مہنگائی اور اس کا حل

تحری: ریاض فردوسی، پٹنہ ۔9968012976

ملک میں زر کے چلن (Circulation of money)میں جب اضافہ ہوجاتاہے، اس کے مطابق اشیاء اور خدمات کے پیداوار میں اضافہ نہیں ہو پاتا تو ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے، اسی کیفیت کو افراط زر(Inflation)یا مہنگائی کہتے ہیں۔ روزافزوں بڑھتی مہنگائی آج ہمارے ملک کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہیں۔ اس سے لوگوں کی زندگی دوبھر ہوتی جارہی ہے، سارا تخمینہ اور بجٹ فیل ہوتا جا رہا ہے، مہنگائی کی مار سے بیزار سرکاری اور منظم سیکٹر کے ملازموں کی مہنگائی بھتہ میں اضافہ کے دباؤ کے تحت اسے بڑھانا پڑھتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے مہنگائی میں اضافی کی واحد وجہ یہاں افراط زر نہیں ہے، بلکہ آبادی کا اضافی اشیاء خدمات کے سپلائی کا نہ بڑھناہے، لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزوں کو حاصل کونے کی للک ہے، اورسرکاری ٹیکس وغیرہ بھی ذمہ دار ہے۔ ہندوستان ہی میں نہیں دنیا کے بیشتر ممالک اس مسئلہ سے دوچار ہیں، ضرورت ہے کہ اس کا حل تلاش کیا جائے، یہ صارف کے حق میں ہوگا اور ان کا بھی تعاون درکار ہے۔ بہتر پیداکاروں اور بیڑیوں کو بھی تعاون دینا چاہیے۔
مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کر دیا ہے۔ کوئی دن جاتا ہو گا جب حکومت کی طرف سے کسی نہ کسی ضروری چیزکی قیمت میں اضافے کا اعلان نہ ہوتا ہو جو عوام کی تکلیف میں مزید اضافہ کا سبب نہ بنتا ہو۔ آٹا، چاول، دال، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی شئے بھی اب عوام کی دسترس میں نہ رہی ہے۔ لوگ غربت سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ آج جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے، پہلے سو روپے کی بڑی حیثیت ہوتی تھی، اب وہی سو روپے کا نوٹ ایسے خرچ ہوجاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ جس حساب سے مہنگائی ہو رہی ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ دال چاول کھانا بھی بہت مشکل بن جائے گا۔غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی، متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔بازار میں استحصال کئی طرح سے ہوتا ہے۔ کبھی تاجر ناجائزتجارتی عمل میں مشغول ہوتے ہیں، اور غیر مناسب طریقوں سے اشیاء کے دام لگاتے ہیں۔ اس سے بازار میں افراتفری کا ماحول بنا رہتا ہے۔اجناس اور خدمات کی قیمت بڑھتے ہی کرنسی یونٹ کی قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا اثر ملک میں رہنے والے اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔ جب افراط زر زیادہ ہوتا ہے تو، زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جو بالآخر معاشی نمو میں سستی کا باعث بنتی ہیں۔ معیشت میں افراط زر کی ایک خاص سطح کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اخراجات کو فروغ دیا جاتا ہے اور بچت کے ذریعے رقم جمع کرنا غیر موزوں ہے۔ چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ عام طور پر پیسہ اپنی قیمت کھو دیتا ہے، لوگوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پیسہ لگائیں۔ سرمایہ کاری کسی ملک کی معاشی نمو کو یقینی بناتی ہے۔مہنگائی کی کچھ اہم وجوہات یہ ہیں:
زیادہ مانگ اور کم پیداوار یا متعدد اشیا کی فراہمی طلب سپلائی کا فرق پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے۔رقم کی زیادہ گردش مہنگائی کا باعث بنتی ہے کیونکہ پیسہ اپنی قوت خرید کھو دیتا ہے۔لوگوں کے پاس زیادہ پیسہ ہونے کی وجہ سے، وہ زیادہ خرچ کرنے کا بھی رجحان رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کچھ اشیا ء کی پیداواری قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بھی ہوتی ہے۔ اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ بھی اس امر پر غور کرنا ایک عنصر ہے کیونکہ اس میں ملوث مزدور بھی اپنی زندگی کی لاگت کو برقرار رکھنے کے لئے زیادہ اخراجات / اجرت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے سامان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتاہے۔
مہنگائی پرچنداقدام سے قابو پایاجاسکتا ہے۔مانگ کو گھٹانا۔ مانگ بڑھنے پر قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور مانگ گھٹنے پر کمی آجاتی ہے۔ لہذا دانستہ طور پر اشیاء اور خدمات کے ڈیمانڈ (Demand) کو قابو کرکے رکھنا چاہیے۔ یہ عمل(Controlling the hike) مہنگائی پر قابوہے۔
اشیاء و خدمات کی پیداوار جب بڑھ جاتی ہے تو قیمتیں گرنے لگتی ہیں، برعکس اس کے سپلائی میں کمی واقع ہوجانے پر قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ لہذا سپلائی میں اضافہ کی متواتر کوشیشیں ہوتی رہنی چاہیے، زراعت وصنعت اور معدنیات کے پیداوار میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اس عمل کو (Increase in supply)سپلائی میں اضافہ کہتے ہیں۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں گوشت کی قیمت میں حد درجہ اضافہ ہوگیا۔ لوگ گوشت کی گرانی کی شکایت لے کر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے۔ عمررضی اللہ عنہ نے ان کی بات سننے کے بعد کہا’’اگر اس کا بھاؤچڑھ گیاہے تو کم کردو‘‘۔ لوگوں نے کہا’’ہم تو ضرورت مند ہیں، گوشت ہمارے پاس کہاں ہے کہ ہم اس کی قیمت کم کردیں؟‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دراصل میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس کا استعمال کم کردو، کیونکہ جب اس کا استعمال کم ہوجائے گا تو اس کی قیمت بذاتِ خود کم ہوجائے گی۔ (تاریخ دمشق6282، حلیۃ الاولیاء823)
اگر رہن سہن میں سادگی اپنائی جائے تو بہت سے مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ آمدنی بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم کام اخراجات میں کمی ہے۔
سیدناعلی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ کے دور خلافت میں مکہ کے اندر کسی موقعے سے زبیب (کشمش) کی قیمت بڑھ گئی۔ لوگوں نے خط لکھ کر کوفے میں موجود مولیٰ علی کرم اللہ وجہ سے اس کا شکوہ کیا۔ تو انہوں نے یہ رائے تجویز فرمائی کہ تم لوگ کشمش کے بدلے کھجور استعمال کیا کرو کیونکہ جب ایسا کروگے تو مانگ کی کمی سے کشمش کی قیمت گرجائے گی اور وہ سستی ہوجائے گی۔ اگر سستی نہ بھی ہوتو کھجور اس کا بہترین متبادل ہے۔ (تاریخ ابن معین 168 التاریخ الکبیر للبخاری3523)
ہمارے معاشرے میں سادہ زندگی اور شنتوش (Satisfaction)یعنی آسودگی پر زوردیا جاتا تھا۔ اس کے تحت لوگ بیجا طور پر اپنی ڈیمانڈ نہیں بڑھاتے تھے۔ مگر مغربی تہذیب کے ’’کھاؤ، پیوموج کرو’’(Eat,drink And Be Marry) کے اصول نے ہماری زندگی کو بری طرح متاثر کیاہے، آگ میں گھی کا کام اشتہار بازی نے کردیا ہے۔ پرنٹ میڈیا(Print Media)الیکٹرانک میڈیا (Electronic media) اور ٹی وی نے مصنوعی طور پر ضرورتوں کو بڑھا دیا ہے۔ ’’اب ہر آدمی کو ہر چیز چاہیے’’جبکہ ہر آدمی کو ہر چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آج قرض لے کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بھی کوشش کی جارہی ہے۔ عالم چارواک کا کہنا تھاکہ’’قرض لے کر گھی پیو‘‘لوگ ہوم لون، کارلون، موٹر سائیکل لون، ٹی وی لون،موبائل لون اور اسی طرح کے دوسرے قیمتی اشیاء پر لون لینے میں سبقت لے جارہے ہیں۔ دوسرے قیمتی اشیاء(Durabless) کو خریدنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے۔کیوں ساری چیزیں کم وبیش سودی اوربنا سودی لون پرمہیا ہیں۔ d,Credit card Bajaj car اور اسی طرح کے مختلف Cardکا چلن بڑھا ہے۔
علم معاشیات (Economics) کے پروفیسر جے۔ کے۔ مہتا۔ نے ضرورتوں کو ختم کرنے پر زور دیا ہے، گویا کہ یہ قابل عمل نہیں ہے، مگر ضرورتوں کو گھٹایاتو جا ہی سکتا ہے، اس کی کوشش کی جانی چاہئے۔
تھوک اور پھٹکرکر دکان دارکاروباری لاگت کے مقابلے میں کئی گنا قیمت وصولنے کی کوشش کرتے ہیں، ان پر روک کا کوئی انتظام نہیں ہے، کم سے کم قیمت (M.R.P.= Maximum Retail Price) کا بھی کوئی مناسب اصول نہیں ہے۔ جس سے واضح قیمت سے کبھی کم پر بازار میں چیزیں ملتی ہو ۔ ’’دام باندھو‘‘ کا سماج وادی اصول کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ ملک کے معاشی اور دیگر اصول میں سرکار کا مؤثر دخل ہو، سرکار کو ضروری اشیاء پر ٹیکس لگانا چاہیے اور قیمتوں میں اچھال (Jump)کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ضروری اشیاء قانون (Essential Commodities Act) پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ عوام کو ضروری اشیاء اناج، شکر، مٹی کا تیل وغیرہ کو دستیاب کرانے کے نظام کومؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسے درست کرنے سے اقتصادی طور پر کمزور طبقہ کو بہت راحت ملے گی اور بازار بھی کنٹرول میں رہ سکے گا۔ اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے(Public Distribution Syeatem) کہتے ہیں،اور اس پر مسلسل عمل کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو اس کے لئے الگ سے ماہرین معاشیات اور اقتصادیات کی ایک کمیٹی قائم کرکے ان امور کی دیکھ بھال کا ذمہ سونپ دیا جانا چاہئے،اس کمیٹی پر نگراں خود وزیر اعظم ہو۔
مصر میں ایک تاجر اپنے دوست کے ساتھ خربوزہ لے کر فروخت کرنے آیا، لیکن راستے میں ہی بادشاہ کے کارکنان نے جگہ جگہ بہانے سے جزیہ (Tax)لگا کراس کے تمام خربوزہ کولوٹ لیا، اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس ملک میں حکومت کرنا آسان ہے۔ یہاں چاروں طرف بدعنوانی ہے، جہاں بدعنوانی(Corruption)ہوتی ہے وہاں حکومت کرنا آسان ہوتاہے۔ اور وہی تاجر بدعنوانی کرکے ہی چند سالوں میں میں مصر کا پہلا فرعون بنا۔
عقلمند وہ نہیں ہے ہر ماہ پانچ ہزار کما کر چھ ہزار خرچ کرتا ہے بلکہ جو پانچ ہزار کی آمدنی میں اپنے اخراجات ساڑھے چار ہزار تک محدود کر لیتا ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غریبوں کی مدد کرنا وقت کی اہم ضرورت

تحریر: محمد رجب علی مصباحی، گڑھوارکن: مجلس علماے جھارکھنڈ آج پوری دنیاکرونا وائرس جیسی مہلک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے