سید احمد کبیر رفاعی: آسمان ولایت کا اک تابندہ ستارہ

تحریر: محمد عظیم الدین نظامی
صدر المدرسین دارالعلوم اہلسنت ظہور الاسلام گوبند پور مہراج گنج

عالم اسلام کو جو نفوس قدسیہ ایک زمانہ سے فیض یاب کررہے ہیں اُن میں ایک اہم نام شیخ کبیر سیداحمد کبیر رفاعی قدس سرہ کا ہے۔ شیخ رفاعی کی پوری زندگی خدمت خلق اورمخلوق کو بہرصورت فائدہ پہنچانے سے عبارت ہے۔ اُن کا اصل نام احمد، کنیت ابوالعباس، اورلقب محی الدین ہے۔ جدامجدسید حسن اصغر ہاشمی مکی معروف بہ رفاعہ قدس سرہ کی مناسبت سے رفاعی کہلاتے ہیں ، اورچوں کہ امام موسیٰ کاظم اور شہیداعظم سیدناامام حسین رضی اللہ عنہماکی اولاد سے ہیں ، اس لیے موسوی اور حسینی بھی کہلاتے ہیں۔ بلنددرجات اور اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے معتقدین کے نزدیک سلطان الاولیاء اورشیخ کبیرسے مشہورومعروف ہیں ، جب کہ مسلکاً شافعی المذہب ہیں۔

بشارت و ہدایت نبوی:
شان رفاعی میں ہے کہ شیخ احمد کبیر رفاعی کی پیدائش سے چالیس دن پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیخ سیدمنصوربطائحی کے خواب میں تشریف لائے اور اُن کی پیدائش کی خبردیتے ہوئے فرمایا:اے منصور! آج سے چالیس دن بعد تیری بہن کے یہاں ایک لڑکا پید ا ہوگا، اس کا نام احمد رکھنا۔ وہ تمام اولیاکا سردار ہوگا جس طرح میں تمام انبیا کا سردار ہوں۔ اس کی وجہ سے میری اُمت میں شریعت وطریقت اورمعرفت کا نورپھوٹے گا۔ اس کی پیدائش کی خبر لوگوں تک پہنچادو۔ جب وہ ہوشیار ہوجائے تو تعلیم کے لیے اُسے شیخ علی قاری واسطی کے پاس بھیج دینا، اُس کی تربیت میں غفلت نہ کرنااوربطور خاص اس کا خیال رکھنا۔ (ص:۲۹)
ولادت باسعادت اورپرورش:
بشارت نبوی کے ٹھیک چالیس دن بعدشیخ سیداحمد رفاعی یکم رجب 512ھ مطابق یکم نومبر1118 ء کوبمقام اُم عبیدہ قصبہ حسن میں پیدا ہوئے۔ اس وقت مسترشد باللہ عباسی کاعہدخلافت تھا۔ شیخ احمد رفاعی رحمتہ اللہ علیہ ابھی سات ہی کے تھے کہ والد ماجدسید علی ہاشمی مکی قدس سرہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس کے بعد اُن کی نشو ونما اور پرورش وپرداخت شیخ سیدمنصور بطائحی قدس سرہ کی زیرنگرانی ہوئی، جو اُن کے حقیقی ماموں تھے۔
تعلیم وتربیت:
شیخ رفاعی اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرلینے کے بعدشیخ عبدالسمیع حربونی کی نگرانی میں پہنچے اوراُن کی شاگردی میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا، اور مزید تعلیم وتربیت کے لیے شیخ ابوالفضل علی واسطی قدس سرہ کے سپرد ہوئے، جہاں شیخ رفاعی نے عقلی ونقلی علوم مثلاً:حدیث، تفسیر، منطق وفلسفہ نیز مروجہ علوم وغیرہ میں بطورخاص کمال ومہارت حاصل کی اور مختلف علمی فضل وکمال کے گوہرمراد سے اپنے دامن آرزو کو پُرکیا۔
اساتذہ کرام:
شیخ احمد کبیر رفاعی کے مشہورومعروف اورناموروجلیل القدراساتذہ میں شیخ منصور بطائحی، شیخ عبدالسمیع حربونی، شیخ ابوالفضل واسطی، شیخ ابوالفتح محمد بن عبد الباقی، شیخ محمد بن عبد السمیع عباسی ہاشمی، شیخ ابوبکر واسطی اور عارف باللہ سیدعبد الملک بن حسین حربونی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
درس وتدریس:
شیخ احمد رفاعی نے جس شہر علم ومعرفت میں تعلیم حاصل کیا اُسی شہر واسط میں درس وتدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ اللہ دادقابلیت اورانتہائی ذکاوت کی وجہ سے جب اُن کی علمی شہرت چاروں طرف پھیل گئی، تو طالبانِ علوم اپنی تشنگی بجھانے کے لیے شہر واسط کارُخ کرنے لگے اوراِس کے علاوہ عظیم علماوفضلا بھی اُن کی درس بافیض سے فیضیاب ہونے کی خاطر اُن کی خدمت میں پہنچتے اوراُن کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے۔ جناب طیب قاسم رشید عمرانی (خلیفہ رفاعی)کے مطابق :شیخ رفاعی کے درس وتدریس کا معمول یہ تھاکہ روزانہ صبح وشام حدیث، فقہ، تفسیر اورعقائد کادرس دیتے، جس میں کثرت سے طلبا شریک ہوتے تھے۔ ان میں علماوفضلا اور اپنے عہد کے مشائخ کبار بھی شامل تھے۔(معدن الاسرار)
تصنیفات و تالیفات:
توحیدوتصوف، پندونصائح اور فقہ وتفسیرکے موضوع پر مشتمل جن مفیدو گراں قدر کتابوں کو شیخ کبیر سے منسوب کیاجاتا ہے، اُن میں چند یہ ہیں ، مثلاً:برہان الموید، حکم رفاعیہ، احزاب رفاعیہ، تفسیر معانی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، عقائد رفاعیہ، مجالس احمدیہ، تفسیر سورۃ القدر، شرح تنبیہ، ست، رحیق الکوثر، الوصایا وغیرہ۔
سیرت وشخصیت:
طبقات امام شعرانی میں ہے کہ صوفیائے کرام کے احوال کی شرح اور اُن کے منازل کی مشکلات حل کرنے کی سرداری شیخ احمد کبیر رفاعی پر ختم ہے، اورعلاقہ بطائح میں تربیت مریدین کا عمل ان کی وجہ سے پروان چڑھا، نیزبے شمار مخلوق نے ان سے تزکیہ وتصفیہ کا نور پایا۔ مولف شان رفاعی کے مطابق:قناعت وشکر کا یہ حال تھا کہ کبھی اپنے پاس دوقمیصیں نہ رکھتے تھے۔ جب قمیص دھونے کی ضرورت پیش آتی تو دریا میں خودہی اُترجاتے، قمیص کا میل کچیل بھی خودہی صاف کرتے، یہاں تک کہ دھوپ میں کھڑے ہوکر اُسے خودہی سوکھاتے بھی تھے اور اُس وقت تک دھوپ میں کھڑے رہتے تھے جب تک کہ قمیص خشک نہیں ہوجاتی۔ کھانے کا معاملہ ایسا تھاکہ دو تین بعدایک آدھ لقمہ کھاتے، البتہ!اگر کوئی مہمان آجاتا تو اُس کے کھانے پینے کا ضرور انتظام فرماتے۔ اُن کے اندرخدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خودجنگل جاتے، لکڑیاں جمع کرتے، اُسے خود اُٹھا کرلاتے اوربیوگان ومساکین اورغربا کے گھروں میں پہنچاتے، بلکہ اُن گھروں میں پانی بھی خود بھر دیتے تھے۔
شیخ رفاعی اِس قدر نرم دل اور محبتی تھے کہ انسان تو انسان، چرندوپرندسے بھی بے پناہ محبت فرماتے اوراُس کے آرام کا ہر ممکن خیال فرمایا کرتے تھے۔ طبقات امام شعرانی میں ہے کہ جو شخص بھی ملتااُسے پہلے سلام کرتے، یہاں تک کہ جانوروں کو بھی دیکھتے تو فرماتے کہ تمہاری صبح اچھی ہو۔ اس تعلق سے دریافت کیاجاتا تو فرماتے کہ میں اپنے نفس کو اچھے کاموں کا عادی بناتاہوں۔ یہی وجہ تھی کہ جب اُن کے جسم پر مچھر بیٹھ جاتا تو اُسے اڑاتے نہ کسی کو اُڑانے دیتے اور فرماتے کہ اُسے خون پینے دو، جتناکہ اللہ رب العزت نے اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ جب دھوپ میں چل رہے ہوتے اورٹڈی اُن کے کپڑے پر بیٹھ جاتی تو اُس وقت تک سایہ دار جگہ پر ٹھہرے رہتے جب تک کہ ٹڈی سایہ میں بیٹھ نہ جاتی۔ جب کبھی بلی اُن کی آستین پر سوجاتی اور نماز کا وقت ہوجاتا تو نیچے سے آستین کاٹ دیتے لیکن بلی کو نہ جگاتے، اور جب نماز سے واپس آتے تو آستین کو اُس کے دوسرے حصے کے ساتھ سی لیتے۔ ایک بار کا ذکر ہے کہ شیخ رفاعی نے ایک خارش زدہ کتا کو دیکھاجسے لوگوں نے گاوں سے باہر نکال دیا تھا۔ شیخ کبیر اُس کتے کے ساتھ جنگل چلے گئے۔ اُسے تیل لگاتے رہے اور اُسے کھلاتے پلاتے اور کپڑوں کی مدد سے اُس کی خارش کوبھی کھرچتے رہے۔ پھر جب اُس کی خارش ٹھیک ہوگئی تو گرم پانی سیاُس کو نہلایااور اُس کی پوری نگہداشت کی۔ بستی میں کسی کی بیماری کا حال سنتے اگرچہ وہ دور کا ہوتا، اُس کی عیادت اور خبرگیری کے لیے جاتے۔ جب کسی بوڑھے کو دیکھتے تو اُس کے محلے والوں کے پاس جاتے اور اُس بوڑھے شخص کے بارے میں نصیحت فرماتے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے سفید بال والے مسلمان کی تعظیم وعزت کی اللہ رب العزت بڑھاپے میں اُس کی عزت وتعظیم کرنے والا مقرر فرمائے گا۔ شیخ کبیر دوسروں کی خیر خواہی کا کوئی موقع بھی نہیں گنواتے تھے، بلکہ بڑے انوکھے اندازمیں ہر ایک خیرخواہی فرماتے تھے۔ مثال کے طورپر جب اُنھیں پتا چلتاکہ فقرا میں کوئی اپنی لغزش کی بنیاد پر پٹائی کھانے والا ہے تو اُس سے اُس کے کپڑے بطور عاریت لیتے اور اُسے پہن اُس کی جگہ پر سور ہتے، اور اِس طرح فقرا اُن کی پٹائی کردیتے۔ جب پٹائی ہوجاتی اور فقرا کا غصہ سرد پڑجاتا تو اپنا چہرہ کھول دیتے، حالاں کہ اُن پر غشی طاری ہوجاتی لیکن اُن سے فرماتے کہ تمہارا بھلا ہوکہ تم لوگوں نے مجھے اجروثواب کمانے کا موقع دیا۔ فقرا ایک دوسرے سے کہتے کہ یہ اخلاق سیکھو۔
خلافت وسجادگی:
تقریباً بیس سال کی عمرکے ہوگئے تو اُستاذ ومربی شیخ ابوالفضل علی واسطی قدس سرہ نیان کو تمام علوم شریعت وطریقت کی اجازت عنایت فرمادی، اور اس کے ساتھ خرقہ وخلعت خلافت سے بھی نوازدیا۔ تاہم اس کے بعد بھی علم حاصل کرناجاری رکھااور اپنے مرشد ومربی کی نگرانی میں نورِتصوف سے منورہونے کے بعد اپنے ماموں شیخ سیدمنصور بطائحی سے علم فقہ میں کامل مہارت حاصل کی، اور اس طرح فقہ وتصوف کے عطرمجموعہ قرارپائے۔ شیخ سیدمنصوربطائحی قدس سرہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں پہنچے تواُنھوں نے شیخ رفاعی کواپنے مرشدومربی شیخ الشیوخ کی اَمانت اور اپنے خاص وظائف کااُن سے عہد لیا، اور پھراُن کو مسندسجادگی اورمنصب ارشاد پر فائز فرمادیا۔ (شان رفاعی)
تعلیمات وارشادات:
شیخ احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے چند مفید تعلیمات وارشادات یہ ہیں۔۔۔
رسول کریم سے محبت:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بہت بڑی شان والاجانو۔ خالق ومخلوق کے درمیان آپ واسطہ بھی ہیں اور وسیلہ بھی۔ آپ ہی نے خالق ومخلوق کا فرق واضح فرمایاہے۔ آپ اللہ کے خاص بندے، اللہ کے محبوب اور اللہ کے رسول ہیں۔ آپ تمام مخلوق میں سب سے کامل اور تمام پیغمبروں میں سب سے افضل ہیں۔ آپ اللہ کی راہ دکھانے اور اللہ کی طرف بلانے والے ہیں ، اور آپ ہی سب کے لیے بارگاہِ رحمانی کا دروازہ اور بارگاہِ صمدیت کا وسیلہ ہیں۔ خوب جان لو کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، وفات کے بعد بھی اسی طرح باقی ہے جس طرح حیات میں باقی تھی۔ تمام مخلوق قیامت تک آپ کی ہی شریعت کے مکلف ہیں اور آپ کا معجزہ قرآن کریم ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیثوں کو رَد کیاگویا اُس نے کلام اللہ کو رَد کیا۔ (شان رفاعی)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے الغوث احمد بن خلف البلخی کی اپنے بیٹے کو وصیت

پیش کش: بزم رفاعیخانقاہ رفاعیہ، بڑودہ،گجرات9978344822 شیخ العارفین قدوۃ الاولیاء حضرت محمد بن الغوث احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے