سیرت حافظ ملت کے درخشاں پہلو

شاہ نواز عالم مصباحی ازہری، سربراہ اعلی جامعہ حنفیہ رضویہ مانکپور شریف کنڈہ پرتاپ گڑھ

عہد صحابہ سے لے کراب تک تاریخ اسلام کے ہرقرن اورہرعہدمیں ایسی شخصیتیں اُفق اسلام پرطلوع ہوتی رہی ہیں۔جن کی عبقریت کالوہادنیاوالوں نے مانا۔اوراُنہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کیاہے۔اس منتہائے کمال خصوصیت کاحاصل ہوناکچھ آسان کام نہیں کہ ہرکس وناکس کوحاصل ہوجائے،اس کے لئے آزمائش کی کسوٹی پرچڑھناپڑتاہے ۔اُٹھنے والے نت نئے فتنوں سے پوری دلیری کے ساتھ مقابلہ کرناپڑتاہے۔ طوفان حوادث سے گزرناپڑتاہے۔وقت کے غلط افکاروخیالات ونظریات سے ٹکرلینی پڑتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس وصف کی حامل ملّت اسلامیہ کی ان عظیم شخصیتوں کاسرچشمۂ کمال کیاہے جس کی بدولت اُن کی عبقریت کاسکہ چہاردانگ عالم میں چلتارہاہے۔ان مقدس شخصیتوں کی سیرت وکردارکی گہرائی میں جانے سے اندازہ ہوتاہے کہ تمام بزرگوں میں قدرے مشترک اتباع سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم وتحفظ اسلام کاپاکیزہ جذبہ کارفرماتھا۔جس نے اُنہیں گنجینۂ خیرومنارۂ ہدایت بنادیا۔اسلامی روایات کے مطالعہ سے ظاہرہورہاہے کہ جن جن حضرات نے اس جوہرکواپنایاوہ عظمت ورفعت کاآفتاب بن کرچمکااوراسلام کابطل جلیل قرارپایا۔خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کتاب ِزندگی کاایک ایک ورق ،امام عالی مقام ،سیدالشہداء سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقدس خون کاایک ایک قطرہ ،حضرت امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ ،حضرت امام احمدبن حنبل رحمہمااللہ تعالیٰ کی حیات طیبہ کاایک ایک گوشہ پکاررہاہے کہ یہ ذوات مقدسہ ،تحفظ اسلام واتباع سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین نمونہ ہیں۔ موجودہ صدی میں مسندعلم ودانش سے کتاب وسنت کی نقیب ایک ایسی شخصیت ابھری جوابھرتی ہی چلی گئی یہاں تک کہ آسمان سنیت پرچھاگئی۔پھروہ وقت آیاکہ اس ہستی کی عبقری شان دن کے اُجالے کی طرح سامنے اُجاگرہوگئی۔اورقوم نے اُنہیں رہنمائے ملت،معمارقوم،شیخ الحدیث ،فقیہ بے بدل،مشائخ کے امیروسلطان،شہریارعلم وحکمت،مطلع فکرونظر،پیکرِاخلاص والفت،سادگی کے مجسمہ،حُسن عمل کے پیکر،مردکامل،تقویٰ شعار،سنیت کے تاجدار،حافظ ملت کے مؤقرالقابات وخطابات دے کراعتراف حقیقت کیا۔حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العزیز محدث  مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہنام ونسب: آپکا نام عبد العزیزاورلقب حافظِ ملت ہےجبکہ سلسلۂ نسب یوں ہے ۔ عبدالعزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبدالرحیم۔آپکے دادا مولانا عبد الرحیم نے دہلی کے مشہورمحدث شاہ عبد العزیز  بن شاہ ولی اللہ  کی  نسبت سے آپ کا نام  عبد العزیز رکھاتاکہ میرایہ  بچہ بھی  عالم دین  بنے۔(علیہم الرحمہ)ولادتِ باسعادت:آپ نے ۱۳۱۲ھ بمطابق1894ء قَصْبہ بھوج پور (ضلع مراد آباد، یوپی ہند ) بروز پیر صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ والد ماجدکی خواہش:والدماجد حضرت حافظ غلام نوررحمۃ اللہ علیہ کی شروع سے یہی تمنا تھی کہ آپ ایک عالمِ دین کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت سر انجام دیں  لہٰذا بھوجپور مىں جب بھی کوئى بڑے عالم یا شیخ تشرىف لاتے توآپ  اپنے صاحبزادے حضور حافظ ملت کو ان کے پاس لے جاتے اور عرض کرتےحضور! میرے اس بچے کے لىے دعا فرمادىں ۔اِبتدائی تعلیم :حُضُور حافظِ ملت نے ناظرہ اور  حفظِ قرآن کی تکمیل والد ِماجد حافظ غلام نوررحمۃ اللہ علیہ سے کی۔اس کے علاوہ اُردو کی چار جماعتیں وطنِ عزیز بھوجپور میں پڑھیں،جبکہ فارسی کی اِبتدائی کتب بھوجپوراور پیپل سانہ (ضلع مُرادآباد)سے پڑھ کر گھریلو مسائل کی وجہ سے سلسلۂ  تعلیم موقوف کیا اور پھر قَصْبہ بھوجپور میں ہی مدرسہ حفظُ القرآن میں مُدرِّس اوربڑی مسجد میں اِمامت  کے فرائض سر انجام دئیے ۔سلسلہ ٔتعلیم رُک جانے پر اظہارجذبات:جب آپ  کا سلسلہ ٔ تعلیم رُک گیاتوکبھی کبھار غمگین ہوکر والدہ ماجدہ سے عرض کرتے :آپ  تودادا حُضُورکا یہ فرمان کہ "تم عالم بنوگے”سنایا کرتی تھیں لیکن میں عالم نہ بن سکا۔یہ سن کر والدہ ماجدہ کی آنکھیں پُر نَم ہوجاتیں اوردُعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیتیں ۔ سلسلۂ تعلیم کا دوبارہ آغاز:کچھ عرصے بعد حالات بدلے اوروالدِ ماجد حافظ غلام نور رحمۃ اللہ علیہ   کی خواہش اور دادا حضورمولانا عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ کی پیشن گوئی پوری ہونے کا سامان یوں ہوا کہ حضرت علامہ عبد ُالحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ  کے شاگردِ رشید،  طبیبِ حاذِق مولانا حکیم محمد شریف حیدر آبادی رحمۃ اللہ علیہ   علاج مُعالَجہ کے سلسلے میں بھوجپورتشریف لانے لگے اور جب  بھی آتے تو حضور حافظ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ۔ایک دن کہنے لگے :آپ قرآنِ  مجید تو بہت عُمدہ پڑھتے ہیں اگرعلمِ طِب پڑھنا چاہتے ہیں تو میں پڑھادوں گا،آپ نے جواب دیا : میرا ذریعۂ معاش اِمامت اور تدریس ہی ہےاور روزانہ مُرادآبادآنا جانا میری اِستطاعت سے باہر ہے،حکیم صاحب نے کہا:آپ ٹرین سے مُراد آباد چلے جایا کریں اورسبق پڑھ کربھوجپور واپس آجایا کریں،اَخراجات کی ذِمّہ داری  میں اُٹھاتا ہوں۔  والد صاحب نے اس کی اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: روز کا آنا جانا مُناسب نہیں لہٰذامُراد آباد میں رہ کر ہی تعلیم مکمل کرو۔یوں آپ اِمامت و تدریس چھوڑ کر مرادآباد تشریف لے گئے اورکچھ عرصہ تک حکیم صاحب سے  علم ِ طب پڑھا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ:حکیم صاحب نے آپ کی ذہانت اورقابلیت کو دیکھتے ہوئے کہا:میری مصروفیات زیادہ ہیں اورآپ کو پڑھانے کے لیے مجھےمزید مطالعہ کرنے کا وقت نہیں ملتا لہٰذا اب آپ تعلیم جاری رکھنے کے لئے جامعہ میں داخلہ لے لیجئے ۔ چنانچہ حافظ ملت نے ۱۳۳۹ ھ کوتقریباً ۲۷ سال کی عمر میں جامعہ نعیمیہ مُراد آباد میں داخلہ لے  لیااور تین سال تک تعلیم حاصل کی ۔مگر اب علم کی پیاس شدت اختیار کرچکی  تھی جسے بجھانے کے لیے کسی علمی سمندر کی تلاش تھی۔ صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ   سے ملاقات:۱۳۴۲ھ میں آل انڈیا سنی کانفرنس مُراد آبادمیں منعقد ہوئی جس میں ہندوستان (ہند و پاک ) کےنامورعلمائے اہلسُنَّت تشریف لائے جن میں صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مُفْتی  اَمجد علی اَعظمی رحمۃ اللہ علیہ   بھی شامل تھے۔حضور حافظِ ملّت  نے موقع دیکھ کرصدرُ الشریعہ کی بارگاہ میں درخواست کی توآپ نے فرمایا: شوالُ المکرم  سے اجمیر شریف آجائیں مدرسہ مُعینیہ میں داخلہ دلوا کر تعلیمی سلسلہ شروع کرادوں گا۔صدرُ الشریعہ کی  شفقت:شوالُ المکرم ۱۳۴۲ھ میں حافظِ ملت اپنے چند ہم اَسباق  دوستوں کے ساتھ  اجمیر شریف پہنچے ان میں امام ُالنحو حضرت علامہ غلام جیلا نی میرٹھی  شامل تھے۔چنانچہ صدر ُالشریعہ نےسب کو جامعہ مُعینیہ میں داخلہ دلوادیا،تمام درسی کتابیں دیگر مُدرِّسین پر تقسیم ہوگئیں مگرحضرت صدرُ الشریعہ  ازراہِ شفقت  اپنی مصروفیات سے فارغ ہوکر تہذیب اوراُصُولُ الشَّاشی کا درس دیا کرتے۔علمِ منطق کی کتاب”حَمْدُ اللّٰه “تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظِ ملّت  نے معاشی پریشانی اور ذاتی  مصروفیت کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھنے کا ارادہ کیا اور دورۂ حدیث شریف پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت صدرُ الشریعہ نے شفقت سے فرمایا:آسمان  زمین بن سکتا ہے،پہاڑ اپنی جگہ سے  ہل سکتا ہےلیکن آپ کی ایک کتاب بھی رہ جائے ایسا  ممکن نہیں ۔چنانچہ آپ نے اپنا ارادہ مُلتوی کیا اور پوری دل جمعی کے ساتھ صدرُالشریعہ کی خدمت میں رہ کر مَنازلِ علم طے کرتے رہے بالآخر استادِمحترم قبلہ صدرُالشریعہ  کی نگاہِ فیض سے ۱۳۵۱ھ بمطابق 1932ء میں دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے دورۂ حدیث مکمل کیا اور دستار بندی ہوئی۔آپ کے اساتذۂ کرام:آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت حافظ محمد غلام نوراور مولانا عبدالمجىد بھوجپورى سے حاصل کی۔کچھ عرصہ حکیم محمد شریف حیدر آبادی صاحب سے علم ِ طب پڑھا۔اس کے علاوہ جامعہ نعیمیہ(مراد آباد)میں حضرت مولانا عبدالعزىز خان فتح پورى،حضرت مولانا اجمل شاہ سنبھلى،حضرت مولانا وَصى احمدسہسرامى اورجامعہ  مُعینیہ عثمانیہ( اجمیر شرىف) میں حضرت مولانا مفتی امتىاز احمد، حضرت مولانا حافظ سَىِّد حامد حسىن اجمیرى اورصدرُالشرىعہ مفتی امجد على اعظمی جیسے جلیلُ القدر اساتذہ سےاکتسابِ علم کیا بالخصوص صدرُالشریعہ کی نگاہِ فیض سے آسمانِ علم کے درخشاں ستارےبن کر چمکے۔ مبارکپور میں آمد:آپ  ۲۹ شوال المکرم ۱۳۵۲ھ بمطابق ۱۴ جنوری 1934ء کو مبارکپور پہنچےاور مدرسہ  اشرفیہ مصباحُ العلوم(واقع محلہ پرانی بستی) میں تدریسی خد مات میں مصروف ہوگئے۔ابھی  چند ماہ ہی گزرے تھے کہ آپکے طرزِ تدریس اورعلم و عمل کے چرچے عام ہوگئے اور تشنگانِ علم کا ایک سیلاب اُمنڈ آیا جس کی وجہ سے مدرسے میں جگہ کم پڑنے لگی اورایک  بڑی درسگاہ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ چنانچہ آپ نے اپنی جِدّو جُہدسے ۱۳۵۳ھ میں دنیائے اسلام کی ایک عظیم درسگاہ (دارُالعلوم)کی تعمیرکا آغازگولہ بازارمیں فرمایا جس کا  نام سلطانُ التارکین حضرت مخدوم سَیِّد اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے "دارُالعُلُوم اشرفیہ مصباح ُالعلوم "رکھاگیا ۔ دارُالعُلُوم  اشرفیہ سے استعفیٰ  اورپھر واپسی:حضورحافظِ ملت  شوال ۱۳۶۱ھ میں کچھ مسائل کی بناپر اِسْتِعْفیٰ دے کر جامعہ عَربیہ ناگپور تشریف لے گئے،چونکہ آپ مالیات کی فَراہمی اور تعلیمی اُمور میں بڑی  مہارت رکھتے تھےلہٰذا آپ کے دارُالعلوم اَشْرفیہ سےچلے جانے کے بعدوہاں  کی تعلیمی اور معاشی حالت اِنتہائی خَستہ ہوگئی تو حضرت صدرُ الشریعہ کے حکمِ خاص پر۱۳۶۲ھ میں ناگپور سے اِسْتِعْفیٰ دے کردوبارہ  مُبارکپور تشریف لے آئے اورتادم ِحیات دارُالعلوم اَشرفیہ مُبارکپور سے وابستہ رہ کر تدریسی و دینی خدمات کی انجام دہی میں مشغول رہے۔حافظِ ملت کی کوششوں سے مُفتیٔ اعظم ہند شہزادہ ٔ اعلیٰ حضرت مفتی محمد مصطفےٰ رضا خانرحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک سے ۱۳۹۲ھ بمطابق 1972ء میں مبارک پورمیں وسیع قطعِ اَرض پر الجامعۃُ الاشرفیہ(عربی یونیورسٹی )کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔حافظ ِ ملت  رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کےچند درخشاں پہلو:اُستادکا ادب:حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ حضورصدرُالشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی  بارگاہ مىں ہمىشہ دوز انو بیٹھا کرتے ،اگرصدرُ الشرىعہ ضرورتاً کمرے سے باہر  تشرىف لے جاتے تو طلبہ کھڑے ہوجاتے اوران کے جانے کے بعد بیٹھ جاتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ادباً دوبارہ کھڑے ہوتے لیکن حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ  اس پورے وقفے میں کھڑے ہی رہتے اور حضرت صدرُ الشرىعہ رحمۃ اللہ علیہ کےمسندِ تدریس پر تشریف فرماہونے کے بعد ہی  بیٹھا کرتے ۔کتابوں کا ادب:آپ قىام گاہ پر ہوتے یا درسگاہ مىں کبھى کوئى کتاب لیٹ کر یا ٹیک لگا کر نہ پڑھتے  نہ پڑھاتے بلکہ تکیہ یا ڈیسک پر  رکھ لیتے، قیام گاہ سے مدرسہ یا مدرسے سے قیام گاہ کبھى کو ئی  کتاب لے جانی  ہوتی  تو داہنے ہاتھ ميں لے کر سینے سے لگالیتے، کسى طالب علم کودیکھتے کہ کتاب ہاتھ میں لٹکا کرچل رہا ہے تو فرماتے!کتاب جب سینے سے لگائى جائے گى تو سینے مىں اترے گى اور جب کتاب کوسینے سے دوررکھا جائے گا تو کتاب بھی  سینے سے دور ہوگی ۔طلبہ پر شفقت:حضور حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ   علمِ دین کے طلب گاروں سے بے پناہ مَحَبَّت فرمایاکرتے تھے ،طلبہ کو کسی غلطی پر مدرسہ سے نکال دینے کو سخت ناپسند کرتےاور فرماتے: مدرسے سے طلبہ کا اِخراج بالکل ایسا ہى ہے جیسے کوئى باپ اپنے کسى بىٹے کو عاق کردے یا جسم کے کسى بىمار عضو کو کاٹ کر الگ کردے،مزید  فرماتے: انتظامى مَصالح کے پىش نظر اگرچہ یہ شرعا مُباح ہے لیکن مىں اسے بھى اَبْغَض مُباحات (یعنی جائز مُعاملات میں  سخت ناپسند باتوں)سے سمجھتا ہوں۔وقت کی پابندی:حضور حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ وقت کے اِنتہائی پابند اور قدردان تھے ہر کام اپنے وقت پرکیا کرتےمثلاً  مسجدِ محلّہ میں پابندى ِوقت کے ساتھ باجماعت نماز ادا فرماتے ، تدریس کے اَوقات میں اپنى ذِمّہ دارى کو بحسن و خُوبى انجام دیتے، چُھٹى کے بعد قیام گاہ پر لوٹتےاور  کھانا کھا کرکچھ دیر قَیلُولہ(یعنی دوپہر کے وقت کچھ دیر کے لیے آرام ) ضرور فرماتے قیلولہ کا وقت ہمىشہ یکساں رہتا چاہے ایک وقت کا مدرسہ ہو یا دونوں وقت کا،ظُہر کے مُقررہ وقت پر بہرحال اُٹھ جاتے اورباجماعت نماز ادا کرنے کے بعداگر دوسرے وقت کا مدرسہ ہوتا تو مدرسے تشریف لے  جاتے ورنہ کتابوں کا مُطالعہ فرماتےیا کسى کتاب سے  درس دیتے یا پھر حاجت مندوں کو تعوىذ عطا فرماتے ، شروع شروع مىں عَصْر کى نماز کے بعد سیر وتفرىح کے لئے آبادى سے باہر تشرىف لے جاتے مگراس وقت بھی  طلبہ آپ کے ہمراہ ہوتے جو علمى سُوالات کرتے اورتَشَفّی بھرے جوابات  پاتے ، اگر کسى کى عیادت کے لىے جانا ہوتا تواکثر عَصْر کے بعد ہى جایا کرتے۔حافظِ ملّت کی سادگی اور حَیا:آپ کی زندگی نہایت سادہ اور پُرسُکون تھی کہ جو لباس  زىبِ تن فرماتے وہ موٹا سوتى کپڑے کا ہوتا، کُر تاکلی دار  لمبا ہوتا، پاجامہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا ، سر مبارک پر ٹوپی ہوتی  جس پر عمامہ ہر موسم میں سجا ہوتا ، شیروانى بھى زىبِ تن فرمایا کرتے، چلتے وقت ہاتھ میں عصا ہوتا ۔راستہ چلتے تو نگاہىں جُھکاکر چلتے اور فرماتے: مىں لوگوں کے عُىوب نہیں دیکھنا چاہتا۔  گھرمىں ہوتے تو بھی حَیا کو ملحوظِ خاطررکھتے، صاحبزادیاں بڑی ہوئیں توگھرکےمخصوص کمرے میں ہی آرام فرماتے، گھر ميں داخل ہوتے وقت  چَھڑى زمىن پر زور سے مارتے تاکہ آواز پیدا ہو اورگھرکےلوگ خبردارہوجائیں،غىرمَحْرَم عورتوں کوکبھى سامنے نہ آنے دىتے۔بچپن سے نیکی کا جذبہ: آپ بچپن ہی سےفَرائض و سُنَن کے پابند تھے اور جب سے بالغ ہوئے نمازِ تَہجُّد شروع فرمادى جس پرتاحیات عمل رہا، صلوٰةُ الاوَّابىن ودلائلُ الخىرات شرىف وغیرہ  بلا ناغہ پڑھتےیہاں تک کہ آخرى ایام مىں دوسروں سے پڑھوا کر سنتے رہے، روزانہ صبح  سورۂ يس و سورۂ یوسف کى تلاوت کا التزام فرماتے جبکہ جمعہ کے دن سورہ ٔکہف کى تلاوت معمول میں شامل تھی۔آپ  فرمایاکرتے کہ عمل اتنا ہى کر و جتنا بلا ناغہ کرسکو۔  اکابرین سے محبت:جب بھی حافظِ ملّت رحمۃ اللہ علیہ اعلىٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ   اور صدرُ الشرىعہ حضرت مولانا مُفْتی امجد علی اَعظمی رحمۃ اللہ علیہ کا نام سنتے تو اپنى گردن جھکالیتے ، اسی طرح دیگر اکابرینِ اہلسنت اور مشائخِ اہلسنت کا تذکرہ کرتے ہوئے محبت سے جھوم جاتے تھے۔( شریعت وطریقت ، ص ،۱۴)حافظ ملت کی دینی خدمات:حضور حافظِ ملترحمۃ اللہ علیہ ایک بہترین مدرس ، مصنف، مناظِر اور منتظمِ اعلیٰ تھے آپ  کا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃُ الاشرفیہ مبارک پور (ضلع اعظم گڑھ یوپی ,ہند) کا قیام ہےجہاں سے فارغُ التحصیل عُلماء ہند کی سرزمین سے لے کر ایشیا، یورپ و امریکہ اورافریقہ کے مختلف ممالک میں دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج واشاعت میں مصروف ِ عمل ہیں ۔حافظِ ملت شخصیت ساز تھے: رئىسُ القلم حضرت علامہ ارشدُالقادرى رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :آپ ایک شفیق اور مہربان باپ کی طرح طلبہ کی ضروریات اورتعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصىت کو بھی نکھارا کرتے تھے ۔استاد شاگرد کا تعلق عام طور پر حلقۂ درس تک محدود ہوتا ہے لىکن اپنے تلامذہ کے ساتھ حافظِ ملّت کے تعلُّقات  کا دائرہ اتنا وسىع ہے کہ پورى درسگاہ اس کے ايک گوشے مىں سماجائے، یہ انہى کے قلب و نظر کى بے اِنْتہا وُسعت اور انہى کے جگر کابے پایا حوصلہ تھا کہ اپنے حلقہ درس مىں داخل ہونے والے طالب علم کى بےشمار ذِمّہ داریاں وہ اپنے سَر لیتے تھے، طالبِ علم درس گاہ ميں بیٹھے تو کتاب پڑھائیں، باہر رہے تو اخلاق و کردارکى نگرانى کریں، مجلسِ خاص مىں شریک ہو تو ايک عالمِ دىن کے محاسن و اوصاف سے روشناس فرمائیں،بیمار پڑے تو نقوش و تعویذات سے اس کا علاج کریں، تنگدستى کا شکار ہوجائے تو مالى کفالت فرمائیں، پڑھ کر فارغ ہو تو ملازمت دلوائیں اور ملازمت کے دوران کوئى مشکل پىش آئے تو اس کى بھى عُقدہ کشائى فرمائیں، طالبِ علم کى نجى زندگى ، شادى بیاہ، دُکھ سُکھ سے لے کر خاندان تک کے مسائل حل کرنے میں توجہ فرمائیں، طالب علم زیر درس رہے یا فارغ ہو کر چلا جائے ایک باپ کى طرح ہر حال ميں سرپرست اور کفىل ، ىہى ہے وہ جوہرِمُنفرد جس نے حافظِ ملّت کو اپنے اَقْران و مُعاصرىن کے درمىان اىک معمارِ زندگى کى حیثیت سے مُمتاز اورنُمایاں کردیا ہے۔آپ کی تصانیف:آپ  تحریر وتصنیف میں بھی کامل مَہارت رکھتے تھےآپ نے مختلف مَوضوعات پر کُتب تحریر فرمائیں جن میں سے چند کے نام یہ ہیں:مَعارفِ حدىث ۔ اِرشادُ القرآن۔الارشاد (ہندوستان کی سیاست پر ایک مُسْتقل رسالہ )۔المصبَاح ُالجدىد ۔العذابُ الشَّدىد ۔ انباء الغیب(علمِ غىب کے عُنوان پر ایک بہترین رسالہ)۔  فرقۂ ناجیہ۔  فتاوىٰ عزیزیہ۔حاشیہ شرح مرقات ۔ آپکے ملفوظات وفرمودات:۱۔ جسم کى قُوّت کے ليے ورزش اور رُوح کى قُوّت کے ليے تَہجُّد ضرورى ہے۔۲۔جب سے لوگوں نے خُدا سے ڈرناچھوڑ دیا ہے، سارى دُنیا سے ڈرنے لگے ہىں۔۳۔کام کے آدمى بنو، کام ہى آدمى کو مُعزَّز بناتا ہے۔۴۔بلاشبہ ایسى تعليم جس مىں تربیت نہ ہو آزادى و خُود سرى  کى فضا ہو ،بے سُود ہى نہىں بلکہ نتیجہ بھی  مُضر (نُقصان دہ )ہے۔۵۔احساسِ ذِمّہ دارى سب سے قیمتى سرمایہ ہے۔٦۔اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت ہے۔                           وصالِ پُرملال: یکم جمادی الاخری ۱۳۹۶ھ بمطابق31مئی1976ء رات گیارہ بج کر پچپن  منٹ پر آپکا وصال ہواآپ کی آخری آرام گاہ الجامعۃ ُالاشرفیہ مُبارکپور کے صحن  میں ”قدیم دارُالاِقامۃ “کے مغربی  جانب اور”عزیزُ المساجد“ کے شمال میں واقع  ہے۔رب کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی حافظ ملت کو درجوں بلندی عطا فرمائے اور انکے فیضان سے ہم سب کو مالا مال فرمائے ۔آمین

علم کی شان حافظ ملت دین کی پہچان حافظ ملت جن کی نظروں سے ہوگئے تازہ سب کے ایمان حافظ ملت

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حیات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

از قلم: محمد انس قادری رضویمجلس اصحابِ قلم گورکھپور آپ‌ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے