مضمون نگاری کا طریقہ

از قلم: ابوالمتبسم ایاز احمد عطاری، پاکستان

آپ کی لکھی ہوئ کوئ سی بھی لکھی ہوئ تحریر آپ کے مرنے کے بعد باقی رہ سکتی ہے۔ اور یہ تحریر آپ کیلئے بخشش کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
تحریر لکھنے کا طریقہ کیا ہے۔؟؟
تحریر لکھنا بندہ کیسے سیکھے .؟؟

تو میں آپ کو اس تحریر میں 4 ایسے طریقے بتاتا ہوں۔ جس پہ آپ عمل کر کے ایک اچھے محرّر اور مئولف بن سکتے ہیں۔

1️⃣ طریقہ: انسان کی زندگی ایک داستان ہے۔ اور اس کی زندگی کا ہر دن اس داستان کا ایک ورق ہے۔ اگر کوئ شخص روز مرہ پیش آنے والی کہانی کا اپنے ذہن میں خاکہ بنا کر اپنی ڈائری پہ لکھنا شروع کریں۔ تو ایک دن یہ ایک اچھا محرر بن سکتا ہے۔

2️⃣ طریقہ: ہر دن کوئ اچھی تحریر بغور پڑھ کر اس کا خلاصہ بنائیں۔ اور اس خلاصے کو تحریر کریں۔

3️⃣ طریقہ: ہر دن ” مکالمہ ” کریں۔
یعنی:: کسی دوسرے بندے کے ساتھ آپ کسی موضوع پہ بات کریں۔۔۔

4️⃣ طریقہ:ہر دن اپنے دوستوں کو مختصر اور بامعنی ایک خط لکھیں۔ کیونکہ مختصر ، بامعنی خطوط تحریر کی صلاحیت پروان چڑھانے کا ایک موثر طریقہ ہے۔

کئی منزلوں کو آپ تلاش کرتے ہیں اور کئ منزلیں آپ کو تلاش کرتی ہیں لہذا ہمت کریں ، آگے بڑھیں۔

کوشش کامیابی کی کُنجی ہے اور کامیاب لوگ کوشش کبھی ترک نہیں کرتے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے