غزل: بجائے سننے کے اُلٹا جواب دیتا ہے

بجائے سننے کے اُلٹا جواب دیتا ہے
کہ اب تو ہر کوئی سیدھا جواب دیتا ہے

برا نہ مان کسی کی نفاقِ رائے کا
ہر ایک شخص بس اپنا جواب دیتا ہے

ہم آدمی تو چلو صرف آدمی ہیں مگر
خدا بھی اکثر ادھورا جواب دیتا ہے

تمہیں خبر نہیں تب دل پہ کیا گزرتی ہے
جب ایک باپ کو بچہ جواب دیتا ہے

تمہیں خبر نہیں بہرے کے کان ہوتے ہیں
تمہیں خبر نہیں گونگا جواب دیتا ہے

تمہیں خبر نہیں اندھے کو دکھ رہا ہے سب
تمہیں خبر نہیں اندھا جواب دیتا ہے

تمہیں خبر نہیں غربت زباں کی بندش ہے
تمہیں خبر نہیں پیسا جواب دیتا ہے

کسے خبر کہ دوبارہ اسی کا ہونا پڑے
ذرا سا سوچ کے بندہ جواب دیتا ہے

تو جان لو کہ اسے کچھ خبر نہیں ہے فیضان
جو آدھی بات کا پورا جواب دیتا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعادتگنج۔بارہ بنکی، یوپی۔بھارت حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے