قوم سونے کا ناٹک کر رہی ہے

ازقلم: مدثراحمد
شیموگہ، کرناٹک 9986437327

جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتاہے،جب بھی کوئی سنگین حالات رونما ہوتے ہیں،ملک میں ،شہروں میں مسلمانوں پر ظلم ڈھایاجاتاہے تو ایک بات کامن ہوچکی ہے اور یہ بات ضرور بہ ضرور کہی جاتی ہے کہ ہماری قوم سو رہی ہے۔یقین جانئے کہ ہماری قوم بالکل بھی نہیں سورہی ہے ،بلکہ یہ سونے کاناٹک کررہی ہے اور انہیں اٹھانے کیلئے ہارن کی نہیں سائرن کی ضرورت پڑرہی ہے۔کون کہتاہے کہ قوم سورہی ہے،اگر قوم سو رہی ہوتی تو وہ دین کے نام پر لاکھوں روپیوں کے جلسے نہیں کررہی ہوتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو سیاستدانوں کے گھروں کے سامنے کُتوں کی طرح کھڑی نہیں ہوتی،اگر قوم سور ہی ہوتی تو الیکشن 1000- 500روپئے میں نہیں بکتی، اگر قوم سورہی ہوتی تو اپنے بچوں کو اپنی قوم کے تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر لاکھوں کروڑوں روپیوں کے ڈونیشن والے تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں دلواتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو60-50 سال کی زندگی کیلئے سینکڑوں ایکر زمینوں کی خریداری نہیں بناتی اور نہ ہی اپنی نسلوں کیلئے دولت اکٹھا کرنے میں پوری زندگی گنواتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو چھ گز زمین کیلئے فکرکرنے کے بجائے عالیشان مکانات کی تعمیر پر اپنی زندگی ضائع نہ کرتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو اپنے بچوں کی شادیوں میں ڈی جے-وی جے کیلئے لاکھوں روپئے خرچ نہیں کرتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو دو صفوں کے نمازیوں کیلئے عالیشان مساجدیں تعمیر نہ کرتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو70-60 بچوں کیلئےسینکڑوں ایکر پر مشتمل مدرسوں کی بنیاد نہ رکھتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو وہ تین طلاق کے قانون پر خاموشی نہیں رہتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو بابری مسجدکی شہادت کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں موجود مسجدوں و مدرسوں اور اوقافی املاک پر خود قبضہ نہ کرتےہوئے اس کے دستاویزات درست کروانے کے بجائے6دسمبر کو یوم سیاہ منانے کو ترجیح نہیں دیتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو لوجہاد کی اصطلاح کو مسترد کرتے ہوئے شادی بین الالمذاہب کے عمل کو پوری طرح سے مستردنہ کرتی،اگر قوم سورہی ہوتی تو آج جو گائوکشی کاقانون مسلط کیاجارہاہے اور اس قانون کی آڑمیں مسلمانوں پر جو حملے کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں،اُس قانون کی مذمت کرنے کے بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز،لطیفے،اور چٹکلے نہ بناتی۔درحقیت مسلم قوم بالکل بھی نہیں سورہی ہے وہ سونے کا ناٹک کررہی ہے ،وہ اپنے اس ناٹک میں اُن لوگوں کو بڑھاوادے رہی ہے جو پولیس کی مخبری کرتے ہیں،جو سیاستدانوں کی چاپلوسی کرتے ہیں،جو قوم کی بچیوں وبیٹیوں کو دوسرے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، سونے کے ناٹک میں اُن لوگوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے جو حق بات کرتے ہیں جو صحیح کو صحیح ،غلط کو غلط قرار دیتے ہیں، سونےکے اسی ناٹک سے ملک میں مسلمانوں کے خاتمے کیلئے جو قوانین بنائے جا رہے ہیں اُس پر خود ردِ عمل پیش کرنےکے بجائے احتجاج کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔گائو کشی کے سنگین معاملے پر متحدہ طور پرآوازاٹھانے کے بجائے اس مسئلہ کو قصائیوں کا مسئلہ بتایا جارہاہے اور قصائی اس مسئلے کو گوشت کھانے والوں کا مسئلہ بتارہےہیں، گوشت کھانے والے اس معاملے کو ہوٹلوں کا مسئلہ بتارہے ہیں۔بس مسلمان بالکل بھی اپنے ناٹک کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔یقین جانئے کہ معصومیت، حفاظت اور حکمت کے نام پرجب تک ایسے ناٹک کرتے رہیں گے اُس وقت تک دیر ہوجائیگی، گھر میں گھس کرآپ کوماراجائیگا،پہلوخان اور محمد اخلاق سے بدتر ہماری تمہاری موت ہوگی، تب ہمارے پیچھے رونے والے یہ کہیں گے کہ کاش سونے کا ناٹک نہ کیا ہوتا بلکہ قوم کو بچانے کیلئے زندہ قوم بن کر جیتےاور شہادت کو شہادت کے طریقے سے حاصل کرتے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے