ملفوظات تاج العلماء شیخ الاسلام سیدی محمد ابوالھدی الصیادی الرفاعی الحسینی

(1) دنیا اور آخرت میں سب سے عمدہ اور سب سے شرف والی چیز اللہ تعالی پر ایمان لانا ، اس کی حدود کی پاسداری کرنا اور اس کی شریعت کو مضبوط تھامنا ہے ۔
(2) قناعت : نکمے پن کا نام نہیں ہے جیسا کہ بعض جاہل لوگ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اپنی تمام تر کوششیں برائے کار لاتے ہوئے حرص ، لالچ ، پست ہمتی اور رزق کمانے میں حرام کاموں سے اجتناب کا نام ”قناعت“ ہے ۔
(3) اُس شخص کی حالت کتنی بُری ہے جو ظاہر میں تو دنیا سے بے رغبتی دکھاتا ہو مگر اپنے باطن اور دل میں جھوٹا ہو ، درھم و درینار نے اسے جبار بادشاہ جل شانہ کی رضا والے کاموں سے ہٹا دیا ہو اور اسی چکر میں حلال و حرام مکس کر چکا ہو اور اس کا اُٹھنا بیٹھنا سب اس کی اغراض سے جڑا ہوا ہو اور وہ یہ بھول چکا ہو کہ دنیا محض دھوکے والا خواب ہے اور وہ اس فانی دنیا کو دائمی گمان کر بیٹھا ہو ۔
ایسا شخص معرفت کے میدان سے بہت دور ہے اور نقصان کے گڑھے کے بہت قریب ہے ۔
(4) آدمی کی سب سے عمدہ خصلت (رذائل سے بلند تر رہتے ہوئے) تواضع اختیار کرنا ہے ۔
پاکیزہ اور نیک تر نبی ﷺ کی حدیث شریف ہے :
من تواضع للہ رفعہ اللہ
جو اللہ تعالی کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے بلند فرما دیتے ہیں
تواضع نفس کی شرافت ، طبیعت کے ادب اور عادات میں پختہ تہذیب سے وجود میں آتی ہے اور یہی تواضع اچھائی اور برائی میں فرق کرنے والا جھنڈا ہے ۔
(5) آدمی تین قسم کے ہیں :
ایک وہ جو تم سے بلند مرتبہ ہو تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آنا حماقت ہے۔
دوسرا وہ جو تم جیسا ہے تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آنا ظلم ہے۔
تیسرا وہ جو تم سے کم مرتبہ ہے تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آنا قابل ملامت ہے۔
(6) دوست وہ ہے جو تمہاری عادات سے واقف ہو ، تمہارے چہرے (کو ذلیل ہونے سے) بچاتا ہو ، تمہاری عدم موجودگی میں (تمہارے حقوق کی) نگہداشت رکھتا ہو ، تمہاری محبت کی رعایت رکھتا ہو ، تمہارا حق چھپاتا نہ ہو ، اور تمہارے مشکل کاموں میں تمہارا ساتھ دیتا ہو ۔
(7) کریم انسان عقائد میں گمراہ نہیں ہوتا اگرچہ اس کا نفس اس کو شہوتوں کے گڑھے میں گرا دے بلکہ وہ اللہ تعالی کو نہیں بھولتا اور جو چیز اسے اللہ جل علاہ کی طرف لے آتی ہے اسے بے کار نہیں چھوڑتا ، حکمِ توحید کی تعظیم کرتا ہے ، قرآن مجید کی شان کو برتر مانتا ہے ، اپنے سعید نبی ﷺ کی ہیبت سے اس کا دل کانپتا ہے ، اہل بیت ، صحابہ ، دین کے مددگار ، حضور ﷺ کے رشتہ دار ، تابعین ، تبع تابعین ، اولیاء ، صالحین ، ان کی اولاد ، اور ان کے وراثین سب کے مقام و مرتبے کی عظمت کو مانتا ہے ، بغیر فکری جھگڑے اور جدال کے شریعت کے ہر حکم کو تسلیم کرتا ہے اور جب کسی حکم سے ناواقف ہونے کی وجہ سے شیطان کو اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو وہ شیطان کی کمر توڑتا ہے اور اہلِ ذکر اہل علم سے رہنمائی لے لیتا ہے تاکہ کتاب مکنون قرآن کریم پر عمل ہو سکے جس میں کہا گیا ہے :
فاسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون
”اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے معلوم کر لو“
(8) عمل وہی قبول ہوتا ہے جو اخلاص سے ہو اور دل ، خیال اور نیت کے بگاڑ سے پاک ہو کیوں کہ ریاء ، شہرت اور ناموری کی طلب اور مدح و ثناء وغیرہ حاصل کرنے کی امید عمل کی (قدر و منزلت) گرا دیتے ہیں اور اس عمل میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالی کا ارشاد یہ ہے کہ :
الا للہ الدین الخالص
سنو دین یعنی خالص عبادت اللہ کے لیے ہی ہونی چاہیے ۔
اور عمل کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اس میں بندے کی اپنی رائے کی دخل اندازی نہ ہو بلکہ وہ عمل ویسے ہی بجا لایا جائے جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی مبارک زبان سے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیا ہے ۔
(9) سمجھدار آدمی پر یہی لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی پر ایمان رکھے ، اسی سے التجاء کرے اور اسی پر توکل کرے ۔
(10) جو شخص اللہ تعالی کو پہچان لیتا ہے تو وہ اپنی تمام امیدیں اور اپنی تمام چاہتیں اسی سے جوڑ لیتا ہے اور اپنے تمام حالات میں حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور ادب کی زبان سے یوں کہتا ہے کہ :
انا للہ و انا الیہ راجعون
بے شک ہم اللہ کے ہی ہیں اور بے شک اسی کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے.

(بحوالہ کتاب : صوت الھزار و زیق العذار)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے