غزل: جان پر ہے وبال لفظوں کا

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسی مصباحی
نیویارک امریکہ

دل کے صفحوں میں جال لفظوں کا
جان پر ہے وبال لفظوں کا

کیسے محفوظ ہوں اصولِ حروف
بڑھ رہا ہے ضلال لفظوں کا

الجھے رہتے ہیں سب عبارت میں
ہے عجب یہ کمال لفظوں کا

حرف تو حرف کٹ گۓ نقطے
اللہ اللہ جلال لفظوں کا

اب قیامت زباں پہ آۓ گی
ہو رہا ہے قتال لفظوں کا

ہے کتابوں میں دیمکوں کا حصار
آگیا اب زوال لفظوں کا

بیچ راہوں میں صوت کے ہمراہ
لٹ گیا سارا کارواں لفظوں کا

تم تو شعروں میں کھو گۓ قدسی
اور ہم کو ملال لفظوں کا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے