مرکزی دارالقرأت میں علامہ مصباحی صاحب قبلہ کا ورود مسعود

29: دسمبر 2020 کو صدر العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ الاقدس :ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارکپورکا ورود مسعود "مرکزی دار القرأت”(جمشید پور)میں ہوا۔
05:جنوری 2021 کو واپسی ہوئی۔

یہ ادارہ حضرت ہی کی سر پرستی میں چلتا ہے,اس لئے ہر سال دو تین بار چند دنوں کے لئے تشریف لاتے ہیں اور تعلیمی حالات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ادارہ ہی میں قیام رہتا ہے۔

اس بار متعدد نشستوں میں مجھے بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا۔استاذ موصوف کی چند کار آمد باتیں نقل کر دیتا ہوں,تاکہ محفوظ ہو جائیں۔

بی۔جے۔پی۔ حکومت اور احتجاج: بی جے پی حکومت ایسے ایسے قوانین پاس کر رہی ہے کہ کبھی مسلمان سڑک پر اترتے ہیں اور کبھی کسان سڑک پر نظر آتے ہیں۔کبھی دلت لوگ مظاہرے کرتے ہیں تو کبھی دیگر لوگ۔

بانی ادارہ الحاج مختار صفی عرف مسٹر بھائی نے سوال کیا کہ این آرسی وایم پی آر کے لئے احتجاج کیا جائے یا کوئی دوسرا طریقہ استعمال کیا جائے؟

حضرت نے ارشاد فرمایا کہ موجودہ حکومت احتجاج سے بھی نہیں سنتی ہے۔اس پر احتجاج کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔پہلے کی حکومتیں مظاہرین کی باتیں سنتی تھیں,اور ان کے مطالبات پر غور کرتی تھیں۔

فلاح ونجات نمبر کے مشمولات پر تبصرہ: 31:دسمبر 2020 کو ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے "فلاح ونجات نمبر”کے ڈیجیٹل ایڈیشن کا رسم اجرا عمل میں آیا۔29:دسمبر کو ہم نے فلاح و نجات نمبر کی فہرست مضامین حضرت کی خدمت میں پیش کی۔جب حضرت نے اسے ملاحظہ فرما لیا تو میں نے عرض کیا کہ اس مجموعہ میں ہم نے دینیات کو شامل نہیں کیا ہے,لیکن یہ تمام مضامین مسلمانوں کی فلاح وبہبود سے متعلق ہیں۔
حضرت نے ارشاد فرمایا کہ یہ بھی دینیات ہیں۔

اس ارشاد گرامی کا یہی مفہوم ہوا کہ جو مضامین مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی بھلائیوں سے متعلق ہوں,اور گرچہ وہ خالص دینیات نہ بھی ہوں تو بھی مومنین کی صلاح وفلاح سے متعلق ہونے کے سبب ایک حیثیت سے دینیات میں شمار ہوں گے۔

مدیر کیسا ہونا چاہئے؟ ایک مجلس میں حضرت نے فرمایا کہ مدیر کو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ ماہنامے کو اپنے مضامین سے مکمل کر سکے۔

آپ نے فرمایا کہ حضرت علامہ ارشدالقادی علیہ الرحمہ ماہنامہ نکالتے تھے تو انہوں نے اپنے ماہنامے میں کئی کالم بنالئے تھے۔تمام کالم وہ خود تحریر فرماتے۔اکا دکا مضمون کسی دوسرے کا ہوتا۔

حضرت مصباحی صاحب قبلہ ایک زمانے میں علامہ صاحب کے قائم کردہ مدرسہ فیض العلوم جمشید پور میں استاذ تھے۔

علامہ صاحب کے عہد میں قلم کاروں کی تعداد بھی بہت کم تھی۔مضامین کی فراہمی بہت مشکل تھی۔آج لکھنے والوں کی تعداد تو بڑھ گئی ہے,لیکن اکثر قلم کار اپنا دائرہ دینیات تک محدود رکھتے ہیں۔یہ بڑا المیہ ہے۔

ہر میدان میں سنی مسلمانوں کی فکر بہت محدود ہو چکی ہے۔مسجد بنانا بھی ثواب ہے اور غریب مسلمانوں کی مدد کرنا بھی ثواب۔مدارس میں تعاون کرنا بھی ثواب ہے اور غریب مسلم بچیوں کی شادی میں مدد کرنا بھی ثواب۔

لوگ مساجد ومدارس کی تعمیر وترقی میں حصہ لیتے ہیں,لیکن غریبوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔بدمذہب جماعتیں غریبوں کی مدد کرتی ہیں اور لوگ بدمذہبیت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

قلم کاران اپنی تحریروں میں مسلم مسائل کی طرف اس نیت سے توجہ فرمائیں کہ قارئین مذہب اہل سنت کی طرف مائل ہو سکیں۔اہل اسلام کے حق میں اچھے خیالات کا اظہار بھی انہیں قلم کار کے مذہب کی طرف مائل کرتا ہے۔

ایسا نہیں کہ ہماری بات کوئی نہیں سمجھتا ہے۔ہاں,بعض لوگ بالکل نہیں سمجھ پاتے۔

رپورٹ: طارق انور مصباحی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ملعون وسیم رضوی کے خلاف علماے چکلیہ بلاک کی جانب سے بڑے پیمانے پر ریلی نکالی گئی

اس مردود کی ہرزہ سرائی کے خلاف تھانے میں F.I.R درج علماے چکلیہ بلاک کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے