اے مسلماں! قرآن سمجھ کرپڑھ اور عمل کر (قسط نمبر2)

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی ،مالیگاوں


الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
رحمن اور رحیم ہے
{الرحمن ہر ایک کے لئے اور الرحیم مومنین کے لئے}
’’الرحمن الرحیم‘‘ کی تفسیر میں امام عبداﷲ بن احمد بن محمود نسفی لکھتے ہیں: الرحمٰن : یہ ’’رحم‘‘ سے بروزن فعلان ہے ۔ اس ذات کو کہتے ہیں جس کی ’’رحمت‘‘ ہر چیز پر حاوی ہو۔ اس کی نظیر غضبان کا لفظ ہے جو غضب سے ہے ۔ غضبان اُس شخص کو کہتے ہیں جو غصے سے بھرا ہوا ہو۔ اِسی طرح الرحیم : ’’رحم‘‘ سے فعیل کے وزن پر جیسے مرض سے مریض۔ لفظ الرحمٰن میں الرحیم کی بہ نسبت زیادہ ہے کیونکہ الرحیم میں ایک لفظ زائد ہے اور الرحمٰن میں دو لفظ زائد ہیں اور الفاظ کا اضافہ معنی کی اضافت پر دلالت کرتا ہے ۔ اِسی لئے دُعا میں ’’یا رحمٰن الدنیا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں کیونکہ الرحمٰن کی رحمت سے مومن و کافر سب فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور ’’الرحیم الآخرۃ‘‘ کے لفظ آئے ہیں کیونکہ وہ رحمت ایمان والوں کے لئے مخصوص ہے۔ علمائے کرام نے فرمایا: ’’ الرحمٰن اﷲ تعالیٰ کا نام ہونے کی وجہ سے خاص ہے اس سے غیر اﷲ کی صفت نہیں کی جاسکتی اور معنی کے اعتبار سے عام ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا۔ الرحیم اس کے برعکس غیر کی صفت بن سکتا ہے اور اس کی رحمت ایمان والوں کے لئے خاص ہوگی اِسی لئے الرحمٰن کو مقدم کیا گیا ہے۔
{الرحمن ’’خاص الاسم اور الرحیم ’’عام الاسم‘‘}
’’الرحمن الرحیم‘‘ کی تفسیر میں علامہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی لکھتے ہیں: الرحمن خاص الاسم عام الفعل ہے اور الرحیم عام الاسم اور خاص الفعل ہے یہ جمہور کا قول ہے۔ ابوعلی فارسی نے کہا: ’’ الرحمن ، رحمت کی تمام اقسام میں عام ہے اس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ خاص ہے اور الرحیم ، وہ مومنین کی جہت میں ہے جیسے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’ وَکَانَ بِا لْمُوْ مِنِیْنَ رَحَیْمَا۔‘‘(سورہ الاحزاب آیت ۴۳؎) امام عزری نے کہا: ’’الرحمن اپنی تمام مخلوق کو بارشیں عطا فرماتا ہے جو اُس کی نعمتیں عطا فرماتا ہے اور عام نعمتیں عطا فرماتا ہے ۔ الرحیم مومنین پر رحیم ہے کہ انہیں ہدایت دیتا ہے اور اُن پر لطف فرماتا ہے ۔ ‘‘ امام عبداﷲ بن مبارک نے کہا: ’’ الرحمن جب مانگا جاتا ہے تو عطا فرماتا ہے ۔ الرحیم جب اُس سے نہیں مانگا جائے تو ناراض ہوتا ہے۔‘‘حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو اﷲ تعالیٰ سے دُعا نہیں مانگتا اﷲ تعالیٰ اُس سے ناراض ہوتا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ ، جامع ترمذی) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ دونوں اسم ’’رقت‘‘ پر دلالت کرتے ہیں ایک دوسرے سے زیادہ رقیق ہیں یعنی رحمت میں زیادہ ہیں۔‘‘ اکثر علماء کا قول ہے کہ الرحمن اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کا اس کے ساتھ نام رکھنا جائز نہیں۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ قُل ادْعُوْااﷲَ اَوِادْعُوْاالرحْمٰنَ ۔‘‘ (سورہ الاسراء آیت نمبر ۱۱۰؎) اِس اسم کو ذکر فرمایا جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں فرمایا۔‘‘(تفسیر الجامع الحکام القران المعروف تفسیر قرطبی)
{دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا}
’’الرحمن الرحیم‘‘ کی تفسیر میں علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: یہ دونوں نام ’’رحمت‘‘ سے مشتق ہیں ۔ دونوں میں مبالغہ ہے الرحمٰن میں الرحیم سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اِن معنوں پر متفق ہیں اور بعض سلف کی تفسیروں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ۔ اِن معنوں پر مبنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول پہلے گزر چکا ہے کہ الرحمٰن سے مُراد دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور الرحیم سے مُراد آخرت میں رحم کرنے ولا ہے۔ جامع ترمذی میں حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے :’’ میں رحمن ہوں ۔ میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام میں سے ہی اس نام کا مشتق کیا ۔ اس کے ملانے والے کو میں ملاؤں گا اور اس کے توڑنے والے کو کاٹ دوں گا۔‘‘ اِس صریح حدیث کے ہوتے ہوئے مخالفت اور انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:’’ یہ دونوں رحمت اور رحم والے ہیں ، ایک میں دوسرے سے زیادہ رحمت و رحم ہے۔‘‘ الرحمٰن میں بہ نسبت الرحیم کے بہت زیادہ مبالغہ ہے لیکن حدیث کی ایک دُعا میں یَا رَحْمٰن الدُّنِیَا وَالْآخِرَۃِ وَرَحِیْھِمُ بھی آیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کے بعض نام تو ایسے ہیں کہ دوسروں پر بھی ہم معنی ہونے کا اطلاق ہوسکتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ نہیں ہوسکتا ۔ جیسے اﷲ اور رحمن ، خالق اور رازق وغیرہ۔ اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے اپنا پہلا نام ’’اﷲ‘‘ پھر اس کی صفت ’’رحمن‘‘ سے کی۔ اِس لئے کہ’’ رحیم‘‘ کی نسبت یہ زیادہ خاص ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ قاعدہ ہے کہ اول سب سے بزرگ نام لیا جاتا ہے اِس لئے سب سے پہلے سب سے خاص نام ’’اﷲ‘‘ لیا گیا پھر اُس سے کم ’’الرحمن‘‘ پھر اُس سے کم ’’الرحیم‘‘۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ موجود ہے پھر اِسی پر اکتفا کیوں نہیں کیا گیا ؟ تو اِس کے جواب میں امام عطا خراسانی کا قول ہے کہ چونکہ کافروں نے رحمن کا نام بھی غیروں میں رکھ لیا تھا ، اِس لئے رحیم کا لفظ بھی ساتھ لگایا گیا تاکہ کسی قسم کا وہم ہی نہ رہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
{اﷲ کی رحمت مخلوق پر بے حد و حساب ہے}
’’الرحمن الرحیم‘‘ کی تفہیم میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اُس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اُس کو بیان کرتا ہے ، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اُس شئے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا ، تو پھر وہ اُسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہو جائے جو اُس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اﷲ کیتعریف میں ’’رحمن‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر ’’رحیم‘‘ کا اضافہ کرنے میں یہی نکتہ پوشیدہ ہے ۔ ’’رحمن‘‘ عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اﷲ کی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ، ایسی وسیع ہے ، ایسی بے حدو حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا ۔ اِس لئے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لئے پھر ’’رحیم‘‘ کا لفظ مزید استعمال کیا
گیا ۔ اِس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ’’سخی‘‘ کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اُس پر ’’داتا‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں ۔ رنگ کی تعریف میں جب ’’گورے‘‘ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ’’چٹے‘‘ کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں ۔ درزیِ قد کے ذکر میں جب ’’لمبا‘‘ کہنے سے تسلی نہیں ہوتی تو اُس کے بعد ’’تڑنگا‘‘ بھی کہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
٭…٭…٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے