غلام سرور ایک تحریک

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976

کھینچو نہ کمانوں کو، نہ تلوار نکالو      جب توپ،مقابل ہو تو اخبار نکالو

صحافت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صحافی حکومت یا کسی پارٹی کی نمائندگی کرے بلکہ عوام کو حکومت کی کارکردگی کی حقیقت کا آئینہ دکھانا ہوتا ہے۔ چاہے پھر اس کی زد میں کوئی بھی آ جائے اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔صحافی جھوٹ کو جھوٹ لکھے،اور سچ کو سچ لکھے۔حقیقت میں صحافت کا حق ادا کرنے والا صحافی ہی صحافی کہلاتا ہے اور یہ تمام خوبیوں کے مالک مرحوم غلام سرور صاحب تھے۔ وہ اپنے بے باک، بے لاگ، بے خوف اورجرأت مندانہ اداریوں اورتبصروں کے لیے اپنی مخصوص شناخت رکھتے تھے۔
دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل 
جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو
صحافت سماج کا آئینہ ہے۔صحافی عوام کا ترجمان ہوتا ہے۔صحافی سماجی، سیاسی، علمی ودینی میدان کا شہسوار ہوتا ہے۔
بہار کی زرخیز علمی اور ادبی سرزمین سے جنہوں نے یکساں طورپر ادب اور صحافت اور سیاست کے میدان میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ ایسی شخصیات میں ایک اہم نام مرحوم غلام سرور صاحب کا لیاجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مرحوم غلام سرور نے بہار میں اردو کے لۓ جو عظیم کارنامہ انجام دیا،اس کی نظیر تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔ مرحوم غلام سرور نے اردو صحافت اور اردو زبان کو  غلامی کی زنجیروں سے نکال کر اس کے وجود کا احساس کرایا ہے۔جس کو تاریخ بھلا نہیں سکتی۔
بنایا اے ظفرؔ خالق نے کب انسان سے بہترملک کو دیو کو جن کو پری کو حور و غلماں کو
سنگم اخبار کے ذریعے  کئی برسوں تک قارئین کی ہر توقع کو تکمیل تک پہنچانے میں انتھک کوشش کی ہے۔ہر خبر کی طرف نشاندہی کی ہے۔لوگوں کے درمیان منصفانہ طریقے سے بیداری پیدا کی ہے۔ اپنے چند رفقاء کے ساتھ مل کر مسلسل تحریکیں چلا کر بہار میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا ہے۔سنگم کے اداریہ کے ذریعے قارئین کے دلوں میں سماجی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی اوراقتصادی اثرات مثبت اورمنفی مرتب کۓ ہیں۔غلام سرور صاحب کا صحافتی مقصد،  ملّت کی سربلندی، صحت مند سماج کی تعمیر وتشکیل، اردو زبان وادب کا فروغ، مسلمانوں میں اتحّاد واتفاق قائم کرنااورملک کی قومی یک جہتی اورسالمیت کو مضبوط کرنا ان کے نصب العین میں شامل تھا۔غلام سرور کے اندر لکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔غلام سرور صاحب نہ صرف اردو کے صحافی و ادیب اور ماہر سیاست داں  تھے، بلکہ اردو کے بڑے تحریک کار، اردو تحریک کے بڑے مجاہد اورعلمبرداربھی تھے۔ الحاج غلام سرور نے ریاستی انجمن ترقی اردو، بہار کے پلیٹ فارم سے اردو کی کئ  تحریکیں چلائی،اور اردو کی بقاء کے لئے اپنا تن من اور دھن لٹا دیا۔اور آخر میں الحاج غلام سرور صاحب کے الفاظ کی ترجمانی یوں ہے کہ صحافت ایک ذمےداری ہے اگر اس کو پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کیا جائے تو ایک مکمل انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے ہی  رہیں گے
دل پہ جو گزری ہے رقم کرتے ہی رہیں گے
مرحوم غلام سرور صاحب کے لئے یہ شعر کہ کر بات ختم کرتا ہوں کہ

کون کہتا ہے کے موت آے گی اور میں مر جاوّں گامیں تو دریا ہوں سمندر میں اُتّر جاوّں گا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے