوں کے اصلاح احوال و عقائد کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کےسینوں کو باطل نظریات و عقائد سے پاک کرکے نور محمدی کی شمع روشن کر دی۔
انہیں عظیم الشان ذوات میں ایک نام،استاذ العلما، عزیزالاولیا، ابو الفیض حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مبارک پوری قدس سرہ العزیزکا ہے۔
کسے خبر تھی کہ سرزمین مرادآبادکے ایک گم نام قصبہ بھوجپور میں پیدا ہونے والاایک بچہ تاریخی انقلاب برپا کردے گااور بر صغیر ہندو پاک کی دینی و علمی فضا اس کے نام کی نغمہ سنجی سے زعفران زار ہوتی رہے گی۔
مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی بندۂ خدا یقین محکم و عمل پیہم و جہد مسلسل کے ساتھ مذہب و ملت کی خدمت کا جذبۂ بیکراںلے کر مستقبل کے لئے منصوبہ سازی کرتا ہے اور اپنےبنائے ہوئے خاکوں میں رنگ بھرتا ہے تو اس کی یہ رنگ آمیزی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ اس کا جذبۂ اخلاص اس کی قوت اردای کو مہمیز کرتا ہے اور اس کے منصوبوں کی تکمیل میں تائید غیبی و نصرت الٰہی شامل حال ہو تی ہے اور پھر وہ کامیابی و کامرانی کے ان تمام تر منازل کو طے کر لیتا ہے جس کا وہ متمنی ہوتا ہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر قوم مسلم کی دینی ضروتوں کی تکمیل و امت مسلمہ کے فرزندان کے مستقبل کو روشن و تابناک کرنے کے لئےایک چھوٹا سا ادارہ مدرسہ ’’مصباح العلوم‘‘ کی داغ بیل ڈالی پھر اسے آفاق کی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے شب و روز کوشاں رہے، اپنے راتوںکی نیندو جسمانی راحت کو تج کر آپ نے اس کے لئے کوشش کی اور اسے ایک عظیم یونیورسٹی کی شکل میں دیکھنے کا خواب دیکھا جو آج الحمد اللہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کا دیکھاخواب شرمندۂ تعبیر ہوااور مدرسہ مصباح العلوم اب الجامعۃ الاشرفیہ کی شکل میں علم و ادب و فکر و نظر و فقہ و تصوف کا ایسا بلند و بالا مینار بن گیا ہے کہ اس کے معین علم سے ہزاروں کی تعداد میں تشنگان علوم اپنی علمی تشنگی بجھا رہے ہیں اور پھر وہاں سے نکل کر یہ لعل و گوہر آفاق عالم میں منتشر ہو کر ترویج دین و اشاعت اسلام میں اپنی علمی تونائی صرف کر رہے ہیں۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ والرضوان کو اللہ نے عزم وحوصلہ اور اخلاص و للٰہیت کا ایسا جبل شامخ بنایا تھاکہ آپ نے دنیا کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانےمیں کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا بلکہ آپ نے ’’ہر مخالفت کا جواب کام ہے‘‘فرما کر رہتی دنیا تک کے تمام صاحبان عزم و ہمت کو ایک نئی جولان گاہ عطا کیاہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کو اللہ کو متعدد خصائص و ممیزات و گونا گوں کمالات کا جامع بنا کر پیدا کیا تھا جہاں آپ مسند درس وتدریس میں بیٹھ کر اپنی خدا داد بصیرت سے بخاری و مسلم و کتب فقہ و اصول فقہ و فلسفہ و منطق کے گنجلک و لاینحل مسائل کی عقدہ کشائی فرماتے تھے، وہیں پر مسند افتا میں جلوہ فرماکر اپنی فقہی مہارت و صلاحیت و باریک بینی سےمسائل شرعیہ کی گتھی سلجھاتے تھے،
جہاں آپ ایک خطیب بن کر لاکھوں کے مجمع میں قرآن و احادیث سے مزین اثر انگیز خطاب فرماتے تھے ،وہیں آپ ایک مناظر بن کر فرقہائے باطلہ و خصوصاً وہابیہ و دیابنہ کے باطل نظریات و فاسد عقائد کا دلائل صحیحہ و براہین قطعیہ سے علمی رد بھی فرماتےتھے۔ اور آپ کے رد کا طریقہ ایسا بلیغ تھا کہ بلکل ’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ‘‘کے معیار پر تقریر و تردید فرمایا کرتے تاکہ احقاق حق اور ابطال باطل واضح طور پر لوگوں کے سامنے آشکارا ہوجائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ حق کے قریب ہوسکیں۔
آپ کی تردیدی تقریر کے اندر یہ بات نمایاں طور پر نظر آتی ہے کہ آپ مخالفین کی ذات پر انگشت نمائی و چھینٹا کشی کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ کا انداز لطیف یہ تھاکہ آپ قرآن و سنت و اقوال صحابہ وا ٓثار اسلاف کی روشنی میں اپنے موقف کو ثابت فرماتے اور دلائل و براہین کی بنیاد پر سامعین و حاضرین کے ذہن میں مسئلہ حق راسخ ہوجاتا اور لوگ دل و نظر سے اسے تسلیم کر لیتے۔
ایک مر تبہ مبارک پور کے بازو میں واقع ایک گاؤں( منڈیا پوسٹ کنہرا، ضلع اعظم گڑھ) میں کچھ بہرو پیئے آکر لوگوں کو سلام وقیام کے موضوع پر من گھڑت باتیں سنا کر ورغلا رہے تھے اور ان کےذھن میں یہ بات بٹھا رہے تھے کہ سلام و قیام جائز نہیں یہ بدعت ہے، آپ لوگ ایسے کام سے اجتناب کریں وغیرہ وغیرہ۔ تو وہیں پر ایک بزرگ عالم دین حضرت مولوی فاروق صاحب جودیولی(مبارک پور کے پاس ایک گاؤں)کے رہنے والے تھے مولوی صاحب نے ان باطل افکار و نظریات والوں سے مناظرہ کرنے کے لئے طے کر لیا اور حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کو اطلاع دے دی ، اس وقت جامعہ میں ششماہی امتحان کا دور چل رہا تھا، بعد امتحان آپ نے ایک جماعت کے طلبہ کو جن میں سر فہرست حضرت علامہ عبد الستار صاحب پولیاوی،حضرت علامہ نصیرالدین صاحب عزیزی ، و علامہ عبد الرحمن صاحب پورنوی کی مقدس جماعت تھی، آپ نے انہیں فرمایا:آپ لوگ جائیں اگر مناظرہ کے لئے وہ تیار نہ ہو تو آپ لوگ تقریر کے ذریعہ ان کا رد کرنا اور تردیدی تقریر کا موثر طریقہ یہ ہے کہ اپنے موقف کو قرآن و حدیث و اقوال ائمہ سے ثابت کر دیا جائے، مگر یہ بھی ملحوظ رہے کہ مجمع میں بھی کچھ لوگ ہی پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ کم جانکار ہوتے ہیں اور کچھ تو بالکل ناخواندہ ہوتے ہیں، لہٰذا تقریر ایسی ہونی چاہئے کہ سب لوگ اپنے اپنے معیار کے مطابق کچھ نہ کچھ دین کی باتیں لے کر جائیں۔
اس کے بعد آپ ان تلامذہ کو دعاؤں کے سایہ میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی، حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی یہ روحانی اولادیں جامعہ کے احاطہ سے شان و شوکت کے ساتھ نکلیں جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ مولاناشہباز( جامعۃ الفلاح بلریا گنج )کے شیخ الحدیث و مولاناصغیر موجود تھے، اور تقریر چل رہی تھی اور وہ لوگ یہ ثابت کر رہے تھے کہ سلام وقیام بدعت ہے، جہاں بھی سلام و قیام کیا جائے وہاں سے چالیس قدم دور رہنا وغیرہ وغیرہ۔
اتنے میں حافظ ملت علیہ الرحمہ کی یہ فوج اسٹیج تک پہنچی اب مائک مولوی فاروق صاحب کے ہاتھ میں آیا،آپ نے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے ان شاہین صفت تلامذہ کی تقریر شروع کرائی یکے بعد دیگر ان کی تقریر قرآن و سنت و اقوال ائمہ کی روشنی میں اور اپنے مرشد و استاذ و مربی کی نصیحت کے دائرہ میں ہوتی رہی، اس کا اثر اتنا ہوا کہ سلام و قیام کے وقت پورا مجمع باادب سلام پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا جب کہ مجمع میں کثیر تعداد انہیں لوگوں کی تھی جو سلام و قیام کو بدعت و خلاف شرع گردانتے تھے ، اتنے میں مولوی شہباز چپکے سے اسٹیج سے اترنے لگے تو مولوی فاروق صاحب علیہ الرحمہ نے ان کا بازو پکڑ کر فاتحانہ انداز میں کہا یا تو سلام پڑھیئے یا پھر ان تقریروں کا جواب دیجئے۔ مولوی شہباز نے بادل نخواستہ یہ کہہ کر کہ سلام و قیام فرض نہیں ہے ہاں اچھا اوربہتر طریقہ ہے، شریک سلام و قیام ہوگئے۔ (معارف حافظ ملت ص:۷۸)
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نہ صرف مناظر تھے بلکہ آپ مناظر گر تھے آپ نے جماعت اہل سنت کو اپنے تلامذہ کی شکل میں ایسے ایسے لعل و گوہر عطا کئے ہیں کہ وہ جس میدان میں گئے بارگاہ ابو الفیض کا فیض اس قدر جھوم کر برسا کہ ہر میدان کے یہ شہسوار ہوتے چلے گئے، آپ جس سمت نظر اٹھائیں جس شعبہ میں نظر ڈالیے، ہر مجالس میں مصباحی شیروں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے ان وہابیہ و دیابنہ کے باطل نظریات چاہے علم غیب کا مسئلہ ہو یا خاتم النبین کا ہر مسائل کا دندان شکن جواب دے کر جا بجا ان کو مبہوت و لاجواب کیا ہے۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ خود فرماتے ہیں کہ میں اجمیر شریف کے اندر دار الخیر میں قیام پذیر تھا کہ اتنے میں وہاں کے ایک رئیس صاحب کے پاس ایک مولوی نما انسان پہنچا اور اپنی خباثت فکری کو ظاہر کرتے ہوئے انہیں سمجھانے لگا کہ حضور علیہ ا لسلام کو علم غیب نہیں تھا، حضور کو اپنی پیٹھ کے پیچھے کا علم نہیں تھا، اس طرح کی باتوں سے وہ رئیس صاحب کوورغلانے لگا تو وہ رئیس صاحب نے ایک شخص کو میرے پاس بھیجا تاکہ اصل مسئلہ کی وضاحت ہوجائے جب گفتگو شروع ہوئی تو میں نے اپنے موقف ’’ کہ حضورعلیہ السلام کو علم غیب تھا ‘‘ پر قرآن مقدس کے چوتھے پارےکی آیت پڑھی ’’وَ مَا کَانَ اﷲُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَٰلکِنَّ اﷲَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآء‘‘۔ (آل عمران ،آیت نمبر۱۷۹) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ ائے عام لوگوں! تمہیں غیب کا علم دےدے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔اس کے جواب میں اس وہابی مولوی نے نویں پارے کی آیت پڑھی۔ ’’وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لااَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْر‘‘۔ (الاعراف، آیت۱۸۸) اور اگر میں علم غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی۔ اس نے کہا کہ اس آیت سے تو علم غیب کی نفی ہورہی ہے، اگر چوتھے پارے کی آیت میں علم غیب کا ثبوت ہے تو نویں پارے میں اس کی نفی کی گئی ہے، پھر آگے بڑھتے ہوئے اس نے کہا چوتھے پارے کی آیت اس آیت نفی سے منسوخ ہوگئی ہے۔ لہٰذا علم غیب حضور علیہ السلام کا ثابت نہیں۔ اس کی یہ جہالت بھری گفتگو سننے کے بعد میں نے یہ کہنا مناسب نہ سمجھاکہ نسخ اخبار کا ہوتا ہے یا احکام کا ؟ میں نے فوراً قرآن کے تیسویں پارے کی آیت پڑھی ’’ وَ مَا ہُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ‘‘۔ (التکویر، آیت ۲۴)
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ۔ اور کہا اس پارے کی اس آیت سے بھی علم غیب مصطفیٰ ثابت ہوہا ہے اور اس پارے کے بعد تو کوئی پارہ ہی نہیں ہے جس سے اس کے نسخ کا دعویٰ کیا جائے، اس طرح وہ منکر علم غیب رسول خاموش ہو گیا۔
اور آپ نے فقط مجلس میں بیٹھ کر ان کے باطل اعتراضات کا جواب نہیں دیا ہے بلکہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے علم غیب مصطفیٰ کے متعلق دیوبندی وہابی مولیوں کے باطل اعتراضات کا قرآن و سنت و اقوال ائمہ سے شافی جواب دیا ہےاور علم غیب مصطفیٰ کے متعلق ایک علمی و تحقیقی رسالہ بنام ’’ انباءالغیب‘‘مرتب فرمایا جس میں ان کے عقائد باطلہ کے تار و پود کو اکھاڑ کررکھ دیا۔
اس رسالہ کے اندر آپ نے علم غیب مصطفیٰ پر مخالفین کی طرف سے کئے جانے والے اعتراضات کا نہ صرف جواب دیا ہے بلکہ آپ نے اپنے موقف کو اس سلیقہ سے ثابت فرمایا ہے کہ مخالفین کے لئے دم زدن کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
اور آپ نے نہ یہ کہ فقط علم غیب کو ثابت فرمایاہے بلکہ دیوبند کے مذہب و عقیدہ کے متعلق ۳۰ سوالات مع جوابات ان ہی کی کتب معتبرہ کے حوالہ سے مرتب فرمایا اور ’’المصباح الجدید‘‘ معروف بہ عقائد علمائے دیوبند‘‘ کے نام سے اس کو شائع بھی فرمایا ۔ اس رسالہ کو اتنی مقبولیت ہوئی کہ بر صغیر ہند و پاک سے اب تک پچاسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ، اس کتاب کے وجود میں آتے ہی دیوبندی، وہابی مکاتب فکر کے لوگوں میں تو کھلبلی مچ گئی اور ان کے پول کھلنے لگے، ان کے چہرے پر پڑے پردے منکشف ہونے لگے، جب انہوں نے دیکھاکہ اب توجو بھولے بھالے مسلمان ان کے دام فریب میں آچکے تھے ہاتھ سے نکل رہے ہیں تو ان لوگوں نے حضرت کارسالہ ’’مصباح الجدید‘‘ کے رد میں’’ المقامع الحدید‘‘ لکھی۔
کیونکہ اس مرد قلندر نے ان وہابیہ کے وہ تمام عقائد باطلہ کو انہیں کی کتابوں کے حوالہ سے اس انداز میں یکجا فرمایا ہے کہ پہلے ان کے عقائد کے ایک ایک مسئلہ کو بطورسوال ذکر کیا ہے پھر انہیں کی کتب معتبرہ کے حوالہ سے جواب ذکر فرمایا ہے اور ایسا حوالہ کہ آج تک کسی وہابی کے اندر یہ جرأت نہ ہوسکی کہ ایک حوالہ غلط ثابت کر سکے۔
ان وہابیوں کے کچھ خبیث و باطل عقائد’’عقائدعلمائے دیوبند‘‘ کی رو شنی میں زیب قرطاس کرتے ہیں، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں،عقائد علمائے دیوبند کے صفحہ ۲۲ پر مذکور ہے ،
سوال: کیا علمائے دیوبند کے نزدیک خدا کے سوااور بھی کوئی مربی خلائق ہے؟ اگر ان کے عقیدے میں خدا کے سوا کوئی اور بھی مربی خلائق ہے تو وہ کون ہے؟
جواب: علمائے دیوبند کے نزدیک مولوی رشید احمد گنگوہی مربی خلائق ہیںجیسا کہ مولوی محمود حسن صاحب صدر مدرس مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں، ’’خدا ان کا مربی وہ مربی تھے خلائق کے؛ میرے مولیٰ میرے ہادی تھے بےشک شیخ ربانی ۔(حوالہ رشید احمد صاحب، مصنفہ مولوی محمود حسن کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ص۱۲)
اس کے بعد اس مرد درویش و پروردہ صدر الشریعہ نے اپنے قلم کو کلک رضا بنا کران کے باطل نظریات کی بیخ کنی کرتے ہوئےاور ان کے ایک گھٹیا عقائد سے پردہ اٹھاتے ہوئے رقم طراز ہیں،کیونکہ ان وہابیہ کے اکابرین علم نبی کریم ﷺ کو جانوروں اور پاگلوں سے تشبیہ دے کر ایسی قبیح و شنیع حرکت کی ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل سلیم و فکر مستقیم ان کے گندے افکار سے متفق نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ آپ عقائد علمائے دیوبند کے صفحہ ۵۰ پر لکھتے ہیں ۔
سوال: نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العزت نے بعض علم غیب عطا فرمایا تو کیا ایسا علم غیب علمائے دیوبند کے نزدیک بچوں،پاگلوں، جانوروں کو بھی حاصل ہے؟ کیا علمائے دیوبند میں سے کسی نے ایسا لکھا ہے؟
جواب: علمائے دیوبند کے نزدیک ایسا علم غیب تو ہر زید و عمر بلکہ ہر بچے اور ہر پاگل اور تمام حیوانوں کو بھی حاصل ہے، دیوبندیوں کے پیشوا مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھا ہے’’ پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔ (حفظ الایمان:ص۸)
معاذ اللہ صد بار معاذ اللہ اتنی بڑی سخت توہین رسالت کے ارتکاب کے باوجود بھی وہ خود کو کلمہ گو کہتے ہیں اور ان کے حاشیہ نشیں انہیں حکیم الامت کہتے ہیں۔
ایک دعوت فکر ہے ہر صاحبان عقل کے لئے کہ ذرا سوچیں جو انسان اشرف البشر ،افضل الانبیا، حبیب کبریا، کی شان میں جن نازیبا کلمات کا استعمال کیاہےاگر اسی کے لئے ان کلمات کو بولا جائے تو اس کے طرف دار، حمایتی جامہ سے باہر آجاتے ہیں ، اگر کہہ دیا جائے اشرف علی تھانوی کا علم توکل علم ہونے سے رہا اور اس کے پاس بعض علم ہے تو اس میں اس کی کیا تخصیص ایسا علم تو جانوروں پاگلوں اور بچوں کو بھی حاصل ہے، اب جن الفاظ کا استعمال یہ اپنے اشرف علی کے لئے غیر مناسب و نازیبا تصور کرتے ہیں تو وہ ان کلمات کا استعمال بھلا اشرف الرسل، سید البشر کے لئے کب روا ہوںگے ۔یہ ہیں ان کے باطل نظریات جن کی تردیدحضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تا دم حیات تحریری و تقریری طریقہ سے فرمایا۔
’’المصباح الجدید ‘‘’’المعروف بہ عقائد علمائے دیوبند‘‘ کے جواب میں جب المقامع الحدید لکھی گئی جس میں انہوں نے دیوبندیوں کے عقائد باطلہ اور دیوبندی دھرم کی ننگی تصویر پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی تو حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ آپ نے ان کی جہالت بھری کتاب کا علمی جواب ’’ العذاب الشدید لصاحب المقامع الحدید ‘‘کے نام سے لکھاجس میں ابتداً دیوبندیوں کی تاریخ پر مختصراً روشنی بھی ڈالی گئی ہے اور پھر امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات پر لگائے گئے فرضی الزامات کا جواب بھی دیا گیاہے۔
اس طرح سے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے فرقہائے باطلہ کے دام تزویر سے اپنی جماعت کے سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی، اور اپنی بافیض درسگاہ سے ایسےایسے علم کے ماہ نجوم قوم کو عطا کیا کہ ساری دنیا بیک زبان کہہ اٹھی کہ ۔
جس نے پیدا کئے کتنے لعل و گوہر
حافظ دین و ملت پہ لاکھوں سلام
الغرض! حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اس عہد ساز شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنے اخلاق و کردار و عمل سے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ معاصرین میں ان کا کوئی ہمسر نظر نہیں آتا۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ صرف مناظر ہی نہیں بلکہ مناظر ساز بھی تھے آپ کے معین علم سے علمی تشنگی بجھانے والے تشنگان علوم و فنون جب سیراب ہوکر میدان عمل میں آتے ہیں تو کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے جس کو آپ کے فرزندوں نے تشنہ چھوڑا ہو ،خطیب و مقرر و مدرس و مناظر بن کر ہر مجال فن میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اور آج تک یہ سلسلہ ختم نہ ہوا بلکہ آپ کے در ولایت سے خوشہ چینی کرنے والے طلبہ جب اس بافیض بارگاہ سے نکلتے ہیں تو یہ بھی ان ہی کے نقش قدم پر چل کر مخالفین و معاندین کے باطل افکار و نظریات کا علمی رد کرتے ہیں اور الحمد اللہ لوگوں کے سامنے حق اور باطل واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔
آج ایک عرصہ بیت گیا مگر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ ابھی بھی اپنی بے لوث خدمات کے سبب لوگوںکے دلوںمیں زندہ ہیں اور آپ کی پاکیزہ تعلیمات رہتی دنیا تک ہر متلاشی حق کے لئے رہنما اصول کے طور پر رہنمائی کرتی رہے گی۔
رب قدیر اس محسن اہل سنت کے مرقد انور پر رحمتوں کی بھرن برسائے اور ہم سب کو آپ کی تعلیمات کے مطابق عملی زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
خدا کی رحمتیں ہوں ائے امیر کارواں تجھ پر
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری۔
اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ و أرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
اللہم علمنا ما ینفعنا و انفعنا بماعلمتنا یا رب العالمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حیات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

از قلم: محمد انس قادری رضویمجلس اصحابِ قلم گورکھپور آپ‌ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے