دکانیں سب بند تھیں اور وہ رکشے والا

از قلم: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی 
ایڈیٹر: پیام برکات، علی گڑھ

حامد علی صاحب بازار نکلے کچھ خریداری کرنے کے لیے، مارکیٹ کے لیے رکشا لیا، بیٹھتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ ڈرائیور سے پوچھ لوں کہ مارکیٹ کہیں بند تو نہیں آج، چونکہ ان کے یہاں جمعہ کو بندی ہوتی ہے، لیکن نہیں پوچھا، سوچا کہ چلو مارکیٹ چل کر ہی دیکھتے ہیں کچھ مل جائے گا تو لے لیں گے ورنہ آ جائیں گے، خیر بازار کی طرف بڑھے، پہنچ کر کیا دیکھتے ہیں کہ سناٹا پسرا ہوا ہے چند موٹر سائیکل سوار گزر رہے ہیں، اور کچھ نظر نہیں آ رہا، جب کچھ بھی نہ ملنے کا یقین ہوگیا، بند دکانوں پر ایک نظر ڈال لی، پھر کچھ نہ خرید کر مایوسی کے عالم میں الٹے پاؤں پھرے تو ایک پیڈل رکشا والا سامنے دکھا وہ اشاروں سے کچھ کہہ رہا تھا، جب حامد صاحب اس سے قریب ہوئے تو کہا کہ "صاحب دو گھنٹے سے گھوم رہا ہوں کوئی سواری نہیں ملی، گھر پر آٹا لے کر جانا ہے، صبح ادھار چاول لے کر گھر پر دیا ہے،” حامد صاحب نے کہا کہ چلو مجھے چھوڑ دو میں تمہیں کرایا  دے دوں گا (متعینہ کرایا سے زیادہ دینے کا ارادہ کیا) تو کہنے لگا کہ گاڑی بھاڑے پر نکالا ہوں جمع کرنا ہے یہ کہہ کر وہ روہانسا ہوگیا، پھر وہ ناامیدی کے عالم میں آنکھوں سے آنسو پوچھنے لگا، تو حامد صاحب نے جیب سے ایک نوٹ نکالا اور دھیرے سے اس کی مٹھی میں رکھ کر بند کر دیا، تاکہ وہ دو وقت کی روٹی اور چاول کا انتظام کر سکے،اور اپنے رستے چل دیے،
ٹھنڈی کا موسم، بازار بند، سواری ندارد، اور سر پر گھر کے راشن پانی کی ذمہ داری، دو وقت کے ادھار چاول کا بوجھ، اگلے دو وقت کے آٹے کی امید، سب ایک افسانہ بن گیا تھا،
ایسے جاں فرسا حالات میں ناامیدی کا سیلاب، دو وقت کی روٹی کا سوال، بےسہارا ہونے کا دل سوز احساس، وقت پر رکشہ جمع کرنے کی فکر سب ایک ساتھ دستک دے رہے ہیں، غریب رکشہ چلانے والا شکل سے بھولا بھالا لگ رہا تھا، اس کی لجیلی آنکھیں بھوک اور غریبی کی نالہ کناں ہیں، حامد صاحب کا دل کہنے لگا تھا کہ کچھ مدد کر دی جائے، اس سخت سردی اور بارش کی پھوہار میں بھی پیٹ کے لیے نکل آیا، پھر مجھے احساس نے جھنجھوڑا کہ اس سردی میں حاجت مندوں کی مدد کو آگے بڑھنا چاہیے ہو سکتا ہے آپ کی وجہ سے کسی کی زندگی بچ جائے، یا کم از کم اسے دو وقت کی روٹی نصیب ہو جائے، بھوکوں کو کھانا کھلانا بھی تعلیماتِ اسلام کا حصہ ہے،
پھر جب حامد صاحب واپسی کے لیے آٹو رکشہ پر بیٹھے تو سوچ رہے تھے بے کار ہی آیا، آنے سے پہلے رکشہ ڈرائیور سے پوچھ لیا ہوتا تو اتنا وقت ضائع نہیں ہوتا، یہاں نہیں آتا، پھر ایک دم سے خیال آیا کہ نہیں، نہیں، نہیں میں بےکار بالکل بھی نہیں آیا بلکہ رب تعالیٰ کی یہی مرضی تھی کہ میں بازار آؤں، دکانیں بند ہوں اور رب کریم کے ایک پریشان بندے کا آنسو پوچھوں، اور واپس چلا آؤں،حامد صاحب اب خوش نظر آرہے تھے کہ وہ خرید تو کچھ نہ سکے ہاں رب سے نیکیوں کا سودا کر آئے، دل مطمئن ہو گیا، آنا مفید ہوا، 
دنیا میں واقع ہونے والے ایسے بہت سارے واقعات ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، یہ صرف افسانے قصے نہیں ہوتے جنہیں پڑھ کر لطف اندوز تو ہو جایا جائے لیکن اس سے نصیحت نہیں لی جائے، بلکہ ایسے واقعات پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرکے حل نکالنا چاہیے، اور ہمیں بھی ہمیشہ حامد صاحب کی طرح ہمیشہ حاجت مندوں کی مدد کرنے کو تیار رہنا چاہیے، نہ جانے خالقِ دوجہاں کو بندے کی کون سی ادا پسند آ جائے، اور وہ بخشش کا سامان ہو جائے،، اللہ عزوجل ہمیں ضرورت مندوں کی مدد کا جذبہ دے اور عمل خیر کی توفیق دے آمین،

غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ  امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی (عارف شفیق) 
نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد  روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد (اظہر اقبال) 
زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا  بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا (رضا مورانوی) 

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افسانہ: ڈاڑھی (پہلی قسط)

افسانہ نگار: شیخ اعظمی میں شادی کی پہلی رات خوشی خوشی کمرے میں داخل ہوا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے