غوثِ اکبر قطب الاقطاب سید احمد کبیر الرفاعی علیہ الرحمہ کی تعلیمات

از: محمد رافع بہرائچی
مدرس و انچارج: جامعہ عثمانیہ و فاطمہ بتول نسواں
مٹھیاں،مونگرہ بادشاہ پور ضلع جونپور ۔یوپی

زبدۃ الاولیاء ، خلاصۃ الاتقیاء ، عارف باللہ، واصل اللہ، واقف اسرارِ شریعت، ماہر رموزِ طریقت، حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ اُمتِ محمدیہ ﷺ میں یکتا وصف کے بزرگ ہوئے ہیں۔
آپ کا مبارک نام سید احمد کبیر تھا، ابوالعباس کنیت اور محی الدین لقب تھا۔ چونکہ آپ کے اجداد میں ایک صاحب کا نام رفاعہ تھا، اُن کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے آپ رفاعی مشہور ہیں، اور نسباً شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہیں، اس وجہ سے حسینی کہلاتے ہیں اور چونکہ مسائلِ فقہیہ میں آپ امام شافعی علیہ الرحمہ کے مسلک کے پابند تھے، اس وجہ سے شافعی کہلاتے ہیں۔
آپ یکم رجب المرجب ھ کو مقام حسن میں پیدا ہوئے، جو اُمّ عبیدہ کے قریب نواح واسطہ میں واقع ہے۔
آپ کی پیدائش سے قبل ہی سرکارِ دوعالمﷺ نے آپ کے ماموں شیخ وقت حضرت باز الاشہب شیخ منصور بطائحی نور اللہ مرقدہ کو آپ کی پیدائش کی بشارت سنا دی تھی۔ پیدائش سے چالیس دن پہلے ایک رات شیخ منصور نے سرکار دو عالم نبی اکرم ﷺکو خواب میں دیکھا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اے منصور! چالیس دن کے بعد تیری بہن کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا، اس کا نام احمد رکھنا۔ اولیائے کرام میں وہ ایسا ہی سردار ہوگا، جس طرح کہ مَیں انبیاء کا سردار ہوں۔ اور جب وہ ہوشیار ہوجائے تو تعلیم کے لیے شیخ علی قاری واسطی کے پاس بھیج دینا اور اس کی تربیت سے غفلت نہ برتنا۔ اس خواب کے پورے چالیس دن بعد آپ مقام حسن میں پیدا ہوئے۔ اور سات سات تک وہیں اپنے شفیق والدین کے سایہ عاطفت میں گذارے۔ آپ کی عمر مبارک کا ساتواں سال تھا کہ آپ کے والد ماجد حضرت شیخ سید ابوالحسن علی نور اللہ مرقدہ کسی ضرورت سے بغداد کی طرف سفر میں گئے اور اسی سفر میں بغداد میں ان کا انتقال ہوگیا۔ (بنیان المشید، شرح برہان الموید)
غالباً یہی وجہ ہے کہ سرکارِ دوعالم نبی اکرم ﷺ نے آپ کی پیدائش کی بشارت آپ کے والدین کو نہ دے کر آپ کے ماموں شیخ منصور بطائحی کو خوش خبری دی اور پاکیزہ تعلیم و تربیت کی تلقین فرمائی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جس نطفہ نور سے ولایت و معرفتِ الٰہی کا حصّہ لے کر اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ فراز ہوئے،و ہ نور بھی صاحبِ کرامت اور مقرب من اللہ بزرگ تھے۔ یعنی آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم شیخ المشائخ حضرت سید ابوالحسن علی رفاعی علیہ الرحمہ۔ آپ اکثر روحانی سفر کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں معرفتِ الٰہی کے بحر ذخار میں غوطہ زن رہا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کے ایک روحانی سفر کا تذکرہ النبراس علی شرح عقائد نامی کتاب میں ملتا ہے۔ جس کا ذکر صاحبِ کتاب نے آپ کے قول کی روشنی میں کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: وَقَالَ الشَّیْخُ اَبُوالْحَسَن الرفاعی صَعَدتُّ فِی الفَوْقَانِیَات ال سَبْعُمائۃٍ اَلْف عَرْشٍ فَفِیلَ لِی اِرْجِع لَا وُصُوْلَ لَکَ اِلَی الْعَرْشِ الَّذِیْ عَرَجَ اِلَیْہِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم۔
شیخ ابوالحسن رفاعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ شبِ معراج حضور سرکارِ کائنات ? جس عرش کے سینے پر قدم رنجہ ہوئے اس عرش کی تلاش میں مَیں نے روحانی سفر کا آغاز کیا، حتیٰ کہ میں نے ساتھ لاکھ عرش کو پار کرگیا، لیکن اس عرش کا کوئی پتہ نہیں چلا، یہاں تک کہ مجھ سے کہا گیا کہ لوٹ جا کہ جس عرش کے سینے پر محمدﷺکے قدم پہنچے میں وہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتا، قیامت تک بھی چلتے رہے تو اے ابوالحسن! تم اس کی تلاش نہیں کرسکو گے۔ (النبراس علی شرح عقائد)
شب اسریٰ کے دولہا ﷺکی رفعت و عظمت اپنی جگہ پر مسلّم ہے کہ جو مرتبہ علیا آپ کو عطا ہوا، وہ کسی کو حاصل نہیں۔ لیکن اس سفر روحانی سے شیخ ابوالحسن رفاعی علیہ الرحمہ کی جو شان و عظمت اورتقرب من اللہ ظاہر ہے وہ ایک الگ عظمت و رفعت کا حامل ہے۔ یہ شان ہے والد کی تو بیٹے کی شان بھی کچھ اس سے الگ نہیں۔
چونکہ ہر صالح اور سعادت مند بیٹا اپنے باپ کا آئینہ دار اورعکسِ جمیل ہوتا ہے اور حضور آقائی مولائی سیدنا احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ اسی نطفہ نور سے منسلک و وابستہ ہیں۔ اسی لیے آپ کی نورانی تعلیمات سے مخلوقاتِ الٰہی کو جو نوری تعلیم ملی، وہ آپ ہی کا مقسوم ہے۔ اسی لیے میرے امام فرماتے ہیں:

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
توُ ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ میں بچپن ہی سے صلاحیت و سعادت مندی اور زُہد و اتقا کے آثار پائے جاتے تھے۔
ابتداء ً آپ پر عالمانہ کیفیت کا غلبہ تھا اور تعلیم و تعلّم ہی آپ کا مشغلہ تھا، مگر اس کے ساتھ آپ اپنے ماموں شیخ منصور بطائحی سے تصوف اور معرفت کی تحصیل بھی کرتے تھے۔ تھوڑے ہی عرصے میں عرفان و سلوک کے مدارجِ عالیہ کو طے کرکے عارفِ کامل بن گئے اور حضرت شیخ منصور بطائحی نے ھ میں اپنے انتقال سے ایک سال پہلے خلافت عطا کرکے خرقہ پہنا دیا اور خانقاہ اُم عبیدہ میں آپ کو اپنا جانشین مقرر کیا اور مشائخ و سالکین واسطہ اُردن اور بصرہ وغیرہ کو ہدایت کی کہ آئندہ وہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی نور اللہ مرقدہ سے رجوع کریں اور انھیں کو اپنا شیخ سمجھ کر استفادہ کریں۔
اس سے ایک سال بعد میں جب شیخ منصور کا وصال ہوا ہے تو آپ کی عمر سال تھی، اس کے بعد آپ کے فضل و کمال، زہد و اتقا اور عبادت و ریاضت کا اس قدر شہرہ ہوا کہ دور، دور سے لوگ رشد و ہدایت کی تلاش و جستجو میں آپ کی خدمت میں آتے اور آپ کے حلقہ عقیدت میں شامل ہوکر کامیاب اور بامراد جائے۔
اور اس طرح آپ کے فضل و کمال اور ولایت و معرفت کا شہرہ آفتاب کے روشنی کی طرح پوری کائنات میں پھیل گئی اور آپ کی ولایت و تعلیمات کی نورانی چمک دھیرے دھیرے آپ کے مورثِ اعلیٰ سید فخر الدین غلام حسین المعروف امیر میاں رفاعی کی صورت میں سرزمین ہند کے صوبہ گجرات (بڑودہ) میں نمودار ہوا اور پھر دیکھتے دیکھتے آپ کی تعلیمات نے بارشِ سماوی کے بادل کی طرح پورے ہندوستان کو اپنی نورانی تعلیمات کے سایہ تلے ڈھانپ لیا اور آج تک آپ کی ذات سے علم و عرفان اور تعلیم و معرفت کے حقائق کے جو سونتے پھوٹے اہلِ ہند کے عوام الناس کے قلوب و اذہان کی بنجر زمین کو زرخیز اور سرسبز و شاداب کرتی آرہی ہے۔
چونکہ سرزمین ہند ہمیشہ سے مذہب کا گہوارہ اور مذہب پرستوں کا مرکز رہی ہے۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے بھی یہاں کے باشندے کسی نہ کسی روحانی مذہب کے معتقد اور متبع رہے ہیں۔ جب مسلمان اس ملک میں فاتحانہ شان و شوکت سے داخل ہوئے تو ان کے مذہب کو یہاں کے باشندوں نے تحقیق و تنقید کے بعد بطیب خاطر قبول کیا۔ اس واسطے کہ صحیح روحانیت جس کی ان لوگوں کو تلاش تھی، وہ اسی مذہب میں ان کو نظر آئی۔ یہی سبب ہے کہ بادشاہوں، فرماں رواوں سے زیادہ تبلیغ اسلام میں کامیابی فقرا اور صوفیا کو ہوئی اور ہزاروں غیر مسلم، عارفین اور مشائخ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
اس سر زمین پر جتنے مشائخ اور صوفیائے کرام تشریف لائے وہ زیادہ تر خاندان ہائے چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کے مجازین تھے اور انہی بزرگوں کے فیوض و برکات سے یہاں کے لوگوں کو استفادہ کا موقع ملا۔ اس واسطے ان خاندانوں کے مشائخ اور فقرا کے سوانح اور حالات سے بھی بہت لوگ واقف ہیں۔ لیکن بعض ایسے مشہور مشائخ کے خاندان بھی دوسرے ممالک میں فیض رساں ہیں، جن سے یہاں کے لوگ واقف بھی نہیں۔ انہی میں سے ایک خاندانِ رفاعیہ ہے، جس کے مشائخ اور معتقدین ہندوستان میں بہت کم ہیں، اور دوسرے ممالکِ اسلامیہ، عراق، عرب، مصر اور شام وغیرہ میں بہت کثرت سے ہیں، کیوں کہ وہاں کے باشندوں کو اسی خاندان سے زیادہ فیض پہنچا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور جزائے خیر دے سید حسام الدین رفاعی (خانقاہِ رفاعیہ، بڑودہ، گجرات)کو کہ آپ نے خاندانِ رفاعیہ اور طریقہ رفاعیہ کے سرخیل اور پیشوا مستغرق بحار معارف، مالک گنجینہ عوارف ولی کامل و عارف واصل سید شیخ احمد کبیر رفاعی الحسینی شافعی قدس سرہ العزیز کے حالات و سوانح زندگی اور تعلیماتِ صوفیانہ اور نصائح رفاعیہ سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ بھی اُمتِ محمدیہﷺ میں یکتا وصف کے بزرگ ہوئے ہیں، جیسا کہ آپ کے حالات و کرامات اور تعلیمات سے آشکارا ہے۔
اتباعِ سنّت کے آپ خود بھی بہت پابند تھے اور خدّام کو بھی تاکید فرماتے تھے۔ آپ کے اخلاق و عادات اور تمام و کمال اخلاقِ محمدی ? کا نمونہ تھے۔ عجز و انکسار، تواضع و مسکینیت آپ میں حد سے زیادہ تھی۔ چنانچہ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سلوک و معرفت کے سب طریقوں کو دیکھا اور غور کیا لیکن تواضع و انکسار سے بہتر کوئی اور طریقہ نظر نہ آیا۔ اس واسطے میں نے اسی کو اپنے لیے پسند کیا۔ دنیا کمانے والے مکار صوفی منش لوگوں نے جو باتیں خلافِ شرع ایجاد کر رکھی تھیں۔ آپ ہمیشہ ان کو مٹانے کی کوشش فرماتے اور ایسے لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ لباس اور طعام میں سادگی کو پسند فرماتے تھے دنیاوی تکلفات اور سامانِ تعیش سے نفرت تھی۔ طبیعت میں شرم و حیا بہت غالب تھی، حتیٰ کہ عادتِ مبارک یہ ہوگئی تھی کہ پہنے ہوئے کپڑے جب میلے ہوجاتے تو آپ دریا میں اُتر کر بدن پر ہی کپڑوں کو مَل کر صاف کرلیتے اور پھر دھوپ میں کھڑے ہوکر کپڑوں کو سُکھاتے اور جب تک کپڑے سوکھ نہ جاتے، تب تک آپ دھوپ میں ہی کھڑے رہتے۔
محی الملت والدین سید ابوالعباس احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نے اپنے خلفا، مریدین اور تمام خلقِ خدا کو اپنی تعلیمات سے بہرہ ور کیا اور خاص کر سالک کے لیے آپ کی تعلیمات بڑی مبارک ثابت ہوئی، اور عوام و خواص کے لیے صفائی قلب، قربِ الٰہی اور معرفتِ الٰہی اور اتباعِ سنّتِ رسول کا باعث بنی۔
آپ کی تعلیمات میں سے چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جو ہمارے لیے اور عوام و خواص کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سلوک کا پہلا قدم زہد ہے، یعنی دنیا سے بے رغبت ہونا اور آخرت کا مشتاق ہونا اور اس کی بنیاد تقویٰ ہے اور تقویٰ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا نام ہے، جو کہ علم و حکمت کی چوٹی ہے۔ اور ان سب کا مدار ارواح و اجسام کے امام سید معظم سیدنا رسول اللہ ﷺکی اچھی طرح پیروی کرنے پر ہے اور تابعداری کا پہلا زینہ یہ ہے کہ خلوص کے ساتھ آپ کی اقتدا کی جائے۔ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے، اور عقائد کو متشابہات پر سے بچانا خواہ وہ کتاب اللہ میں ہوں یا حدیث میں، کیوں کہ متشابہات کی ظاہری مراد پر چلنا کفر کی جڑ ہے۔ متشابہ کے متعلق تم پر اور ہر مکلّف پر یہ لازم ہے کہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جس کو اس نے اپنے بندہ سیدنا رسول اللہﷺپر نازل فرمایا ہے اور (اس کا مطلب معلوم کرنے کے درپے نہ ہو، کیوں کہ) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم کو اس کا تفصیلی مطلب معلوم کرنے کا مکلّف نہیں کیا ہے۔
اور اپنے اعمال کو ان پانچ ارکان پر مضبوطی کے ساتھ جماو جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے اور بدعت سے بچتے رہے۔ رسول اللہﷺکا ارشاد ہے کہ جو شخص اس دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرے، وہ مردود ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کے ساتھ اور مخلوق سے سچائی اور حسنِ خلق کے ساتھ اور اپنے نفس سے مخالفت کے ساتھ معاملہ کرو۔ شریعت کی حدود سے آگے نہ بڑھو اور اللہ تعالیٰ سے جب کوئی عہد کرو تو اس کو پورا کرو۔ جو کچھ رسول اللہ ﷺنے تم کو حکم دیا ہے، اس کو مضبوط پکڑ لو اور جس سے منع فرما دیا ہے، اس سے باز آجاو۔ جھوٹ سے بچو، نہ خدا پر جھوٹ لگاو نہ مخلوق پر۔ اپنی بڑائی کا دعویٰ کرنا کہ خدائے تعالیٰ پر اور مخلوق پر جھوٹ لگانا ہے۔
بندگی پوری یہ ہے کہ مقامِ عبدیت کو پہچانے۔ دین یہ ہے کہ احکام پر عمل کرے اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچے اور دونوں میں عاجزی و انکساری اختیار کرے۔ احکام کی تعمیل اور گناہوں سے بچنے کے بعد اپنے کو بزرگ اور متقی نہ سمجھے۔ احکام پر عمل کرنا، اللہ سے قریب کرتا ہے اور ممنوعات سے بچنا اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوتا ہے۔
اپنے نبی ﷺکی شان کو بہت بڑا سمجھو۔ آپ ہی واسطہ ہیںمخلوق اور حق تعالیٰ کے درمیان میں۔ آپ ہی نے خالق و مخلوق کا فرق بتلایا۔ آپ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کے محبوب ہیں۔ اللہ کے رسول ہیں۔ مخلوقِ الٰہی میں سب سے زیادہ کامل ہیں۔ اللہ کے پیغمبروں میں سب سے افضل ہیں۔ آپ ہی سب کے لیے بارگاہِ رحمانی کا دروازہ اور دربارِ صمدیت میں سب کا وسیلہ ہیں۔ جو آپ سے مل گیا، وہ اللہ سے مل گیا۔ جو آپ سے جدا ہوا، وہ اللہ سے جدا ہوا۔ آپ کا ارشاد ہے: کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک اُس کی خواہش اس شریعت کے تابع نہ ہو جائے جس کو میں لے کر آیا ہوں۔
بزرگو! خوب جان لو کہ ہمارے نبیﷺکی نبوت وفات کے بعد بھی اسی طرح باقی ہے، جیسی آپ کی حیات میں تھی اور قیامت تک باقی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ زمین کا اور اس کے اوپر جو کچھ ہے سب کا وارث ہوجائے۔ تمام مخلوق قیامت تک آپ ہی کی شریعت کی مکلّف ہے، جس نے تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا۔ اور آپ کا معجزہ بھی ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ یعنی کتاب رحمت قرآنِ مجید۔ (بنیان المشید شرح برہان الموید)
اے میرے برادرِ عزیز! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جلّ شانہ سے ڈرتے رہو اور سنت رسول اللہﷺکی پیروی کرو۔ فقیر اگر نفس کے ساتھ دوستی کرتا ہے تو نہایت ہی تھک جاتا ہے۔ لیکن اگر اپنا کام خدا کے سپرد کر دیتا ہے تو خدا بغیر عزیزوں اور دوستوں کی وساطت کے، ا س کی دستگیری کرتا ہے۔ عقل قائدوں کا خزانہ ہے اور خوش نصیبی کی کیمیا ہے۔ علم دنیا میں شرافت ہے اور آخرت میں عزت۔ جو شخص اس مستعار زندگی میں اٹکا رہتا ہے، اسے سوا حجابوں کے اور کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا۔ ماں کا رونا کرائے کی رونے والیوں کا رونا نہیں ہے۔ انسان جس قدر لوگوں کے آس پاس جوتیاں چٹخاتا ہے، اسی قدر رمز وحدت اور دین داری کو ہاتھ سے دیتا جاتا ہے۔ دو چیزیں دین میں ترقی دلاتی ہے۔ ایک تنہائی میں ذکر کرنا اور دوسرے نعمت الٰہی کا حد سے زیادہ تذکرہ کرنا۔ انسان کی حالت اس کے دوستوں اور ہم صحبتوں کے دیکھنے سے معلوم ہوجاتی ہے۔
اے عزیز من!جو حقیقت شریعت سے جدا ہو، وہ زندقہ ہے۔ معرفت خداوندی کی انتہا یہ ہے کہ بغیر چوں چرا کے اور بغیر کسی مکان و جگہ کے ساتھ خدا کی تخصیص کیے اس کی ہستی کا یقین ہو جائے جن لوگوں کی نگاہ کے سامنے سے پردہ نہیں ہٹا ہے، ان کے نزدیک مرضِ موت کی شدت کا زمانہ معرفت الٰہی کی پہلی گھڑیاں ہیں۔ اور اسی سے ہم سے کہا گیا موتوا قبل ان تموتوا (یعنی مرنے سے پہلے مرجا) موت آتے ہی پردہ اُٹھا دیتی ہے۔ (الحکم الرفاعیہ)
سبع سنابل شریف کی عبارت ٹھیک آپ کے قول کے مطابق ہے کہ کُلُّ طَرِیْقَۃٍ رُدَّتْہُ الشَّرِیْعَۃُ فَھی زِنْدِقَۃ۔ (ہر طریقت جسے شریعت ٹھکرا دے، وہ زندقہ ہے) اس لیے کہ جو شخص حقیقت کے مقام سے گرجاتا ہے وہ طریقت کے مقام پر آکر رک جاتا ہے اور جو طریقت سے گر جاتا ہے وہ شریعت پر ٹھہر جاتا ہے اور جو شریعت سے گرا، وہ گمراہ ہوا اور گمراہ شخص پیر اور شیخ بننے کے لائق نہیں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اے محتاج شخص! غرور کے گھوڑے سیا ُتر کر پیادہ ہو۔ بہت سی ایسی لغزشیں ہیں جو گڑھے میں پھینک دیتی ہیں۔ بعض اہلِ علم ایسے ہیں کہ ان کا پھل جہالت ہے اور بعض جہالتیں ایسی ہیں جن کا پھل علم ہے۔ تونے تو اپنے علم کو جہالت کا جامہ پہنا دیا ہے، پھر علم کی لذت تجھے کیوں کر حاصل ہو۔ آدمی کا ایک جگہ جم کر بیٹھنا قاف سے قاف تک پھرنے سے افضل ہے اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذات و صفات میں گفتگو کرنے سے خاموشی زیادہ کمال رکھتی ہے۔ جو شخص خدا کی مخلوق پر دست درازی کرتا ہے، خدا کے نزدیک اُس کا ہاتھ چھوٹا ہوتا ہے۔ اور جو خدا کے بندوں کے مقابل غرور کرتا ہے، وہ اس معبودِ برحق کی نظر سے گر جاتا ہے۔
جھوٹا وہ ہے جس کی بنیاد بدعتوں پر ہے۔ اور عقل مند وہ ہے جو بدعات سے پاک ہو۔ جس نے تحمل کی ذرہ پہن لی، وہ عجلت کے تیر سے بچ گیا۔ وقت تلوار کے مثل ہے، جو اِس سے مقابلہ کرے، اسے کاٹ ڈالتا ہے۔ عقل مند کی پہچان یہ ہے کہ سختی میں صبر کرے، خوش حالی میں منکسر المزاج ہو۔ دنیا اور آخرت دو لفظوں میں ہے۔ ایک عقل، دوسرے دین۔ علم وہ ہے جو تجھے جہالت کی حالت سے نکال دے اور غرور کے مقام سے دور کرے۔
جن تعلیمات پر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی راہِ سلوک کی بنیاد رکھی اور جو تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے، وہ یہ کہ جو شخص زبردستی کی قوت سے لوگوں کو تابع کرتا ہے، وہ اس کا چاہے جو طرزِ عمل ہے ان کے دل میں اپنی دشمنی کی بنیاد قائم کرتا ہے اور جو شخص غریبی اور تواضع سے لوگوں کو اپنے بس میں کرتا ہے، وہ ان کے دل میں اپنی عزت کا نقش قائم کرتا ہے۔ خدا کے ملک میں سب سے اچھا رفیق خدا کا خوف ہے اور سب سے اچھی شوکت اخلاص ہے۔ جس شخص میں تھوڑی سی بھی نخوت و انانیت ہو، وہ اہلِ کمال کے مرتبے کو ہرگز نہیں پہنچ سکتا ہے۔خدا کی نعمتوں کو یاد کرنے والا اگر مرتبے سے گر جائے تو بھی شکر گزاری کے راستے سے نہیں ہٹتا۔ نعمت الٰہی کا ذکر کرنا اس کی قربت کا بیان کرنا ہے اور اس کے ذکر میں کوتاہی کرنا بندہ ہونے کے درجے سے تجاوز کرنا ہے۔
آپ کی ان تعلیمات کا آپ کے حلقہ مریدین و معتقدین اور متوسلین و محبین اور آپ کے وارثین پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ آپ کی ان تعلیمات کو لے کر جب آپ کی اولاد اور اعتقاد رکھنے والے حضرات سرزمین ہند پر بزم آرا ناسوت ہوئے تو اہلِ ہند کے عوام آپ سے وراثت میں ملی ہوئی عجز و انکساری اور تواضع آپ کے اولاد امجاد میں دیکھ کر متاثر ہوئے اور لوگ جوق در جوق حلقہ ارادت میں اپنا نام درج کرانے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کی نورانی تعلیمات سرزمین ہند کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پھیل گئی۔ اور اب اہلِ ہند کی اکثریت آپ کی ذات سے مکمل واقفیت حاصل کرچکی ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی ہندوستان کے صوبہ گجرات سے تعلیماتِ رفاعیہ سے اُٹھنے والی خوشبو سارے ہندوستان کو معطر کر رہی ہے۔ خاندانِ رفاعیہ کے مقدس مسند مشیخیت پر براجمان سجادگان اسلام کی اخلاقی تعلیمات سے عوام کو روشناس کراکے اپنے سے قریب کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اور اس طرح آپ کی تعلیماتی امانت و وراثت کو آپ کی اولاد، امجاد نے بخیر و خوبی اہلِ ہند کے عوام الناس تک پہنچایا اور آپ کے فیض و کرم کا سلسلہ آپ کی اولاد کی صورت میں آج تک جاری و ساری ہے، جس سے اہلِ ہند مستفیض ہو رہے ہیں۔
قابلِ رشک و تحسین ہیں وہ دامن جو اُن کے گوشہ کرم کا منتخب ٹھہرا اور جس کے آستین بے سایہ کو ان کے علم و عرفان کا فیض مل گیا اور کیوں نہ وہ مبارک ہو، جس نے تعلیماتِ رفاعیہ سے اپنے آپ کو مبارک کر گیا۔ وہ کیوں نہ اِترائے جس کا چاک گریباں انھیں کے قدموں کی اُٹھی ہوئی گرد کا حامل ہوکر بیش قیمت جواہر آبدار کے مقابل گراں قیمت ٹھہرا۔ یہ سب اسی ذات مجمع کمالات کا فیض ہے جس کی وسعت نظر کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ جسے دنیا محی الملت والدین سلطان الواصلین سیدنا احمد کبیر الرفاعی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام سے جانتی ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے الغوث احمد بن خلف البلخی کی اپنے بیٹے کو وصیت

پیش کش: بزم رفاعیخانقاہ رفاعیہ، بڑودہ،گجرات9978344822 شیخ العارفین قدوۃ الاولیاء حضرت محمد بن الغوث احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے