حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ: افکار و کارنامے

از:محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی
رام گڑھ (رکن :مجلس علماے جھارکھنڈ) 7007591756 

حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت  ہندوستان کے مشہور صوبہ یوپی کے ضلع مرادآباد کے ایک قصبہ بھوج پور میں بروز پیر صبح کے وقت 1312ھ مطابق 1894ء میں ہوئی. 
حافظ ملت کا تعلیمی زمانہ اور مبارک پور آمد: 
 بچپن ہی سے ہی سے آپ کی پیشانی پر سعادت و ارجمندی کے آثار ہویداتھے بلکہ دادا محترم نے تو روز پیدائش ہی یہ بشارت دے دی تھی کہ "میرا یہ بچہ عالم دین ہوگا”. والد محترم کا یہ معمول تھا کہ بھوج پور میں جب کوئی بزرگ تشریف لاتے تو والد صاحب حافظ ملت کو ان کے پاس لےجاتے اور دعا کی درخواست کرتے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن اپنے والد محترم کے پاس مکمل کی. اردو درجہ چار تک کی پڑھائی بھوج پور ہی کے ایک اسکول میں کی ۔ فارسی مولوی عبدالحمید بھوج پوری، مولوی حکیم مبارک اللہ اور حافظ حیکم نوراللہ بخش صاحبان سے پڑھی. اس کے بعد پانچ سال تک گھریلو حالات کے پیشِ نظر تعلیمی سلسلہ منقطع رہا، اور قصبہ بھوج پور کی بڑی مسجد کے امام اور مدرسہ حفظ القرآن کے مدرس بن گئے. (ملخص. مختصر سوانح حافظ ملت. ص:18تا22)پانچ سال بعد پھر تعلیمی سلسلہ شروع کرتے ہیں اور حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ سے علم دین حاصل کر کے فراغت حاصل کرتے ہیں. مبارک پور آمد: فراغت کے ایک سال بعد حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ نے بریلی شریف طلب کیا. چناں چہ شوال 1352ھ میں بریلی شریف پہنچ کر اپنے مشفق و محترم استاذ سے ملاقات کی تو حضرت صدرالشریعہ نے فرمایا: میں آپ کو مبارک پور مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں تدریس کے لیے بھیج رہا ہوں کہ میرے باہر رہنے کی وجہ سے میرا ضلع اعظم گڑھ خراب ہوگیا، جائیے وہاں جا کر دین کی خدمت میں مصروف ہوجائیے۔ آپ نے عرض کیا: حضور! میں ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ حضرت صدرالشریعہ نے فرمایا: میں نے آپ سے ملازمت کے لیے کب کہا ہے؟ میں تو آپ کو خدمت دین کی خاطر بھیج رہا ہوں. اس ارشاد کے بعد آپ مبارک پور 2/ذی قعدہ 1352ھ مطابق 7/ فروری 1934ء میں آکر خدمت دین میں سرگرم ہوگئے. آپ کے آتے ہی بڑی تیز رفتاری سے تدریسی کام انجام پانے لگا اور کافی تعداد میں بیرونی طلبہ اکٹھا ہوگئے.
اشرفیہ__ایک انقلابی تحریک:
 یوں تو حضور حافظ ملت نے کئی جہتوں سے چمن اسلام کی آبیاری فرمائی ہے اور ہرجہت اتنی روشن و تابندہ ہے کہ اس پر گھنٹوں گفتگو کی جاسکتی ہے، مگر ان سب سے قطع نظر اگر صرف شخصیت سازی اور جامعہ اشرفیہ کی تعمیر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس زاویۂ نظر میں بھی آپ کا مقام بالکل منفرد اور یکتا نظر آئے گا۔سنی دنیا میں آپ کا کیا مقام ہے اور مذہب حق اہل سنت، مسلک اعلٰی حضرت کے فروغ میں آپ کا کیا رول رہا ہے ان ساری باتوں کا جواب اگر ایک لفظوں میں دینا ہو تو فقط "الجامعۃ الاشرفیہ” ہی کہہ دینا کافی ہوگا۔ 
حافظ ملت اور شخصیت سازی:  حضور حافظ ملت کی زندگی کا سب سے نمایاں جوہر اپنے تلامذہ کی پرسوز تربیت اور ان کی شخصیتوں کی تعمیر ہے۔ آپ اپنے اس وصف خاص میں اتنے منفرد ہیں کہ دور دور تک کوئی آپ کا شریک و سہیم نظر نہیں آتا۔ شخصیت سازی سے میری مراد اپنے تلامذہ کو ان اوصاف کا حامل بنانا ہے جو ایک "مرد مومن” کی زندگی کا لازمہ ہوا کرتے ہیں.شخصیت سازی کا فن کس قدر دشوار کن ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں. مگر حضور حافظ ملت کردار سازی اور شخصیت نوازی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تاج محل کی تعمیر آسان ہے، لیکن شخصیتوں کی تعمیر بہت ہی مشکل کام ہے. مگر چوں کہ حافظ ملت کو اس کام سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اس لیے مشکل ہونے کے باوجود بھی نہایت ہی حسن و خوبی سے انجام دیا اور آج ان کے بنائے ہوئے کردار اور سنواری ہوئی شخصیتیں دوسروں کو بنا سنوارکر انھیں مستقبل کے لیے تیار کررہی ہیں، اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہند بھی حافظ ملت کے خوشہ چیں میر کارواں بن کر اپنے مربی اور مشفق باپ کی تحریک کو اوج ثریا تک پہنچانے میں کوشاں ہیں. سخصیت سازی کے آنگن میں جو پھول کھلے ہیں ان میں اگر صرف ناموں کی ایک فہرست مرتب کرنے بیٹھا جائے تو ایک ضخیم دفتر درکار ہوگا.
شخصیت سازی کے لیے کسی معلم و مصلح میں پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے:شفقت،ذہانت، تدبر، علم اور تقویٰ۔۔  حقائق و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ پانچوں اوصاف حافظ ملت کی زندگی میں ابھرے ہوئے نقوش کی طرح نمایاں تھے. حضرت حافظ ملت اپنی شخصیت سازی سے اس قدر مطمئن تھے کہ بارہا فخریہ انداز میں اپنے خوشہ چینوں کا تذکرہ کرتے ہوئے شکرخداوندی بجالاتے۔چناں چہ ایک مرتبہ جشن تاسیس الجامعۃ الاشرفیہ کے زریں موقع پر ابنائے اشرفیہ قدیم سے خطاب کرتے ہوئے رقت انگیز لہجہ میں فرمایا: میں نے آج تک کوئی کاغذی اخبار و اشتہار تو نہیں شائع کیا مگر ہاں (مفتی شریف الحق امجدی ،بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی، علامہ ارشدالقادری ،علامہ بدرالقادری،علامہ قمرالزماں خان اعظمی اور دیگر موجود ممتاز شاگرد علما کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) یہ ہیں اشرفیہ کے وہ زندہ جاوید اخبارات و اشتہارات جنھیں ہم نے بڑے اہتمام کے ساتھ خون جگر کی سرخیوں سے شائع کیا ہے . (ملفوظات حافظ ملت. ص : 134.133)
ذکر نماز اور فکر حافظ ملت:
حضور حافظ علیہ الرحمہ کی ذات بڑی قدآور تھی ۔ آپ شریعت اسلامی پر مکمل طور سے عمل پیرا تھے،آپ دن کے مجاہد تو رات کے شب زندہ دار عابد اور تہجد گزار تھے۔ آپ نماز کے بارے میں اکثر تاکید کرتے اور فرماتے کہ بندۂ مومن کو سب سے زیادہ اپنے خالق سے اس وقت قربت حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ سجدے میں ہوتا ہے. فجر کی نماز اکثر لوگوں سے قضا ہوجاتی ہے اس سلسلے میں حافظ ملت نے کیا ہی خوب صورت انداز میں ایک جلسۂ عام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "ایک انسان جو کئی دن کا تھکا ماندہ ہو اور اسے کسی اچھے کمرے میں سلا کر ساتھ ہی میں یہ پیغام سنادو کہ یہاں ایک سانپ بھی موجود ہے، تو یقینی طور پر وہ شخص سانپ کے خوف سے سونہیں سکتا. تو جب سانپ کے خوف سے نیند اڑسکتی ہے تو دل میں خدا کا خوف ہو اور نماز کے وقت نیند آجائے یہ عقل سے لگتی ہوئی بات نہیں” (ملخص. حیات حافظ ملت. ص:231) نماز میں یکسوئی: مبارک پور کے رہنے والے ایک حاجی صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے حضور نماز میں خیالات بٹتے رہتے ہیں، بہت کوشش کر تا ہوں کہ نماز میں یکسوئی رہے مگر نہیں ہوپاتا. حافظ ملت نے ارشاد فرمایا :حاجی صاحب! جو کچھ نماز میں پڑھیےاپنے کان سے پڑھنےکی آواز سنتے رہیے. حاجی صاحب پھر کسی دوسرے موقع پر حاضر ہوئے اور عرض کیا :حضور کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا اب نماز میں یکسوئی رہتی ہے اور خیالات بٹتے نہیں ہیں (معارف حافظ ملت. ص:115) 
وعدہ وفائی: ایک مرتبہ گورکھپور کے کسی جلسے میں مدعو تھے مگر عین تاریخ پر طبیعت اتنی علیل ہوگئی کہ سفر مشکل ہو گیا، لیکن جذبۂ صادق القولی کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب کہ آپ بخار سے تپتے ہوئے بدن کے ساتھ شریک اجلاس ہوئے. حالاں کہ لوگوں نے منع کیا لیکن حافظ ملت پھر بھی نہ مانے کہ یہ حافظ ملت کی قومی ہمدردی تھی، آپ نے ارشاد فرمایا :ہاں رک جانا چاہیے مگر میں نے وعدہ کرلیا ہے، نہیں پہنچوں گا تو غریبوں کا دل ٹوٹ جائے گا، مذہب کا نقصان ہو گا. (حافظ ملت افکار و کارنامے. ص:101)
 حب الوطنی: حضرت حافظ ملت کی یہ دور بینی اور سیاسی بصیرت اس حقیقت کی غماز ہے کہ وہ واقعی حافظ ملت تھے،ملت کے پاسبان تھے. 1947ء کے ہنگامۂ ترک وطن کے وقت جب تقسیم ہند کے بعد مسلمان سیاسی آندھیوں کی زد میں آکر ترک وطن کرکے سرحد پار پاکستان جانے لگے تو آپ نے جانے والوں کو غیرت دلائی کہ تم چلے جاؤگے تو مدارس ومساجد اور مزارات کی حفاظت کون کرے گا؟ وہ ہندوستان جس میں خواجۂ اجمیری و محبوبِ الٰہی نے انسانیت کا درس دیا تھا…. یہاں ہماری ہزاروں نشانیاں موجود ہیں اس وطن کو چھوڑ کر الگ تھلگ گوشۂ تنہائی اختیار کیا جائے؟؟ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ ہی روز بعد ہماری ساری علامتیں، ہماری ساری نشانیاں بلکہ بر صغیر ہند پر اسلامی عروج و ارتقا کی تاریخ کے سارے ذخیرے گنگ وجمن کی لہروں میں گم ہوجائیں گے (حیات حافظ ملت. ص:460) 
اس  پرفتن اور خوفناک ماحول میں حافظ ملت علیہ الرحمہ نے مذہبی جلسوں اور مجلسوں میں جا جا کر جگہ جگہ تقریریں کی اور ان کی ذہن سازی کی کہ اے مسلمانو! تم اسی ملک کی پیداوار ہو، اسی ملک میں تمھارے مکانات ہیں، تمھاری مسجدیں، تمھارے مدرسے ہیں، تمھارے آبا واجداد کی قبریں ہیں اور مزارات اولیا ہیں جو اسلامی شعائر ہیں، جن کی حفاظت کی ذمہ داری خود تمھارے اوپر ہے. تم نے اگر وطن چھوڑدیا تو اسلامی شعائر کی پامال حرمتیں قیامت میں تمھارے دامن گیر ہوگی. لہٰذا جہاں پیدا ہوئے ہو وہیں رہو، اس کی حفاظت کرو، اسی سے اپنا مستقبل وابستہ کرو، اسی سے محبت کرو کہ وطن کی محبت بھی ضروریات دین سے ہے.آپ نے بروقت اپنے دوربین نگاہوں سے ان کی تاریک مستقبل کو دیکھتے ہوئے ایک اہم کتاب”ارشادالقرآن” لکھ کر ان کی رہنمائی کی جس کے بہترین اثرات مرتب ہوئے.
وصال پر ملال:یکم جمادی الاخری 1396ھ مطابق 31مئ 1967ء کو محافظ ملت، ملت کا عظیم معمار  اہل مبارک پور اور جہان سنیت کو روتا بلکتا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اپنے مالک حقیقی سے جا ملا. انا للہ وانا الیہ راجعون. 
علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
حضور حافظ ملت گئے، مگر اس شان سے گئے کہ زبان تو بند کر لی ہے مگر لاکھوں منہ میں زبان دے گئے. قلم تو رک گیا مگر لاکھوں ہاتھوں میں دریا کی روانی کی طرح چلتے ہوئے قلم دے گئے. چلنا بند کر دیا مگر لاکھوں پیروں میں دین کی راہ میں چلنے کی تڑپ بخش گئے. فکر وتدبر کا سلسلہ بند کر دیا، مگر لاکھوں ذہنوں کو فکرو شعور اور علم و آگہی کی دولت دے گئے. درس دنیا چھوڑ دیا مگر لاکھوں اہل علم پیدا کرگئے جو ان کی مسند تدریس کی یادگار ہیں. بہ ظاہر تبلیغ و ارشاد کی مسند خالی ہے مگر سیکڑوں روحانی فرزند چھوڑ گئے جو آج بھی روحانیت کے علم بردار ہیں. (حافظ ملت. ص:79)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حیات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

از قلم: محمد انس قادری رضویمجلس اصحابِ قلم گورکھپور آپ‌ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے