منقبت: کِس زباں سے ہو بیاں کیا ہیں مِرے احمد کبیر

نتیجۂ فکر: توصیف رضا رضوی، باتھ اصلی، سیتامڑھی بہار

کِس زباں سے ہو بیاں کیا ہیں مِرے احمد کبیر
دِل کے زخموں کا مداوا ہیں مِرے احمد کبیر

یہ نہ چھوڑیں گے کبھی چاہے زمانہ چھوڑ دے
غم کے ماروں کا بھروسہ ہیں مِرے احمد کبیر

اُن کے در کی خاک منہ پر مَل رہا ہوں اِس لئے
عاشقِ سرکارِ بطحا ہیں مِرے احمد کبیر

میرا دامن کیوں نہیں رہتا کبھی خالی سنو
میں گدا ہوں اور داتا ہیں مِرے احمد کبیر

ذکر سے اُن کے عقیدے کو ہے مِلتی روشنی
غوث کی آنکھوں کا تارا ہیں مِرے احمد کبیر

ہو اگر توصیفؔ اُن جیسا کوئی تو دیں مثال
مانتا ہے دہر یکتا ہیں مِرے احمد کبیر

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے