تصوف کے نام پر بھکتی مذہب کا فروغ (قسط دوم)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط اول میں یہ وضاحت مرقوم ہوئی کہ بعض مسلم صوفیوں نے بھی بھکتی مذہب کے اثرات کو قبول کیا اور ہندؤں کے مذہبی تہواروں یعنی ہولی,دیولی وغیرہ میں حصہ لینے لگے اور بعض ہندوانہ رسوم و رواج کو قبول کر کے اسلام اور ہندومت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ دین اسلام کے اصول وضوابط اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)نے بیان فرمائے ہیں۔کسی عالم یا صوفی,مجتہد یا مجدد,غوث یا قطب,تابعی یا صحابی نے اصول اسلام کے خلاف کچھ کہا تو وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

عہد صدیقی میں بعض صحابی بھی مدعیان نبوت کے پیروکار ہو گئے اور مرتد قرار پائے۔ان مرتدین میں تابعین کی تو کثیر تعداد شامل ہے۔

شمالی ہند کے بھکتی مذہب میں رام اور کرشن کو اوتار مان ان دونوں کی پوجا شروع کی گئی۔اس وقت رام اور کرشن کو فرضی شخصیت اور محض عقیدتوں کا مرکز تسلیم کیا گیا تھا۔ان کو تاریخی شخصیت نہیں سمجھا جاتا تھا۔

انگریزوں کے زمانے میں رام کو تاریخی شخصیت سمجھا جانے لگا اور بابری مسجد کے باہر رام کی جائے پیدائش بھی مان لی گئی۔آزادی کے بعد بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے بیچ جائے پیدائش مانی گئی اور 22-23دسمبر 1949 کی درمیانی شب کو وہاں مورتی بھی رکھ دی گئی۔06:دسمبر 1992 کوبابری مسجد توڑ بھی دی گئی۔09:نومبر 2019 کو ملک کے سپریم کورٹ نے رام مندر بنانے کا فیصلہ بھی کردیا۔اگست 2020 میں مندر کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔اب وہاں رام مندر زیر تعمیر بھی ہے۔ایک فرضی شخص کو حقیقی اور وجودی انسان تسلیم کر لیا گیا۔

بھکتی مذہب سے متاثر کچھ صوفیا نے بھی رام و کرشن کی پذیرائی کی۔ان کے ملفوظات وغیرہ میں ایسی کچھ باتیں مل سکتی ہیں۔ایسے گمراہ صوفیوں سے قطع تعلق کریں۔آج بھی کچھ صوفی اسی نہج پر جا رہے ہیں۔

بعض ہندو تنظیمیں بھکتی مذہب کو فروغ دے کر مسلمانوں کو مسلم نما ہندو بنانے کی زبردست کوشش کر رہی ہیں۔آرایس ایس نے "مسلم راشٹریہ منچ”بنایا ہے اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے تحت اسلامی مدارس بھی کھولے جا چکے ہیں۔ان مدارس میں بھکتی مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ابھی حکومت ہند شاہجہاں کے بیٹے دارا شکوہ کی قبر تلاش کر رہی ہے۔یہ بھی بھکتی مذہب سے بہت متاثر تھا۔اس کے نام پر مسلمانوں کے درمیان بھکتی مذہب کو فروغ دیا جائے گا۔

اکبر بادشاہ کا ایجاد کردہ دین اکبری(دین الہی)بھکتی مذہب کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔

شاہجہاں(1592-1666) اور ممتاز محل کا بڑا بیٹا دارا شکوہ(1615-1659)تھا۔
اورنگ زیب عالم گیر(1618-1707)شاہجہاں اور ممتاز محل کا چھوٹا بیٹا تھا۔

بڑا بیٹا ہونے کے سبب دارا شکوہ کو 1633 میں شاہجہاں کا ولی عہد بنایا گیا تھا,لیکن وہ بھکتی مذہب سے متاثر صوفیا کی صحبت میں رہ کر اسلام سے منحرف ہو چکا تھا۔

اورنگ زیب جیسا دیندار بادشاہ جسے اپنے عہد کا مجدد تسلیم کیا گیا ہے,وہ حکومت و سلطنت کے لالچ میں اپنے بھائی دارا شکوہ کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوا,بلکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ اگر یہ ملک کا بادشاہ بن جاتا ہے تو ملک بھر میں ارتداد پھیل جائے گا۔

انجام کار 1657 میں شاہجہاں کے بیمار ہونے پر دارا شکوہ نے سلطنت کا کاروبار سنبھال لیا۔اس وقت اورنگ زیب دکن کا صوبیدار تھا۔جب شاہجہاں کی بیماری کی خبر ملی تو اورنگ زیب فوج لے کر آیا۔اور دارا شکوہ سے جنگ شروع ہو گئی۔شروع میں دارا شکوہ کو کامیابی ملی۔

29:مئی 1658 کو اورنگ زیب نے آگرہ کے قریب سامو گڈھ میں دارا شکوہ کی فوج کو شکست فاش دی۔

23:مارچ 1659 کی جنگ میں دارا شکوہ کی رہی سہی طاقت بھی ختم ہو گئی اور وہ ایران میں پناہ لینے کے لئے قندھار روانہ ہو گیا۔

راستے میں ڈھاڈر کے افغان سردار ملک جیون نے دارا شکوہ اور اس کے تین بیٹوں کو گرفتار کر لیا اور انہیں دہلی بھیج دیا۔

30:اگست 1659 کو الحاد وزندقہ کے جرم میں دارا شکوہ کو قتل کر دیا گیا۔

چوں کہ دارا شکوہ بھکتی مذہب سے متاثر تھا,اس لئے ہندو پنڈتوں اور سکھ گرؤں سے اس کے اچھے تعلقات تھے۔بعض ہندو پنڈتوں سے اس نے تعلیم بھی پائی تھی۔جیسی صحبت ویسی برکت کا ظہور ہوا۔

آج بھی بہت سے مسلم بچے آرایس ایس کے اسکول میں پڑھتے ہیں۔وہاں وہ ہندوانہ رسم ورواج انجام دیتے ہیں۔ہندؤں کا مذہبی بھجن گاتے ہیں,بڑے ہو کر یہی بچے بھکتی مذہب کے سپاہی بنیں گے۔یہ لوگ کامن سول کوڈ کی حمایت کریں گے۔

کامن سول کوڈ کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو مسلم نما ہندو بنا دیا جائے۔بچوں کو اسکولوں میں ہندو نما بنایا جا رہا ہے۔مدارس بھی کھول دیئے گئے,تاکہ بھکتی مذہب کے مبلغین بھی مسلمانوں میں سے مل جائیں۔چند گمراہ صوفیوں کو بھی مال وزر دے کر بھکتی مذہب کو فروغ دیا جائے گا,تاکہ بھارتی مسلمان مسلم نما ہندو بن جائیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ غریب نواز اور دور حاضر کے صوفیاے کرام: ایک تنقیدی جائزہ

از قلم : عبدالجبار علیمی ثقافی، بستی یوپیخادم التدریس: جامعہ قادریہ بشیرالعلوم قصبہ بھوج پور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے