سلسلہ رفاعیہ کا شمار اور نسبت

از قلم:سید بدرالدین محبت اسراراللہ رفاعی
سجادہ نشین: مسند عالیہ رفاعیہ کراچی، پاکستان

الذین اٰمنوا و تطمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
ترجمہ:جو لوگ ایمان لاے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی
ترجمہ:اے اللہ !میرا سینہ کھول دے، اور میرے کام و معاملات میں سہولت پیدا کردے اور میری زبان میں روانی و سلامت پیدا کردے تاکہ دوسرے میرے کلام و مقصد کو سمجھ لیا کریں۔
چھٹی صدی ہجری کا وہ زمانہ تھا جس کو پُرفتن عہد ظلماتی کہنا بے جانہ ہوگا جو ایک بہت ہی پر آشوب اور پر فتن صدی گزری ہے، جس وقت صحیح اور سچے اسلامی عقائد میں بگاڑ پیدا ہو رہا تھا اور ان کی جگہ ذاتی مصالح کی بناء پر نئی نئی تراکیب جنم لینے لگی تھیں، خلافت عباسیہ کا دور اپنی دنیوی شان و شوکت کے لحاظ سے مسلمانوں کے سابقہ جاہ و جلال کا درخشندہ ثبوت اور یادگار ضرور تھا اس کی سطوت اور ہیبت کی ہرطرف دھوم مچی ہوئی تھی مگر یہ عظمت بھی قصہ پارنیہ بن چکی تھی، اسلامی خلافت میں دینی اور اخلاقی اقدار معدوم ہو رہی تھیں۔
اسلامی حکومت اور آبادی میں کوئی فرق نہ آیاتھا، یعنی مراکش سے ہندوستان تک مسلمان ہی مسلمان تھے اور حکومتیں بھی اسلامی تھیں لیکن ہر طرف جنگ و جدل اور رزم و پیکار کا سلسلہ جاری تھا، مسلمانوں میں باہم نا اتفاقی ہوچکی تھی اور عقائد کے لحاظ سے وہ کئی گروہ میں تقسیم ہو چکے تھے، اسی وجہ سے آپس میں قتل و مقاتلے جاری تھے، مسلمانوں کی مرکزی قوت یعنی طاقت بالکل ختم ہوچکی تھی، وہ مذہبی تفرقہ کا شکار تھے اور امراء و عمائدین بدکاریوں کے سمندر میں ڈوبے ہوے تھے، اپنی اخلاق سوز حرکتوں پر نادم بھی نہیں تھے، کینہ، بغض، عداوت، شروفساد، حرص و ہوس، غفلت اور تساہل جیسے عیوب عام ہو گئے تھے، نت نئی لڑائیوں سے ملک اجڑ رہے تھے، مذہبی انتشار اور دینی گمراہیوں کا شدید طوفان برپا تھا، نام نہاد صوفیاء اور دنیا پرست درباری علماء کی بے راہ روی کی وجہ سے دین میں رخنے پڑ رہے تھے اور ملحدانہ خیالات ترقی پا رہے تھے، ایثار و اخلاص کی روح مردہ ہو گئی تھی، اہل علم کے دامن حرص و ہوس سے آلودہ تھے۔
جب کہ نبوت کے بعد خلافت اس نہج پر چلی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے امت کے ربط کی تجدید کرنا اور میثاق و عہد کی یاددہانی کرنا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، نفس و ہوا اور شیطان کی مخالفت کرنا، اپنے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم قرار دینے اور طاغوتی طاقتوں کا انکار فی سبیل اللہ جہاد کرنے کا وعدہ یاددلانا۔
بعد کے خلفا نے اس سے غفلت برتی، خلافت جس کا اصلی فرض تھا اس سے کنارہ کش ہوگئے اور اس کی جگہ جبایت و تحصیل اور وصول، فتوحات و ملک گیری پر منحصر ہوگئے اور اگر خلافت کا بیعت سے کوئی تعلق رہا بھی تو صرف اپنی ذات اور اپنے عہدے کی حکمرانی کے لیے خلافت کی روح کو اور نبوت کی امانت کو ضائع کرکے صرف انتظامی امور سیاست ملک و جبایت (ٹیکس، مال گزاری) ہو رہی تھی۔
اللہ تعالی نے اسی چھٹی صدی ہجری کے پُر آشوب اور پُر فتن دور میں اسلام کا چراغ روشن کرنے کے لیے سیدالاولیاء حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحتہ والرضوان کا انتخاب کیا اور آپ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوے،اور امتداد زمانہ کے باوجود آج بھی وہ چراغ دنیاے اسلام کے گو شہ گوشہ میں ضیابار ہے۔ جب کہ عرب و عجم کے حالات یاس انگیز تھے، مذہبی انتشار اور دینی گمراہیوں کا ایک شدید طوفان برپا تھا، ملحدانہ خیالات ترقی پا رہے تھے ایثار و تواضع اور انکساری کی روح مردہ ہوچکی تھی۔ حق تعالی نے سیدالاولیاء سید احمد کبیر رفاعی کو بلند و عظیم مرتبہ بلند مشرب اعظم و مقام اکرم، حال اکمل و سلوک افضل کرامات عطا فرمایا، اور آپ دین کے کام کے مجدد اور اپنے جد امجد سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب بن کر آے۔
آپ فرماتے ہیں:واسط کی گلیاں عراق کے راستے اور بطائح کے اطراف و اکناف آج اہل بدعت دہریوں اور نفس پرستوں سے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔
داعی اکرم نے آواز دی :
اے احمد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب بن کر اٹھ ،قطعی اور فیصلہ کن دلائل سے ان کی شریعت کو مضبوط کر، میں نے اپنی بے بسی اور کم مائیگی کے پیش نظر خاکم بدھن ہوکر عرض کیا: معافی کا خواہستگار ہوں، لیکن مجھ پر حجت قائم ہوگئی اور خدائی دلیل کے سامنے میری ایک نہ چلی لہٰذا میں اپنی عاجزی اور بے سروسامانی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہواکہ اللہ ہی قوت دینے والا ہے اور اپنی ذلّت لے کر سامنے آیا کہ عزت دینے والا تو خدا ہی ہے اور اپنی انکساری کے ساتھ تیار ہوگیا کہ اللہ ہی زبردست و صاحب جبروت ہے۔
اے مجلس میں موجود حضرات اور وہ جو موجود نہیں ہیں سنو! مخاطب حادث ہے اور حکم دینے والا قدیم اور قدیم سے اخذ کرنے والا اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم با عظمت ہے، اور تمہاری سمجھ کے مطابق اس کا ترجمان تمہارا ایک ادنا و ناتواں دوست ہے لہٰذا اس سے اخذ کرو، اس کے بارے میں اخذ کرو غیر معصوم کو حکم کے مقام پر رہنمائی کے منصف سے الگ رکھو۔
وما اتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنۃ فانتھوا
ترجمہ:اور رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں بازرہو۔
میری باتوں کو کان کھول کر سنو، انصاف کے ارادے سے نہ کہ انکار و اختلاف کے دباوسے، اس لیے کہ اگر تم کان کے راستے دلوں میں اترنے والی باتوں میں انصاف سے کام لوگے تو ہوش میں آجاوگے اور بہت ممکن ہے تمہارا ہوش میں آنا تمہیں بہتر حالات پر آمادہ کردے۔
تریاق المحبین میں امام العلماء الشیخ الحفاظ احمد عزالدین فاروقی الواسطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگر سید احمد کبیر رفاعی نہ ہوتے تو حق کا راستہ اُس زمانے میں گم ہوجاتا اس وجہ سے کہ لوگ خلاف شرع باتیں کرنے والے اور غرور و تکبر کرنے والے لوگوں کی باتوں کے گرویدہ ہو گئے تھے اور عاجزی و انکساری کے مقام سے دور ہو گئے تھے، ان کے دامن حرص و ہوس سے آلودہ تھے، سرمایہء ملت منتشر ہورہا تھا، ان حالات میں سید احمد کبیر رفاعی نے ہدایت کا نور پھیلایا اور آپ کی عظیم جدوجہد کے بعد مذہبی استحکام کا ایک نیا دور شروع ہوا، آپ نے دینی اصلاح و تربیت کے لیے مسلسل جدوجہد اور اپنے قول و عمل سے مسلمانوں کے دینی احساس کو اس طرح بیدار کیا کہ وہ تزکیہء نفس کی شدید ضرورت محسوس کرنے لگے، حالات ناخوشگوار تھے ماحول نہایت ناسازگار تھا لیکن آپ کی جدوجہد کامیاب ہوئی امراء و سلاطین و نام نہاد صوفیاء اور دنیا پرست علماء نے آپ پر رعب ڈالنا چاہا لیکن آپ نے ان کی حرکتوں کو قطعی طور پر شریعت اسلامی کے منافی قرار دیا اور ان غیر شرعی اعمال پر سخت تنقید کی، آپ نے مسلمانوں کے بکھرے ہوے شیرازہ کو منظم کیا اور ان کے اندر غور و فکر کی صلاحیتوں کو ابھارا اور کتاب و سنت پر عمل کرنے کی ضرورت کو ثابت کیا اور شریعت و سنت کا اعتبار عام کیا۔
علامہ عبدالوہاب شعرانی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے مکالمے کو نقل کرکے اپنی راے لکھتے ہیں: حضرت سید احمد کبیر رفاعی کے تلامذہ میں کسی نے عرض کیا کہ آپ کا کون سا مقام ہے، "کیا آپ غوث ہیں آپ نے فرمایا: نزہ شیخک و الغوث یعنی اپنے شیخ کو مرتبہ غوثیہ سے برتر سمجھو، پھر سوال کیا "کیا آپ قطب ہیں فرمایا: نزہ شیخک عن القطبیم یعنی اپنے شیخ کو مرتبہ قطبیت سے برتر سمجھو۔
قطبیت اور غوثیت سے ہے سوا رتبہ اعلی و اکرم آپ کا
شان عالی آپ کی ہے بے نظیر یا رفاعی سید احمد کبیر
پھر آپ نے فرمایا:اللہ تعالی نے تمام ارواح اولیاء کو جمع کیا اور ارشاد ہواکہ جو جس کا جی چاہے مانگے، ہر ایک نے جو اس کے دل میں تھا عرض کیا، کسی نے مرتبہ غوثیہ طلب کیا، کسی نے قطبیت طلب کی یہاں تک کے نوبت مجھ تک پہنچی تو میں نے عرض کیا:
رب انی ار یدان لا اریدو اختیار ان لا اختیار
ترجمہ:میں تو چاہتاہوں کہ کچھ نہ چاہوں اور یہ تجویز کرتا ہوں کہ کچھ نہ تجویز کروں۔
فاعطانی مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر من اھل ھذا العصر
ترجمہ:پس مجھے وہ چیز عنایت ہوئی جو اس زمانے والوں میں سے نہ کسی کی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کے کان نے سنا اور نہ کسی کے دل پر اس کا خیال گزرا۔
علامہ عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب "الطبقات الکبریٰ میں فرماتے ہیں: "میرے نزدیک یہ اشارہ اس امر کی دلیل ہے کہ سید احمد کبیر رفاعی ان مقامات اور مراتب سے گزرچکے تھے کیونکہ قطبیت اور غوثیت معروف اور معلوم مقامات ہیں لیکن جو "مع اللہ باللہ (یعنی جس کو اللہ کی معیت اور اتصال ہو) اس کا مقام غیر معلوم ہوتا ہے اگرچہ ہر مقام میں اس کا مقام ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام قلیوبی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب "تحفۃ الراغب میں تحریر فرماتے ہیں کہ "تمام اہل اللہ و صوفیا و علماے کرام کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ رتبہء اعلی و اکرم سید احمد کبیر رفاعی کا مفوق قطبیت و غوثیت ہے کوئی ولی اس رتبہ جامیعت اوصاف حمیدہ و اخلاق سعیدہ و مقامات فریدہ کا نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا۔
تحفۃ الراغب میں مزید تحریر ہے،قسم اللہ کی کہ مرتبہء اعلی جان لینے کے لیے یہی کافی ہے کہ سید احمد کبیر رفاعی مشرف دست بوسیء دست منور مبارک رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرفراز ہوے اور یہی شرف امتیازی شرف ہے۔
علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل
ترجمہ:میری امت کے علما (اولیا اللہ)بنی اسرائیل کے نبیوں جیسے ہیں۔
قوم کے اماموں نے اتفاق کیا ہے کہ اگر کسی کو تمام طریقوں میں سے کسی طریقہ میں نسبت ہے بعد تحقیق اس نسبت کے اسے چاہئیے کہ بلند طریقہ رفاعیہ سے بھی نسبت پیدا کرے، اس لیے کہ بلند طریقہ رفاعیہ اللہ تعالی میں محو ہونے کے تمام طریقوں اور مشربوں کا جمع کرنے والا ہے، اور سلطان العارفین سید احمد کبیر رفاعی کے سیدھے راستے کو اختیار کرنا بندگی و عبودیت ہے، ظاہر میں شریعت پر قائم ہونا اور قانون سنت کی حفاظت ہے،باوجود ان حقیقت کے مرتبوں پر ترقی پانا ہے، اگر کسی شخص نے عالی طریقہ رفاعیہ سے اپنی نسبت مستحکم کی ہے اس کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ دوسرے طریقہ سے نسبت پیدا کرے، اس لیے کہ صحیح راستہ و حال و مقام و قدم جو جامع (جمع کرنے والا) طریق محمدی ہوتا ہے ان سے جدا نہیں ہونا چاہیے ۔
اولیا اللہ، انبیائعلیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں اور انبیاء ہی سے اقتباس فیض کرتے ہیں، جس ولی کو جس نبی سے فیض حاصل ہوتا ہے اس کی بابت یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں ولی فلاں نبی کے قدم پر ہے۔ ہر ولی کسی نہ کسی نبی کے قدم پر ہوتا ہے مثلا کسی ولی کو ولایت ابراہیمی، کسی کو ولایت یوسفی، کسی کو ولایت موسوی، کسی کو ولایت عیسوی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح سے حضرت سلطان العارفین سید احمد کبیر رفاعی قدس سرہ کو بھی ولایت کی ایک خاص قسم ولایت محمدی حاصل ہے چنانچہ آپ محمدی قدم، محمدی حال اور محمدی سیرت کے حامل ہیں جو تمام طریقوں سے افضل و اعلی ہے۔ اور حضرت سید احمد کبیر رفاعی مشرب و قدم محمدی میں پوری طرح قیام رکھتے ہیں، ہر ولی کا قدم و مشرب و حال و طور ایک طریقہ ہے، غیبی تقسیم نے ہر ولی کو انبیا علیہم السلام اجمعین میں سے کسی ایک کے قدم سے وابستہ کیا ہے۔ چنانچہ المعارف المحمدیہ میں ہے:
الا ان القسمۃ الغیبیۃ اخذت بقدم کل ولی الی قدم نبی فالشیخ منصور رضی اللہ عنہ ابراھیمی القدم محمدی المشرب، والشیخ حماد موسوی القدم محمدی الطور، والشیخ ابوالوفا رضی اللہ عنہ موسوی القدم محمدی الطور، والشیخ محمد بن عبداللہ بصری رضی اللہ عنہ عیسوی القدم محمدی المشرب، والشیخ ابو نجیب السھروردی رضی اللہ عنہ یوسفی القدم محمدی الحال، والشیخ عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ سلیمانی القدم محمدی المشرب، والشیخ علی الھیتی رضی اللہ عنہ یعقوبی القدم محمدی الطور، والشیخ ابو البدر العاقولی رضی اللہ عنہ یونسی القدم محمدی الحال و ھکذا ھم رضی اللہ عنھم۔
واما سیدنا و مولانا السید احمد الرفاعی رضی اللہ عنہ نفعنا وامۃ جدہ بعلومہ وبرکاتہ فھو محمدی القدم و محمدی الحال محمدی الطور ابراھیمی المشرب۔
ترجمہ:حضرت شیخ منصور قدس اللہ سرہ ابراھیمی قدم اور محمدی مشرب ہوے ہیں، حضرت شیخ حماد قدس اللہ سرہ داودی قدم و محمدی حال ہیں، حضرت شیخ تاج العارفین ابوالوفا قدس اللہ سرہ موسوی قدم و محمدی طور ہیں، حضرت شیخ محمد بن عبدالبصری قدس اللہ سرہ عیسوی قدم و محمدی مشرب ہیں،حضرت شیخ ابوالنجیب سہروردی قدس اللہ سرہ یوسفی قدم و محمدی حال ہیں، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس اللہ سرہ سلیمانی قدم و محمدی مشرب ہیں، حضرت شیخ علی ھیتی قدس اللہ سرہ یعقوبی قدم و محمدی طور ہیں، حضرت شیخ ابوالبدر العاقولی قدس اللہ سرہ یونسی قدم و محمدی حال ہیں۔
جہاں تک بات ہے ہمارے آقا و مولا سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ کی تو آپ محمدی قدم، محمدی حال، محمدی طور و طریقہ اور ابراہیمی مشرب میں محمدی طریقہ پر ہیں۔
اسی وجہ سے عارف با للہ شیخ اصہب دمشقی قدس سرہ نے سلطان العارفین سید احمد کبیر رفاعی کو خاتم الاولیاء کہا ہے اس معنی کے لحاظ سے کہ سید احمد رفاعی جامع محمدی کے مقام کو ختم کرنے والے ہیں اور اولیاء میں سے کوئی قدم و حال و طور و مشرب محمدی کا جامع حضرت سید احمد رفاعی کی مانند نہ آیا ہے اور نہ آے گا۔ چنانچہ وظائف احمدیہ میں ہے:
قال الشیخ العارف با للہ الاصھب الدمشقی رضی اللہ عنہ وغیرہ فی شانہ قدس اللہ روحہ و نور ضریحہ انہ خاتم الاولیاء یرید انہ ختم المقام الجامع المحمدی۔
ترجمہ:شیخ عارف با للہ اصہب دمشقی رضی اللہ عنہ حضرت رفاعی کے تعلق سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ خاتم الاولیاء ہیں یعنی آپ مرتبہء محمدی پر مہر لگانے والے ہیں۔
اہل عرفان نے سلطان العارفین سید احمد کبیر رفاعی کے مرتبہ کو مرتبۂ قطب و غوث سے اس وجہ سے بلند و بالا کہا ہے کہ سید احمد رفاعی نیابت محمدی کے جمع کرنے کے مرتبہ کو رکھتے ہیں اور قطب ہونا غوث ہونا مرتبہء تصرف (دینا) و اخز (لینا) و عطا و فصل (جداہونا) و حکم و مدد (باری تعالی سے) ہے نہ کہ اپنے فعل و کوشش و قدرت سے اور خلق و حال کا مرتبہ تحقیق قطب و غوث ہونے سے زیادہ قدم محمدی عظیم و اشرف ہے، جب کہ بندہ خالص و کامل طور پر محمدی ہوگیا تو سر محمدی ہوجاتا ہے اور وصف نبوی اور حقیقت محمدی کے علوم اس کے اندر سماجاتے ہیں اور زمین میں اللہ کی خلافت اور خلافت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت کتاب عزشاہ یعنی قرآن کے مرتبہ کو حاصل کر لینا ہے، اس لیے کے حدیث شریف میں آیا ہے۔
(ترجمہ)جس نے بدعتی کو جھڑکا اللہ تعالی اس کے قلب کو امن و ایمان سے بھر دے گا، جس نے بدعتی کو ذلیل کیا اللہ تعالی اس کو بڑی رسوائی کے دن یعنی قیامت ۔ میں امن میں رکھیگا، جس نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا وہ زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کی کتاب (قرآن مجید) کا خلیفہ ہے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی خلیفہ ہے، سیدالاولیاء سید احمد رفاعی کے بارے میں اس حدیث شریف کا مضمون پورے طور پر لاگو( ثابت) ہوتا ہے۔
اسی لیے آپ کے بدعت کو ختم کرنے اور نور سنت کو زندہ کرنے کی بنا پر فرمایا:
سیدالاولیاء سید احمد رفاعی اپنے قول و فعل کے سبب مددگار و ناصر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم رہے ہیں، اوصاف کی یہ تکمیل دوسروں میں نہیں ہوئی ہے مثال کے طور پر بعض اقطاب محمدی مشرب ہیں لیکن (جس کے نتیجہ میں وہ) نوح علیہ السلام کا قدم ان کو نوحی طریقہ یا راستہ پر لے جاتا ہے، غضب ناک ہوا اور خلق کو برباد کیا، حضرت سید احمد رفاعی کا قدم غضب و غصہ کی حالت میں بھی خلق محمدی رکھتا ہے کہ سواے اصلاح برکت اور حاجت روائی کی دعا کے اور کوئی چیز نہیں کرتا ہے۔
عارف باللہ شیخ علی واسطی رحمتہ اللہ علیہ "خلاصتہ الاکسیر میں فرماتے ہیں: عارفوں میں بڑی جماعت ان لوگوں کی ہے جو لوگوں کی شان کو اپنے حقیقی درجہ سے کم نہیں خیال کرتے ہیں اور نہ حسد کے سبب سے حق سے منہ موڑتے ہیں ،کہتے ہیں جس طریقہ سے بھی نسبت رکھی ہو اس نسبت کے بعد اپنے کو بلند طریقہ رفاعیہ سے منسوب بتاے اور دوسرے طریقوں میں داخل ہونے کے بعد طریقہ رفاعیہ میں داخل ہو سکتا ہے لیکن طریقہ رفاعیہ میں داخل نسبت حاصل کرنے کے بعد دوسری نسبت حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا،اس وجہ سے کہ طریقہ رفاعیہ تمام احکام عبودیت کا جامع ہے اور تمام طریقوں کے آداب کا جمع کرنے والا ہے، اس وجہ کہ طریقہ رفاعیہ صرف حقیقت شریعت ہے اور اخلاق محمدی کا حاصل ہے، اس طریقہ میں نسبت حاصل کرنے کے بعد دوسرے طریقہ میں صلاحیت نہیں رکھتا ہے، ان وجوہات کے علاوہ ایک قوی تر وجہ اس امر کے ثبوت میں یہ بھی ہے کہ امام و صاحب طریقہ رفاعیہ سید احمد رفاعی کو قریب تر بیعت بہ نسبت دوسروں کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاصل ہے اور دوسروں کے مقابلے میں سید احمد رفاعی کے ہاتھ نے ذاتی طور پر دست مبارک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چھونے و بوسہ دینے کا شرف حاصل کیا ہے۔
ان الذین یبایعونک انما یبا یعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم سورہ الفتح۔
ترجمہ:اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ اللہ تعالی سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔
یہ بیعت بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر ہورہی ہے، لیکن در حقیقت یہ بیعت اللہ تعالی کے ساتھ تھی اگرچہ بظاہر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھا لیکن در حقیقت یہ دست خدا تھا جس طرح حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ تعالی کی اطاعت ہے اسی طرح نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت اللہ سے بیعت اور حضور نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ فرمایا گیا ہے۔
حوالہ جات:
الاصول الاربع فی طریق الغوث الرفاعی الارفع
تذکرہ غوث الاعظم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے الغوث احمد بن خلف البلخی کی اپنے بیٹے کو وصیت

پیش کش: بزم رفاعیخانقاہ رفاعیہ، بڑودہ،گجرات9978344822 شیخ العارفین قدوۃ الاولیاء حضرت محمد بن الغوث احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے