سال نو کے ساتھ نئے عزائم

تحریر: نوراللہ نور
مالونی ملاڈ ممبئی

اپنی تمام آلام ومصائب کیساتھ ۲۰۲۰رخصت ہوگیا جویقینا نامساعد حالات سے دو چار رہا ، مصائب و آلام کی راہ کو سر کرنا پڑا ، خوشیاں روٹھی رہیں ، خوف و ہراس کے سائے میں بڑی جانفشانی برداشت کرنی پڑی،کوئ بھی ان گزرے ہوئے لمحوں کو یاد رکھنا نہیں چاہے گا ، ہر ایک اسی چیز کا متمنی ہوگا کہ زندگی دوبارہ ایسے خواب نہ دکھائے اور ایسی تباہی کے منظر سے قبل اس دار فانی کو الوداع کہدے،سال تو گزر گیا مگر اس نے جو زخم دیئے اس کا درد ابھی بھی تازہ ہے ، اس کے خوفناک شام و سحر کا تصور ابھی بھی فکرو خیال میں گردش کر رہاہے، اس کے خوف سے پر دن اور اضطراب بھری شب کی وحشت باقی ہے ، اس کا خوف ہر ایک ذہن و دماغ پر ہنوز طاری ہے ہر ایک زخموں سے چور نالاں کناں ہے، یاس و حرماں کا شکوہ لئے مغموم و اداس بیٹھا ہے ، پرواز کے حوصلے کھوچکا ہے ، کسی کووبائی مرض کا شکار ہوئے عزیز کا غم ہے، تو کوئ مالی تنگی کا شکوہ کر رہا ہے اور طلبہ اپنی زندگی کے انمول ایک سال ضائع ہونے پر افسردہ خاطر ہے،یقیناً جب انسان کے مال و متاع پر ڈاکہ پڑ جائے، اس کی ذخیرہ کی ہوئ پونجی خاکستر ہو جائے ، اس کا اپنا کوئ رفیق داغ مفارقت دیدے ، اس کے تیار کردہ عزائم و منصوبے پر پانی پھر جائے اور ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ جائے تو اس کے حوصلے بکھر جاتے ہیں اور اس کی ہمت جواب دیدیتی ہے ، انسان امید و حوصلہ سب منقطع کر دیتا ہے، مگر حقیقت ہے کہ ہمارے کبیدہ خاطر ہونے سے لٹی ہوئی پونجی عود کر نہیں آسکتی، رنج و ملال سے مافات کی تلافی ممکن نہیں ہے ،حوصلہ ہار جانے سے بکھرے عزائم کا تدارک نہیں ہو سکتا ہے ، ہماری آہ و بکا سے ہمارے لیل و نہار واپس نہیں مل سکتے ، امید و رجاء کی قندیلیں گل کر کے اپنے گرانمایہ پونجی حاصل نہیں کر سکتے، اس لئے رنج و الم کے درد سے نکل کر نئے آشیانے کی تعمیر پر غور وفکر کرنی چاہیے ، کوچہ افسردگی و ملال سے نکل کر فلک پر کمند ڈالنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے، شکستہ منصوبوں میں پھر سے نئی روح پھونکنے کی راہ تلاش کرنی چاہیے ، یاس و حرمان سے باہر آکر امید و رجاء کے دیپک روشن کرنے چاہیے کیونکہ منزل شکشت تسلیم کرنے والوں کو نہیں ملتی بلکہ منزل جفا کشوں ، جوان مردوں ، ثابت قدم رہنے والوں کا استقبال کرتی ہے یقیناً ہم نے سال گزشتہ اپنی گرانمایہ پونجی کھوئی ہے ، اپنی زندگی کے ماہ و سال کا ایک سال خوف و اضطراب میں گزارے ہے جس سے ہم شکستہ حال ہیں مگر ہم اپنے نئے جذبوں کی حدت سے سال نو کو کار گر اور مفید بنا سکتے ہیں ، بلند حوصلوں سے اپنےسنہرےخواب کو حقیقت کا جامہ پہنا سکتے ہیں ، اولو العزمی سے اپنی دنیا از سر نو حسین و جمیل اور دلکش بنا سکتے ہیں، اپنے سرد حوصلوں میں تپش و تمازت پیدا کر کے مستقبل کی راہ آسانی سے سر کر سکتے ہیں ۔
تو آئیے! حالات کی نامساعدگی کا شکوہ بالائے طاق رکھیں ، نئے جذبوں اور امنگوں سے سال نو کا استقبال کریں ، اپنے گزشتہ کل پر خاک ڈال کر مستقبل کے لئے ایک نیا عزم و حوصلہ پیدا کریں! اور اپنی منزل کے حصول کے لئے زاد راہ باندھ لیں اور ایک نئی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔

کل پر ڈال خاک اور ایک نیا عزم پیدا کر
نئی طریق ، نئی صورت اور ایک نیا نظم پیدا کر

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے