’لو جہاد‘ کا جھوٹا پروپگنڈہ: ’پریم یدھ‘ خفیہ ایجنڈہ

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی، مالیگاؤں

اِن دنوں ہمارے ملک میں کسانوں کی تحریک کے ساتھ ساتھ ایک اور معاملہ موضوع بحث ہے۔ اس موضوع کو فرقہ پرست لوگ اُچھال رہے ہیں اور اس سے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ موضوع ’’زبردستی مذہب تبدیلی‘‘ ہے اور فرقہ پرست لوگ اسے ’’لوجہاد‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے‘‘(سورہ البقرہ آیت نمبر 256) اِس لئے کوئی بھی مسلمان کبھی بھی ’’زبردستی مذہب تبدیلی‘‘ کا کام نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو مجبور کرتا ہے۔ فرقہ پرست اپنی دوکان چمکانے اور سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لئے اِس طرح کا ’’جھوٹا پروپگنڈہ‘‘ کر رہے ہیں ۔ اِس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے ’’جھوٹے پروپگنڈے‘‘ کی آڑ میں فرقہ پرست لوگ اپنا ’’خفیہ ایجنڈا‘‘ چلا رہے ہیں۔ اُنکا ارادہ ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کیا جائے اور اُس کی آڑ میں مسلمانوں کو اپنے مذہب میں لایا جائے۔ اِس کے لئے فرقہ پرست باقاعدہ ’’پریم یدھ‘‘ کی تحریک چلا رہے ہیں اور جو بھی مسلمانوں کو ورغلا رہے ہیں۔
فرقہ پرستوں کی ’’پریم یدھ‘‘ کی خفیہ تحریک کی وجہ سے حال ہی میں ہمارے ملک میں چند ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے باضمیر افراد کے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اِس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے آواز ا‘ٹھائی اور مسلم لڑکیوں اور خواتین کے غیر مسلم لڑکوں سے مراسم اور اُن کے ارتداد پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ موصوف نے کہا کہ میں مختلف ریاستوں کا سفر کرتا ہوں اور وہاں مجھے مسلم لڑکیوں اور خواتین کے ارتداد کی طرف بڑھتے ہوئے قدم سے آگاہی ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھوپال میں پرسنل لاء بورڈ خواتین کے سروے میں ایک بھیانک سچائی سامنے آئی کہ بھوپال شہر کی 100سے زائد مسلم لڑکیاں اور اُن میں شادی شدہ خواتین بھی میں شامل ہیںاپنے شوہر کو چھوڑ کر غیر مسلموں کی بانہوں میں پناہ ڈھونڈ رہی ہیں۔علاوہ ازیں ایک سال کے دوران دہلی میں 500اور پونہ میں 44لڑکیوں نے غیر مسلم لڑکوں سے ’’کورٹ میرج‘‘ کرلی ہے۔ مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے ناسک ضلع کے حوالے سے تازہ اعداد وشمار پیش کئے جس کے مطابق منماڑ میں 4، ایولہ میں 60، چاندوڑ میں 11 اور وڈنیر کھاکرڈی میں 12لڑکیوں نے غیر مسلموں سے ’’کورٹ میرج‘‘ کی ہے۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ جب مسلم لڑکیاں ’’کورٹ میرج‘‘ کرنے جاتی ہیں تو رجسٹریشن کی رپورٹ ویب سائٹ پر اپلوڈ کردی جاتی ہے اور اِس ویب سائٹ سے تمام حقائق کا پتہ چل جاتا ہے۔ مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے لڑکیوں کی اِس نادانی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان پہنچاتے تھے اور اب وہ سیدھے سیدھے مسلمانوں کے دین و ایمان پر حملہ رہے ہیں۔یہ بات بہت تشویشناک ہے۔
یہ ’’پریم یدھ‘‘ ہے جو فرقہ پرسوں کا ’’خفیہ ایجنڈا‘‘ ہے جس میں انہیں بہت حد تک کامیابی بھی ملنے لگی ہے اور اُن کے حوصلے اب کافی بلند ہوگئے ہیں اور وہ کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔ جب کوئی مسلم لڑکی یا لڑکاکسی غیر مسلم لڑکے یا لڑکی سے ’’کورٹ میرج‘‘ کرتے ہیں تو ’’پریم یدھ‘‘ایجنڈے کے ممبران کھلے عام اُن کی مدد کرتے ہیں اور لڑکی یا لڑکے کا مذہب بھی تبدیل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں ہریانہ میں پیش آیا۔ ایک مسلم نوجوان نے غیرمسلم لڑکی سے ’’وواہ‘‘ کیا اور مسلم نوجوان نے اپنا نام بھی بدل لیا۔ اِس معاملے میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے نوٹس لینے کے بعد اب نوجوان اور اُس کی اہلیہ کو پولیس تحفظ دیا ہے۔ یمنون نگر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کمل دیپ گوئل نے بتایا کہ 21سالہ مسلم نوجوان اور 19سالہ غیر مسلم دوشیزہ کی 9نومبر کو ہندو رسم و رواج کے مطابق ’’وواہ‘‘ ہوا ہے اور اُس مسلم نوجوان نے اپنے مذہب کے ساتھ اپنا نام بھی بدل دیا ہے۔ ’’وواہ‘‘ کے بعد جوڑے نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کہا کہ لڑکی کے اہل خانہ سے اُن کی جان کو خطرہ ہے۔
’’پریم یدھ‘‘ کے زیادہ تر معاملے یوپی میں سامنے آرہے ہیں جہاں پچھلے دنوں دو الگ الگ واقعات میں بریلی ضلع میں کی دو مسلم لڑکیوں نے ’’تبدیلی ٔ مذہب‘‘ کے بعد غیر مسلم مردوں سے ’’وواہ‘‘ کر لیا ہے اور انہیں پولیس سیکوریٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس روہت سنگھ ساجوان نے بتایا کہ ’’یہ جوڑے حفیظ گنج اور بھیڈی علاقے میں بالغ ہیں اور دونوں ہی معاملات میں ہم لڑکیوں کے بیان کو تسلیم کرتے ہیں‘‘۔ اِس جوڑے کی حمایت میں بھگوا تنظیم کے ممبران بھی آگے آئے اور بھیڈی علاقے کی لڑکی نے کہا کہ اُس نے ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد 4ستمبر 2020؁ء کو مندر میں ’’وواہ‘‘ کیا تھا۔اِسی طرح کا ایک واقعہ علی گڑھ میں پیش آیا جہاں پر ایک مسلم نوجوان نے غیر مسلم لڑکی سے ’’وواہ‘‘ کر کے اپنا مذہب تبدیل کرلیا۔ اِس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں کئی جگہوں پر پیش آرہے ہیں۔ اِس کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہی کہ فرقہ پرست ’’لوجہاد‘‘ کا جھوٹا پروپگینڈہ کررہے ہیں اور خفیہ طور سے ’’پریم یدھ‘‘ کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ دوسری وجہ ہم مسلمانوں کی دین سے دُوری ہے اور ’’جدیدیت‘‘ اور ’’آزاد خیالی‘‘ کے نام پر نوجوان لڑکیوں اور لڑکیوں کا بے حیائی کرنا۔ اِسی وجہ سے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فرقہ پرستوں کے جال میں پھنس رہے ہیں اور ’’خفیہ ایجنڈے‘‘ کا شکار ہورہے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صاف طور پر فرما دیا ہے (ترجمہ) ’’اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، ایمان والی کنیز بھی مشرک آزاد عورت سے بہتر ہے چاہے وہ مشرک عورت تمہیں کتنی بھی اچھی لگتی ہو۔ اور مشرک مردوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ، ایمان والا غلام مشرک آزاد مرد سے بہتر ہے چاہے وہ مشرک آزاد تمہیں کتنا بھی اچھا لگتا ہو۔ یہ لوگ (تمہیں) جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اﷲ (تمہیں) جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلا رہا ہے۔ وہ اپنی آیات لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں‘‘۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 221)اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے بالکل صاف صاف فرما دیا ہے کہ مشرک مرد اور مشرک عورت سے نکاح نہ کرو۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی مسلمان کسی مشرک مرد یا عورت سے ’’کورٹ میرج‘‘ کرتے ہیں تو وہ ایک طرح سے ’’حرام کاری‘‘ کی زندگی گزارتے ہیں۔ آگے اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ یہ مشرک لوگ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔ اب ہمارے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر ہم کسی مشرک مرد یا عورت سے ’’وواہ‘‘ کریں گے تو کیا ہم اﷲ کے صاف حُکم کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں؟ اور کیا ہم جہنم کی طرف نہیں جارہے ہیں؟
آگے اﷲ تعالیٰ نے بالکل صاف فرما دیا ہے کہ اﷲ تمہیں اپنے حُکم سے بخشش اور جنت کی طرف بلا رہا ہے۔ یعنی اگر ہم اﷲ کے حُکم کو پورا کریں گے اور مشرک مرد اور مشرک عورت سے ’’وواہ‘‘ نہیں کریں تو ان شاء اﷲ ہماری بخشش بھی ہوگی اور جنت میں بھی جائیں گے۔ اگر ہم مشرک سے ’’وواہ‘‘ کریں گے تو جہنم کے حقدار بنیں گے۔ آخر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم یہ اِس لئے بیان فرما رہے ہیں کہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اب اگر ہم صحیح مسلمان ہوں گے تو ان شاء اﷲ اِس آیت سے ضرور نصیحت حاصل کریں گے اور اگر ہمارے دل میں ’’دنیا کی محبت‘‘ اور چمک دمک بس گئی ہوگی تو ہم پر اِس نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور ہم اﷲ کی نصیحت کو سمجھنا ہی نہیں چاہیں گے۔ یہ انتہائی افسوس کا مقام کے ہے کہ آج ہمارے ’’ہیرو‘‘ انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نہیں ہیں بلکہ ہمارے ’’ہیرو‘‘ ناچنے گانے والے ہیں۔ یہ ناچنے گانے والے نام کے مسلمان ہیں اور مشرکوں سے ’’وواہ‘‘ یا ’’کورٹ میرج کررہے ہیں۔ چونکہ ہمارے مسلمان نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُنہیں ہی اپنا ’’ہیرو‘‘ مانتے ہیں تو اُن کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اِسی وجہ سے فرقہ پرستوں کو اِن نوجوانوں کو بہکا کر گمراہ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ یہ ہمارے اکابرین اور بزرگوں کے لئے ’’لمحۂ فکریہ‘‘ ہے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں پر توجہ دیں گے؟ اور اُنہیں جہنم میں جانے سے روکنے کی جدوجہد کریں گے؟
٭…٭…٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے