معاشرے کے لیے ناسور بنتا ’’گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ‘‘کا ایک مذموم چلن

از قلم: محمد عبدالرحیم نشترؔ فاروقی
ایڈیٹرماہنامہ سنی دنیاومفتی مرکزی دارالافتاء،بریلی شریف

ایک زمانہ تھا جب لڑکوں کے ’’دوست‘‘لڑکے ہوا کرتے تھے اور لڑکیوں کی ’’دوست یاسہیلیاں‘‘ لڑکیاں! لیکن آج دوستی اتنی فراخ دل ہو گئی ہے اور اس کا ’’دامن کرم ‘‘اتنا کشادہ ہو گیا ہے کہ اب لڑکے لڑکیوں کے اور لڑکیاں لڑکوں کے ’’دوست‘‘ بننے لگی ہیں اور اس دریا دل دوستی کانیرنگی چلن اتنا عام ہوگیا ہے کہ اب لڑکے لڑکوں سے ’’ان کے‘‘ دوستوں کے بارے نہیں’’ ان کی‘‘ دوستوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، اسی طرح اب لڑکیاں لڑکیوں سے ’’ان کی سہیلیوں‘‘ کے بارے میں نہیں ’’ان کے دوستوں‘‘ کے بارے میں پوچھتی ہیں۔
دور حاضر میں اس عجوبۂ روزگار رسم و رواج کو ’’گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ‘‘ کے عریاں نام سے جاناپہچاناجاتا ہے اور یہ ذلت بخش رشتہ اس قدر مقبول خاص و عام ہوچکا ہے کہ کل تک جو ماں باپ اور بھائی اپنی بہن، بیٹی سے محض اس کام نام پوچھنے والے لڑکے کو ہاتھ پیر توڑ کر ہاسپیٹل بھیجنے کا سامان کرنے میں دیر نہیں کرتے تھے، آج وہی لوگ اپنی بہن، بیٹی کے ’’بوائے فرینڈ‘‘ کو خندہ پیشانی سے گلے لگا رہے ہیں، ان کی بہن، بیٹی اپنے ’’بوائے فرینڈ‘‘ کے ساتھ آزادانہ گھومتی پھرتی ہے، اس کے ساتھ تنہا سفر کرتی ہے حتیٰ کہ کتنی لڑکیاں گھر سے دور دوسرے شہر میں پڑھائی کے نام پراپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ میاں بیوی کی طرح بھی رہتی ہیں، پھر بھی ان کے ماں باپ کی غیر ت و حمیت جوش نہیں مارتی، ذہن و فکر اس قدر دیوالیہ پن کا شکار ہوچکا ہے کہ جس کی کوئی’’ گرل فرینڈ ‘‘یا’’ بوائے فرینڈ‘‘ نہ ہو، اس سے بڑے ہی مضحکہ خیز انداز میں کہا جاتا ہے: تعجب ہے تمہاری کوئی گرل فرینڈیابوائے فرینڈ نہیں؟ تم ’’نارمل‘‘ تو ہونا؟ تمہاری جنسی حالت ٹھیک ٹھاک توہے؟
ایک وقت تھا جب لڑکے لڑکیاں رابطے میں آنے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے شاذو نادر ہی قریب ہو پاتے تھے جس کے سبب ’’زنا ‘‘جیسی قباحت و شناعت نا کے برابر وجود میں آتی تھی، جب کہ آج کل سر عام بے خوف و خطر لڑکے لڑکیوں کا اپنے ’’بوائے فرینڈ‘‘ اور’’ گرل فرینڈ‘‘ کی بانہوں میں بانہیں ڈالے محو بوس و کنار نظر آنا معمولی بات ہو گئی ہے، اکثر بڑے شہروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے جوان لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ اختلاط سے اب عار ہی نہیں محسوس ہوتا، ان کی لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈس کے ساتھ جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جس وقت چاہیں آجا سکتی ہیں، اگر وہ اپنے بوائے فرینڈس کے ساتھ راتیں بھی گزار کر آتی ہیں تو ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی، کہ کوئی بات نہیں اپنے بوائے فرینڈ کے ہی ساتھ تو تھی، سمجھدار بچی ہے۔
ظاہر ہے جب مغربیت کا عفریت لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ والدین کے سروں پر بھی سوار ہو تو نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے، جب سے یہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا مذموم چلن عام ہوا ہے زنا بالرضا کے اخلاق سوز واقعات وبائی شکل اختیار کر چکے ہیں اور رہی سہی کسر ’’لِیو اِن ریلیشن شِپ‘‘ نے پوری کردی ہے، جسے دنیاکےاکثر ممالک کے ساتھ ہندوستان میں بھی قانونی درجہ سے سرفرازی حاصل ہوچکی ہے۔
اس اخلاق سوز قانون کے مطابق بالغ لڑکے اور لڑکیاں آپسی رضا مندی کے ساتھ بغیر شادی کے جب تک چاہیں میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں اور جب چاہیں دونوں ایک دوسرے سے علاحدگی اختیار کرسکتے ہیں، انہیں ایسا کرنے سے ماں باپ بھی نہیں روک سکتے، صاف لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ نے بالغ لڑکے لڑکیوں کو زنا کاری کے لئے قانونی لائسنس جاری کردیا ہے۔
شرم ناک پہلو یہ ہے کہ ان سب خرافات و لغویات میں مسلم لڑکے اور لڑکیاں ذرّہ برابر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں، دوسری قوموں کی بے جاتقلید میں اپنے ایمان و اسلام اور اخلاق و کردار کا سودا کر کے اپنی دنیا و آخرت تباہ و برباد کر رہے ہیں، ہماری نئی نسل کی مذہب بیزاری کاحال یہ ہے کہ آج مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کو بھی اپنا بوائے فرینڈ بنانے سے گریز نہیں کرتیں، نتیجہ کے طور پر اپنی عزت و عفت اور پاکدامنی کو تار تار کر کے بے نیل و مرام ہوتی ہیں، دشمنان اسلام مسلمانوں کے دین وایمان اوران کے اخلاق وکردارکوتباہ وبربادکرنے کی جوطرح طرح کی سازشیں کررہے ہیں، ان میںایک سازش مسلم لڑکے اورلڑکیوں کودام محبت میں گرفتارکرکے انھیں ذلیل وخوارکرنابھی ہے۔
چنانچہ آئے دن اخبارات کی خبریں اس بات پرشاہدہیں کہ ایک طرف غیرمسلم لڑکے کس طرح مسلم لڑکیوں کو دام محبت میں گرفتار کر کے ان کی عزت وعفت سے کھیلواڑ کرتے ہیں اور اخیر میں انہیں ذلت و رسوائی کی موت مرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، دوسری طرف غیرمسلم لڑکیاں کس طرح مسلم لڑکوں کواپنابوائے فرینڈبناکرخلوت نشین ہوتی ہیں پھرریپ کا جھوٹا مقدمہ لکھا کر انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بربادی کاماتم کرنے کے لئے چھوڑدیتی ہیں، آج کل کچھ فرقہ پرست تنظیمیں اس کے لئےباقاعدہ تحریک چلاکر غیرمسلم لڑکوں کودودو لاکھ روپئے کاانعام بھی دے رہی ہیں اورقانونی امداداس پرمستزادہے۔
قوم مسلم کی غیوربیٹیو! خداکے لئے اپنے مقام و مرتبے کو پہچانو، چودھ سوسال قبل دنیامیں جوتمہاری ناگفتہ بہ حالت تھی اسے یادکرو، اپنی ذلت بھری زندگی کاتصورکرواورغورکروکہ اسلام نے تم پرکیسی کیسی نوازشیں کی ہیں، معاشرے میں تمہیں عزت و وقار عطا فرمایا ہے اور ماں، بہن، بیٹی، بیوی جیسے پاکیزہ رشتوں کے ذریعہ قابل احترام قرار دیا، معاشرے میں تمہارے ساتھ کوئی بھی ذلت و رسوائی او رحقارت کا معاملہ ہو، اسلام اسے قطعاً برداشت نہیں کرتا، اسلام نے تمہیں ذلت و رسوائی کے قعرعمیق سے نکال کر عزت و احترام اور عظمت و رفعت کے بام عروج پر بٹھا یا ہےاورتم ہوکہ گرل فرینڈکی شکل میں کسی کی ’’رکھیل‘‘بن کرپھر سے ذلت ورسوائی کواپنامقدربنا رہی ہو؟
کہاجاتاہے کہ صدیوں پہلے راجا، مہاراجہ اورنواب اپنی’’رکھیل‘‘رکھاکرتے تھے مگراُس وقت بھی ان میں اِتنی غیرت باقی تھی کہ کوئی راجااپنی’’ رکھیل‘‘کو لے کرسر عام نہیں گھوما کرتاتھا کیوں کہ اس وقت کوئی راجابھی یہ گوارا نہیں کرتاتھاکہ لوگ یہ جانیں کہ اس کی کوئی ’’رکھیل‘‘ ہے اورنہ ہی کوئی ’’رکھیل‘‘یہ چاہتی تھی کہ کسی کواس کی بھنک تک لگے کہ وہ کسی کی ’’رکھیل‘‘بھی ہے، اس سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ اگرچہ اس غلیظ عمل میں ملوث تھے مگراسے باعث ننگ وعار اورقابل شرم وحیا ہی تصورکرتے تھے، اسی دونوں حتی الامکان لوگوں کی نظروں سے چھپ کر ملتے تھے اور اپنے اس غلیظ رشتے کو دنیا سے پوشیدہ رکھتے تھے۔
ایک لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ یاایک عورت کسی مردکے ساتھ بغیرشادی کےاپنی مرضی سےبیوی کی طرح ر ہے، اُسی کو پہلے ’’رکھیل ‘‘کہاجاتاتھا اور اب اُسی کو’’گرل فرینڈ‘‘کہاجاتاہے، فرق صرف یہ ہے کہ زیادہ تر ’’گرل فرینڈ‘‘اپنے ماں اپ کے گھررہتے ہوئے اپنے بوائے فرینڈ کی جنسی ضروریات پوری کرتی ہیں جبکہ کچھ گرل فرینڈ اپنے بوائے فرینڈکے ساتھ ’’لِو اِن ریلیشن شِپ‘‘ میں رہتے ہوئے ان کی جنسی ضروریات پوری کرتی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ گرل فرینڈ، بوائے فرینڈکو ان کے والدین اگرچاہیں تواس عمل سے روک سکتے ہیں جبکہ ’’لِو اِن ریلیشن شِپ‘‘میں رہنے والے فرینڈز کوان کے والدین چاہ کر بھی اس عمل سے نہیں روک سکتے کیوں کہ اسے قانونی تحفظ جوحاصل ہے ۔
پہلے لوگ اس عمل کوچوری چھپےکرتے تھے اوراب ’’گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ‘‘ سرعام بے شرمی کےساتھ بغل گیر ہوکر گھومتے پھرتے ہیں، پہلے اوراب میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ پہلے یہ عمل صرف مردوں کی طرف سے ہواکرتاتھااوراب یہ عمل لڑکیوں، عورتوں کی طرف سے بھی ہوتاہے جسے وہ اپنے’’ بوائے فرینڈ‘‘کے نام سے یادکرتی ہیں۔
لِو اِن ریلیشن شِپ
ہندوستان میں غیرشادی شدہ بالغ مردوعورت کےباہم رضامندی سےمیاں بیوی کی طرح رہنے کوکئی سال پہلے ہی سپریم کورٹ’’لِو اِن ریلیشن شپ‘‘کے خوبصورت نام سے قانونی جامہ پہناچکا ہے، جس کاسہارا لے کر آج ہماری نئی نسل تباہی وبربادہی کے غار عمیق میں گرتی جارہی ہے، اعلیٰ تعلیم کے نام پربڑے شہروں کارخ کرنے والے لڑکے اورلڑکیوں کی ایک کثیرتعداداس خوبصورت جال میں پھنس کر اپنے جنسی ہوس کی تسکین میں لگی ہوئی ہے، نتیجے کے طورپروقت سے پہلےماں باپ بن کرخودکشی کے ذریعہ موت کوگلے لگالینے کی خبریں روزانہ اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اورماں باپ کے سپنے چورچورہورہے ہیں۔
افسوس ناک پہلویہ ہے کہ آج لوگوں کی غیرت و حمیت اتنی مردہ ہو چکی ہے کہ بوائے فرینڈ سرعام اپنی گرل فرینڈ کو گلے لگا کر گھوم رہا ہے نہ گرل فرینڈ کو اپنی عزت و احترام کا خیال ہے ،نہ بوائے فرینڈ کو کوئی شرم و حیااور نہ ان کے ماں باپ کو کوئی ننگ و عار ! معاشرے میں ایک عورت یا لڑکی کے لئے اس سے بڑی ذلت آمیز بات کیاہوگی کہ کوئی مرد محض اپنے وقت کو رنگین بنانے کے لئے اسے استعمال کرے، یادرہے ’’رکھیل ‘‘کا ہی دوسرا نام ’’گرل فرینڈ ‘‘ہے، مسلم بیٹیو! کیا تم اب بھی یہ چاہو گی کہ تم کسی کی’’ رکھیل‘‘ کہلائو؟
دورحاضر لاکھ انحطاط کا شکار ہے مگر آج بھی ایک باعزت طبقہ یہ گوارہ نہیں کرتا کہ اس کی بہن، بیٹی کسی سے یہ غلیظ رشتہ قائم کرے، شاطر اور بدقماش لڑکوں کے جھانسے میں آکر لڑکیاں اپنی عزت و ناموس ان کے حوالے کر دیتی ہیں، ان کو اس بات کا احساس اس وقت ہوتا ہے، جب پانی سر سے اوپرہو چکا ہوتا ہے، نتیجۃً سارا خمیازہ انہیں کو بھگتنا پڑتا ہے، ایسی صورت میں اپنے قریبی رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض وقت اپنے گھر والے بھی کنارہ کشی میں عافیت محسوس کرتے ہیں اور اگر بزور طاقت زبردستی شادی کرا بھی دی گئی تو اکثر سسرال والے اسے قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس مذموم چلن کے اسباب اور ان کا سد باب
مسلم معاشرے میں در آئے اس مذموم چلن کا اہم ذمہ دار ہمارا مخلوط تعلیمی نظام بھی ہے جس کی وجہ سے چارو ناچار لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے ہم خلوت و جلوت ہوتے ہیں، جہاں ان کی فطری اور جنسی کشش ایک دوسرے میں دلچسپی پر ابھار تی ہے، حدیث پاک میں ہے: جب غیر محرم مرد و عورت خلوت کدے میں جمع ہوتے ہیں تو ان میں ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
ظاہر ہے شیطان کا کام انسانوں کو برائی میں مبتلا کرنا ہے تو وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے دونوں کو گناہوں میں ملوث کردیتا ہے پھر وہ رفتہ رفتہ گناہوں کے عادی ہوجاتے ہیں، لہٰذا والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سے بچنے کے لئے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو غیر مخلوط اداروں میں تعلیم دلائیں، ساتھ ہی اس قباحت و شناعت اور اس کی تباہ کاریوں سے اپنی نئی نسل کو آگاہ و خبردار بھی کریں۔
آج کل بےخوف و خطر زناکاری کی ایک بڑی وجہ مانع حمل ادویات و مصنوعات کی بہتات اور ان کی بآسان دستیابی بھی ہے، اس سے قبل اکثر لڑکے لڑکیاں موقع ملنے کے بعد بھی محض استقرارحمل کے خوف سے زنا کاری سے باز رہتے تھے، جبکہ آج ان مانع حمل ادویات و مصنوعات نے نہ صرف ان کے اس خوف کو زائل کر دیا ہے بلکہ اب و ہ ان کی زنا جیسی گھناؤنی کرتوت کو چھپانے کا ایک محفوظ ذریعہ بھی ثابت ہو رہی ہیں، اس سلسلہ میں بھی کچھ ایسی تدبیر اپنائی جائے جس سے یہ چیزیں صرف اور صرف شادی شدہ لوگوں کو ہی دستیاب ہوسکیں، اگر والدین اس مذموم چلن پر شروع ہی سے قدغن لگائیں تو حالات یقیناً قدر مختلف ہوں گے۔
دیکھنے سننے میں آیا ہے کہ لڑکے لڑکیاں عموماً شادی سے پہلے ہی ’’گرل فرینڈ‘‘یا’’بوائے فرینڈ‘‘رکھتے ہیں، شادی کے بعد اپنایہ رشتہ منقطع کرلیتے ہیں، لیکن اب سپریم کورٹ کی’’ کرم فرمائی ‘‘سے لڑکے لڑکیاں شادی کے بعدبھی ’’گرل فرینڈ‘‘یا’’بوائے فریند‘‘رکھ سکتے ہیں، شوہریا بیوی ان کی اس ’’آزادی‘‘کی راہ میں سدّ راہ نہیں بن سکتے، اگربنے تو شوہر یا بیوی ان پر اپنی ’’آزادی‘‘سلب کرنے کامقدمہ بھی کرسکتے ہیں۔
شادی شدہ مردوعورت کاکسی کے ساتھ جنسی تعلق جرم نہیں
آٗئیے!آزادی کے نام پر اس اخلاقی قدروں کے دیوالیہ پن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے، دراصل 27؍ستمبر2018ء کوسپریم کورٹ آف انڈیانے157؍ سالہ قدیم تعزیرات ہندکی دفعہ 497؍کوغیرآئینی قراردے دیا، کورٹ کے اس فیصلے کے بعداب کوئی بھی مرد کسی کی بھی بیوی کے ساتھ اس کی مرضی سے جسمانی تعلق قائم کرسکتاہے یا کوئی بھی شادی شدہ عورت کسی بھی مردیاکسی کےبھی شوہر کے ساتھ اس کی مرضی سے جسمانی تعلق قائم کرسکتی ہے، اس کے لئےنہ شوہر اپنی بیوی کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے، نہ بیوی اپنے شوہر کے خلاف! اورنہ عورت کا شوہر اس مرد کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتا ہےجواس کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق رکھتاہے اورنہ مردکی بیوی اس عورت کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے جواس کے شوہر سے جسمانی تعلق رکھتی ہے۔
دفعہ497؍کیاہے؟
تعزیرات ہند کی دفعہ497؍ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے، جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے، یا اس کا یہ خیال ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے اور اس جنسی عمل میں اس کے شوہر کی مرضی یا معاونت شامل نہ ہو، اور اگر یہ عمل ریپ کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو پھر وہ شخص ایڈلٹری (غیر ازدواجی تعلقات) کے جرم کا مرتکب ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا سنائی جاسکتی ہے، لیکن عورت کسی جرم کی مرتکب نہیں گردانی جائے گی۔
اس کے مطابق اگرکوئی مردکسی کی بیوی کے ساتھ اس کی مرضی سے جسمانی تعلقات قائم کرتاہے تو اس عورت کاشوہر ایڈلٹری کے معاملے میں صرف اس مردکے خلاف کیس کرسکتا ہے، اپنی بیوی کے خلاف نہیں، نہ ہی اس مردکی بیوی اس عورت کے خلاف کوئی کیس کرسکتی ہے، حالانکہ ہوناتویہ چاہئے تھاکہ اس عورت کوبھی یہ حق ملتاکہ اس عورت کے خلاف کیس کرے جس نے اس کے شوہر کےساتھ جسمانی تعلقات قائم کئے، اس دفعہ میں ایک اورخاص بات یہ بھی ہے کہ ایڈلٹری کےمعاملے میں شامل مردکے خلاف صرف اس عورت کاشوہرہی کارروائی کاحق رکھتاہے۔
ہوا کچھ یوں کہ کیرالہ کے رہنے والے جوسف شن نامی شخص نے سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ دائرکیاکہ جب دولوگوں نے مل کر ایک جرم کیاتوسزا دونوں کوملنی چاہئے، نہ کہ صرف ایک کو؟ جبکہ دفعہ 497؍جنسی تعصب کی بناپر صرف مردکوسزا دیتاہے، یہ بات عقل ودانش سے پرے ہے کہ جب دولوگ ایک جرم میں برابرکے شریک ہیں تو سزا بھی دونوں کو برابرملنی چاہئے، نہ کہ صرف ایک کو۔
سپریم کورٹ نےبجائے دونوں کو سزا دینے یا کوئی اور حل تلاش کرنے کے، اس قانون کوہی کالعدم قراردے دیا اور مردوعورت کوشتربے مہارکی طرح چھوڑ دیاکہ جوجس سے چاہے، جب چاہے اپنی ہوس کی بھوک مٹائے، کوئی کچھ کہنے والانہیں بلکہ کسی کو کچھ کہنے کاحق بھی نہیں، وہ زمانہ لَدگیا جب لوگ ’’ستی ساوتری ‘‘جیسی’’ دقیانوسی‘‘ باتوں میں اپناوقت ضائع کرتے تھے، کیوں کہ شوہر کے دوسری عورتوں کے ساتھ یا بیوی کےدوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات ’’سپریم کورٹ کی مہربانی‘‘ سےاب جرم نہیں کہلائیں گے، بیوی جب چاہے شوہر کی مرضی کے بغیر کسی بھی مرد سے جنسی تعلق قائم کرسکتی ہے، اسی طرح شوہر جب چاہے کسی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کی دلیل
سپریم کورٹ نے شادی شدہ افراد کےغیر ازدواجی جنسی تعلق کو جرم ماننے والی آئین کی دفعہ 497؍ کوبنیادی انسانی حقوق کے خلاف قراردیتے ہوئے کہا کہ’’ انیسویں صدی کایہ قانون شوہر کو مالک اور بیوی کو اس کی جائیداد قرار دیتا ہے، یہ ایک من مانا قانون ہے جو عورت کے وقار کو مجروح کرتا ہے، ایڈلٹری سے متعلق یہ قانون دقیانوسی اور آئین کی دفعہ14؍ اور 21؍ کے بھی خلاف ہےجو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں، چین، جاپان اور برازیل جیسے ممالک میں ایڈلٹری جرم نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ ہے، شادی کے بعد مرد اور عورت اپنی ’’جنسی خود مختاری‘‘ ایک دوسرے کے پاس گروی نہیں رکھ دیتے۔‘‘
اس سلسلے میں دلیل یہ دی گئی کہ مذکورہ قوانین ہندوستان کی ان قدیم روایات پر مبنی ہیں جن کے تحت عورت مرد کے تابع تھی، آج آزادی کا دور ہے، عورت شادی کے بعد شوہر کی غلام نہیں بن جاتی، بلکہ وہ شادی کے باوجود کسی بھی مرد کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا مکمل حق رکھتی ہے، خواہ اس کا شوہر اس کے لئے راضی ہویانہ ہو، اسی طرح مرد بھی بیوی ہونے کے باوجود بھی کسی دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ غیر ازدواجی جنسی تعلق، طلاق کی بنیاد تو بن سکتا ہے، لیکن اسے جرم نہیں قراردیا جا سکتا، البتہ اگر ایسے کسی بھی تعلق کی بنیاد پر کوئی شخص خود کشی کرتا ہے تو اس عمل کو خود کشی کے لیے اکسانے والا قرار دیا جا سکتا ہے، اس فیصلے میں حقوق نسواں کے تحفظ کی جو بات کہی گئی ہے وہ قطعاً درست نہیں، کیوں کہ اگر شادی شدہ مردوعورت کاکسی اورکے ساتھ باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنا اس کاآئینی حق مان لیاجائے توکسی کااپنے آئینی حق کااستعمال کرنا اس کے رشتۂ ازدواج کوختم کرنے کی بنیادکیسے بن سکتاہے؟
اس فیصلے کے ممکنہ نتائج
سپریم کورٹ کایہ فیصلہ اخلاقی قدروں اور مشرقی روایات کے سراسرخلاف ہے اورہندوستان کو مغربی کلچر کے رنگ میں رنگنے کی ایک مذموم کوشش ہے، جب غیرشادی شدہ مردو عورت کے باہمی جنسی تعلقات ہرمذہب وملت میں ناجائزو حرام ہیں تو شادی شدہ مردوعورت کویہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرکے دوسروں کی ازدواجی زندگیاںبردبادکریں۔
اس اخلاق سوز عمل کو قانونی شکل دینا اخلاقی دیوالیہ پن، سماجی بحران کودعوت دینےاورخاندانی نظام کے تانے بانے کوبکھیرنے کے مترادف ہے، کون ایساغیرت مندشوہرہوگا جواپنی بیوی کوکسی غیر مردکے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے باوجودبھی اسےاپنی ’’بیوی‘‘بنائے رکھناچاہے گا؟ اور کون ایسی وفاشعاربیوی ہوگی جواپنے شوہرکوکسی غیرعورت کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے بعدبھی اسے اپنے ’’شوہر‘‘کے طورپرقبول کرتی رہےگی؟
ذراتصورکیجئے ایسے معاشرے کاجہاں بیوی رہتے ہوئے مردکسی دوسری عورت سے جنسی تعلقات رکھے گااور شوہر رہتے ہوئے عورت کسی غیرمردسے جنسی تعلقات رکھے گی، کیاآپ ایسے معاشرے میں یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہونے والابچہ آپ کا ہے؟ اوراگرنہیں توکیاوہ مرداس بچے کواپنائے گا؟دونوںطرف سے ٹھکرائے جانے کے بعدعورت اس بچے کاکیاکرے گی؟ اگربیوی کی اس گری ہوئی حرکت کی وجہ سے شوہرخودکشی کرلیتا ہے تواس خودکشی کے لئے اکسانے کی مجرم بیوی ہوگی یااس کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والامرد؟اگرشوہرکی اس بدعملی کی وجہ سے بیوی خودکشی کرلیتی ہے توخودکشی کے لئے اکسانے کامجرم شوہرہوگایا اس کے ساتھ جنسی تعلق والی عورت؟اوراگر شوہر کی بدعملی پر بیوی کی سخت وسست اورپشیمانی کے سبب بدعمل شوہرہی خودکشی کرلے تو اس صورت میں خودکشی کے لئے اکسانے کی مجرم بیوی قرارپائےگی یاوہ عورت جواس کے ساتھ جنسی تعلق رکھتی ہے؟مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی قانونی طور پرایسےناجائز بچوں کی کثیرتعدادہوجائےگی جن کے لئے بغیرڈی این اےٹیسٹ کےاپنے باپ کا نام بتانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوگا۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی معاشرے میں جب اس قدرلاقانونیت کوقانونی درجہ مل جائے تومعاشرہ کس تباہی کا شکارہو گایہ بتانے کی ضرورت نہیں،سپریم کورٹ کایہ فیصلہ ہندوستانی تہذیب وثقافت اورکسی بھی پاکیزہ معاشرے کی روح کے خلاف ہے،اس کے بھیانک نتائج بھگتنے پڑیں گے، اس کے بعد جہاں بے حیائی اور عریانیت میں اضافہ ہوگا، وہیں روزانہ گھر گھر میں جھگڑے ہوں گے، طلاق کے واقعات کی کثرت ہوگی اورخاندان کاشیرازہ بکھرکررہ جائے گا، اسے دیکھ کر تو حیوانیت بھی شرمانے لگے گی، جانوروں کے اندربھی اتنی غیرت ہوتی ہے کہ وہ اپنی مادہ کوکسی غیرکے ساتھ دیکھناگوارا نہیں کرتے اور ہم انسان ہوکراس اخلاقی ناسورکو’’آزادی اورترقی‘‘کےنام پراپنے پاکیزہ معاشرے کو جہنم زاربنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستانی معاشرہ ایسے کسی بھی رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتاجوخاندانی نظام اور سماجی اقدارکے لئے زہرقاتل ہو، سپریم کورٹ کو ہندوستانی معاشرے کے تناظرمیں کسی قانون کو دیکھنا چاہیے نہ کہ مغربی معاشرے کے تناظرمیں؟جنسی ضرورت کوپاکیزگی اورعزت واحترام کے ساتھ پوراکرنے کے لئے ہی ہرمذہب وملت اورہرزمانے میں شادی اورنکاح کانظام قائم رہاہے، اگر انسان بھی شرم وحیااورسماجی قدروں کوبالائے طاق رکھ کراپنی جنسی ضرورت جب چاہے، جس سے چاہے اورجہاں چاہے پوری کرنے لگے توانسانوں اورجانوروں میں فرق کیارہ جائے گا؟
آخرہم کہاں جارہے ہیں،ہماراملک کہاں جارہاہے؟ یہاں ایک طرف توہم جنس پرستی، لِوان ریلیشن شپ اور شادی شدہ مرد و عورت کےغیرازدواجی جنسی تعلقات کو قانونی جواز فراہم کیا جارہا ہے، وہیں دوسری طرف ایک سے زیادہ نکاح کو عورت پر ظلم و زیادتی قراردیتے ہوئے اس پر پابندی کی بات کی جارہی ہے، اگربیوی کی موجودگی میں دوسری عورت سے جنسی تعلقات قائم کرناسپریم کورٹ کی نظر میں درست ہے تو پھرعزت و احترام کے ساتھ کسی دوسری عورت کو بیوی کا درجہ دینا ظلم کیسے ہوگیا؟یہ عقل وخردکاکیسامضحکہ خیزپیمانہ ہے ؟
ہندوستانی اقداراورمشرقی تہذیب وثقافت کی ایک تابناک اورباوقارروایت رہی ہے، جہاں قدروں کی بڑی اہمیت ہے، جہاں شادی ایک پاکیزہ اورتقدس مآب رشتہ تصور کیاجاتاہے اوراس کے جملہ تقاضے برضاورغبت پورے کئے جاتے ہیں، جہاں عورتیں آج بھی حیااورپاک دامنی کواپنے لئے معراج حیات سمجھتی ہیں۔
کس قدرافسوس ناک مقام ہے کہ ہماراپورا ملکی سسٹم مغربی کلچرکاغلام بنتاجارہاہے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، پڑھنے لکھنے میں ہم انھیں کی تقلیدکرتے ہیں، ہماری ترقی اورآزادی کامفہوم بھی بدل چکاہے، اب ترقی اورآازدی وہ ہے جسے مغربی اقوام ترقی اورآزادی سمجھتی ہیں، حدتویہ ہمارا جوڈیشیل سسٹم بھی انھیں کے دام تزویرکاشکارہے، یہاں فیصلے بھی انھیں کی روش کوسامنے رکھ کرکئےجارہے ہیں، حالانکہ آئے دن ان کی اس نام نہادترقی اورآزادی کے نام پر قدرت وفطرت کی بغاوت اورجنسی آوارگی کے سبب ان کے بھیانک انجام کی خبریں ہمیں خبردار کرتی ہیں لیکن ہم پران کی اندھی تقلیدکاایساخمارسوارہے کہ ان کے عبرت ناک انجام بھی دکھائی نہیں دیتے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے