’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا چوتھا ورق: رومیوں کی سرکوبی

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی، مالیگاؤں

رومی عیسائیوں کی پے در پے شکست
عثمان خاں بن ارطغرل غازی نے اپنی زیادہ تر توجہ عیسائی سرحدوں پر رکھی تھی۔ ’’قرہ حصار‘‘ کو دارالحکومت بنانے کی وجہ سے اُسے بہت آسانی ہوگئی تھی اور وہ بر وقت عیسائی حملوں کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ اِس کے بعد اُس نے ایک کے بعد ایک کرکے عیسائی شہروں پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ بازنطینیوں یعنی رومی عیسائیوں نے جب عثمان بن ارطغرل غازی کی پیش قدمی دیکھی تو ’’بروصہ ، مادانوس ، ادرہ ، نوس ، کتہ اور کستلہ کے عیسائیوں حکمرانوں نے اُس سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک ’’صلیبی معاہدہ‘‘ تشکیل دینے کی دعوت دی اور یورپ کے عیسائی حکمرانوں نے اِس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے نئی قائم ہوئی ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کو ختم کرنے کا معاہدہ کرلیا۔ جب عثمان خاں بن ارطغرل غازی کو عیسائیوں کی اِس سازش کی اطلاع ملی تو وہ خود اپنی فوجوں کو لیکر آگے بڑھا اور ہر جنگ میں خود ہی سب سے آگے رہا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کرکے شجاعت و بہادری کا وہ مظاہرہ کیا کہ ’’سلطنت ِ عثمانیہ ترکیہ‘‘ میں اُس کی بہادری ’’ضرب المثل‘‘ بن گئی۔707؁ھجری تک عثمان خاں بن ارطغرل غازی نے رومی عیسائیوں کو پے در پے شکست دے دی تھی اور ’’کتہ ، لفکہ ، آق حصار اور قوج حصار‘‘ کے قلعے اور شہر فتح کرچکا تھا۔اس سے پہلے وہ ’’ینی شہر‘‘ کو فتح کرچکا تھا۔
’’ینی شہر‘‘ سلطنت عثمانیہ ترکیہ کا ’’دارالحکومت‘‘
’’قونیہ‘‘ سے دارلحکومت ’’قرہ حصار‘‘ منتقل کرنے کے بعدسرحد پر رومی عیسائیوں کی شرارتیں کافی حد کم ہوگئیں تھیں۔ اِس دوران عثمان خاں بن ارطغرل غازی کا مقابلہ وقتاً فوقتاً خود مختار مسلم حکمرانوں سے بھی ہوتا رہا جن میں ’’سلطنت سلجوقیہ کرمانیہ‘‘ سر ِ فہرست ہے ۔ اِن مسلم حکمرانوں کے ساتھ وہ زیادہ تر حسن سلوک کرتا رہا اور انہیں نظر انداز کرتا رہا لیکن جو حد سے گزر جاتے تھے تو اُن کی سرکوبی بھی کرتا تھا۔ زیادہ تر عثمان خاں بن ارطغرل کی توجہ رومی عیسائی سرحدوں پر رہی اور ا‘س نے 704؁ھجری میں ’’ینی شہر‘‘ فتح کیا اور اُسے اپنا ’’دارالحکومت‘‘ بنا لیا۔ اِس طرح ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا دار الحکومت ’’قرہ حصار‘‘ سے ’’ینی شہر‘‘ منتقل ہوگیا۔ ’’ینی شہر‘‘ کے معنی ’’نیا شہر‘‘ ہے اور یہ شہر ’’بروصہ‘‘ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ ’’سلطنت ِ عثمانیہ ترکیہ‘‘ کے حکمرانوں نے بعد میں یونان فتح کرکے وہاں بھی ایک ’’ینی شیر‘‘ بسایا جو اب Neapoli کہلاتا ہے اور مغربی مقدونیہ میں واقع ہے۔ اِس طرح عثمان خاں بن ارطغرل کو رومی عیسائیوں کی سرکوبی کرنے میں اور آسانی ہوگئی۔ پہلے رومی عیسائیوں سے جو علاقے مسلم حکمراں فتح کرتے تھے وہ بعد میں عیسائی حکمراں واپس چھین لیتے تھے لیکن اب عثمان خاں بن ارطغرل کی ’’حکمت عملی‘‘ کی بدولت اُن کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ وہ جس عیسائی علاقے پر قبضہ کرتا تھا وہیں اپنا ’’دارالحکومت‘‘ بنا لیتا تھا۔’’ینی شہر‘‘ کو ’’دارالحکومت‘‘ بنانے سے عثمان خاں بن ارطغرل غازی کا یہ فائدہ ہوا کہ اُس نے 707؁ھجری تک کئی عیسائی شہروں اور قلعوں کو آسانی سے فتح کرلیا۔
اﷲ کے دین کی اشاعت کی جدوجہد
عثمان خاں بن ارطغرل غازی کا مقصد اﷲ کے دین کی اشاعت و ترویج تھی اور اسی کے لئے اُس نے مسلسل جدوجہد کی۔ مورخ احمد رفیق اپنے انسائیکلوپیڈیا’’التاریخ العام الکبیر‘‘ میں لکھتے ہیں :’’عثمان خاں بن ارطغرل غازی انتہائی درجہ کا دیندار شخص تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسلام کی نشرو اشاعت ایک ’’مقدس فریضہ‘‘ ہے۔ وہ نہایت سنجیدہ اور وسیع سیاسی فکرو نظر کا مالک تھا۔ اُس نے اپنی سلطنت کی بنیاد اقتدار پر نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد اسلام کی اشاعت کی محبت پر رکھی‘‘۔ ایک اور مورخ مصر اوغلو لکھتے ہیں :’’عثمان خاں بن ارطغرل غازی اِس بات پر گہرا یقین رکھتا تھا کہ اُس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ’’اعلائے کلمۃ اﷲ‘‘ کے لئے جد وجہد کرنا ہے۔ اُس نے اپنی تمام ذ ہنی اور جسمانی قوتیں اِس مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے وقف کردیں‘‘۔ اِسی لئے عثمان خاں بن ارطغرل غازی ایشیائے کوچک میں اپنی فتوحات کے دوران رومی عیسائی حکمرانوں سے تین میں سے ایک چیز قبول کرنے کا مطالبہ کرتا تھا۔ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ دے کر اطاعت قبول کرلیں یا پھر جنگ کو قبول کرلیں۔ اِسی وجہ سے بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کیا اور بہت سوں نے جزیہ دے کر اطاعت قبول کی اور جنہوں نے جنگ قبول کی تو اُن کے ساتھ اُس نے بالکل بھی مروّت نہیں کی اور اِس طرح رومی عیسائیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اُن کے بہت سے علاقوں کو ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ میں شامل کرلیا۔ 712؁ھجری تک عثمان خاں بن ارطغرل غازی ’’کبوہ ، یکیجہ طراقلو اور تکرربیکاری وغیرہ کے قلعے فتح کرلئے تھے۔
ایشیائے کوچک کی سب سے بڑی سلطنت
’’ینی شہر‘‘ کو دارالحکومت بنانے سے ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا یہ فائدہ ہوا کہ رومی عیسائی بہت بری طرح سے ڈر گئے اور ہر حکمراں اپنے اپنے علاقے میں دبک گیا۔ اِدھر سے ذرا اطمینان ہونے کے بعد عثمان خاں بن ارطغرل غازی اُن مسلم حکمرانوں کی طرف متوجہ ہوا جنہوں نے خودسری اختیار کی ہوئی تھی۔ دھیرے دھیرے اُن کی بھی تسخیر کرنے کے بعد اُس نے اپنی سلطنت کی اتنی توسیع کرلی کہ ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ ایشیائے کوچک کی سب سے بڑی سلطنت بن گئی۔ حکومت کے انتظامات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ عثمان خاں بن ارطغرل غازی میں اﷲ کا خوف اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ بھی بہت شدید تھا۔ ایمان باﷲ اور آخرت کے خوف کی بدولت اس کی شخصیت میں بڑی سنجیدگی اور جاذبیت پیدا ہوگئی تھی۔ اِسی وجہ سے اُس کی طاقت و قوت اُس کی عدالت پر ، اُس کا اقتدار اُس کے رحم پر اور اُس کا غنا اُس کی تواضع پر غالب نہیں آئے اور وہ اﷲ تائید و نصرت کا مستحق بن گیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اُسے اقتدار اور غلبہ کے اسباب مہیا کئے اور تدبر رائے اور مجاہدین کی کثرت اور ہیبت و وقار کے ذریعے ایشیائے کوچک میں اُسے تصرف و اقتدار بخش دیا۔عثمان خاں بن ارطغرل غازی کی پوری زندگی اپنے والد محترم ارطغرل بن سلیمان غازی کی طرح دین کی اشاعت کی جدوجہد کی عبارت ہے۔علمائے اسلام کو وہ خاص عزت و احترام دیا کرتا تھا اور سلطنت میں زیادہ تر شرعی احکامات کی تنفیذ اور انتظامی امور کی منصوبہ بندی اُنہیں کے مشورے سے کیا کرتا تھا۔ عثمان خاں بن ارطغرل کو مسلمانوں سے بہت محبت تھی اور اہل کفر سے شدید بیر تھا۔
’’بروصہ یا بروسہ‘‘ کی فتح
عثمان خاں بن ارطغرل غازی رومی عیسائیوں سے مسلسل حالت جنگ میں تھا اور مسلسل اُن کے علاقے میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے پیش قدمی کرتا جارہا تھا۔ اِس کام میں اُس کا بیٹا اُرخاں اُس کے شانہ بشانہ تھا اور اپنے والد محترم اور اپنے دادا محترم کے مشن کو پوری لگن سے آگے بڑھا رہا تھا۔ دونوں باپ بیٹے عیسائی علاقوں میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے ’’بروصہ یا بروسہ‘‘ تک پہنچ گئے اور اُس کا محاصرہ کرلیا۔ ’’بروصہ‘‘ کا عیسائی سپہ سالار ’’اقرینوس‘‘ بہت بہادر اور زیرک تھا اور اُس نے مسلمانوں کا زبردست مقابلہ کیا۔ ’’بروصہ یا بروسہ‘‘ قیصر روم کا ایک زبردست شہر تھا جو ایشائے کوچک کے مغربی ساحل پر واقع ہے ۔ ’’بحیرۂ مرمرہ‘‘ سے اِس کا فاصلہ 35کلو میٹر ہے اوراِسی شہر کے نام پر اِس صوبے کا نام بھی ’’بروصہ‘‘ تھا۔ اِسے فتح کرنے میں دونوں باپ بیٹے کو کافی جدوجہد کرنی پڑی اور کافی لمبا عرصہ لگا۔ 717؁ھجری میں ’’بروصہ‘‘ کا محاصرہ کیا گیا اور یہ محاصرہ تقریباً دس سال تک چلا۔ اِسی دوران عثمان خاں بن ارطغرل غازی کی طبیعت بھی خراب ہوگئی تھی۔ ’’بروصہ‘‘ کا سپہ سالار ’’اقرینوس‘‘ بھی اِس لمبی جنگ سے اکتا گیا تھا اِسی لئے اُس نے عثمان خاں بن ارطغرل غازی کے بارے میں تحقیق کی تو اُس کے کردار سے بہت متاثر ہوا۔ اُس نے ہتھیار ڈال دیئے اور ’’بروصہ‘‘ اِس شرط پر مسلمانوں کے حوالے کیا کہ عورتوں اور بچوں اور بزرگوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ’’بروصہ‘‘ پر قبضہ کرنیکے بعد دونوں باپ بیٹے نے اہل بروصہ سے اتنا اچھا سلوک کیا کہ ’’اقرینوس‘‘ نے اِس حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیا اور زیادہ تر اہل بروصہ نے بھی اسلام قبول کرلیا۔اِسی طرح بازنطینی سلطنت کے کئی سپہ سالار عثمان خاں بن ارطغرل غازی کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور اُس کے طریقۂ جنگ اور سیاست کو بہت پسند کیا۔
عثمان خاںبن ارطغرل غازی کا انتقال
جس وقت ’’بروصہ‘‘ فتح ہوا تو اُس وقت عثمان خاں بن ارطغرل غازی کی طبیعت بہت خراب تھی لیکن وہ محاذ جنگ پر ڈٹا رہا۔ ’’بروصہ‘‘ 726؁ھجری بمطابق 1326؁عیسوی میں فتح ہوا اور اُس کے دو یا تین دن بعد عثمان خاں بن ارطغرل غازی کا انتقال ہوگیا۔ اس نے تقریبا 38سال حکومت کی اور ’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کو بہت وسیع کرلیا۔ اُس کے والد محترم ارطغرل بن سلیمان غازی نے انتقال کے وقت 4800مربع کلومیٹر رقبہ کی حکومت چھوڑی تھی۔ عثمان خاں بن ارطغرل غازی نے اس کی توسیع کرکے 16000مربع کلومیٹر تک پہنچا دیا تھااور ’’سطنتِ عثمانیہ ترکیہ‘‘ کی سرحد ’’بحیرۂ مرمرہ‘‘ تک پہنچ گئی تھی۔’’سلطنت عثمانیہ ترکیہ‘‘ کا پانچواں ورق انشاء اﷲ جلد ہی پیش کریں گے۔
٭…٭…٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اپریل فول کی حقیقت

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف ائمی، مالیگاؤں جھوٹوں کا تہواراپریل لاطینی زبان کے لفظ Aprilis …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے