منقبت: یارفاعی یہ غم ہو تو کیا کروں

نتیجۂ فکر: سید شہباز اصدق

دل بسوئے صنم ہو تو میں کیا کروں
سر مرا در پہ خم ہو تو میں کیا کروں

سوزِ دل چشمِ نم ہو تو میں کیا کروں
یا رفاعی یہ غم ہو تو میں کیا کروں

یا رفاعی رفاعی رہے زیرِ لب
مجھ پہ ان کا کرم ہو تو میں کیا کروں

ہے وظیفہ مرا یا رفاعی مدد
اب کسی کو الم ہو تو میں کیا کروں

مرقدِ شہ رفاعی ہے باغِ ارم
پاس باغِ ارم ہو تو میں کیا کروں

حضرتِ شہ رفاعی مرے واسطے
بوئے ابرِ کرم ہو تو میں کیا کروں

نامِ احمد رفاعی صدا کے لیے
لوحِ دل پر رقم ہو تو میں کیا کروں

نام آیا یہ کس کا لبِ ناز پر
اب کرم دم بدم ہو تو میں کیا کروں

یا رفاعی ترے اصدقی کے لیے
خوب تر جامِ جم ہو تو میں کیا کروں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت : جب مدینے سے عطا خیرات ہو تو نعت ہو

رشحات خامہ : محمد نثار نظامی مہراج گنج۔ صاحب جودو سخا کی بات ہو تو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے