تصوف کے نام پر بھکتی مذہب کا فروغ (قسط اول)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

عہد مغلیہ کے ابتدائی عہد ہی سے شمالی ہند میں بھکتی مذہب کا فروغ ہونے لگا۔ رامانند بنارسی کے شاگرودں اور شاگردوں کے شاگردوں یعنی تلسی داس(1497-1623),کبیر داس(1398-1518),نابھ داس وغیرہ نے بھکتی مذہب مذہب کو خوب فروغ دیا۔

رامانند ایک برہمن اور سنت تھا۔یہ دیوگاؤں راج(مہاراشٹر)میں پیدا ہوا۔زندگی کا اکثر حصہ بنارس میں گزارا۔یہ جنوبی ہند کے رامانوجا سے متاثر تھا۔راما نوجا جنوبی ہند میں بھکتی تحریک کے داعیوں میں سے تھا۔رامانند کے ذریعہ شمالی ہند میں بھکتی تحریک داخل ہوئی۔

رامانند کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات یقینی طور پر تاریخوں میں مذکور نہیں۔

بعض مورخین سال پیدائش 1300 اور بعض 1380 بتاتے ہیں۔اسی طرح موت کا سال 1400 یا 1474 بتایا جاتا ہے۔الحاصل رامانند چودہویں یا پندرہوں صدی عیسوی کا ایک ہندو سنت ہے۔

بھکتی مذہب میں ایک خدا کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اقرار خدا کے ساتھ اوتار یا پیغمبر کو تسلیم کیا جاتا ہے۔جو مسلمان صوفی اس تحریک سے وابستہ ہوا,وہ حضور اقدس نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر مانتے تھے۔جو ہندو سنت بھکتی مذہب کو قبول کیا تو وہ رام کرشن وغیرہ کو بھگوان کا اوتار مانتا تھا۔

بھکتی مذہب میں برہمنوں کے ذات پات کے نظریہ کی مخالفت کی جاتی تھی,اس لئے کٹر برہمن اور منووادی لوگ بھکتی مذہب کی مخالفت کرتے تھے,پھر انجام کار ان کٹر ویدک برہمنوں نے بھکتی مذہب کو اپنے ویدک دھرم(سناتن دھرم/ہندو دھرم)میں ضم کر لیا۔

سناتن دھرم کے لوگ پہلے شیو,وشنو,برہما وغیرہ کو پوجتے تھے۔جب بھکتی مذہب والوں نے رام اور کرشنا کو اوتار اور معبود بنا کر پیش کیا تو سناتن دھرم والے بھی رام وکرشنا کو پوجنے لگے اور آج بھکتی دھرم ہندو دھرم میں ضم ہو کر اپنا خصوصی وجود کھو چکا ہے۔

بھکتی مذہب کی فطرت میں وحدت مذاہب کا تصور شامل ہے۔اس مذہب کے وابستگان دیگر مذاہب کے رسوم و رواج کو اپنا کر ان اہل مذاہب سے اتحاد واتفاق کا اظہار کرتے۔

عہد مغلیہ میں چند کمزور ایمان صوفی بھی بھکتی مذہب سے متاثر ہوئے اور ہندؤں کی ہولی ودیوالی منانے لگے,تاکہ ہندو مسلم سب ان کے دربار سے منسلک رہیں اور اتحاد ویگانگت کا ایک سماں بنا رہے۔

واضح رہے کہ بھکتی مذہب وحدت ادیان کی ایک شکل تھی۔سکھ مذہب کا بانی گرونانک(1469_1539) بھی اسی مذہب سے وابستہ تھا۔اسی لئے سکھ دھرم میں مذہب اسلام کی باتیں پائی جاتی ہیں۔گرونانک نے کبیر داس کے نظمیہ کلام سے بھی خوب استفادہ کیا۔

سائی بابا (1838-1918)کا ایجاد کردہ سائی مذہب بھی بھکتی مذہب کی ایک شکل ہے۔

جو مسلمان صوفی بھکتی مذہب سے متاثر ہوئے اور جس قدر اسلامی اصولوں کی مخالفت کی,اس قدر شرعی حکم اس پر نافذ ہو گا۔ہاں,اگر جرم ثابت نہیں تو حکم بھی ثابت نہیں۔ایسے فاسق و گمراہ متصوفین کا طرز عمل ہمارے لئے مشعل راہ نہیں۔

بھارت میں چند سال قبل بہت دھوم دھام کے ساتھ صوفی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ اس کی سرپرستی مرکز کی بی جے پی حکومت کر رہی تھی۔بی جے پی در اصل آرایس ایس کا سیاسی حصہ ہے۔شاید اہل حکومت نے صوفی کانفرنس کے ذریعہ بھکتی مذہب کے فروغ کی بنیاد ڈالی ہو اور اسی کی تجدید کاری کی کوشش کی ہو۔

صوفی کانفرنس سے متعلق تحریر و تقریر پر نظر ڈالنے سے بھی کچھ ایسی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔خدا نخواستہ اگر صوفی کانفرنس دوبارہ ہوئی تو بھکتی مذہب کی طرف میلان مزید پختہ نظر آئے گا۔

خانقاہ سراواں الہ باد کے شیخ کا میلان بھی بھکتی مذہب کی طرف بہت واضح ہے۔اللہ تعالی ایسے صوفیوں سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے