فکرۃ العلماء والشیوخ عن الامام الکبیر السید احمد الرفاعی رحمہ اللہ تعالیٰ

بقلم: الشیخ غلام جیلانی القادری تابش الھندی کان لہ القوی

یکون رجال فی العالم یصطفیہم اللہ تعالی فی الدنیا والآخرۃ و یلقی حبہم فی قلوب أہل العالم فیحبونہم حتی الأسماک فی البحار و النمل فی جحورہم و الطیور فی مأواہم و طیرانہم فلما لا یودہم الناس ولا سیما أہل اللہ جل وعلا الکبار و یقولون عن مرتبتہم بدون تردد و و تکلف أنہم رجال اللہ فی الأرض و ہم صغارہم فمن ہؤلاء الرجال الذین سبقوا إلی اللہ جل وعلا علوا کبیرا الإمام الکبیر الغوث السید أحمد الکبیر الرفاعی رحمہ اللہ تعالی. إن الإمام الرفاعی من أجلۃ الأقطاب. یقولون العلماء و الشیوخ عن مکانتہ أننا لا نقدر أن نصف رجلا أقل ما فیہ أن صار شعر بدنہ أعینا نظر بہا شرقا و غربا و یمنۃ و یسرۃ. فبہذا المناسبۃ نقدم شأن الإمام الرفاعی بلسان العلماء و الشیوخ و لا سیما شیخہ و معاصریہ رحمہم اللہ تعالی.

علامۃ الوقت أستاذ الرجال الشیخ أبو الفضل بن محمد بن أبی بکر بن عبد الرحمن بن أحمد بن علی بن حسن القرشی المقری الواسطی المعروف بہ ابن القاری رضی اللہ عنہ(شیخ الإمام الرفاعی و أستاذہ)
سیدنا المعروف بإبن القاری رضی اللہ عنہ أجاز السید أحمد الرفاعی بالعلم والطریق ولم یسمح بإجازتہ لغیرہ من أصحابہ فعوتب علی ذلک فقال یجب علی من أنجب مثل السید أحمد أن ینقرض من غیرہ یرید أن لا یکون لہ خلیفۃ غیرہ وکان أصحاب الشیخ علی الواسطی من أہل الأحوال والعرفان أکثر من أربعین ألفا وکان اذا رأی بأحدہم الإستعداد للفطام یأمرہ بملازمۃ السید أحمد وتجدید البیعۃ علی یدیہ فیقال لہ أ ما أنت شیخہ فیقول نحن أشیاخ الجسوم و ہو شیخ الأرواح و ربما قال لولا أمر سبق لأخذت البیعۃ منہ وتشرفت ملازمتہ فإنہ کنز من کنوزاللہ مطلسم استودع اللہ قلبہ أسرار القرآن وأقامہ بعنایتہ نائبا عن جدہ صلی اللہ علیہ وسلم.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۳۱ ملخصا)
وقال الشیخ علی الواسطی المعروف بإبن القاری فیہ أرواح الأولیاء تطیر إلی حضرات القدس بأجنحۃ مختلفۃ أطولہا ریشا وأنہضہا عزما وأقربہا مرمی من سدرۃ الوصل روح السید أحمد ابن السید أبی الحسن علی الرفاعی فی ہذا العصر و لو لا سرالإمتثال لأخذت عنہ ولاریب أناشیخہ فی الصورۃ وہو شیخی فی المعنی وقال فیہ أیضا السید أحمد سلک إلی اللہ تعالیٰ طریقا أتعب بہ السالکین وأقصر ألسن المتکلمین وأخرس فی دیوان التفتیش المحمدی أہل الدعوی أذل نفسہ فعز وأخرہا فتقدم وطمس انانیۃ استراق النفس السمع فصار نورا یستضاء بہ و جبلا ابلقا یلتجأ الیہ وإنہ لوجیہ الوجہ عند اللہ ورسولہ ﷺ نحن أشیاخہ بالاسم وہو شیخنا وشیخ الوقت بالحکم (المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۳۳ ملخصا)

الإمام الکبیر العارف الشہیر شیخ العصر خطیب الحصن الشیخ جمال الدین الحدادی رحمہ اللہ تعالی
کان الإمام جمال الدین الحدادی یقول لیس علی وجہ الأرض فی ہذا العصر من مجلس فی علم الحقیقۃ معمور الأطراف بلباب الشریعۃ یرد بہ الشارد وتحصل بہ الفوائد وتطیر بہ القلوب إلی علام الغیوب لا علو فیہ ولا غلو ولا تشم منہ رائحۃ الدعوی إلا مجلس السید أحمد الرفاعی رضی اللہ تعالی عنہ فإنہ مدرسۃ للعلماء ورباط للفقراء وریاضۃ للسالکین ومحجۃ للعارفین واللہ یختص برحمتہ من یشاء. (المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۳۳ ملخصا)
و کان الشیخ الإمام جمال الدین الخطیب الحدادی یقول: انتہت نوبۃ الفضائل للسید أحمد الرفاعی رضی اللہ عنہ فی عصرہ وکان إذا جلس للدرس علی کرسیہ تحیط بہ أئمۃ العلماء وفحول الفضلاء وصنوف أہل المعارف والعلوم فإذا ابتدر المکارم أخرس المتکلمین وأبہت الجاحدین وحیر العارفین وأرقص السالکین وأبکی الخاشعین وأذہل المتمکنین وأتی بجوامع الکلم وراثۃ من جدہ صلی اللہ علیہ وسلم و برز لجلاسہ بکل فن فالادباء تأخذ نصیبہا من فصاحتہ والعلماء من معارفہ والفلاسفۃ من تحقیقہ والمتکلمون من تبیانہ والبلغاء من رقائقہ والاولیاء من حقائقہ والعقلاء من حکمہ والفقراء من أدبہ والصلحاء من مواعظہ وکلہم فی حیرۃ منہ لما من اللہ علیہ بہ من عظیم مواہبہ.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۴۳ ملخصا)

الشیخ العارف باللہ عبد الملک بن حماد الموصلی رحمہ اللہ تعالی
عن الشیخ العارف باللہ عبد الملک بن حماد الموصلی رحمہ اللہ قال: کان السید أحمد رضی اللہ عنہ علی جانب عظیم من الحلم والرفق والتواضع وما خاطب صغیرا ولا کبیرا قط إلا بأی سیدی! ومارأی نفسہ شیئا قط ولا شہد لہ مزیۃ علی أحد من الخلق و کان یبذل بذل الملوک وعیشتہ فی أہلہ وعیالہ عیشۃ الفقراء و یقول اللہم لا عیش إلا عیش الآخرۃ وکان یلبس قمیصا أبیض و رداء أبیض و خفا من صوف أبیض ویتعمم بعمامۃ سوداء دسماء وفی بعض الأحیان یتعمم البیاض وکان رفیع القوام نحیف الوجود کثیر التبسم قلیل الضحک مکینا فی طورہ ذا ہیبۃ عظیمۃ لا یتمکن جلیسہ من إباحۃ النظر إلیہ ہذا مع رفقہ وظرافۃ طبعہ وخلقہ ورقۃ شیمہ وذلک لما اشتمل علیہ من العلم والعقل والعبادۃ والکمال والفضائل و المجد و علو النسب والکرم والخوارق الغر والحکمۃ البارعۃ والسنن المحمدی ورفعۃ القدر وبعد الصیت والشہرۃ والشان الوحید فی عصرہ نفعنا اللہ بہ والمسلمین آمین.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۴۴ ملخصا)

الشیخ الإمام أبو شجاع الشافعی رحمہ اللہ تعالی
الشیخ الإمام أبو شجاع الشافعی رواہ قائلا کان السید أحمد الرفاعی رضی اللہ عنہ علما شاخا وجبلا راسخا وعالما جلیلا و محدثا فقیہا و مفسرا ذا روایات عالیات وإجازات رفیعات قارئا مجودا و حافظا مجیدا حجۃ رحلۃ و متمکنا فی الدین و سہلا علی المسلمین و صعبا علی الضالین و ہینا لینا و ہشا بشا و لین العریکۃ و حسن الخلق و کریم الخلق و حلو المکالمۃ و لطیف المعاشرۃ لایملہ جلیسہ ولا ینصرف عن مجالسہ إلا لعبادۃ و حمولا للأذی و وفیا إذا عہد و صبورا علی المکارہ و جوادا من غیر اسراف و متواضعا من غیرذلۃ و کاظم الغیظ من غیر حقد و أعلم أہل عصرہ بکتاب اللہ وسنۃ رسولہ و أعملہم بہا و بحرا من بحار الشرع و سیفا من سیوف اللہ و وارثا أخلاق جدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۴۴،۴۵ ملخصا)

الباز الأشہب الغوث الأعظم محی الدین الشیخ السید عبد القادر الجیلانی رحمہ اللہ تعالی
سأل فقیر الشیخ محی الدین عبدالقادرالجیلانی رضی اللہ عنہ عن السید أحمد الکبیر الرفاعی رضی اللہ عنہ فقال لہ أی فقیر! ہذا رجل لا یعرف ولا یحد ولا یصل إلی معرفۃ مقامہ غیر ربہ أحد ہذا رجل خلقہ الشرع والکتاب وقلبہ مشغول برب الارباب ترک الکل فنال الکل. ویقول فی شأن السید أحمد الرفاعی رضی اللہ عنہما خلقہ حسرۃ الرجال وحالہ منتہی الاحوال ومقامہ غایۃ الآمال وبابہ محط الرحال وقال من أراد ان یری الرجل المتمکن الذی لا تحرکہ الزعازع فلیذہب إلی أم عبیدۃ فإن صاحبہا الرجل المتمکن فی کل مقام و طور و دونہ الرجال وأن اللہ یرحم الوقت الذی یکون فیہ مثل ہذا الجہبذ.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۴۶،۴۷ ملخصا)

الشیخ الولی الکبیر إبراہیم الہوازنی رحمہ اللہ تعالی
سئل الشیخ الولی الکبیر إبراہیم الہوازنی فی بیت المقدس عن شیخنا السید أحمد الکبیر الرفاعی رضی اللہ عنہ و عن حالہ و مقامہ و مابلغہ من المرتبۃ فقال ما أقدر أن أصف رجلا أقل ما فیہ أن صار شعر بدنہ أعینا نظر بہا شرقا وغربا ویمنۃ ویسرۃ.جعل کل أوقاتہ آدابا وجعل لکل عضو من أعضائہ أدبا یعرف شامخ رتبتہ الصادقون والکاذبون والمدعون والمحققون کل حرکاتہ وسکناتہ وأطوارہ وأحوالہ دلائل واضحۃ وأمارات لائحۃ تدل علی طہارۃ قلبہ مرقاۃ سرہ و وفاء عہدہ وحفظ وقتہ وقلۃ إلتفاتہ إلی العوارض وإعراضہ عن الأغیار وإقبالہ بکلیتہ علی الملک الجبار والحق أقول کل الأولیاء علیہ عیال وعلی ولیمتہ یحطون الرحال و ینزلون برحابہ الاثقال وہو شیخہم فی کل مقام وحال و ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم.(المعارف المحمدیۃ فی الوظیفۃ الأحمدیۃ ۴۷ ملخصا).

إمام أہل السنۃ أعلی الحضرۃ الإمام أحمد رضا خان القادری الحنفی الہندی رحمہ اللہ تعالی
قال الإمام أحمد رضا خان القادری: و یعد(الإمام الکبیر السید أحمد الرفاعی) فی أربعۃ الأقطاب أی من الأربعۃ الذین تعدون علی حد الإمتیاز فی الإقطاب. أولہم حضرۃ النور سیدنا الغوث الأعظم(الشیخ عبد القادر الجیلی) و ثانیہم (الإمام الکبیر) السید أحمد الرفاعی و ثالثہم مولانا السید أحمد الکبیر البدوی و رابعہم مولانا السید إبراہیم الدسوقی رضی اللہ تعالی عنہم.
(الفتاوی الرضویۃ ۲۲/۵۵۰ بالتغییر)
و قال: إن عظیم البرکۃ سیدنا السید أحمد الکبیر الرفاعی قدسنا اللہ بسرہ الکریم من أکابر أولیاء اللہ و أعاظم محبوبی رب العالمین.
(الفتاوی الرضویۃ ۸۲/ ۳۹۹ بالتلخیص)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے الغوث احمد بن خلف البلخی کی اپنے بیٹے کو وصیت

پیش کش: بزم رفاعیخانقاہ رفاعیہ، بڑودہ،گجرات9978344822 شیخ العارفین قدوۃ الاولیاء حضرت محمد بن الغوث احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے