محبت رسول کے تقاضے

تحریر: شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے ماں،باپ،اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔” (متفق علیہ)
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث پاک کے ذریعے اپنی امت سے صرف زبانی اور قلمی محبت کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ (جس کا اظہار ہم لوگ اکثر کرتے رہتے ہیں) بلکہ عملی و حقیقی اظہار محبت مطلوب ہے۔ یعنی ہماری زندگی کی ہر حرکت و عمل سے محبت رسول کی خوشبو آنی چاہیے۔ صحابہ کرام کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔
غزوۂ بدر کفر و اسلام کاوہ پہلا معرکہ تھا کہ اس میں جتنے مہاجر صحابہ شریک تھے سب کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار کفار مکہ کی جانب سے شریک جنگ تھا۔ حتیٰ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے شوہر ابوالعاص بن ربیع بھی شریک جنگ تھے اور قیدی بنا کر مدینہ طیبہ لائے گئے تھے۔ ایسا ہی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق کفار کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اور بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو ایک دن اپنے والد گرامی حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ آپ جنگ بدر میں میری تلوار کی زد میں آ گئے تھے۔ میں نے باپ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور آپ کو قتل نہیں کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹے وحدہ لاشریک کی قسم اگر تم میری تلوار کی زد میں آتے تو میں ہرگز ہرگز تجھے نہیں چھوڑتا۔
غزوہ بدر کے بعد کا ایک اور واقعہ نذر قارئین ہے۔
ابوعزیز بن عمیر رضی اللہ عنہ یہ حضرت مصعب بن عمیر کے سگے بھائی تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ واقعہ بیان فرمایا کہ غزوۂ بدر میں جب میں گرفتارہوا تو مجھے کعب انصاری رضی اللہ عنہ رسیوں سے باندھ رہے تھے۔ ادھر سے میرے بھائی مصعب گزرے تو میں نے آواز دی اور درخواست کی کہ آپ میری شفارش کریں! میں آپ کا بھائی ہوں۔ تو حضرت مصعب نے باندھنے والے سے کہا کہ اس کو کس کرباندھو اس کی ماں بہت مالدار اور دولت مند خاتون ہے اس سے زیادہ فدیہ حاصل ہوگا۔ ابو عزیز نے کہا کہ آپ کیسے بھائی ہیں کوئی اپنے بھائی کے لیے ایسا جملہ کہتا ہے؟ اس کے جواب میں حضرت مصعب نے کہا کہ تو میرا بھائی نہیں ہے بلکہ وہ میرا بھائی ہے جو تم کو باندھ رہا ہے۔
مذکورہ حدیث پاک پڑھنے کے بعد جب ہم اس طرح کی تاریخی واقعات کو پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان احادیث کا مفہوم صحابۂ کرام کے نزدیک کیا تھا اور اس کا اصل اور صحیح مفہوم ومعنی کیا ہے۔اس حدیث کریمہ کی روشنی میں ہم لوگ کس حد تک مومن ہیں اس کو بھی ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ مثلا دو لوگوں میں کسی معاملہ کو لے کر تنازعہ ہے۔ ان میں سے ایک حق پر ہے اور دوسرا جو غلطی پر ہے وہ رشتہ دار ہے۔ اب اگر ہم نےحق کا ساتھ دیا تو گویایہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ماں باپ،اولاد اور رشتوں سے زیادہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں کہ محبت رسول کا تقاضہ حق و صداقت کی طرفداری ہے نہ کہ رشتوں کی آڑ میں حق کی پامالی کا۔ اور اگر ہم نے حق و صداقت کے مقابلے میں رشتہ داری نبھائی تو گویا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تعلیمات کے مقابلے میں رشتہ داروں سے زیادہ محبت ہے۔ اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کسی اور چیز سے زیادہ محبت ہونا یہ کس بات کی دلیل ہے؟اس مفہوم کی حقیقی ادراک کے لیے ایک اور مثال پیش کرتا ہوں۔ مثلا ایک کام جو دین کے ساتھ منسوب ہے، یعنی عرف عام‌ میں اسے دینی کام مانا جاتا ہے، لیکن جس کو کرنا دینی مصلحت کے خلاف ہے، دینی و اسلامی مزاج کے خلاف ہے،سنت رسول اور سنت صحابہ کے خلاف ہے،سلف و خلف کے طریقوں کے خلاف ہے ۔ لیکن اس کام کو کرنے والوں اور کرانے والوں کو اس سے ذاتی فائدے ہوتے ہیں،اس میں نام و نمود اور شہرت کا سامان ہے اور کئی طرح کے دیگر دنیاوی مفاد بھی اس وابستہ ہوسکتے ہیں۔جیسے ڈیمانڈنگ کرکے پیشہ ور نعت خوانی کرنا اس کی ایک مثال ہو سکتی ہے۔اگر معاملہ ایسا ہے تو کیا یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ایک شخصی شہرت وشخصی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل ہے؟ جب کہ ایسا عمل یقینا حب رسول کے خلاف ہے،تعلیمات نبوی کے برعکس ہے۔ اس ضمن میں موجودہ دور کے اکثر مروجہ جلسے ،جلوس اور احتجاجی اقدام شامل ہیں۔اس سے منتظمین، مقررین، نعت خواں اور سامعین میں سے اکثر کا مقصد دنیاوی شہرت و لطف اور مال و زرکا حصول ہے۔إلاماشآءالله۔
سوال یہ ہے کہ محبت رسول کے نام پر محبت رسول کے خلاف کیا جانے والا کام کیسے ہمارےلیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہو سکتاہے؟
ہم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ کہ اس میں پیسہ، وقت اور ایمان و اعمال کے بھی برباد ہونے کے خطرات ہیں۔
تاہم اسی دنیا میں اور انہی ایام میں اور انہیں دینی کاموں میں بہت سارے اہل ایمان دینی، وملی مفادکے لیے جلسہ، جلوس و احتجاجی اقدام کرتے ہیں۔ بہت سارے علماء، شعراء اور خطباء خالصتا دین و ملت کے تحفظ وبقا اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور آج بے شک انہیں نیک لوگوں کی وجہ سے ان کاموں کی اہمیت بھی باقی ہے اور ان کاموں کا فیض بھی جاری ہے،دین متین کی دعوت و تبلیغ ہورہی ہے اور اسلام کا پیغام چہار دانگ عالم میں پھیلا ہےاور پھیل رہا ہے۔ اللہ تعالی ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے آمین۔
اللہ تعالی نے قرآن مقدس میں انہی علماء کرام کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے بندوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں.(آیت ٢٨-الفاطر) اور ظاہر ہے کہ جو زیادہ ڈرنے والے ہیں وہی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں اور جو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں وہی در اصل دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسند اور ناپسند کا خیال رکھنا بھی حب رسول میں سے ہے۔ صحابہ کرام میں سے ایک صحابی حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرۂ اقدس کو پھیر لیا۔ پھر وہ دوسری جانب سے آئے حضور نے پھر چہرہ پھیر لیا۔ وہ ایک مرتبہ پھر جگہ بدل کر تیسری جانب سے حضور کے سامنے آئے تو حضور نے پھر رخ انور کو پھیر لیا۔ اب وہ قدموں میں گر گئے اور عرض گزار ہوئےکہ یا رسول اللہ! مجھ سے کیسی ناراضگی ہے؟ مجھے معاف کیا جائے! تو آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”تم اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ۔ تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ ان کی انگلی میں سونے کی انگوٹھی تھی۔ حضور نے انگلی سے انگوٹھی نکالی اور اور پھینک دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ یہ عورتوں کو زیب دیتا ہے۔”
جب مجلس ختم ہوئی اور سب لوگ جانے لگے تو وہ صحابی بھی جانے لگے۔ ایک شخص نے ان سے کہا کہ تم اپنی انگوٹھی اٹھالو۔ تم مت پہننااپنی بیوی کو دے دینا یا کسی دوسرے کام میں لانا۔ انہوں نے عقیدت سے کہا کہ جس چیز کو حضور نے پھینک دی ہے اب میں اس کو نہیں اٹھاؤں گا۔
ظاہر ہے یہ ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ازحد محبت کی دلیل ہے۔ ورنہ شرعا انگوٹھی کو اٹھا لیناجائز تھا۔ کاش کہ ہمیں بھی ان کے قدموں کی خاک نصیب ہو جائے۔ ضرورت ہے کہ ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ ہم عاشق رسول ہیں بلکہ لوگ ہمیں دیکھ کر، ہمیں سن کر، ہما رے معاملات کو پرکھ کر یہ کہیں کہ یہ عاشق رسول ہے۔
اس ضمن میں خواتین اسلام کا حب رسول آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آقا کریم کی محبت میں سب سے پہلے شہادت حاصل کرنے والی خاتون حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
احادیث کے حوالے سے مزید دوخواتین اسلام کے عشق رسول کو بھی پڑھیں۔ پوری دنیا میں سب سے مقدس اور پاک رشتہ باپ اور بیٹی کا رشتہ ہے۔ اس رشتے میں بناوٹ نہیں ہے بلکہ کہ حقیقی محبت ہے۔ حضرت ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں تھیں انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد ابوسفیان آرہے ہیں۔ وہ سمجھ گئیں کہ انکے ہی گھر آرہے ہیں۔ ان کے سامنے چارپائی بچھی تھی جس پر آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے چارپائی اٹھا دی اور چادر سمیٹ کر رکھ دی۔ یہ دیکھ کر ابوسفیان ششدر رہ گئے۔ انہوں نے حضرت ام حبیبہ کو مخاطب کر کے کہا کہ دنیا کی ساری بیٹیاں اپنے باپ کے لیے فر ش راہ بنی رہتی ہیں لیکن تم نے اپنے باپ کو دیکھ کر چادر سمیٹ دی؟ انھوں نے کہا کہ ابا حضور آپ میری اس چادر پر تشریف رکھیں۔ میں آپ کی بیٹی ہوں اور آپ کی محبت میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن اس چادر پہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام کیا کرتے ہیں۔ اور میرے دل میں ان کی محبت آپ سے زیادہ ہے اور یہ صرف میرے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ دنیاکے ہر مومن کو اپنے نبی سے دنیا کے ہر شخص سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کا ہے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میری ماں جو ابھی ایمان نہیں لائی تھی،مکہ سے میرے پاس ملاقات کے لیے تشریف لائی۔ وہ میری ماں تھی۔ اور میری محبت میں مکہ مکرمہ سے یہاں آئی تھی۔ میرے دل میں بھی ماں کی محبت بہت زیادہ تھی۔ لیکن آقا کریم کی محبت تو اس سے زیادہ ہی تھی۔ لہذاانکی خاطر و مدارت کرنے سے پہلے میں آقا کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی کہ یا رسول اللہ میری ماں مکہ سے تشریف لائی ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام صلہ رحمی کے لیے آیا ہے، رشتے داریاں جوڑتا ہے،رشتہ جوڑنا اور رشتے داری قائم رکھنا یہ اسلامیات کا اہم حصہ ہے۔ تم اپنی ماں کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرو۔
اب اس حدیث کو ایک بار پھر پڑھیں۔ آقاکریم صلی اللہ فرماتے ہیں کہ "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کے میں اسے، اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
اللہ تعالی ہم سب کو سچا عاشق رسول اور مؤمن کامل بنائے آمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے