غزل: نیا ہے سال سب خوشیاں منائیں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

نیا ہے سال سب خوشیاں منائیں
دِلوں سے اپنے سب نفرت مٹائیں

دُعائیں سب ہماری رنگ لائیں
وَطن کشمیر کو اپنا بنائیں

نہ گھبرائیں کبھی بھی مشکلوں سے
دیا امید کا مل کے جلائیں

ختم دُنیا سے ہو جائے کرونا
جو بیتا ہم پہ اُس کو بھول جائیں

حقیقی زندگی کو پانا ہے گر
خدا کے حکم پر خود کو چلائیں

چمن میں پھول جو مُرجھا چکے ہیں
چلو ان پر ذرا شبنم گرائیں

نیا فیضان سال سب کو راس آئے
چلو مانگیں یہی مل کر دعائیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے