وہاٹس ایپ کی ڈیجیٹل داداگری

ظفر کبیر نگری
چھبرا ،دھرم سنگھوا بازار ،سنت کبیر نگر ،یوپی

سوشل میڈیا کی معروف ایپلیکیشن واٹس ایپ نے نئے سال میں اپنی سروس اور پرائیویسی پالیسی میں غیر معمولی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے ، جس کے مطابق فروری سے واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کا فون ڈیٹا فیس بک انسٹاگرام کے ساتھ دیگر تھرڈ پارٹی سے شیئر کیا جائے گا، واٹس ایپ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ تبدیلی کاروباری افراد کو پیش نظر رکھتے ہوئے متعارف کروائی گئی ہے تاکہ صارف فیس بک کے بنیادی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ چیٹس کو ذخیرہ کر سکیں،  ترجمان نے اپنے بیان میں یورپی یونین اور یو۔کے کو شرائط و ضوابط اور رازداری کی پالیسی میں تبدیلی سے مستثنیٰ قرار دےتے ہوئے کہا یہ امر اب بھی برقرار ہے کہ واٹس ایپ اپنی مصنوعات یا اشتہارات میں بہتری لانے کے لئے  یورپی خطے اور یو۔کے کے صارفیں کے ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر نہیں کرے گا، اس نئی پالیسی کے تحت صارفین کو اپنا نام، موبائل نمبر، تصاویر واٹس ایپ کو مہیا کرنا ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے پاس ٹرانزیکشن، پیمنٹ فیچر کی انفارمیشن اور صارفین کی لوکیشن بھی واٹس ایپ کے پاس ہوگی، واٹس ایپ نے اس پالیسی کے ذریعے صارف سے اجازت مانگی کہ وہ اُس کی چیٹ، کالز، وائی فائی اور اُس سے جڑنے والے دیگر نمبر، خرید و فروخت سمیت دیگر معلومات فیس بک یا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فراہم کردے، اس اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا گیا کہ صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا دوسرے کانٹیکٹس اور پلیٹ فارم کے ذریعے بھی ڈیٹا لیا جائے گا اور صارفین نئی پالیسی کی منظوری کے بعد ہی واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے، صارفین کو نئی پالیسی قبول کرنے کے لیے آٹھ فروری تک کا وقت دیا ہے تاکہ وہ سروس کا استعمال جاری رکھ سکیں، اور نئی پالیسی سے  اتفاق نہ کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹ غیر فعال کر دئیے جائیں گے، واٹس ایپ کی جانب سے اس انتباہ نے جہاں دنیا بھر میں اس سوشل ایپ کے صارفین کو پریشان کر دیا ہے وہیں صارفین واٹس ایپ کی اس نئی پرائیویسی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، صارفین کی اس شدید تنقید کے بعد اب واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے نئی پالیسی کے حوالے سے وضاحت پیش کی اور یقین دہانی کرائی کہ نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے اور نہ ہی اُن کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جائے گا، انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث ہم یا فیس بک آپ کے نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی پالیسی کو شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے اور اس میں پیپل ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے، ہم نے اسے اکتوبر میں تحریر کیا تھا، جس میں واٹس ایپ میں موجود کامرس کو بھی شامل کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دوسروں کے ساتھ پرائیویسی میں مقابلہ ہے، جو کہ دنیا کے لیے بہت اچھا ہے. 
بہر حال واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے نوٹیفکیشن اب لگ بھگ دنیا بھر میں صارفین کو مل چکے ہیں، جن کو نہیں ملے ہیں ان کو عنقریب مل جائیں گے، ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی عالمی پرائیویسی کے اصولوں کے خلاف ہے، اس لئے لوگ اس حوالے سے کافی رنجیدہ ہیں اور  دوسری متبادل ایپس پر منتقل ہونے کی بات کر رہے ہیں، اور واٹس ایپ کی متنازع پالیسی کے بعد صارفین بظاہر متبادل پلیٹ فارم تلاش کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں پیغام رسانی کی ایپلیکیشنز ٹیلی گرام اور سگنل کے صارفین میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ کے اس اعلان کے بعد ایپل اور گوگل سے تقریباً 1 لاکھ صارفین نے سگنل ایپ ڈاؤن لوڈ کیا، جبکہ اسی دوران ٹیلی گرام کے ڈاؤن لوڈ کی تعداد 2.2 ملین تک بڑھ گئی، اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں رواں ہفتے واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کی شرح میں 11 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی لیکن پھر بھی اس دورانیے میں دنیا بھر سے 10.5 ملین ڈاؤن لوڈ ریکاڈ ہوا، واٹس ایپ نے نئی پرائیویسی پالیسی میں کہا ہے کہ جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پروڈکٹس پر انحصار کرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر رہا ہے جن میں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں، نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنے واٹس ایپ اکاونٹ کو ڈیلیٹ کیے بغیر وٹس ایپ صرف موبائل سے ڈیلیٹ کرتا ہے تو اس کی معلومات محفوظ رہیں گی، واٹس ایپ نے اپنی پرانی پرائیویسی پالیسی میں صارفین کی پرائیویسی کی حفاظت کو اپنے ڈی این اے کا حصہ بتایا تھا، جبکہ نئی پالیسی میں یہ چیز اب شامل نہیں ہو گی تاہم واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹڈ کو برقرار رکھے گا، اس کے تحت نہ تو صارفین کے پیغامات کہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر کے لوگ جہاں واٹس ایپ کے مختلف متبادل پر غور کر رہے ہیں وہیں دنیا کے سب سے امیر آدمی اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے بھی ٹویٹر پر سگنل ایپ کو استعمال کرنے کی تجویز پیش کی، سگنل ایپ کو دنیا کی محفوظ ترین ایپس میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔  یہاں صارف کا ڈیٹا شیئر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، سگنل ایپ صارفین سے اپنے ذاتی ڈیٹا ، جس طرح واٹس ایپ اس وقت کر رہا ہے اس کے لئے نہیں پوچھتی ہے، یہاں صارف کے چیٹ کا بیک اپ کلاؤڈ (آن لائن اسٹوریج) پر نہیں بھیجا گیا ہے، ایک اور خاص خصوصیت یہ ہے کہ پرانے پیغامات خود یہاں غائب ہوجاتے ہیں، واٹس ایپ کی طرح ، کوئی بھی یہاں گروپ بنا کر آپ کو شامل نہیں کرسکتا ہے، انوائٹ پہلے بھیجنا پڑتا ہے، اس میں ریلے کالز کی خصوصیت بھی ہے اس کے ذریعہ ، آپ کی کال کو سگنل سرور کی طرف روٹ کیا جاتا ہے ، تاکہ سامنے کا رابطہ آپ کے آئی پی ایڈریس کو نہ جان سکے، آپ اس میں ایک پن بھی ترتیب دے سکتے ہیں تاکہ کوئی بھی آپ کا اکاؤنٹ استعمال نہ کرسکے. متبادل کے طور پر ٹیلیگرام کا ننام بھی لیا جا رہا ہے، جس کو کافی محفوظ اور سیکیور مانا جارہا ہے، تاہم ماہرین اس کی بھی کئی خامیاں بتا رہے ہیں، ٹیلیگرام ایپ میں "پیپل نیر بائی” کے نام سے ایک فیچر ہے جس  کے ذریعے صارف اپنے آس پاس کے نامعلوم ٹیلیگرام صارفین کو بھی پیغامات بھیج سکتا ہے، اگر آپ "میک مائیسیلف وزیبل” کو فعا بنائیں تو آپ کا پروفائل ارد گرد کے صارفین کو نظر آئے گا، تاہم اگر آپ ٹیلیگرام استعمال کرتے ہیں اور نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی نامعلوم صارف آپ کے مقام کے بارے میں آپ کا مقام دیکھے تو بہتر ہے کہ آپ میک مائی سیلف وزیبل آپشن آف رکھیں، اس وقت ٹیلیگرام کے پوری دنیا میں پانچ ملین فعال صارفین ہیں، ایک اور متبادل ایپ بپ یا بی آئی پی کا بھی مشورہ دیا جا رہا ہے، وکیپیڈیا کے مطابق یہ مسینجر فوری پیام رسانی کا ایک ایپ جسے ترک سیل نامی کمپنی کی ذیلی کمپنی لائف سیل نے نیدرلینڈز کے ایک ادارے سے تیار کروایا ہے، وکیپیڈیا کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی یوکرین اور ہالینڈ میں قائم ہے جس کے مالکان ترکی باشندے ہیں، اس کے یورپی حصص بردار بھی ہیں، بپ مسینجر آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں کے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور ایپل کے ایپ اسٹور، گوگل پلے اور ترک سیل ایپ مارکٹ سے بآسانی نصب کیا جا سکتا ہے، اس ایپ میں فوری پیام رسانی، اجتماعی پیام رسانی، مقام کی اطلاع دہی، کھیل اور پیسے کی منتقلی جیسی سہولتیں موجود ہیں، چنانچہ اس ایپ کی مدد سے صارفین اپنے پیغام، تصاویر، ویڈیو اور آڈیو وغیرہ مفت بھیج سکتے ہیں، نیز اگر صارفین چاہتے ہیں کہ ان کے ارسال کردہ پیغام متعینہ وقت کے بعد حذف ہو جائیں تو یہ سہولت بھی ایپ میں موجود ہے۔ لیکن سافٹ ویر انجینئر ظہیر مومن کا کہنا ہے کہ  سگنل اور ٹیلیگرام اس سے زیادہ محفوظ ہیں اور یہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ آپکا انفارمیشن شیئر نہیں کرتے، جبکہ بپ کی شرائط واٹساپ سے زیادہ خطرناک ہیں مگر واہ رے امت مسلمہ!! بنا سوچے سمجھے اور بنا تحقیق کسی بھی ایپ کو پروموٹ کرنے میں لگ گئے، انہوں نے مزید کہا کہ جس مقصد کے لیے واٹساپ کے متبادل طور پر اسکا نام پیش کیا جارہا ہے یعنی ڈیٹا پراویسی تو بپ ایپ اسپر فٹ نہیں بیٹھتا،بہر حال ہم سب کو خوب سوچ سمجھ کر واٹس ایپ پر باقی رہنے یا نہ رہنے اور دوسرے متبادل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے