کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

از: برکت اللہ فیضی یارعلوی، گونڈہ

تماشہ اتنا تو کر گزرنا

نبی کا دیوانہ ہو کے مرنا

کہ لوگ دیکھیں تیرا جنازہ

کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

قرن کا مشہور ھے یہ قصہ

نبی کا عاشق ایک ایسا گزرا

کہ جس نے دانتوں کو اپنے توڑا

کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

کبھی تو غوث الوری کے درسے

کبھی تو خواجہ پیا کے گھر سے

نکل ہی جاتا ھے کام اپنا

کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے