رشتہِ ازدواج ، بے حیایٔ، اور نوجوان نسل

تحریر: رمشا یاسین (کراچی)

اللہ نے اسلامی تعلیمات کے ذریعے معاشرے میں جو نظم و ضبط قائم کیا ہے، اس سے انسانیت کی فلاح و بہبود مقصود ہے۔ رشتہ ازدواج کی تدریج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو کہ انسان کو نہ صرف اس کی حدودو قیود سے مطلع کرتی ہے ، بلکہ خاندانی نظام اور نسلِ انسانی کی بقا کا سامان بھی مہیا کرتی ہے۔ رشتہِ ازدواج اسلامی رو سے اللہ کا بنایا ہوا سب سے حسین اور پاکیزہ ترین رشتہ ہے، جو کہ حضرتِ آدم اور بی بی حوا کے قیام سے شروع ہوا اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اللہ نے اس رشتے کی بدولت دو انسانوں کے درمیان محبت و مودت کا جو تعلق قائم کیا ہے، اس کی بنا پر انسانیت پھلتی پھولتی ہے، نسلیں پروان چڑھتی ہیں، اور معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لینے سے پہلے ہی مرجاتی ہیں۔ اللہ نے نکاح کی حد لاگو کرکے انسانیت کو حیوانیت سے جدا کیا ہے۔ تاکہ خواہشاتِ نفسانی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر انسان ، جانوروں کی طرح ہر جگہ منہ نہ مارتا پھرے، بلکہ وہیں سے پھل حاصل کرے جہاں سے اس کے لیٔ جائز قرار دیا گیاہے۔ رشتہِ ازدواج کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں بیشتر مقامات پر اللہ نے نکاح کا حکم دیا ہے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے جنس سے تمہارے لیٔ بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سے سکون حاصل کرو اور تمہارے دررمیان محبت اور رحمت پیدا کردی (سورۃ الروم)۔ اللہ نے یہ رشتہ صرف اسی لیٔ قائم نہیں کیا، کیوںکہ نسلِ انسانی کی بقا مقصود تھی، بلکہ اس لیٔ بھی تاکہ انسان کی ضرورت پوری ہوسکے۔ علاوہ ازیں یہ کہ اگرانسان اپنی اس ضرورت کو ناجائز طریقہ کار سے پوراکرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ جنسی لذت تو پالے گا، مگر ابدی سکون کبھی حاصل نہیں کرپاے ٔ گا۔ سائنسی پیچیدگیوں کو بھی اگر مدِ نظر رکھا جاے ٔ تو یہ بات ثابت ہوجاے ٔ گی کہ ناجائز تعلقات سے کیسی کیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ حیاتِ انسانی صرف جنسی لذتوں پر مبنی نہیں، روح کا پاک و خالص رہنا بھی بہت ضروری ہے۔اور نوجوان نسل اسی مدعے کو نظرانداز کررہی ہے، نتیجتاً بے شمار گمراہیوں میں مبتلا ہے، جن میں سرِ فہرست زنا ہے۔ جس کی بدولت بے شمار بیماریاں اور ڈیپریشن نوجوان نسل میں حد سے زیادہ پھیلتے جارہے ہیں۔

رشتہِ ازدواج اللہ کا بنایا ہوا قانون ہے، اور قانون میں خلل پیدا کرنے کی کوشش انسان کو تباہ کردیتی ہے۔ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے لیٔ نکاح کا عمل ضروری ہے اورنکاح تمام انبیاء کرام کی سنت رہی ہے ۔ پھر ظاہر ہے کہ سنت کو چھوڑنے والا کبھی مومن نہیں ہوسکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا(سورۃ الرعد)۔انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بندہ نے شادی کرلی تو اس نے نصف دین مکمل کرلیا۔ یعنی کہ انسان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ نکاح نہ کرلے۔ امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی تشر یح کرتے ہوے ٔ اس کے مفہوم سے آگاہ کرتے ہیں کہ نکاح ،زنا سے بچاتا ہے اور انسان کو پاکدامن رکھتا ہے۔ پاکدامنی ان دو خصلتوں میں سے ایک ہے جس پر آپﷺ نے جنت کی ضمانت لی ہے۔آپﷺ کا ارشاد ہے: جو مجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز(یعنی زبان اور شرمگاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں (بخاری)۔کیوں کہ انسان جب بہک جاتا ہے، تو سب سے پہلے اس کی حیا اختتام کو پہنچتی ہے، اور جس نے اپنی حیا کو کھو دیا، وہ انسان ہر قسم کے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔آج کے دور میں ہم اس بات کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کرسکتے ہیں، کیوں کہ نسلِ نو بے حیایٔ کی راہوں پر گامزن ہے اور ان کی نظر میں نکاح کی کویٔ اہمیت نہیں رہی، البتہ ناجائز رشتے انہیں خوب بھاتے ہیں۔آپﷺ کا ارشاد ہے : اے نوجوانوں کی جماعت، تم میں سے جسے بھی نکاح کرنے کے لیٔ مالی طاقت ہو ، اسے نکاح کرلینا چاہیے، کیوں کہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والااور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے، اور جو کویٔ نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ روزہ رکھے، کیوں کہ روزہ اس کی خواہشاتِ بفسانی کو توڑ دے گا(البخاری)۔پس تو ثابت ہوا کہ نکاح نفس کو دبانے کا ایک بہترین عمل ہے۔ ایسے میں وہ لوگ جنہیں بات کی کھال نکالنے کی عادت ہوتی ہے اور دین میں منطق تلاشتے پھرتے ہیں،سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر نکاح اتنا ہی ضروری ہے تو فرض کیوں نہیں؟ نکاح سنت ضرور ہے، مگر فرض کے قریب ترین سنت ہے۔ کیوں کہ کچھ سنتوں کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر فجر کی دو سنتوں کے بارے میں اگر ہم بات کریں۔ یہ ایسی سنت ہے جو آپﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں چھوڑی، اسی لیٔ ہم بھی فجر کی دو رکعات فرض سے پہلے لازماً دو سنتیں ادا کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح نکاح وہ سنت ہے جو آپﷺ نے اپنی زندگی میں ایک بار نہیں بلکہ کیٔ بار سر انجام دی ہے۔ تو کیا ایسی سنت کو ترک کرنا چاہیے؟ دوسرا یہ کہ نکاح اس لیٔ بھی فرض نہیں، کیوں کہ اللہ نے اس عمل کے تحت ان لوگوں کے لیٔ آسانیاں مہیا کردیں جو نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ مثلاً اپاہج حضرات، یا وہ لوگ جو دماغی طور پر صحیح حالت میں نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر وہ شخص جو صاحبِ استطاعت ہے، اور اس کے پاس کویٔ شرعی وجہ نہیں نکاح نہ کرنے کی، اُس پر، نکاح کی ادائیگی لازم ہے۔اور اگر کسی شرعی عذر کی پیشگی ہو تو روزے رکھنا لازم ہیں۔

نکاح کے اور بہت سے فوائد ہیں ، جیسے کہ اللہ کہتا ہے: میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ یعنی کہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا ادھورا ہے۔ بے شک یہ اس کی عظیم ترین قدرت ہے کہ اس نے ایک ہی مٹی سے دو طرح کے جنس پیدا کیے۔ جو کہ صنفِ مخالف ہونے کے باوجود ایک مکمل جوڑا ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے رات دن، زمین و آسمان، پھو ل اور کانٹا، پتھر اور موم، صبح و شام، گرمی و سردی، سخت اور نرم۔ دونوں کے میلاپ کے لیٔ دونوں کا مخالف ہونا ضروری ہے۔ جس طرح کپڑا، جو کہ فطرتاً نرم ہوتا ہے، اس کی پیوند کاری کے لیٔ سویٔ کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل ایسے ہی مرد و عورت کا رشتہ ہے، کہ دونوں ایک ساتھ ہوں تو مکمل ہیں۔ دنیا کا نظام ایسے ہی رواں دواں ہیں ۔ کچھ بھی اس سے جد ا نہیں۔ اور اسی نظام میں خلل پیدا کرنا شیطان کا سب سے بڑا ہتھ کنڈا ہے۔ جب شیطان کسی معاشرے کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو اس معاشرے سے حیا ختم کرتا ہے، دویا دو سے زائد غیرانسانوں کو ایک دوسرے کے سامنے برہنہ کرتا ہے، نتیجتاً رشتہ ازدواج کی کمزوری اور بے حرمتی کا عمل شروع ہوا جاتا ہے، نسل و نسب برباد ہوجاتا ہے، خاندانی نظام تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں، نسلوں میں برائیاں و بیماریاں جنم لیتی ہیں، اور قومیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ اگر مغرب کی طرف نگاہ دوڑایٔ جاے ٔ تو ہر طرف بے حیایٔ ہی دکھایٔ دیتی ہے۔ مرد و عورت کا اختلاط اور ناجائز تعلقات کا تسلسل بڑھتا جارہا ہے، نتیجتاً حرام اولاد کی کثرت ہے ، زنا جیسی بدکاریاں پھل پھول رہی ہیں،طلاق کا عمل بڑھتا جارہا ہے اور اکثریت ذہنی ہیجان و دباو اور پریشانی کا شکار ہے۔ایسے میںہم بھی مغرب کے ہی نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور شیطان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ گیٔ ہیں، کیوں کہ ہم نے اپنے دین کی تعلیمات کو بھلا کر رشتہ ازدواج کی اہمیت سے منہ پھیر لیا ہے اور نکاح محض ایک مجبوری بن کر رہ گیٔ ہے۔ لوگ اپنے حدود پھلانگ چکے ہیں،وحشیانہ پن بڑھتا جارہا ہے، شادی بیاہ کی حیثیت ایک پھوٹی کوڑی کی بھی نہیں رہی، نتیجتاً مر و عورت د ونوں کو ، اپنی شہوانیت کی آگ بجھانے کے لیٔ ناجائز راستے ہی نظر آتے ہیں ۔جب کہ نکاح انسان کو ان تمام گناہوں سے بچاتا ہے۔کیوں کہ اللہ نے جو حد لاگو کی ہے، اسے پھلانگنے کی سزا سے بھی اس نے آگاہ کیا ہے۔اسی لیٔ تربیتِ اولاد ہر ماں باپ پر فرض ہے۔ نکاح کا جو رشتہ اللہ نے قائم کیا ہے، اس کی اول وجہ تو یہ کہ نسلِ انسانی کا تحفظ قائم و دائم رہے، دوسری یہ کہ شوہر و بیوی دونوں مل کر اسلامی قاعد و قوانین کو مدِ نظر رکھتے ہوے ٔ اپنی آنے والی نسل کے لیٔ ایک بہترین نمونہ بن سکیں۔ تاکہ ان کی اولاد بھی ان کے نقشِ قدم پر چل کر نہ صرف اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوسکے، بلکہ معاشرے سے برائیوں کے خاتمے کی وجہ بھی بن سکے۔ مگر افسوس، نہ تو ماں باپ اس رشتے کی اہمیت سے واقف ہیں، اور نہ ہی اولاد کو وہ کچھ بھی سکھانے یا بتانے کے قابل ہیں۔ ان کا سارا زور صرف دنیاوی تعلیم پر ہے، جس میں اخلاقیات کا کویٔ عمل دخل نہیں۔پس اسی لیٔ تعلیم بھی فتنہ بن چکی ، کیوں کہ دنیاوی تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے سمجھتے نوجوان نسل اپنی حدود پار کرچکی ہے۔لڑکیاں جب تک مردوں جیسے کپڑے نہ پہن لیں، وہ خود کو پڑھا لکھا تصور ہی نہیں کرسکتیں،لڑکا و لڑکی کا دوستانہ رویہ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ،جنسی تعلق سے اجتناب تو ایک پرانی سوچ میں ڈھل چکی۔غرض کہ تعلیمی ادارے بھی زنا اور گمراہی میں ڈوبے ہوے ٔ ہیں۔طالبعلموں کو سب کچھ پڑھایا جارہا ہے، سواے ٔ اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات کے، نتیجتاًبے حیایٔ عروج پر ہے، اور رشتہ ازدواج بربادیِ راہ کی جانب ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے